Archive for 14/02/2012

گزشتہ دنوں ٹھٹھہ کے قریب سمندر سے ملنے والی چالیس فٹ طویل وہیل شارک مچھلی عوام کے علاوہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ چند ماہ قبل ہی ایک اور دیو ہیکل مچھلی کراچی کے ساحل پر مردہ پائی گئی تھی۔ کراچی کے عوام اس وقت دنگ رہ گئے جب ماہی گیروں کا ایک گروہ چالیس فٹ سے زائد لمبی وہیل شارک مچھلی کو رسیوں کی مدد سے باندھ کر لانچ کے ذریعے کراچی کے فشریز ہاربر تک لے آیا۔ دو بڑی تجارتی کرینوں کی مدد سے ہزاروں کلوگرام وزنی اس مچھلی کو پانی سے نکالا گیا۔ ماہی گیروں کو یہ دیو ہیکل مچھلی مردہ حالت میں ملی تھی یا اس کو باقاعدہ شکار گیا گیا؟ اس حوالے سے پاکستان میں تحفظ آبی و جنگلی حیات کی تنظیم WWF کے سیکریٹری فشریز اور سابق ڈائریکٹر برائے WWF میرین بائیولوجسٹ محمد معظم کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کے مطابق جس وقت مچھلی پکڑی گئی وہ مردہ حالت میں تھی تاہم حقیقت اس کے برعکس لگتی ہے:’’میری اطلات کے مطابق یہ ماہی گیری کے دوران کانٹے میں پھنس گئی تھی جسے مچھیروں نے پکڑ لیا، لیکن ماہی گیر کہتے ہیں کہ انہیں یہ مردہ حالت میں ملی تھی۔ تاہم جب یہ ساحل پر لائی گئی تو تازہ تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زندہ حالت میں پکڑی گئی۔‘‘محمد معظم کے مطابق پاکستان کے ساحل آبی حیات کی افزائش کے لیے نہایت موزوں ہیں اور یہاں ان وہیل شارکس کی باقاعدہ افزائش ہوتی ہے: ”دنیا کے بعض ممالک میں یہ وہیل شارکس پائی جاتی ہیں۔ پاکستان کے ساحلوں کی ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں ان کی باقاعدہ افزائش ہوتی ہے۔ یہاں اس کے دو سے ڈھائی بلکہ تین فٹ تک کے بچے بھی ملے ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاکستانی ساحل ان کی افزائش کے لیے نہایت مناسب ہیں۔  کراچی کے ساحلوں کو سیاحتی نقطہ نظر سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ اور روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں، تاہم ساحل کی صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اور آلودگی کے حوالے سے ان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ دوسری طرف محمد معظم کے مطابق یہاں ماہی گیری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے سمندری حیات کو خطرات لاحق ہیں: ’کراچی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں مچھلیاں پکڑنے والی کشتیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مچھیرے بھی ماہی گیری کے دوران دھیان نہیں رکھتے جس کے باعث بہت سی ایسی مچھلیاں بھی پکڑ لی جاتی ہیں جو بائی کیچ ہوتی ہیں یعنی ان کا کوئی استعمال نہیں ہوتا۔ ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی میں پکڑی جانے والی چالیس فٹ سے لمبی شارک وہیل اس وقت فشریز ہاربر پر ہی موجود ہے اور اسے ماہی گیروں کے ایک گروہ نے خرید لیا ہے جو اسے فش فوڈ کے طور پر تیار کریں گے۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق اب اسے حکومت نے اپنی تحویل میں لے کر اس کی وجہ موت جاننے کے لیے جامعہ کراچی اور ورلڈ وائلڈ لائف سمیت برطانیہ سے تحقیقاتی ٹیموں کو مدعو کیا ہے اور اس کی عوامی نمائش پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا کہنا ہے کہ جو قومیں اپنی ثقافت کو فراموش کر دیتی ہیں وہ راستے کا ایسا پتھر بن جاتی ہیں جن کو ٹھوکر مارنا ہر راہگیر اپنا حق سمجھتا ہے۔امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ترجمان سلمان عابد کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے غیراسلامی ہے اس کو منانا استعمار کی اقتداء کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں نے ایک مخصوص سازش کے تحت اپنے بے ہودہ ایام مسلمان ملکوں میں داخل کر دیے ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان کی اس انداز میں تشہیر کروائی ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ ہماری ثقافت کاحصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنی ثقافت کو فراموش کر دیتی ہیں وہ راستے کا ایسا پتھر بن جاتی ہیں جن کو ٹھوکر مارنا ہر راہگیر اپنا حق سمجھتا ہے۔ سلمان عابد نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو ایسے ایام منانے سے گریز کرنا چاہیے، ایسے ایام منانے کے پیچھے استعمار کے مخصوص مقاصد ہوتے ہیں جن کے حصول کے لئے وہ مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ذمہ داران کو استعمار کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے بلکہ ویلنٹائن ڈے اورگلوبل ویلج کے نام پر نہ خود گمراہ ہوں نہ دوسرں کو کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہود و ہنود نے کبھی ہمارے تہوار نہیں منائے بلکہ ان دنوں میں یہ کہہ کر کہ یہ مسلمانوں کے تہوار ہیں الگ ہو جاتے ہیں لیکن ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم ان کے تہواروں کو منائیں۔ نیا سال، ویلنٹائن ڈے اور کرسمس تک ایسے تہوار ہیں جو عیسائیوں سے زیادہ ہم مناتے ہیں۔ سلمان عابد نے کہا کہ ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ استعمار کی سازشوں کا شکار نہ ہوں بلکہ باشعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ان تہواروں کا بائیکاٹ کریں۔

پشاور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج مسلمانوں کو وحدت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسلام دشمن عناصر نے ہمیں فرقوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا ہے حتٰی کہ ایک دوسرے کو کافر گرداننے پر تلے ہوئے ہیں۔خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و ثقافت میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ان کے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر خیبر پختونخوا اور ایران کے مابین مختلف شعبوں میں کئے گئے معاہدوں سے تعلقات مزید مضبوط و مستحکم ہوں گے، ان معاہدوں کو عملی شکل دینے کے لئے ان کی سربراہی میں ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈینز ٹریڈ سنٹر پشاور میں انقلاب اسلامی ایران کی 33ویں سالگرہ، میلادالنبی ص اور ہفتہ وحدت کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند اور پریس کلب پشاور کے صدر سیف الاسلام سیفی نے بھی خطاب کیا، صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، جس کے ساتھ ہمارے مثالی تعلقات ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران پوری دنیا خصوصاً مسلم امہ کے لئے قابل تقلید ہے کیونکہ یہ عوامی خواہشات کا آئینہ دار اور سب کو بلا تفریق اور بلا امتیاز آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے، اس لئے ایران جیسا انقلاب ہر جگہ آنا چاہئے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اسلام کے تیزی سے پھیلنے اور دوسرے مذاہب کے سکڑنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلام اجتہاد کی شکل میں جدیدیت قبول کرتا ہے اور اس کا کسی کلچر سے ٹکرائو نہیں جبکہ دوسرے مذاہب میں یہ خصوصیت نہیں ہے۔ ہفتہ وحدت کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج مسلمانوں کو وحدت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسلام دشمن عناصر نے ہمیں فرقوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا ہے، حتٰی کہ ایک دوسرے کو کافر گرداننے پر تلے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم غیر فرقہ ورانہ سیاست کے حامی ہیں اور غیر فرقہ ورانہ سیاست کو تقویت دینا چاہتے ہیں۔

