بلوچستان کی شورش امریکی سازش کا شاخسانہ ہے، حامد موسوی

Posted: 14/02/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ٹی این جے ایف کے سربراہ نے کہا ہے کہ استعمار ایران کے گھیراؤ کیلئے کھیل، کھیل رہا ہے۔ آرمی چیف کا بیان فکر انگیز ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کوئی بھول میں نہ رہے بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں، حکمران سیاستدان اور ادارے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے ملک کی فکر کریں۔ اپنے ایک اخباری بیان میں آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے امریکی خارجہ کمیٹی کا بیان پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے استعمار کو بلوچستان کے عوام کا غم نہیں استعمار افراتفری پھیلا کر پاکستان پر دباؤ اور ایران کا گھیراؤ مکمل کرنے کیلئے گھناؤنا کھیل، کھیل رہا ہے، پاکستان توڑنے کا خواب دیکھنے والے بھول میں نہ رہیں بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں مادر وطن کے تحفظ کیلئے کروڑوں پاکستانی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے آرمی چیف کا بیان فکر انگیز ہے خدا را حکمران سیاستدان اور قومی ادارے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ملکی سالمیت اور یکجہتی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد ہو جائیں، اقتدار آنی جانی شے ہے خدانخواستہ مادر وطن کو نقصان پہنچا تو کچھ نہیں بچے گا، اگر وطن بچانا ہے تو لیڈران اور عوام شعب ابی طالب ؑ کی طرح سختیوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نگہبان نبوت و رسالت حضرت ابوطالبؑ کی وفات حسرت آیات کی مناسبت سے 22 تا 26 ربیع الاول ’’عالمگیر ایام الحزن‘‘ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطالب کی وفات پر سوگ منانا رسول خداؐ کی سنت ہے جنہوں نے وفاتِ ابوطالب کے سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا حضرت ابو طالب ؑ کی رحلت کے بعد مشرکین مکہ جو تمام تر کوششوں کے باوجود حیاتِ ابوطالب ؑ میں رسالت مآب ؐ کا بال تک بیکا نہ کر سکے تھے ان کی سختیاں اس قدر بڑھ گئیں کہ رسول کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طالب ؑ رسول خدا سے بے پناہ محبت رکھتے تھے جب احمد مرسل ؐ صفحہ ارضی پر تشریف لائے تو حضرت عبدالمطلب نے لہ شان کبیر کہہ کر پہلی نعت اور حضرت ابو طالب ؑ نے بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کر کے پہلی محفل میلاد رسول ؐسجائی۔ انہوں نے کہا کہ ابن سعد کی کتاب طبقات الکبریٰ میں مرقوم ہے کہ جب حضرت ابوطالب ؑ کا وقت وفات قریب آیا انہوں نے اولاد حضرت ہاشم ؑ کو بلا کر یوں وصیت فرمائی ’’جب تک تم محمد ؐ کی باتیں سنو گے اور ان پر عمل پیرا رہو گے نیکی اور بھلائی کو ہاتھ سے نہیں دو گے، پس ان کی حمایت و پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم امہ کے مسائل و مصائب کی سب سے بڑی وجہ یہی کہ مسلمانوں نے محمد مصطفی ؐ کی غلامی کے بجائے مادیت کی غلامی کا طوق پہن لیا ہے، اسلام دنیا کو متاثر کر رہا ہے جب کہ اپنے اس سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں، حضرت ابو طالب ؑ کی وصیت ہر دور کے مسلمانوں کیلئے کامیابی کا نسخہ کیمیا ہے۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دین حق کی حقانیت سے خوفزدہ مغربی طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت بانی اسلام خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ؐ کی توہین کرکے اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتی ہیں، جنہیں ناکام بنانے کیلئے سیرت ابوطالب ؑ پر عمل پیرا ہونا ہوگا جن کا فرمان فرقِ تاریخ پر ہمیشہ جگمگا تا رہے گا کہ ’’میرا ایمان ہے کہ دین محمدؐ تمام ادیان سے بہتر ہے،اللہ کی قسم جب تک ابو طالبؑ زندہ ہے اس وقت تک دنیائے کفر مجتمع ہو کر بھی (اے محمدؐ) تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی‘‘۔ بلوچستان کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی میں عالمی طاقتیں اور پاکستان کا ازلی دشمن ملوث ہے عالمی میڈیا منظم سازش کے تحت بلوچستان میں امن عامہ کی خرابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے، جنرل کیانی کے بیان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے لہذا تمام محب دین و وطن قوتوں کو بلوچستان کے مسائل کا جائزہ لے کر انہیں حل کرنے کیلئے پیش قدمی کرنا ہوگی اور قومی ذرائع ابلاغ کو بھی اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بلوچستان میں قتل و غارت فوج کر رہی ہے تو پھر فوج کے جوانوں کو کون مار رہا ہے؟۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں انہیں بدنام کرنے کیلئے گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے قتل میں ایک ہی قوت ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزمائش کے ان مراحل میں پورے عالم اسلام کو ہادیان دین اور مشاہیر اسلام کا دامن تھامنا ہوگا۔  آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اسلامیان عالم سے اپیل کی کہ سنت رسول کی پیروی کرتے ہوئے ایام الحزن کے دوران جہاں سرکار رسالت مآبؐ، اہلبیت اطہارؑ اور پاکیزہ صحابہ کبار کو تعزیت و تسلیت پیش کرنے کیلئے مجالس عزاء اور تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کریں اور اس عہد کا تجدید کریں کہ حضرت ابو طالب ع کے فرمان کے مطابق سیرت مصطفوی کی پیروی کرتے ہوئے دین و وطن کی سربلندی کیلئے اغیار کی ہر سختی اور پابندی کا خندہ پیشانی اور جرات سے مقابلہ کریں گے اور ناموسِ رسالت ؐ و قومی غیرت و حمیت پر ہر گز کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ در ایں اثناء عالمگیر ایام الحزن کے پروگراموں کو منظم و مرتب کرنے کیلئے ٹی این ایف جے کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا کنوینر ایم ایچ جعفری کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مالک اشتر کمیٹی کے سیکرٹری اور پروفیسر غلام عباس حیدری ڈپٹی سیکرٹری ہونگے۔

Comments are closed.