وزیراعظم کو سزا ہو تو صدر زرداری اسے فوراً معاف کر سکتے ہیں، واشنگٹن پوسٹ

Posted: 14/02/2012 in All News, Local News, Pakistan & Kashmir

واشنگٹن پوسٹ نے پیپلزپارٹی کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ گيلانی سياسی شہيد بن کر اپنی اولاد کے لئے شاندار وراثت چھوڑنا چاہتے ہيں۔ وزیراعظم یوسف رضا گيلانی نے کہا ہےکہ اگر انہیں سپریم کورٹ نے سزا دی تو وہ استعفی دیدیں گے۔ پاکستانی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق یوسف رضا گيلانی نے کہا کہ صدر زرداری پر مالی بدعنوانی کے الزامات سیاسی اھداف کے تحت لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کو صدر ہونے کے ناطے قانونی استثنی حاصل ہے۔ گیلانی نے کہا کہ وہ خود وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے قانونی استثنی کے حامل ہیں اور اگر انہیں سزا دی گئی تو وہ اپنے عھدے سے استعفی دیدیں گے۔ دوسری جانب امريکی اخبار نے دعوی کیا ہے اگر يوسف رضا گيلانی کو عدالت کی طرف سے سزا سنا دی جاتی ہے تو صدر آصف علی زرداری ان کی سزا کو فوراً معاف کر سکتے ہيں، امريکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پیپلزپارٹی کے  اندرونی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے اگر يوسف رضا گيلانی کو عدالت کی طرف سے سزا سنا دی جاتی ہے تو صدر آصف علی زرداری ان کی سزا کو فوراً معاف کر سکتے ہيں، اگر گيلانی عدالت کے سامنے انکاری رہتے ہيں تو پيپلز پارٹي ہر صورت گيلانی کے فيصلے کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ گيلانی سياسی شہيد بن کر اپنی اولاد کے لئے شاندار وراثت چھوڑنا چاہتے ہيں۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے وزيراعظم اور صدر اس وقت دارالحکومت کے شاہانہ محلوں ميں رہائش پذير ہيں ليکن وہ زيادہ تر جيل کے پتوں سے پہچانے جاتے ہيں۔ بعض مبصرين پيشگوئی کر رہے ہيں کہ وزير اعظم يوسف رضا گيلانی دوبارہ سلاخوں کے پيچھے جا رہے ہيں۔ گزشتہ روز سپريم کورٹ ميں ان کی اپيل مسترد ہونے کے بعد اب وہ توہين عدالت کے الزامات پر فردِجرم عائد کرنے کا سامنا کرنے جا رہے ہيں۔ اس الزام ميں ممکنہ طور پر گيلانی کو چھ ماہ جيل اور وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑيں گے۔ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس حکام کو منی لانڈرنگ کيس کے متعلق خط لکھنے سے گيلانی مسلسل انکاری ہيں اور کہتے ہيں کہ آئين کے تحت صدر زرداری کو استثنی حاصل ہے، ليکن عدالت کا اصرار ہے کہ اگر وزير اعظم ہی ان کے احکامات کو نہيں مانتے تو کوئی دوسرا کيسے عمل کرے گا يہ طرز عمل قانون کی حکمرانی کو ختم کر دے گا۔ يوسف رضا گيلانی کہتے ہيں کہ اگر عدالت حکم دے گی تو وہ جيل جانے کو تيار ہيں اس صورت حال نے عسکريت پسندی کے شکار جوہری ملک کی نازک جمہوريت کے لئے شديد خطرات پيدا کر ديئے ہيں۔ پاکستان اس وقت عسکريت پسندی کے ساتھ توانائی کی شديد کمی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ ايک رائے يہ بھی ہے کہ عدالت کے احکامات نہ مان کر گيلاني سياسی شہيد بننا چاہتے ہيں تاکہ ثابت کر سکيں کہ انہوں نے آخر تک جماعت سے وفاداری دکھائی۔ اس طرح کی قربانی ان کی اولاد کے لئے سياسی بقا اور شاندار وراثت چھوڑے گی جو سياست ميں داخل ہو چکے ہيں۔ پيپلز پارٹی کے کچھ افراد کا اصرار ہے کہ ان کے پاس وزيراعظم يوسف رضا گيلانی کے علاوہ کوئی متبادل نہيں ليکن ان کا کہنا ہے اگر گيلانی عدالت کے سامنے انکاری رہتے ہيں اور انہيں استعفی دينے پر مجبور کيا جاتا ہے تو پارٹی گيلانی کے فيصلے کے ساتھ ہو گی۔ پيپلز پارٹی کے اندروني ذرائع کہتے ہيں کہ ايک اور آپشن بھی ان کے پاس ہے اور وہ يہ کہ اگر گيلانی کو سزا ہو جاتی ہے تو صدر ان کی سزا کو فوراً معاف کر سکتے ہيں۔

Comments are closed.