ہم ایک دور میں زندہ ہیں جو برائیوں سے اٹا ہوا ہے، جیسے پاکستان میں امریکہ اور نیٹو کے ڈرون حملے، سرحدی علاقوں میں فوجوں پر بمباری، اندرون ملک شہریوں، حساس تنصیبات پر خودکش بم دھماکے اور انتہا پسندی کو پھیلانے جیسے مغربی استعمار کے ہتھکنڈے، افغانستان، عراق، ایران اور شام میں امریکی و اسرائیلی استعمار اور اس کے حواریوں کی سربراہی میں لاکھوں مسلمانوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا ہے۔ اپنی سرزمینوں کی حفاظت مسلمانوں اور بالخصوص امریکی و اسرائیلی سازشوں کا ادراک رکھنے والے مجاہد مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے اپنے مال و دولت اور جان تک کو اپنے ملک کی حفاظت کیلئے نچھاور کرنے کیلئے ہر لمحہ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہرگز اللہ تبارک تعالٰی کے احکامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی سرزمین کا دفاع کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے ہر ممکن ذرائع سے چاہے وہ مال و دولت ہو یا اپنی زندگی، اس مقدس سرزمین کی حفاظت میں نچھاور کر دینی چاہیے۔فرمان حضرت امام حسین ع ہے کہ یہ برائیوں کا زمانہ ہے اور حق کے پیروکار داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ خدا کے احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جن چیزوں سے منع کیا گیا تھا ان پر بخوشی عمل کیا جا رہا ہے۔ جنگ کو منافع بخش صنعت سمجھنے والے امریکی آقاؤں کی فرمائش پر بعض مصنوعی، جعلی سکالرز نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کی سیاسی گلیوں و بازاروں میں یہ صدا لگانا شروع کر دی ہے کہ ایران پر پیشگی حملہ کر دیا جائے۔ “سرجیکل اسٹرائیک” کی حالیہ آواز امریکہ کی خارجی تعلقات کی کونسل سے تعلق رکھنے والے سکالرز میتھیو کروئنگ کی طرف سے آئی ہے جو فارن افیئرز میگزین میں اپنے لکھے گئے آرٹیکل “Time to Attac Iran ” میں جو دلائل کی کمی سے بھرپور ہے، میں اپنا موقف پیش کرتا ہے۔کروئنگ کہتا ہے کہ اب ایران پر فوری حملہ مشرق وسطٰی سمیت پوری دنیا کو صدام حسین جیسے خطرے سے باز رکھے گا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی قومی سلامتی کو بہتر کرنے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ وہ کہتا ہے کہ سفارتکاری اور پابندیاں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہیں، کسی ملک کا نام نہ لیتے ہوئے اس نے الزام عائد کیا کہ خطے میں بہت سے ممالک امریکہ کو چھوڑ کر ایران کے اتحادی بننے لگے ہیں اور ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اپنے ایٹمی پروگرام بھی شروع کر دیں، جس کے نتیجے میں خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر فوری حملے کی گھڑی سے فائدہ اُٹھا لینا چاہیے، اس سے قبل کہ ایران اپنے ایٹمی اثاثوں کو مزید محفوظ مقامات پر منتقل نہ کر دے۔ پس اگر امریکہ فوری حملے کا آپشن اختیار نہیں کرتا تو اس صورت میں وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے آخری موقع کے حق سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔  کسی بھی خطرے سے خالی سنجیدہ صورتحال کی موجودگی پر زور دیتے ہوئے کروئنگ خبردار کرتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایران مشرق وسطٰی میں امریکہ کے آزادانہ نقل و حرکت کو فی الفور روک سکتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اسرائیل ایک ایٹمی اسلحہ رکھنے والا خطرناک ملک ہے۔ وہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو اس صورت میں وہ کبھی بھی پہلے حملہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا لیکن اگر صیہونی ریاست نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں بحران ایک بے قابو مرغولے کی شکل اختیار کر لے گا اور امریکہ کو خطے میں لمبے عرصے کیلئے مزید ایک دلدل میں پھنسا دے گا۔  مختصراً کروئنگ یہ مشورہ دیتا ہے کہ ایک فوری ضروری، محتاط، منظم پیشگی امریکہ حملہ بہترین حل ہے جو امریکہ کو ایک مہنگی عسکری کارروائی سے بچا سکتا ہے جس کی مستقبل میں ایران کے ایک ایٹمی قوت بن جانے کے بعد امریکہ کو ضرورت ہے۔ مزید برآں فوری حملہ مشرق وسطٰی کو فضا میں تحلیل کر دینے کے اسرائیل کے ان یکطرفہ اقدامات کے اشارے جن کی پیشنگوئی ممکن نہیں، کے خلاف ایک ڈیٹرنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔   کروئنگ اپنے میدان جنگ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایران کے خلاف مزاحمتی حملہ، صرف ایران کے نیوکلیئر تنصیبات پر حملوں تک محدود رہے گا جو مختلف شہروں، اراک، نطنز اور تہران کے علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ ان بموں کے بارے میں بتلاتا ہے جو اس حملے میں استعمال کیے جائیں گے۔ امریکہ کے جنگی ہتھیاریوں میں 3ہزار پاؤنڈ (13608کلو) وزنی Massive Oronance Penetrator جو تباہ کن صلاحیتوں کا حامل ہے اور 200فٹ گہرائی تک کنکریٹ کی کسی بھی تعمیرات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بھی شامل ہیں۔ مزید برآں وہ یقین دلاتا ہے کہ اگر واشنگٹن رات کو حملے کرے گا تو سویلین افراد کی ہلاکتوں کا امکان بہت ہی کم ہو گا اور حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت فوجی اہلکار، سیاستدان، انجینئر اور ایٹمی تنصیبات پر کام کرنے والے اسٹاف کے لوگ ہونگے۔ اہداف پر گائیڈڈ میزائل استعمال کرنے سے ایٹمی تنصیبات سے متصل عمارتوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ کروئنگ کے پیش نظر دو آپشنز ہیں، امریکہ کو ایران کے خلاف ابھی رسمی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دینا چاہیے یا دوسری صورت میں ایک ایٹمی ایران سے مستقبل میں تصادم کیلئے تیار رہے۔ تاہم اس کے مطابق امریکہ کیلئے معقول حل صرف ایک ہی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ابھی ایک فیصلہ کن حملہ کر دے اور اس بات کو یقینی بنا دے کہ ایران کا ایٹمی انفراسٹرکچر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ کروئنگ کے غلط نتائج اخذ کرنے کی بنیاد آئی اے ای کے بورڈ آف گورنرز کی نومبر 2011ء کو شائع ہونے والی وہ رپورٹ ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران، رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے فتویٰ کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا کام ترک کر چکا ہے۔ جس میں انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو اسلامی نقطہ نظر سے خلافِ انسانیت قرار دیا تھا، رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2003ء سے اسلامی جمہوریہ کی پالیسی آئی اے ای سے مکمل تعاون پر مبنی ہے۔ 2003ء سے قبل ایران کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس پر آئی اے ای اے کا اظہار اطمینان بالکل واضح تھا۔ 2003ء کے آخر تک آئی اے ای اے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات پیدا کرنے کی اپنی اہلیت کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ مختصراً کروئنگ ایران کے خلاف فوری حملے (سرجیکل سٹرائیک) کے اپنے موقف کی بنیاد 2003ء کے بعد ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ایٹمی پروگرام سے متعلق عدم تعاون کے نتیجہ کو قرار دیتا ہے۔  دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایران پر حملے کے غیر منطقی، غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی فیصلے کے پیچھے کون ہے؟ امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔ یہ ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور واضح طور پر اسرائیل کیلئے بھی ریڈ لائن ہے۔ نارمن پوڈورئز جونیو کنزرویٹو اور کمنٹری میگزین کے ایڈیٹر ہیں، قیاس آرائی کرتے ہیں کہ ایران اسلامی فاشسٹ نظریات کا مرکز ہے، جس سے ہم 9/11کے بعد سے لڑ رہے ہیں، ایران دہشتگردی جو اسلامک فاشزم کا مقبول ہتھیار ہے کا زبردست سپورٹر بھی ہے۔ علاوہ ازیں ایران جنگ عظیم چہارم کا نمایاں چہرہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔  ایران کی ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں اسے تمام دنیا کیلئے بہت زیادہ خطرناک بنا سکتی ہیں۔ بش کے دور میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا بارکلے، 2003ء سے 2011ء تک امریکی سینٹ اٹارنی جنرل اور ٹورنٹو میمو نوشت کرنے والے جوہن پو لکھتے ہیں کہ اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے ایک بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کرنے میں ہچکچاہٹ کے باعث، دوسرے کئی جیسے ری پبلکن امیدوار کو ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے کیلئے فوجی حملہ کا کیس تیار کرنا شروع کر دینا چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایٹمی ایران ایک اور ہولوکاسٹ کا پیش خیمہ ہو گا، اس نے مزید کہا کہ خطے میں دیگر طاقتوں کی طرح ایران ایک ایسی طاقت ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ ایک ایٹمی ایران پورے مڈل ایسٹ اور تمام دنیا کیلئے ایک سنجیدہ خطرہ ہو گا اور یقیناً یہ ہمارے لیے ایک بالواسطہ اور سنگین خطرہ ہے۔   دوسر ے جعلی سکالرز جو ایران کا خوف اور اسلامو فوبیا کے شعلوں کو ہوا دینے میں مصروف ہیں، ان میں سنٹر فار سکیورٹی پالیسی کے فرنیک گریفن، سوسائٹی آف امریکنز فار نیشنل ایگزسٹنس کے ڈیوڈ یروشلمی، مڈل ایسٹ فورم کے ڈینئل پائپس، جہاد واچ اینڈ سٹاپ اسلامائزیشن آف امریکہ کے رابرٹ سپنسر، انویسٹی گیٹو پراجیکٹس آن ٹیررازم کے سٹیون ایمرسن، الٹرا رائٹ ونگ کریسچن، صیہونسٹ جان ہیگ فرام کریسچن یونائیٹڈ فار اسرائیل، کریسچن براڈ کاسٹنگ نیٹ ورک اینڈ دی سنٹر فار لاء اینڈ جسٹس پیٹ رابرٹسن، فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے رالف ریڈ اور ربلی گرام، ایوینجلسٹک ایسوسی ایشن اور سمارٹنز پریس کے فرینکلن گراہم قابل ذکر ہیں۔   اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ ہے کہ امریکہ کی نگاہیں صدیوں سے توانائی کے ذخائر سے مالا مال خلیج فارس کے علاقے پر گڑی ہوئی ہیں، لیکن ایران پر حملے کی کال اس موقع پر کیوں دی جا رہی ہے؟ جبکہ جنگ کے خواہشمند صرف اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا لے گا، اس لیے اس پر پیشگی حملہ کر دیا جائے۔ درحقیقت حالیہ ہیجان کے پیچھے سچائی اور وہ وجہ جس کا واضح اظہار نہیں کیا جا رہا یہ ہے کہ صیہونی مکمل طور پر اس بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ دنیائے عالم کی ان کے بارے میں رائے تیزی سے تبدیل ہوتی جا رہی ہے تبھی وہ بڑی قوتوں کو ایران کے خلاف فوجی حملے کی طرف دھکیل رہے ہیں، تاکہ دنیا کی انکے بارے میں بدلتی رائے کے مسئلے پر توجہ ہٹائی جاسکے۔   امریکی معیشت ابتری کی حالت میں ہے اور فوجی بجٹ خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے پنٹاگون بھی کٹوتیوں کی زد میں ہے۔ ان حالات میں مستقبل میں ایران کے خلاف مہم جوئی ناپسندیدہ عمل تصور کیا جائے گا۔ مزید برآں الیکشن کے سال میں ایک جنگ کا آغاز امریکی معیشت کی بری صورتحال اور سماجی مسائل جو امریکہ میں طاعون کی وبا کی طرح پھیل رہے ہیں سے ووٹرز کی توجہ ہٹانے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک اور نقطہ جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری اس بات پر کیوں شور نہیں مچا رہی کہ صیہونی ریاست اسرائیل اپنے ایٹمی ہتھیاروں اور ذخیروں کو ظاہر کرے اور انہیں آئی اے ای اے کے سامنے معائنے کیلئے پیش کرے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل کے پاس 200 سے 300 ایٹمی ہتھیار ہیں اور یہ ناجائز ریاست خطے میں جارحیت کے ارتکاب کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اس ریاست نے 1981ء میں عراق کے نیوکلیئر ری ایکٹر اوسراک پر حملہ کیا، 1967ء، 1997ء، اور 2007ء میں شام، 1985، 1988ء میں تیونس، 1978، 1982اور 1993ء میں لبنان اور ماضی قریب میں 2006ء میں جنوبی لبنان۔ 2000 ، 2009 اور 2011ء میں فلسطین کے علاقے غزہ پر حملے کیے۔ دوسری طرف ایران نے خطے میں کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ پس کیوں ہر وقت جنگ پر آمادہ صیہونی ریاست اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے، لیکن کبھی نہ مشتعل ہونے والا ایران پر صرف اس لیے حملہ کر دیا جائے کیونکہ وہ ایٹمی پروگرام حاصل کرنے کی صرف جستجو کر رہا ہے۔  یقیناً اسلام اجتماعی اور انفرادی طور پر اسلحہ رکھنے اور قوموں کو دفاع کا حق فراہم کرتا ہے، تاکہ ہم اپنے علاقے، حقوق اور وقار کا تحفظ کر سکیں، تاہم اسلام مسلمانوں کو کبھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ محض ایسی جنگ میں الجھا جائے جو فقط قیاس آرائیوں اور غیر مقبول الزامات پر استوار کی گئی ہو۔ اسلامی سکالر احمد لکھتے ہیں کہ اسلام میں پیشگی جنگ کے نظریئے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ پیشگی حملے کا تصور یا نظریہ بے دین اور ملحدوں کا ہے، جو ہمیشہ عقب سے یا کسی اشتعال انگیزی کے بغیر حملہ کر دیتے تھے۔   مغرب اور اس کے اتحادی ایران کو دھمکانے اور مسلمانوں کو دہشتگرد کہہ کر بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اسلام ان کے جنگوں کے لامتناہی سلسلے، قبضے اور خون آشامی کے ایجنڈے کے مدمقابل جہاد کا نظریہ پیش کرتا ہے۔ بنیادی طور پر جہاد انسانی اقدار کے فروغ کے راستے پر اچھائیوں کی تبلیغ اور برائیوں کے خاتمے کی کوششوں کا نام ہے۔ جہاد کی پابندی کرتے ہوئے مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ کسی بھی ملک کو اپنے قدرتی وسائل پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے کیونکہ یہ وسائل اللہ تعالٰی نے انہیں عطا کیے تاکہ تمام انسانیت اس سے استفادہ کرے۔ ہم ایک دور میں زندہ ہیں جو برائیوں سے اٹا ہوا ہے، جیسے پاکستان میں امریکہ اور نیٹو کے ڈرون حملے، سرحدی علاقوں میں فوجوں پر بمباری، اندرون ملک شہریوں، حساس تنصیبات پر خودکش بم دھماکے اور انتہا پسندی کو پھیلانے جیسے مغربی استعمار کے ہتھکنڈے، افغانستان، عراق، ایران اور شام میں امریکی و اسرائیلی استعمار اور اس کے حواریوں کی سربراہی میں لاکھوں مسلمانوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا ہے۔ اپنی سرزمینوں کی حفاظت مسلمانوں اور بالخصوص امریکی و اسرائیلی سازشوں کا ادراک رکھنے والے مجاہد مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے اپنے مال و دولت اور جان تک کو اپنے ملک کی حفاظت کیلئے نچھاور کرنے کیلئے ہر لمحہ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہرگز اللہ تبارک تعالٰی کے احکامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی سرزمین کا دفاع کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے ہر ممکن ذرائع سے چاہے وہ مال و دولت ہو یا اپنی زندگی، اس مقدس سرزمین کی حفاظت میں نچھاور کر دینی چاہیے۔ تحریر: زاہد مرتضٰی

