نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، آرمی چیف

Posted: 14/02/2012 in All News, Local News, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

شہباز ایئربیس جیک آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف ٹی وی پر مختلف ٹاک شوز میں دیئے جانے والے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ستر فیصد ہے۔آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا پارلیمنٹ کی سفارشات پر وزیراعظم کا بیان واضح ہے اور نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ شہباز ایئربیس جیک آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ اٹھارہ فیصد دفاعی بجٹ میں سے نو فیصد بری اور نو فیصد نیوی اور ایئرفورس کا ہے۔ انھوں نے ٹی وی پر مختلف ٹاک شوز میں دیئے جانے والے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ستر فیصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئے ایف سولہ طیاروں کا کم سے کم استعمال کیا جائے گا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل راؤ قمر سلیمان نے کہا کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدیں محفوظ ہیں، بھارت کی نئی جنگی حکمت عملی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی جہاز امریکی جہازوں پر فائر نہیں کر سکتے۔ ایئرچیف راؤ قمر سلیمان نے بتایا کہ ڈرون طیارے پاکستان میں تیار کئے جا رہے ہیں، لیکن ان میں میزائل سسٹم نہیں لگایا جا رہا۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف آپریشن ائیر مارشل وسیم الدین نے کہا کہ امریکہ سے اٹھارہ نئے ایف سکسٹین بلاک ففٹی ٹو کے علاوہ چودہ سیکنڈ ہینڈ ایف سکسٹین بھی مل گئے ہیں جبکہ چین سے پہلا اواکس طیارہ بھی مل گیا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق آرمي چيف جنرل اشفاق پرويز کياني نے کہا ہے کہ نيٹو اور امريکا سے تعلقات کي پاليسي پارليمنٹ نے ہي طے کرني ہے، ايئرچيف مارشل راو قمر سليمان کا کہنا ہے کہ امريکا سے ملنے والے ايف سولہ طياروں ميں ايسي کوئي چيز نہيں جو انہيں امريکي طياروں کے خلاف استعمال سے روکے۔ آرمي چيف جنرل اشفاق پرويز کياني اور ايئر چيف مارشل راو قمر سليمان جيکب آباد کے شہباز ايئربيس پر ميڈيا سے بات کر رہے تھے۔ آرمي چيف نے کہا کہ وزيراعظم نے کہہ ديا ہے کہ نيٹو سے متعلق پاليسي پر پارليماني عمل جاري ہے، نيٹو اور امريکا سے تعلقات کے بارے ميں فيصلہ پارليمنٹ نے کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ قبائلي علاقوں ميں طاقت کا استعمال کم سے کم رکھنے کي کوشش کي جا رہي ہے جبکہ نئے ايف 16 طياروں سے ملکي دفاع مضبوط ہو گا۔ ايئرچيف مارشل نے ميڈيا کو بتايا کہ شہباز ايئربيس مکمل طور پر پاک فضائيہ کے کنٹرول ميں ہے، امريکا سے ملنے والے ايف 16 طياروں ميں ايسي کوئي چيز نہيں جو امريکي طياروں کو نشانہ بنانے سے روک سکے۔

Comments are closed.