امریکہ کا افغان مشن شرمناک، وائٹ ہاؤس امریکی شہریوں کو گمراہ کر رہا ہے، امریکی فوجی آفیسر

Posted: 14/02/2012 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, China / Japan / Koriea & Others, Educational News, Important News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس کا کہنا ہے کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں، افغان فورسز طالبان کیخلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کیساتھ تعلقات ہیں۔امریکی فوج کے ایک آفیسر نے امریکہ کے افغان مشن کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان میں جاری نام نہاد جنگ سے متعلق امریکی شہریوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس جو افغانستان میں ایک سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں انہوں نے باضابطہ طور پر افغانستان میں امریکی جنگ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور امریکی مشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی مسلح افواج کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں ڈیوس نے کہا کہ میں نے امریکی فوجی قیادت کی طرف سے افغانستان میں زمینی صورتحال سے متعلق کوئی باضابطہ بیانات نہیں دیکھے کہ جس سے اصل تصویر سامنے آتی ہو۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سینیٹرز جنگ کے اصل حقائق کی پردہ پوشی کرتے رہے ہیں اور افغانستان میں اتحادی افواج کو درپیش مشکلات کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں لائی جاتی۔ 
انہوں نے کہا کہ ہر ایک سطح پر ناکامی دیکھی ہے۔ ان کے بقول ہمارے مزید کتنے فوجی اس مشن میں ہلاک ہونگے یہ کامیابی نہیں جبکہ ہماری فوجی قیادت سات سالوں سے زائد عرصہ سے امید افزاء بیانات دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ملک کے بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ انہوں نے افغان فورسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ طالبان کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں۔

Comments are closed.