پاراچنار شہر اور گردونواح میں طوری بنگش اہل تشیع رضا کاروں کی جگہ سکیورٹی فورسز نے سنبھالی ہے اور شہر فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوا ہے ایسے میں انٹیلی جنس اداروں کا پاراچنار شہر میں ممکنہ خودکش حملے کی پیشن گوئی مضحکہ خیز ہے۔پاراچنار شہر میں چار سال تک طوری بنگش اہل تشیع رضاکاروں کی سکیورٹی اور چیک پوسٹوں پر تعیناتی میں کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا اور اب فوج کی تعیناتی کے فوراً بعد خودکش حملے کی اطلاع دال میں کچھ کالا ہونے کے مترادف ہے۔ اسلئے جنت نظیر وادی پاراچنار کے باسی اپنے علاقے کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی آڑ میں دوسرا وزیرستان بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے پولٹیکل ایجنٹ آفس میں بھیجے جانے والی اپنی ایک رپورٹ و مراسلے میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں پاراچنار شہر یا اس کے مضافات میں اہل تشیع کو نشانہ بنانے کے لئے خودکش حملہ یا بڑی تخریبی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس بات کے بعد اہلیان پاراچنار، طوری بنگش اہل تشیع قبائلی مشران، علمائے کرام عوامی و سماجی اور سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے اس مراسلے و رپورٹ کو پاراچنار کے عوام کے خلاف ایک نئی سازش اور ریاستی دہشت گردی سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال کے دوران جب پاراچنار شہر اور گردونواح کی سکیورٹی طوری بنگش اہل تشیع رضا کاروں کے ہاتھ میں تھی تو مثالی امن کے علاوہ عوام حکومت اور سیکورٹی فورسز سب کو امن تھی اور گذشتہ چار سال کے دوران کوئی بھی خودکش حملہ نہیں ہوا۔ اب جب کہ پاراچنار شہر اور گردونواح میں طوری بنگش اہل تشیع رضا کاروں کی جگہ سکیورٹی فورسز نے سنبھالی ہے اور شہر فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوا ہے ایسے میں انٹیلی جنس اداروں کا پاراچنار شہر میں ممکنہ خودکش حملے کی پیشن گوئی اور رپورٹ مضحکہ خیز ہے۔ اہلیان پاراچنار طوری بنگش اہل تشیع قبائلی مشران علمائے کرام عوامی و سماجی اور سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ دراصل خودکش حملے ان ہی حساس اداروں و سکیورٹی فورسز کا ایک کھیل ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پاراچنار شہر میں چار سال تک طوری بنگش اہل تشیع رضاکاروں کی سکیورٹی اور چیک پوسٹوں پر تعیناتی میں کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا اور اب فوج کی تعیناتی کے فوراً بعد خودکش حملے کی اطلاع دال میں کچھ کالا ہونے کے مترادف ہے۔ اسلئے جنت نظیر وادی پاراچنار کے باسی اپنے علاقے کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی آڑ میں دوسرا وزیرستان بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔ اسلئے جس طرح حساس اداروں نے ممکنہ خودکش حملے کی اطلاع دی ہے اسی طرح اسے روک بھی سکتی ہے وگرنہ خودکش حملے کی صورت میں حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر ہو گی۔

سعودی خاندان کے قریبی ذرائع نے سابق نائب وزیر دفاع کی برکناری کی اصلی وجہ اسکی جانب سے شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی بیعت کرنے سے انکار کرنے کو بیان کیا ہے۔عربی زبان میں شائع ہونے والے کثیرالانتشار روزنامے “القدس العربی” کے مطابق سعودی خاندان کے قریبی ذرائع نے خبر دی ہے کہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کا وزیر دفاع کے عہدے پر منصوب کئے جانے اور امیر خالد کو نائب وزیر دفاع بنانے کی اصلی وجہ سابق نائب وزیر دفاع امیر عبدالرحمان عبدالعزیز کی جانب سے نئے ولیعہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی بیعت کرنے سے انکار ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ سعودی عرب کے سابق نائب وزیر دفاع امیر عبدالرحمان کو ہی وزیر دفاع کا منصب عطا کیا جائے گا لیکن عید سعید قربان کے دن سعودی بادشاہ ملک عبداللہ کی جانب سے جاری کردہ اس دستور نے سب کو حیران کر کے رکھ دیا جس کے مطابق شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کو وزیر دفاع اور امیر خالد کو نائب وزیر دفاع بنانے کا اعلان کیا گیا۔ جس چیز نے سعودی خاندان کو سب سے زیادہ حیران کر دیا وہ شہزادہ سلمان کی وزیر دفاع اور امیر خالد بن سلطان کی نائب وزیر دفاع کے طور پر تقرری تھی جسکا مطلب یہ تھا کہ سابق نائب وزیر دفاع امیر عبدالرحمان بن عبدالعزیز اپنے عہدے سے برکنار کئے جا چکے تھے۔ سعودی خاندان کیلئے اس برکناری سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ یہ فیصلہ امیر عبدالرحمان کی مرضی سے انجام نہیں پایا اور انہیں کوئی دوسرا عہدہ بھی عطا نہیں کیا گیا۔ سعودی عرب کے سیاسی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ امیر سلمان کا وزیر دفاع کے طور پر انتخاب سعودی خاندان کے اندر سیاسی انتشار کی روک تھام کیلئے انجام پایا ہے اور کوشش کی گئی ہے اس اقدام کے ذریعے سعودی خاندان میں موجود مختلف سیاسی دھڑوں کی رضامندی حاصل کی جائے۔ سعودی خاندان کے قریبی ذرائع یہ کہ رہے ہیں کہ عید سعید قربان کے پہلے ہی دن امیر عبدالرحمان بن عبدالعزیز کی برکناری کی اصلی وجہ یہ ہے کہ وہ عید قربان کے دوسرے دن مسلح افواج کے بعض عالی رتبہ افسروں سے ملاقات کا ارادہ رکھتے تھے لہذا انہیں اس ملاقات سے قبل ہی اپنے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ ان ذرائع کے مطابق سابق سعودی ولیعہد امیر سلطان بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سعودی فرمانروا ملک عبداللہ چاہتے تھے امیر عبداللہ کو وزیر دفاع کا منصب عطا کر کے انہیں ولیعہد بننے کے مطالبے سے دستبردار ہونے پر راضی کر لیں لیکن امیر عبداللہ نے نئے ولیعہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی بیعت کرنے سے انکار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بدستور ولیعہد کا عہدہ سنبھالنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف امیر سلطام بن عبدالعزیز کو حاکم ریاض کے عہدے پر فائز کرنا جو اس سے قبل سابق حاکم ریاض امیر سلمان کے نائب کے طور پر کام کر رہے تھے نے بھی امیر عبدالرحمان کی ناراضگی کو دوچندان کر دیا ہے کیونکہ وہ توقع کر رہے تھے کہ انہیں وزارت دفاع سے برکنار کرنے کے بعد حاکم ریاض کا عہدہ عطا کر دیا جائے گا۔

