امریکا کے خلاف علماء سے فتویٰ لے کر جہاد کریں گے، دفاع پاکستان کونسل کا اعلان

Posted: 14/02/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

 کراچی میں دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ افغانستان میں شکست کھانے والا امریکا اور نیٹو اب واپس جارہے ہیں اب ان کا نظام بھی ان کے ساتھ جارہا ہے، افغانستان میں ناکامی کے بعد اب امریکا بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے، بلوچستان کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر امریکا، اسرائیل اور بھارت نے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں پر حملہ کیا تو ہم جہادی جذبے اور قومی حمیت کے ساتھ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے پاکستان کے ہر شہر کو تحریر اسکوائر بنا دیا جائے گا، افغان ٹریڈ کی آڑ میں نیٹو سپلائی بند کی جائے گی، امریکا کے خلاف علماء سے فتویٰ لے کر جہاد کریں گے، انتخابات کیلئے قابل قبول عبوری حکومت قائم کی جائے، انتخابات کے نتیجے میں عوام کے دکھوں کا مدوا نہ ہوا تو یہ انتخابات 90 روز میں کالعدم قرار پائیں گے اور عوام انقلاب کی جانب بڑھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باغ قائداعظم شاہراہ قائدین میں جماعت اسلامی کراچی کی میزبانی میں منعقدہ دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دفاع پاکستان کانفرنس سے دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ و جمعیت علمائے اسلام ( س ) کے امیر مولانا سمیع الحق، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن، جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، اویس نورانی، جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، تحریک اتحاد پاکستان کے سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل، مسلم لیگ ( ض ) کے سربراہ اعجاز الحق، تحریک انصاف کے اعجاز چوہدری، تحریک حرمت رسول کے مولانا امیر حمزہ، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی گروپ کے مولانا عبدالستار، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نمائندے، مسلم لیگ شیر بنگال کے ڈاکٹر صالح ظہور، انصار الامہ کے فضل الرحمن خلیل، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی، تحریک آزادی کشمیر کے مولانا بشیر احمد، حافظ سیف اللہ منصور، سواد اعظم اہلسنت کے مفتی احمد الرحمن، مجلس احرار کے مفتی عطاء الرحمن قریشی، جمعیت اہلحدیث کے حافظ ابتسام الہی ظہیر، تحریک آزادی قبلہ اول کے مولانا شمشاد احمد سلفی، جماعت الشاعت التوحید کے مولانا ولی ہزاروی، تحریک اہلحدیث کے مولانا عبدالغفار روکڑی، حرکت الانصار کے قاری امین ربانی، تحریک غلبہ اسلام کے قاری منصور احمد، کمانڈر حاجی عبدالجبار، جمہوری وطن پارٹی کے سردار نیاز احمد وڑائچ و دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاع پاکستان کا مقصد نیٹو سپلائی روکنا، ڈرون حملے بند کروانا، قوم کو گروہی، مذہبی اور علاقائی لسانی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک کرنا ہے۔ اسلامی شعائر کو اجاگر کرنا اور قومی یکجہتی پیدا کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے راستے کو ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادی کی جنگ لڑنے والے غیور کشمیریوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے قائم کی گئی ہے دفاع پاکستان کونسل نااہل حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے وجود میں آئی ہے امریکا کی غلامی سے نجات اس کا اہم ایجنڈا ہے۔ مقررین نے کہا ہم پاکستان کے دفاع کے ہر مسئلے پر آواز بلند کریں گے۔ افغانستان میں شکست کھانے والا امریکا اور نیٹو اب واپس جا رہے ہیں اب ان کا نظام بھی ان کے ساتھ جا رہا ہے۔ افغانستان میں ناکامی کے بعد اب امریکا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے، بلوچستان کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے۔ ہم حکومت سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ اتحاد سے نکلے، پاکستان کی سلامتی پر سودا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ نیٹو کی سپلائی بحال نہیں ہو سکے گی۔ نیٹو کو فضائی راستے سے سپلائی بھی بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کشمیر کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے پاکستان کے خلاف پروپگینڈہ کرکے انڈیا اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہم پاکستان میں انڈیا کی منڈی قائم نہیں ہونے دیں گے۔ دفاع پاکستان کا قافلہ اسلامی نظام کے قیام تک چلتا رہے گا۔

Comments are closed.