اسلامی انقلاب کی 33ویں بہار

Posted: 14/02/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

انقلاب اسلامی کے ظہور پذیر ہونے کے بعد بانی انقلاب نے امت اسلامیہ کو وحدت، اخوت، یگانگت، بھائی چارہ، باہمی تعاون، استعماری حکمرانوں سے آزادی اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا پیغام دیا اور اپنے اپنے ممالک میں کامیابی کیلئے اسی راہ (آزادی) کو اپنانے کی تاکید کی، استعمار نے اس اسلامی انقلاب کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے اپنے پروپیگنڈہ ذرائع اور وسائل کو میدان میں جھونکتے ہوئے اسلامی انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دیئے۔ سب سے پہلے ایران کے ہمسایوں بلکہ چاروں طرف واقع ممالک بالخصوص عربوں کو ڈرایا گیا۔  11 فروری 1979ء کو ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو جیسے دنیا ہی بدل گئی۔ بظاہر یہ انقلاب ایک ایسے ملک میں آیا جو کئی دہائیوں سے استعمار اور اس کے گماشتوں کی جنت بنا ہوا تھا، مگر حقیقت میں یہ انقلاب دنیا بھر کے مسلمانوں (بالخصوص) اور آزادی و حریت کی جنگ لڑنے والے ستم رسیدہ، اور مظلوم انسانوں کیلئے (بالعموم) ایسے روشن و تابندہ ستارہ کی مانند نمودار ہوا کہ جس کی تابناکی اور نور کی کرنوں نے بھٹکتے، سسکتے اور مایوسیوں کی دلدل میں غرق ہوئے انسانوں کو ایسی راہ دکھائی، جس پر چل کر منزل کو پا لینا صرف خواب نہیں حقیقت کا یقین ہوتا تھا۔ ایران میں اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے والے پیغام نے اپنا اثر اس انداز میں دکھانا شروع کیا کہ ہر طرف انقلاب کا ڈنکا بجنے لگا، ہر سو اس انقلاب کے نغمے اور سرود گائے جانے لگے، بہارِ انقلاب نے گویا جادوئی اثر کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ جو بانیء انقلاب امام خمینی رہ سے مکتبی و فکری حوالے سے شدید اختلاف رکھتے تھے ان کی زبانوں پر بھی ایک ہی نام ہوتا تھا “خمینی انقلاب اسلامی کے ظہور پذیر ہونے کے بعد بانی انقلاب نے امت اسلامیہ کو وحدت، اخوت، یگانگت، بھائی چارہ، باہمی تعاون، استعماری حکمرانوں سے آزادی اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا پیغام دیا اور اپنے اپنے ممالک میں کامیابی کیلئے اسی راہ (آزادی) کو اپنانے کی تاکید کی، استعمار نے اس اسلامی انقلاب کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے اپنے پروپیگنڈہ ذرائع اور وسائل کو میدان میں جھونکتے ہوئے اسلامی انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دیئے۔ سب سے پہلے ایران کے ہمسایوں بلکہ چاروں طرف واقع ممالک بالخصوص عربوں کو ڈرایا گیا۔ موروثی اقتدار کے ذریعے حکمرانی کرنے والوں کو عوامی طرز سیاست کے اس شاندار نمونے کو خطرہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اس حوالے سے ایران کے مخالف نجدی طرز فکر کے حامل حکمرانوں اور ان سے وابستہ مختلف ممالک کے گروہوں کو انقلاب کی مخالفت کا علم بلند کرنے اور گہری سازش کے تحت جہانِ اسلام میں ایران کے ساتھ محاز آرائی کی کیفیت ایجاد کی گئی، تاکہ انقلاب اپنے آزادی کے پیغام کو شفاف طریقہ سے نہ پیش کر سکے۔ ایران اسلامی کو ناکام کرنے کے منصوبہ کے تحت ہی صدام ملعون، جو اس وقت عراق کا آمر تھا، سے حملہ کروایا گیا۔  بلاشبہ صدام کے ایران پر حملے اور آٹھ سال تک مسلط کردہ جنگ کی پشت پناہی کم از کم پچاس ممالک کر رہے تھے، جس کا مقصد نوزائیدہ مملکت کو تباہی سے دوچار کرنا تھا، یہ تو قدرت خداوند کریم اور ملت ایران کی استقامت و جوانمردی تھی جس نے دشمنوں کو ناکامی سے دوچار کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جنگ کے ساتھ ساتھ استعمار نے ایران کو ناکام کرنے کیلئے انقلاب کی اعلٰی قیادت کو راستے سے ہٹانے کیلئے تخریبی گروہ تشکیل دیئے۔ یہ لوگ اپنے منحوس عملیات کے ذریعے مجتھدین، قائدین اور کمانڈرز کو راستے سے ہٹاتے۔ آیت۔۔دستغیب، مرتضیٰ مطہری، بھشتی، رجائی، باہنر اور پارلیمنٹ کے بہتر شہداء کو ایسے ہی شیطانی گروہوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انقلاب کے خلاف سازشوں کے ان گنت واقعات اور سانحات پر کئی کتب لکھی جا چکی ہیں۔ الغرض ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب کے پیغام اور بہارِ آزادی کی لہروں کو روکنے کیلئے ہر حربہ، ہر ذریعہ استعمال ہوا۔ حرمین شریفین سے لیکر وہائٹ ہاؤس کے مکینوں تک سب نے اپنا حصہ ڈالا، سب نے اس چراغ کی لو کو بجھانا چاہا، سب نے روشنی کے سفر کو تاریکی کے راستے پر ڈالنا چاہا، سب نے قلوب کو مسخر کرنے والے آفاقی پیغام کی نفی کی، سب نے روڑے اٹکائے، سب نے راستے میں دیواریں کھڑی کیں، سب ہی مصیبتوں کے سونامی لائے، آفتوں کے کہسار کھڑے کئے، مگر ہم نے دیکھا اور 33برس سے دیکھ رہے ہیں کہ اس انقلاب کے راستے میں ہر دیوار ریت ثابت ہوئی، ہر طوفان صحرائے طبس میں دشمنوں کیلئے عبرت گاہ بن گیا اور اس انقلاب کی لو روز بروز تیز ہوتی گئی۔  انقلاب کی کرنوں نے چہار سو عالم میں ایسی نورانیت بکھیر دی کہ اندھیرا چھٹتا گیا اور آج ہمارے سامنے ہے کہ تیونس، یمن، حجاز، مصر، فلسطین، پاکستان، لبنان، افغانستان، بحرین اور دنیا کے کئی ایک ممالک میں اس کی برکات عملی طور پر ہم دیکھ سکتے ہیں، دنیا کے کئی ممالک اور جماعتیں اس اسلامی انقلاب سے رشد پا کر حریت، آزادی، استقامت، جہد مسلسل کے ذریعے ظالم، جابر، آمر، قابضین کے خلاف قیام کئے ہوئے ہیں۔ پا برہنہ لوگوں کے اس انقلاب میں قوتِ جاذبہ کی بدولت ہی 33 برس سے تمام تر سازشوں کے باوجود انہیں اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔  آج ہر طرف آزادی کی نوید اور نغموں کی گونج صاف سنائی دے رہی ہے۔ تیونس، مصر، یمن سے آنے والی آزادی کی گونج فلسطین، بحرین، حجاز اور دیگر ممالک میں جو سنائی دے رہی ہے اور بگل جو بج رہا ہے اس سے ثابت ہے کہ اسلامی انقلاب کامیابیوں کی شاہراہ پر گامزن اور رواں دواں ہے اور امریکی استعمار کے مہروں کے ہاتھوں سے اقتدار کی چھوٹتی ڈوری دراصل مستقبل قریب میں اس پر مزید کاری ضربیں لگانے کا اعلان ہے، جبکہ مستقبل کا نقشہ اپنی مرضی سے ڈرائنگ کرنے کے خواہش مند امریکہ کو یقیناً خفت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی یاری میں معصوم، بیگناہوں کے خون سے ہولیاں کھیلنے والے حکمران اور گروہوں کو بھی شکست کا مزہ چکھنا ہو گا۔ انشاءاللہ….تحریر: علی ناصر الحسینی

Comments are closed.