موجودہ ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ امریکہ کے خلاف نعرہ لگانے والوں نے ملک کی سلامتی و خودمختاری کو داؤ پر لگا دیا اور آج ایک بار پھر یہی قوتیں اکٹھی ہو رہی ہیں جو پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی تھیں۔پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ ملک کا دفاع اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا ریاست کا کام ہے نہ کہ کالعدم نام نہاد تنظیموں کا، عوام اب ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے، عوام کو تصویر کا غلط رخ دیکھانے والے یاد رکھیں کہ آج 1980ء نہیں 2012ء ہے، پاکستان اب ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور عوام آج پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔ ملکی سلامتی، بقاء و خودمختاری کیلئے ملک کا ایک ایک بچہ قربانی دینے کو تیار ہے، ملک بچانے کیلئے ملک بنانے والوں کی اولادیں ہی میدان عمل میں ہونگی، جو لوگ جہاد کا نعرہ لگا رہے ہیں وہ جہاد کی شرائط سے بھی واقف نہیں ہیں۔ امریکہ و بیرونی قوتیں ملک کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں، ان سازشوں کو ناکام بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے ضروری ہے عوام کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کن اقدامات کریں۔ بلوچستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے حکومت کوششوں کو تیز کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے موجودہ ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک ملک میں عوامی جدوجہد سے جمہوری انقلاب چاہتی ہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں اور عوامی نمائندوں نے عوام کو مسائل سے نکالنے کی بجائے مزید مسائل و مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، دہشتگردی عروج پر ہے۔ امریکہ کے پیرول پر کام کرنے والی کالعدم تنظیمیں امریکہ کے خلاف نعرہ لگا کر اب عوام کو جھانسہ نہیں دے سکتیں۔ ڈرون حملے قابل مذمت عمل ہے جس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈرون حملوں کی آڑ میں مساجد، مزارات، اسکولوں اور بازاروں کو بم دھماکوں سے اڑا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں 3500 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ان کی آڑ میں انتہا پسند کالعدم تنظیموں نے 35000 ہزار افراد کو شہید کیا، جن میں فوج کے جوان و افسران اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، کیا یہ شہید امریکن تھے؟ امریکہ کے خلاف نعرہ لگانے والوں نے ملک کی سلامتی و خودمختاری کو داؤ پر لگا دیا اور آج ایک بار پھر یہی قوتیں اکٹھی ہو رہی ہیں، جو پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے، آج پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے بیرونی قوتوں کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور اسلام کے تشخص کو خراب کر کے پیش کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس کا کہنا ہے کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں، افغان فورسز طالبان کیخلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کیساتھ تعلقات ہیں۔امریکی فوج کے ایک آفیسر نے امریکہ کے افغان مشن کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان میں جاری نام نہاد جنگ سے متعلق امریکی شہریوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس جو افغانستان میں ایک سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں انہوں نے باضابطہ طور پر افغانستان میں امریکی جنگ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور امریکی مشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی مسلح افواج کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں ڈیوس نے کہا کہ میں نے امریکی فوجی قیادت کی طرف سے افغانستان میں زمینی صورتحال سے متعلق کوئی باضابطہ بیانات نہیں دیکھے کہ جس سے اصل تصویر سامنے آتی ہو۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سینیٹرز جنگ کے اصل حقائق کی پردہ پوشی کرتے رہے ہیں اور افغانستان میں اتحادی افواج کو درپیش مشکلات کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں لائی جاتی۔ 
انہوں نے کہا کہ ہر ایک سطح پر ناکامی دیکھی ہے۔ ان کے بقول ہمارے مزید کتنے فوجی اس مشن میں ہلاک ہونگے یہ کامیابی نہیں جبکہ ہماری فوجی قیادت سات سالوں سے زائد عرصہ سے امید افزاء بیانات دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ملک کے بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ انہوں نے افغان فورسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ طالبان کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں۔

خیبر پختونخوا اور ایرانی صوبوں اصفہان و فارس کی حکومتوں کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی طرف سے پشاور میں متعین ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک، سندھ کے صوبائی صدر شاہی سید، سینیٹر الیاس بلور، صوبائی وزراء میاں افتخار حسین، محمد ایوب اشاڑی، حاجی ہدایت اللہ، ارشد عبداللہ، اے این پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری ارباب محمد طاہر اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید معصوم شاہ نے شرکت کی، ظہرانے کے دیگر شرکاء میں ایرانی قونصلیٹ کے محمد حسین زاکری، حسین خِدری، اسماعیل، رضوی طوسی، ایران کا دورہ کرنے والے سرکاری وفد کے ممبران عطاء اللہ خان، خالد پرویز، طارق جمیل، سید جمال الدین اور دیگر شامل تھے، اس موقع پر خیبر پختونخوا اور ایرانی صوبوں اصفہان و فارس کی حکومتوں کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے معاملات پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

ہفتہ وحدتِ اسلامی اور انقلاب اسلامی کی 33 ویں سالگرہ کی مناسبت سے امامیہ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا علی رضا نقوی کا کہنا تھا کہ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کا برپا کردہ اسلامی انقلاب پوری دنیا کے لیے مینارہ نور ہے۔ ماہ میلاد مصطفے ٰ کے با برکت ایام میں ہفتہ وحدتِ اسلامی اور انقلاب اسلامی کی 33 ویں سالگرہ کی مناسبت سے امامیہ آرگنائزیشن پاکستان لاہور ریجن کے زیر اہتمام سیمینار بعنوان ‘ بیداری اسلامی اور انقلابِ اسلامی کے اثرات الحمرا ہال نمبر میں منعقد ہوا۔ سیمینار سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے ناظم امامیہ آرگنائزیشن پاکستان لاہور ریجن سید ضیا حیدر رضوی نے کیا کہ میلادِ مصطفےٰ (ص ) کی عظیم مناسبت یعنی ہفتہ وحدت اور انقلابِ اسلامی کی 33 ویں سالگرہ کے حوالے سے عاشقانِ مصطفےٰ (ص ) کی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ عالم اسلام میں اسلامی بیداری اور وحدت کا حقیقی مظہر انقلاب اسلامی ایران ہے۔ امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری لعل مہدی خان نے کہا کہ عشقِ مصطفےٰ کے قالب میں ڈھلی ہوئی امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی الٰہی فکر نے جہاں و حدت امت کی راہیں متعین کی ہیں۔ وہیں ان کے برپا کردہ انقلاب اسلامی نے نظامِ اسلامی کے ابدی و آفاقی ہونے کو بھی ثابت کیا۔ انہوں نے عشقِ مصطفےٰ (ص ) کے اظہار کے لیے نعتِ رسولِ مقبول کے اشعار اور اپنی تازہ انقلابی نظم بھی پیش کی۔ سیمینار سے امامیہ آرگنائزیشن کی مجلس اخوان کے سیکرٹری ارشد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل وحدت اسلامی میں مضمر ہے۔ حجتہ الاسلام و المسلمین مولانا علی رضا نقوی نے کہا کہ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کا برپا کردہ اسلامی انقلاب پوری دنیا کے انصاف پسند انسانوں کے لیے مینارہ نور کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیمینار سے ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ڈاکٹر عباس فاموری اور ڈاکٹر احسن صدر پاکستان جر نلسٹس اینڈ رائٹرز ایسوسی ایشن نے بھی خطاب کیا۔ حجتہ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے خطبہ صدارت ارشاد اسلامی جمہوریہ ایران پر خطاب کیا۔

خوشاب میں معززین سے گفتگو کرتے ہوئے خیرالعمل فاؤنڈیشن کے انچارچ کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران، انقلاب امام زمان علیہ سلام کا مقدمہ ہے جو پوری دینا کے محرومین و مظلومین کے لیے ایک امید و آرزو ہے جسے قائد انقلاب اسلامی سید روح اللہ الخمینی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی عارفانہ، شجاعانہ جدوجہد، الہٰی نصرت و تائید اور عوامی حمایت کے زریعے شرمندہ تعبیر کیا۔مجلس وحدت مسلمین کے زیر انتظام خوشاب میں مسجد امام باقر علیہ السلام کی تعمیراتی کام کے معائنے کے موقع پر علاقے کے معززین سے گفتگو کرتے ہوئے خیر العمل فاﺅنڈیشن کے انچارچ اور مرکزی سیکرٹری ویلفیئر نثار علی فیضی نے کہا کہ آج عالم اسلام میں بیداری کی جو لہر ہے و ہ انقلاب اسلامی کا ہی ثمر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین بھی پاکستان میں انقلاب کی خوشبو اور آفاقی پیغام کو لیکر معاشرے میں سرگرم عمل ہے تاکہ پاکستان سے بھی بوڑھے استعمار کو اسکے ناپاک منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر اس مادر وطن سے نکال باہر کر دیا جائے۔ تاکہ یہ وطن جو قائد اعظم محمد علی جناح کی کاوشوں اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے اسے لا الہ الا للہ کا مرکز بنایا جا سکے۔  نثار فیضی کا کہنا تھا کہ عوام کی بے لوث خدمت اور اسلام کو نجات دہندہ سمجھ کر ہی ہم موجودہ مسائل سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔ نثار فیضی نے بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ ویلفیئر کے زیر اہتمام اس وقت پورے ملک میں سیلاب زدہ علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے جس کا افتتاح مجلس کے قائدین جلد ہی ان علاقوں کے دورے کے دوران کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ خوشاب میں زیر تعمیر مسجد کی بنیادوں کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ مرکزی سیکرٹری ویلفیئر نے اہل علاقہ سے کام کے معیار اور رفتار کے بارے میں معلومات لیں جس پر لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور اپنے علاقے میں ان فلاحی منصوبوں کے اجراء پر مجلس کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ دورے میں خیر العمل فاﺅنڈیشن کے ایگزیکٹو ممبران بابر زیدی اور مسرور نقوی بھی ہمراہ تھے۔

انقلاب اسلامی کے ظہور پذیر ہونے کے بعد بانی انقلاب نے امت اسلامیہ کو وحدت، اخوت، یگانگت، بھائی چارہ، باہمی تعاون، استعماری حکمرانوں سے آزادی اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا پیغام دیا اور اپنے اپنے ممالک میں کامیابی کیلئے اسی راہ (آزادی) کو اپنانے کی تاکید کی، استعمار نے اس اسلامی انقلاب کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے اپنے پروپیگنڈہ ذرائع اور وسائل کو میدان میں جھونکتے ہوئے اسلامی انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دیئے۔ سب سے پہلے ایران کے ہمسایوں بلکہ چاروں طرف واقع ممالک بالخصوص عربوں کو ڈرایا گیا۔  11 فروری 1979ء کو ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو جیسے دنیا ہی بدل گئی۔ بظاہر یہ انقلاب ایک ایسے ملک میں آیا جو کئی دہائیوں سے استعمار اور اس کے گماشتوں کی جنت بنا ہوا تھا، مگر حقیقت میں یہ انقلاب دنیا بھر کے مسلمانوں (بالخصوص) اور آزادی و حریت کی جنگ لڑنے والے ستم رسیدہ، اور مظلوم انسانوں کیلئے (بالعموم) ایسے روشن و تابندہ ستارہ کی مانند نمودار ہوا کہ جس کی تابناکی اور نور کی کرنوں نے بھٹکتے، سسکتے اور مایوسیوں کی دلدل میں غرق ہوئے انسانوں کو ایسی راہ دکھائی، جس پر چل کر منزل کو پا لینا صرف خواب نہیں حقیقت کا یقین ہوتا تھا۔ ایران میں اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے والے پیغام نے اپنا اثر اس انداز میں دکھانا شروع کیا کہ ہر طرف انقلاب کا ڈنکا بجنے لگا، ہر سو اس انقلاب کے نغمے اور سرود گائے جانے لگے، بہارِ انقلاب نے گویا جادوئی اثر کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ جو بانیء انقلاب امام خمینی رہ سے مکتبی و فکری حوالے سے شدید اختلاف رکھتے تھے ان کی زبانوں پر بھی ایک ہی نام ہوتا تھا “خمینی انقلاب اسلامی کے ظہور پذیر ہونے کے بعد بانی انقلاب نے امت اسلامیہ کو وحدت، اخوت، یگانگت، بھائی چارہ، باہمی تعاون، استعماری حکمرانوں سے آزادی اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا پیغام دیا اور اپنے اپنے ممالک میں کامیابی کیلئے اسی راہ (آزادی) کو اپنانے کی تاکید کی، استعمار نے اس اسلامی انقلاب کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے اپنے پروپیگنڈہ ذرائع اور وسائل کو میدان میں جھونکتے ہوئے اسلامی انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دیئے۔ سب سے پہلے ایران کے ہمسایوں بلکہ چاروں طرف واقع ممالک بالخصوص عربوں کو ڈرایا گیا۔ موروثی اقتدار کے ذریعے حکمرانی کرنے والوں کو عوامی طرز سیاست کے اس شاندار نمونے کو خطرہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اس حوالے سے ایران کے مخالف نجدی طرز فکر کے حامل حکمرانوں اور ان سے وابستہ مختلف ممالک کے گروہوں کو انقلاب کی مخالفت کا علم بلند کرنے اور گہری سازش کے تحت جہانِ اسلام میں ایران کے ساتھ محاز آرائی کی کیفیت ایجاد کی گئی، تاکہ انقلاب اپنے آزادی کے پیغام کو شفاف طریقہ سے نہ پیش کر سکے۔ ایران اسلامی کو ناکام کرنے کے منصوبہ کے تحت ہی صدام ملعون، جو اس وقت عراق کا آمر تھا، سے حملہ کروایا گیا۔  بلاشبہ صدام کے ایران پر حملے اور آٹھ سال تک مسلط کردہ جنگ کی پشت پناہی کم از کم پچاس ممالک کر رہے تھے، جس کا مقصد نوزائیدہ مملکت کو تباہی سے دوچار کرنا تھا، یہ تو قدرت خداوند کریم اور ملت ایران کی استقامت و جوانمردی تھی جس نے دشمنوں کو ناکامی سے دوچار کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جنگ کے ساتھ ساتھ استعمار نے ایران کو ناکام کرنے کیلئے انقلاب کی اعلٰی قیادت کو راستے سے ہٹانے کیلئے تخریبی گروہ تشکیل دیئے۔ یہ لوگ اپنے منحوس عملیات کے ذریعے مجتھدین، قائدین اور کمانڈرز کو راستے سے ہٹاتے۔ آیت۔۔دستغیب، مرتضیٰ مطہری، بھشتی، رجائی، باہنر اور پارلیمنٹ کے بہتر شہداء کو ایسے ہی شیطانی گروہوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انقلاب کے خلاف سازشوں کے ان گنت واقعات اور سانحات پر کئی کتب لکھی جا چکی ہیں۔ الغرض ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب کے پیغام اور بہارِ آزادی کی لہروں کو روکنے کیلئے ہر حربہ، ہر ذریعہ استعمال ہوا۔ حرمین شریفین سے لیکر وہائٹ ہاؤس کے مکینوں تک سب نے اپنا حصہ ڈالا، سب نے اس چراغ کی لو کو بجھانا چاہا، سب نے روشنی کے سفر کو تاریکی کے راستے پر ڈالنا چاہا، سب نے قلوب کو مسخر کرنے والے آفاقی پیغام کی نفی کی، سب نے روڑے اٹکائے، سب نے راستے میں دیواریں کھڑی کیں، سب ہی مصیبتوں کے سونامی لائے، آفتوں کے کہسار کھڑے کئے، مگر ہم نے دیکھا اور 33برس سے دیکھ رہے ہیں کہ اس انقلاب کے راستے میں ہر دیوار ریت ثابت ہوئی، ہر طوفان صحرائے طبس میں دشمنوں کیلئے عبرت گاہ بن گیا اور اس انقلاب کی لو روز بروز تیز ہوتی گئی۔  انقلاب کی کرنوں نے چہار سو عالم میں ایسی نورانیت بکھیر دی کہ اندھیرا چھٹتا گیا اور آج ہمارے سامنے ہے کہ تیونس، یمن، حجاز، مصر، فلسطین، پاکستان، لبنان، افغانستان، بحرین اور دنیا کے کئی ایک ممالک میں اس کی برکات عملی طور پر ہم دیکھ سکتے ہیں، دنیا کے کئی ممالک اور جماعتیں اس اسلامی انقلاب سے رشد پا کر حریت، آزادی، استقامت، جہد مسلسل کے ذریعے ظالم، جابر، آمر، قابضین کے خلاف قیام کئے ہوئے ہیں۔ پا برہنہ لوگوں کے اس انقلاب میں قوتِ جاذبہ کی بدولت ہی 33 برس سے تمام تر سازشوں کے باوجود انہیں اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔  آج ہر طرف آزادی کی نوید اور نغموں کی گونج صاف سنائی دے رہی ہے۔ تیونس، مصر، یمن سے آنے والی آزادی کی گونج فلسطین، بحرین، حجاز اور دیگر ممالک میں جو سنائی دے رہی ہے اور بگل جو بج رہا ہے اس سے ثابت ہے کہ اسلامی انقلاب کامیابیوں کی شاہراہ پر گامزن اور رواں دواں ہے اور امریکی استعمار کے مہروں کے ہاتھوں سے اقتدار کی چھوٹتی ڈوری دراصل مستقبل قریب میں اس پر مزید کاری ضربیں لگانے کا اعلان ہے، جبکہ مستقبل کا نقشہ اپنی مرضی سے ڈرائنگ کرنے کے خواہش مند امریکہ کو یقیناً خفت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی یاری میں معصوم، بیگناہوں کے خون سے ہولیاں کھیلنے والے حکمران اور گروہوں کو بھی شکست کا مزہ چکھنا ہو گا۔ انشاءاللہ….تحریر: علی ناصر الحسینی

ٹی این جے ایف کے سربراہ نے کہا ہے کہ استعمار ایران کے گھیراؤ کیلئے کھیل، کھیل رہا ہے۔ آرمی چیف کا بیان فکر انگیز ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کوئی بھول میں نہ رہے بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں، حکمران سیاستدان اور ادارے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے ملک کی فکر کریں۔ اپنے ایک اخباری بیان میں آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے امریکی خارجہ کمیٹی کا بیان پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے استعمار کو بلوچستان کے عوام کا غم نہیں استعمار افراتفری پھیلا کر پاکستان پر دباؤ اور ایران کا گھیراؤ مکمل کرنے کیلئے گھناؤنا کھیل، کھیل رہا ہے، پاکستان توڑنے کا خواب دیکھنے والے بھول میں نہ رہیں بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں مادر وطن کے تحفظ کیلئے کروڑوں پاکستانی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے آرمی چیف کا بیان فکر انگیز ہے خدا را حکمران سیاستدان اور قومی ادارے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ملکی سالمیت اور یکجہتی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد ہو جائیں، اقتدار آنی جانی شے ہے خدانخواستہ مادر وطن کو نقصان پہنچا تو کچھ نہیں بچے گا، اگر وطن بچانا ہے تو لیڈران اور عوام شعب ابی طالب ؑ کی طرح سختیوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نگہبان نبوت و رسالت حضرت ابوطالبؑ کی وفات حسرت آیات کی مناسبت سے 22 تا 26 ربیع الاول ’’عالمگیر ایام الحزن‘‘ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطالب کی وفات پر سوگ منانا رسول خداؐ کی سنت ہے جنہوں نے وفاتِ ابوطالب کے سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا حضرت ابو طالب ؑ کی رحلت کے بعد مشرکین مکہ جو تمام تر کوششوں کے باوجود حیاتِ ابوطالب ؑ میں رسالت مآب ؐ کا بال تک بیکا نہ کر سکے تھے ان کی سختیاں اس قدر بڑھ گئیں کہ رسول کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طالب ؑ رسول خدا سے بے پناہ محبت رکھتے تھے جب احمد مرسل ؐ صفحہ ارضی پر تشریف لائے تو حضرت عبدالمطلب نے لہ شان کبیر کہہ کر پہلی نعت اور حضرت ابو طالب ؑ نے بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کر کے پہلی محفل میلاد رسول ؐسجائی۔ انہوں نے کہا کہ ابن سعد کی کتاب طبقات الکبریٰ میں مرقوم ہے کہ جب حضرت ابوطالب ؑ کا وقت وفات قریب آیا انہوں نے اولاد حضرت ہاشم ؑ کو بلا کر یوں وصیت فرمائی ’’جب تک تم محمد ؐ کی باتیں سنو گے اور ان پر عمل پیرا رہو گے نیکی اور بھلائی کو ہاتھ سے نہیں دو گے، پس ان کی حمایت و پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم امہ کے مسائل و مصائب کی سب سے بڑی وجہ یہی کہ مسلمانوں نے محمد مصطفی ؐ کی غلامی کے بجائے مادیت کی غلامی کا طوق پہن لیا ہے، اسلام دنیا کو متاثر کر رہا ہے جب کہ اپنے اس سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں، حضرت ابو طالب ؑ کی وصیت ہر دور کے مسلمانوں کیلئے کامیابی کا نسخہ کیمیا ہے۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ دین حق کی حقانیت سے خوفزدہ مغربی طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت بانی اسلام خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ؐ کی توہین کرکے اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتی ہیں، جنہیں ناکام بنانے کیلئے سیرت ابوطالب ؑ پر عمل پیرا ہونا ہوگا جن کا فرمان فرقِ تاریخ پر ہمیشہ جگمگا تا رہے گا کہ ’’میرا ایمان ہے کہ دین محمدؐ تمام ادیان سے بہتر ہے،اللہ کی قسم جب تک ابو طالبؑ زندہ ہے اس وقت تک دنیائے کفر مجتمع ہو کر بھی (اے محمدؐ) تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی‘‘۔ بلوچستان کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی میں عالمی طاقتیں اور پاکستان کا ازلی دشمن ملوث ہے عالمی میڈیا منظم سازش کے تحت بلوچستان میں امن عامہ کی خرابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے، جنرل کیانی کے بیان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے لہذا تمام محب دین و وطن قوتوں کو بلوچستان کے مسائل کا جائزہ لے کر انہیں حل کرنے کیلئے پیش قدمی کرنا ہوگی اور قومی ذرائع ابلاغ کو بھی اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بلوچستان میں قتل و غارت فوج کر رہی ہے تو پھر فوج کے جوانوں کو کون مار رہا ہے؟۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں انہیں بدنام کرنے کیلئے گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے قتل میں ایک ہی قوت ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزمائش کے ان مراحل میں پورے عالم اسلام کو ہادیان دین اور مشاہیر اسلام کا دامن تھامنا ہوگا۔  آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اسلامیان عالم سے اپیل کی کہ سنت رسول کی پیروی کرتے ہوئے ایام الحزن کے دوران جہاں سرکار رسالت مآبؐ، اہلبیت اطہارؑ اور پاکیزہ صحابہ کبار کو تعزیت و تسلیت پیش کرنے کیلئے مجالس عزاء اور تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کریں اور اس عہد کا تجدید کریں کہ حضرت ابو طالب ع کے فرمان کے مطابق سیرت مصطفوی کی پیروی کرتے ہوئے دین و وطن کی سربلندی کیلئے اغیار کی ہر سختی اور پابندی کا خندہ پیشانی اور جرات سے مقابلہ کریں گے اور ناموسِ رسالت ؐ و قومی غیرت و حمیت پر ہر گز کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ در ایں اثناء عالمگیر ایام الحزن کے پروگراموں کو منظم و مرتب کرنے کیلئے ٹی این ایف جے کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا کنوینر ایم ایچ جعفری کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مالک اشتر کمیٹی کے سیکرٹری اور پروفیسر غلام عباس حیدری ڈپٹی سیکرٹری ہونگے۔

مزار قائد پر منعقدہ جلسے میں افراد کی شرکت توقع سے کہیں زیادہ کم تھی، جلسہ کے منتظمین کے مطابق تقریباً دس ہزار کرسیاں لگائی گئیں تھیں، لیکن دیکھنے والی نظروں سے اگر دیکھا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی، لیکن پھر بھی اگر بندوں اور جھنڈوں کو ملایا جائے تو تعداد دس سے پندرہ ہزار کے درمیان بن جاتی ہے۔ پاکستان میں مزاروں پر میلے لگتے رہتے ہیں، تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تمام میلوں کا رنگ یکساں ہوتا ہے، مگر پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے آس پاس اتوار کو جس میلے کا سماں تھا وہ ذرا مختلف تھا۔ جس محمد علی جناح نے پاکستان میں جدید اسلامی نظام کا پرچار کیا تھا، ان کے مزار کے قریب کھلے میدان میں طالبان کے نظام کی حمایت کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اس نظام کا نفاذ ہی راہِ نجات اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔ ایک مقرر نے محمد علی جناح کی بیٹی دینا جناح کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ جب دینا نے ایک ہندو سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو محمد علی جناح نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور کہا وہ چاہیں کسی سے بھی شادی کر لیں مگر وہ کسی ہندو سے شادی کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ اِس مثال کے ذریعے وہ محمد علی جناح کی ہندؤوں کے بارے میں سوچ کی عکاسی کرنے کے خواہش مند تھے۔ نمائش چورنگی پر واقع عالمی مجلس ختم نبوت کے دفتر کے قریب سے ہی اس میلے کی رونقوں کا ظہور ہو رہا تھا، جہاں جہاد میں یقین رکھنے والی تنظیموں کے کیمپ موجود تھے اور جہاد کیوں ضروری ہے جیسے موضوع پر کتب دستیاب تھیں۔ معدے اور دماغ دونوں کی خوراک اس میلے میں دستیاب تھیں، حلیم کے ٹھیلے، بریانی کے تنبو، منرل واٹروں کے سٹال، مٹھائی اور کیک کی تھال میں فروخت کرتے ہوئے نوجوان نظر آئے جبکہ کچھ بزرگ مسواک، ٹوپیاں، تسبیح اور الکوحل سے پاک خوشبو فروخت کر رہے تھے۔ ہر پتھارے یا اسٹال پر کسی نہ کسی جہادی تنظیم کا جھنڈا ضرور لگا تھا۔ زمین پر کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ کے بیجز، کلینڈر، اسٹیکرز بھی فروخت کیے جا رہے تھے، اسٹیکروں کے ساتھ موبائل ٹیلیفون کے پاؤچ پر وہ ہی عبارت تحریر تھیں جو اس تنظیم کی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ بعض مقامات پر ویڈیو سی ڈیز اور ایم پی تھری سی ڈیز بھی دستیاب تھی، جن پر انڈیا میں لشکر طیبہ کی کارروائیاں ترانوں کے ساتھ، انڈیا میں فدائی کارروائیاں، افغانستان میں جنداللہ کی کارروائیاں اور خصوصی تربیت کے ٹائٹل تحریر تھے۔ تیس رپے فی سی ڈی حاصل کی جا سکتی تھی۔ ان میں سے کچھ ایسی سی ڈیز بھی تھیں جو کراچی میں سی آئی ڈی پولیس کسی بھی جہادی کے ساتھ برآمد کر کے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ “ملزم سے جہادی مٹیریل کی سی ڈیز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ موبائل ٹیلیفون کے میموری کارڈ میں جہادی ترانے اور آیات ڈالنے کی بھی سہولت موجود تھی، مگر یہ بلامعاوضہ نہ تھا۔ نوجوانوں کے لیے کپڑے اور پیراشوٹ سے بنی ہوئی کمانڈو جیکٹس بھی دلچسپی کا باعث تھی، سٹال کے مالک کا کہنا تھا کہ چار سو اور چھ سو کے حساب سے وہ کئی جیکٹیں فروخت کر چکے ہیں۔ کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحے کی کی چین کا سٹال بھی نوجوانوں کے لیے کشش کا باعث رہا، جہاں ڈیڑھ سو روپے مالیت میں چار انچ کی کلاشنکوف کا مالک بنایا جا رہا تھا۔ گزشتہ تین ماہ میں اسی میدان میں یہ چوتھا اجتماع تھا، اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے جلسے کے علاوہ عمران خان، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور پاکستان دفاع کونسل کے اس جلسے میں لہجے اور الفاظ کے چناؤ کے علاوہ تقاریر کے موضوع تقریباً یکساں تھے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں گھڑ سوار پولیس اہلکار تعینات تھے مگر اس جلسے میں یہ ذمہ داری جماعتہ الدعوۃ کے حوالے تھی۔ ڈرون حملے، نیٹو کی رسد، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، بھارت سے دوستی کی حکومتی خواہش، بلوچستان کی بے چینی سب کچھ وہ ہی تھا۔ جلسہ گاہ کے چاروں اطراف برجیاں بنائی گئی تھیں، جہاں جماعت الدعوۃ کے مسلح کارکن دوربینوں کی مدد سے نگرانی کرتے ہوئے نظر آئے، اس کے علاوہ دو درجن کے قریب کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کے جلسے کے مقابلے میں اس جلسے میں شرکاء کی تعداد قدرے محدود تھی، مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں مدارس کے اساتذہ اور طالب علموں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جو اس جلسے میں نظر نہیں آئی، جس سے یہ تاثر لیا جا رہا تھا کہ مدراس خود کو جہاد کی سوچ رکھنے والی ان تنظیموں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی بھی ایک مؤثر موجودگی رکھتی ہے مگر اس کے کارکنوں کی شرکت محدود نظر آئی، جماعت کے ایک رہنماء کا کہنا تھا کہ یہ دانستہ طور پر کیا گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کراچی میں طالبانائزیشن پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے، آج بعض مقررین نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر کہا کہ آکر دیکھیں یہ لوگ کوئی اور نہیں طالبان کا نظام چاہتے ہیں۔ اگر جلسہ کی ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ کراچی کی عوام نے دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ مزار قائد پر منعقدہ جلسے میں افراد کی شرکت توقع سے کہیں زیادہ کم تھی، جلسہ کے منتظمین کے مطابق تقریباً دس ہزار کرسیاں لگائی گئیں تھیں، لیکن دیکھنے والی نظروں سے اگر دیکھا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی، لیکن پھر بھی اگر بندوں اور جھنڈوں کو ملایا جائے تو تعداد دس سے پندرہ ہزار کے درمیان بن جاتی ہے، جو اب تک کے ہونے والے جلسوں کی تعداد کا آدھے سے بھی کافی کم حصہ ہے، اگر اس جلسہ کے بعد سے دفاع پاکستان کونسل کی حقیقت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ غبارہ میں ہوا کی مانند ہے جو صرف پھولا ہوا دکھائی دے رہا ہے، لیکن اندر سوائے ہوا کے اور کچھ بھی نہیں ہے، جلسہ کی ناکامی کے بعد اگر دفاع پاکستان کو کالعدم دفاع پاکستان کونسل کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔

 کراچی میں دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ افغانستان میں شکست کھانے والا امریکا اور نیٹو اب واپس جارہے ہیں اب ان کا نظام بھی ان کے ساتھ جارہا ہے، افغانستان میں ناکامی کے بعد اب امریکا بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے، بلوچستان کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر امریکا، اسرائیل اور بھارت نے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں پر حملہ کیا تو ہم جہادی جذبے اور قومی حمیت کے ساتھ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے پاکستان کے ہر شہر کو تحریر اسکوائر بنا دیا جائے گا، افغان ٹریڈ کی آڑ میں نیٹو سپلائی بند کی جائے گی، امریکا کے خلاف علماء سے فتویٰ لے کر جہاد کریں گے، انتخابات کیلئے قابل قبول عبوری حکومت قائم کی جائے، انتخابات کے نتیجے میں عوام کے دکھوں کا مدوا نہ ہوا تو یہ انتخابات 90 روز میں کالعدم قرار پائیں گے اور عوام انقلاب کی جانب بڑھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باغ قائداعظم شاہراہ قائدین میں جماعت اسلامی کراچی کی میزبانی میں منعقدہ دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دفاع پاکستان کانفرنس سے دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ و جمعیت علمائے اسلام ( س ) کے امیر مولانا سمیع الحق، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن، جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، اویس نورانی، جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، تحریک اتحاد پاکستان کے سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل، مسلم لیگ ( ض ) کے سربراہ اعجاز الحق، تحریک انصاف کے اعجاز چوہدری، تحریک حرمت رسول کے مولانا امیر حمزہ، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی گروپ کے مولانا عبدالستار، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نمائندے، مسلم لیگ شیر بنگال کے ڈاکٹر صالح ظہور، انصار الامہ کے فضل الرحمن خلیل، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی، تحریک آزادی کشمیر کے مولانا بشیر احمد، حافظ سیف اللہ منصور، سواد اعظم اہلسنت کے مفتی احمد الرحمن، مجلس احرار کے مفتی عطاء الرحمن قریشی، جمعیت اہلحدیث کے حافظ ابتسام الہی ظہیر، تحریک آزادی قبلہ اول کے مولانا شمشاد احمد سلفی، جماعت الشاعت التوحید کے مولانا ولی ہزاروی، تحریک اہلحدیث کے مولانا عبدالغفار روکڑی، حرکت الانصار کے قاری امین ربانی، تحریک غلبہ اسلام کے قاری منصور احمد، کمانڈر حاجی عبدالجبار، جمہوری وطن پارٹی کے سردار نیاز احمد وڑائچ و دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاع پاکستان کا مقصد نیٹو سپلائی روکنا، ڈرون حملے بند کروانا، قوم کو گروہی، مذہبی اور علاقائی لسانی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک کرنا ہے۔ اسلامی شعائر کو اجاگر کرنا اور قومی یکجہتی پیدا کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے راستے کو ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادی کی جنگ لڑنے والے غیور کشمیریوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے قائم کی گئی ہے دفاع پاکستان کونسل نااہل حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے وجود میں آئی ہے امریکا کی غلامی سے نجات اس کا اہم ایجنڈا ہے۔ مقررین نے کہا ہم پاکستان کے دفاع کے ہر مسئلے پر آواز بلند کریں گے۔ افغانستان میں شکست کھانے والا امریکا اور نیٹو اب واپس جا رہے ہیں اب ان کا نظام بھی ان کے ساتھ جا رہا ہے۔ افغانستان میں ناکامی کے بعد اب امریکا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے، بلوچستان کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے۔ ہم حکومت سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ اتحاد سے نکلے، پاکستان کی سلامتی پر سودا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ نیٹو کی سپلائی بحال نہیں ہو سکے گی۔ نیٹو کو فضائی راستے سے سپلائی بھی بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کشمیر کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے پاکستان کے خلاف پروپگینڈہ کرکے انڈیا اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہم پاکستان میں انڈیا کی منڈی قائم نہیں ہونے دیں گے۔ دفاع پاکستان کا قافلہ اسلامی نظام کے قیام تک چلتا رہے گا۔

واشنگٹن پوسٹ نے پیپلزپارٹی کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ گيلانی سياسی شہيد بن کر اپنی اولاد کے لئے شاندار وراثت چھوڑنا چاہتے ہيں۔ وزیراعظم یوسف رضا گيلانی نے کہا ہےکہ اگر انہیں سپریم کورٹ نے سزا دی تو وہ استعفی دیدیں گے۔ پاکستانی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق یوسف رضا گيلانی نے کہا کہ صدر زرداری پر مالی بدعنوانی کے الزامات سیاسی اھداف کے تحت لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کو صدر ہونے کے ناطے قانونی استثنی حاصل ہے۔ گیلانی نے کہا کہ وہ خود وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے قانونی استثنی کے حامل ہیں اور اگر انہیں سزا دی گئی تو وہ اپنے عھدے سے استعفی دیدیں گے۔ دوسری جانب امريکی اخبار نے دعوی کیا ہے اگر يوسف رضا گيلانی کو عدالت کی طرف سے سزا سنا دی جاتی ہے تو صدر آصف علی زرداری ان کی سزا کو فوراً معاف کر سکتے ہيں، امريکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پیپلزپارٹی کے  اندرونی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے اگر يوسف رضا گيلانی کو عدالت کی طرف سے سزا سنا دی جاتی ہے تو صدر آصف علی زرداری ان کی سزا کو فوراً معاف کر سکتے ہيں، اگر گيلانی عدالت کے سامنے انکاری رہتے ہيں تو پيپلز پارٹي ہر صورت گيلانی کے فيصلے کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ گيلانی سياسی شہيد بن کر اپنی اولاد کے لئے شاندار وراثت چھوڑنا چاہتے ہيں۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے وزيراعظم اور صدر اس وقت دارالحکومت کے شاہانہ محلوں ميں رہائش پذير ہيں ليکن وہ زيادہ تر جيل کے پتوں سے پہچانے جاتے ہيں۔ بعض مبصرين پيشگوئی کر رہے ہيں کہ وزير اعظم يوسف رضا گيلانی دوبارہ سلاخوں کے پيچھے جا رہے ہيں۔ گزشتہ روز سپريم کورٹ ميں ان کی اپيل مسترد ہونے کے بعد اب وہ توہين عدالت کے الزامات پر فردِجرم عائد کرنے کا سامنا کرنے جا رہے ہيں۔ اس الزام ميں ممکنہ طور پر گيلانی کو چھ ماہ جيل اور وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑيں گے۔ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس حکام کو منی لانڈرنگ کيس کے متعلق خط لکھنے سے گيلانی مسلسل انکاری ہيں اور کہتے ہيں کہ آئين کے تحت صدر زرداری کو استثنی حاصل ہے، ليکن عدالت کا اصرار ہے کہ اگر وزير اعظم ہی ان کے احکامات کو نہيں مانتے تو کوئی دوسرا کيسے عمل کرے گا يہ طرز عمل قانون کی حکمرانی کو ختم کر دے گا۔ يوسف رضا گيلانی کہتے ہيں کہ اگر عدالت حکم دے گی تو وہ جيل جانے کو تيار ہيں اس صورت حال نے عسکريت پسندی کے شکار جوہری ملک کی نازک جمہوريت کے لئے شديد خطرات پيدا کر ديئے ہيں۔ پاکستان اس وقت عسکريت پسندی کے ساتھ توانائی کی شديد کمی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ ايک رائے يہ بھی ہے کہ عدالت کے احکامات نہ مان کر گيلاني سياسی شہيد بننا چاہتے ہيں تاکہ ثابت کر سکيں کہ انہوں نے آخر تک جماعت سے وفاداری دکھائی۔ اس طرح کی قربانی ان کی اولاد کے لئے سياسی بقا اور شاندار وراثت چھوڑے گی جو سياست ميں داخل ہو چکے ہيں۔ پيپلز پارٹی کے کچھ افراد کا اصرار ہے کہ ان کے پاس وزيراعظم يوسف رضا گيلانی کے علاوہ کوئی متبادل نہيں ليکن ان کا کہنا ہے اگر گيلانی عدالت کے سامنے انکاری رہتے ہيں اور انہيں استعفی دينے پر مجبور کيا جاتا ہے تو پارٹی گيلانی کے فيصلے کے ساتھ ہو گی۔ پيپلز پارٹی کے اندروني ذرائع کہتے ہيں کہ ايک اور آپشن بھی ان کے پاس ہے اور وہ يہ کہ اگر گيلانی کو سزا ہو جاتی ہے تو صدر ان کی سزا کو فوراً معاف کر سکتے ہيں۔

شہباز ایئربیس جیک آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف ٹی وی پر مختلف ٹاک شوز میں دیئے جانے والے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ستر فیصد ہے۔آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا پارلیمنٹ کی سفارشات پر وزیراعظم کا بیان واضح ہے اور نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ شہباز ایئربیس جیک آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ اٹھارہ فیصد دفاعی بجٹ میں سے نو فیصد بری اور نو فیصد نیوی اور ایئرفورس کا ہے۔ انھوں نے ٹی وی پر مختلف ٹاک شوز میں دیئے جانے والے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ستر فیصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئے ایف سولہ طیاروں کا کم سے کم استعمال کیا جائے گا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل راؤ قمر سلیمان نے کہا کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدیں محفوظ ہیں، بھارت کی نئی جنگی حکمت عملی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی جہاز امریکی جہازوں پر فائر نہیں کر سکتے۔ ایئرچیف راؤ قمر سلیمان نے بتایا کہ ڈرون طیارے پاکستان میں تیار کئے جا رہے ہیں، لیکن ان میں میزائل سسٹم نہیں لگایا جا رہا۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف آپریشن ائیر مارشل وسیم الدین نے کہا کہ امریکہ سے اٹھارہ نئے ایف سکسٹین بلاک ففٹی ٹو کے علاوہ چودہ سیکنڈ ہینڈ ایف سکسٹین بھی مل گئے ہیں جبکہ چین سے پہلا اواکس طیارہ بھی مل گیا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق آرمي چيف جنرل اشفاق پرويز کياني نے کہا ہے کہ نيٹو اور امريکا سے تعلقات کي پاليسي پارليمنٹ نے ہي طے کرني ہے، ايئرچيف مارشل راو قمر سليمان کا کہنا ہے کہ امريکا سے ملنے والے ايف سولہ طياروں ميں ايسي کوئي چيز نہيں جو انہيں امريکي طياروں کے خلاف استعمال سے روکے۔ آرمي چيف جنرل اشفاق پرويز کياني اور ايئر چيف مارشل راو قمر سليمان جيکب آباد کے شہباز ايئربيس پر ميڈيا سے بات کر رہے تھے۔ آرمي چيف نے کہا کہ وزيراعظم نے کہہ ديا ہے کہ نيٹو سے متعلق پاليسي پر پارليماني عمل جاري ہے، نيٹو اور امريکا سے تعلقات کے بارے ميں فيصلہ پارليمنٹ نے کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ قبائلي علاقوں ميں طاقت کا استعمال کم سے کم رکھنے کي کوشش کي جا رہي ہے جبکہ نئے ايف 16 طياروں سے ملکي دفاع مضبوط ہو گا۔ ايئرچيف مارشل نے ميڈيا کو بتايا کہ شہباز ايئربيس مکمل طور پر پاک فضائيہ کے کنٹرول ميں ہے، امريکا سے ملنے والے ايف 16 طياروں ميں ايسي کوئي چيز نہيں جو امريکي طياروں کو نشانہ بنانے سے روک سکے۔

یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) جو اولمپک کے مقابلوں کے لیے فٹبال کے کھیل کی گورنر باڈی ہے، نے کھیل کے میدان میں سر پر حجاب رکھنے کی وجہ سے اردن، فلسطین اور بحرین کی خواتین کھلاڑیوں پر اس بنا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ ادارہ ایرانی خواتین پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت ساری نوجوان باصلاحیت مسلمان لڑکیاں عالمی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے سے محروم رہ جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہ لڑکیاں اس انداز سے سر پر اسکارف باندھ کر کھیلتی ہیں کہ جس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوتا اور نہ کھیل میں انھیں دقت یا مشکل پیش آتی ہے۔  قبل ازیں مسلمان خواتین پر حجاب کے حوالے سے مختلف نوعیت کی پابندیاں مختلف ملکوں میں عائد کی جا چکی ہیں۔ بعض ممالک میں انھیں سرکاری ملازمتوں کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح سے باحجاب خواتین پر روزگار کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں نے پابندی عائد کر رکھی ہے کہ کوئی طالبہ سر پر حجاب پہن کر کالج یا سکول میں نہیں آ سکتی۔ ایسے اقدامات ان مسلمان لڑکیوں کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہیں جو اپنے مذہبی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حجاب کے خلاف مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے یہاں تک نفرت انگیز فضا ہموار کی ہے کہ 2009ء میں جرمنی کی ایک عدالت میں ایک مصری خاتون مروہ الشربینی کو فقط حجاب پہننے کے جرم میں ایک جرمن شدت پسند نے قتل کر دیا تھا، جسے عالم اسلام میں شہیدہ حجاب کا نام دیا گیا ہے۔  یوں معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں تمام تر دینی اور مذہبی علامتوں اور اقدار کے خلاف ایک شعوری تہذیبی جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ یہاں تک کہ اب مسلمان خواتین پر کھیل کے دروازے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ اردن کی ایک کھلاڑی راہاف اویس نے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن میں ایک فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُس کی اس اپیل پر اگر عالمی بیداری پیدا نہ ہوئی تو صدا بہ صحرا ثابت ہو گی کیونکہ یہ فیصلے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے مسلمان کھلاڑی لڑکیوں پر یہ پابندی عائد کی ہے، اُن کا ایجنڈا عالمی اور تہذیبی ہے۔  مسلمانوں کے خلاف مختلف توہین آمیز، اذیت ناک اور سماجی و اقتصادی مقاطعے کے حوالے سے جو اقدامات عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں، اگرچہ وہ حکمران طبقوں کی طرف سے ہیں اور پراپیگنڈہ کی عالمی قوت سے متاثر افراد ان کے حامی بھی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ مشرق و مغرب کے تمام غیر مسلم ان اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے عیسائی اور یہودی راہنماﺅں نے مساجد کے میناروں کی تعمیر کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں کیے جانے والے اقدامات کے خلاف بیانات دیئے تھے۔  ایسے عیسائی اور یہودی راہنما بھی موجود ہیں جنھوں نے قرآن حکیم کو نذرآتش (نعوذباللہ) کے سنگین اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔ حجاب پر پابندیوں کے فیصلوں کی مخالفت کرنے میں بھی کئی غیر مسلم راہنما نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حامی امریکہ کے کئی اداروں اور کارکنوں نے واشنگٹن میں زیرو گراﺅنڈ کے پاس مسجد کی تعمیر کے مسلمانوں کے مطالبے کی کھلے بندوں حمایت کی ہے۔ اس وقت یہی صورتحال ہمیں کھیلوں کی دنیا میں باحجاب خواتین پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے ضمن میں بھی دکھائی دیتی ہے۔  خواتین کی کھیلوں کی مختلف انجمنوں نے مسلمان خواتین پر حجاب پہن کر کھیلنے پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہن کر کھیلنے کی اجازت دی جائے اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف کوئی پابندی عائد نہ کی جائے۔ ان تنظیموں نے اس فیصلے کو ایک امتیازی فیصلہ قرار دیا ہے۔ بعض خواتین نے اس فیصلے کی بنیاد اسلامو فوبیا کو قرار دیا ہے۔ جن خواتین ٹیموں کی کپتانوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے ان میں اٹھارہ ممالک کی ٹیمیں اب تک شامل ہو چکی ہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ پر change.org نامی سائٹ پر اس حوالے سے متعدد پٹیشنز موجود ہیں جن کی عالمی سطح پر حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مضمون کے لکھتے وقت اب تک 15 ہزار سے زیادہ افراد اس کی حمایت اور حجاب کی بنیاد پر امتیازی فیصلے کی مخالفت میں اپنی رائے دے چکے ہیں۔  یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔  البتہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مشرق و مغرب میں مختلف ادیان و مذاہب میں ایک وسیع حلقہ اس منافقت کی حقیقت کو سمجھ چکا ہے۔ عالمی سطح پر موجود بیداری اس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولرازم کے نعروں کی اوٹ میں انسانی وسائل پر قبضہ جمانے اور عالمی سلطنت قائم کرنے کی مکروہ خواہشیں اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ پسماندہ اور محروم عوام نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے حصول کے لیے عزم کر لیا ہے۔ اب اس طرح کی پابندیاں تار عنکبوت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔تحریر: ثاقب اکبر