فتح اورحماس کی متحدہ فلسطینی حکومت تسلیم نہيں، صیہونی اورامریکی سیخ پا ہو گئے

Posted: 11/02/2012 in All News, Important News, Palestine & Israel, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News, USA & Europe

صیہونی حکومت نےاعلان کیاہے کہ تحریک فتح اورحماس کی متحدہ فلسطینی حکومت کو وہ تسلیم نہيں کرےگی ۔ واضح رہے کہ دوحہ میں فلسطینی انتظامیہ کے صدرمحمودعباس اور تحریک حماس کےسیاسی شعبے کےسربراہ خالدمشعل کےدرمیان قومی مذاکرات اور مذاکرات کےدوران متحدہ حکومت کی تشکیل پراتفاق رائےکا فلسطینی عوام اوررائےعامہ نے خیرمقدم کیاہے جبکہ صیہونی حکومت اور اس کےحامی سیخ پاہوگئےہيں۔ فلسطینی انتظامیہ کےصدر محمودعباس اور تحریک حماس کےسیاسی شعبےکےسربراہ خالدمشعل نے چھ فروری کو قطرکےدارالحکومت دوحہ میں اٹھارہ فروری کومحمودعباس کی سربراہی میں ایک عبوری فلسطینی حکومت کی تشکیل نیزچارمئی کو فلسطینی مجلس قانون سازکےانتخابات کرائے جانےکےمعاہدے پردستخط کئےہیں۔ ان حالات میں صیہونی وزيرخارجہ اویگیدورلیبرمین نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےنمائندوں کےاجلاس میں کہاکہ اگرتحریک حماس اسرائیل کےسلسلےمیں اپنی پالیسی تبدیل نہيں کرےگی تو اسرائیل، فتح اورحماس کی مشترکہ حکومت کوتسلیم نہيں کرےگا۔ لیبرمین نےتاکید کےساتھ کہاکہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی معاہدہ اسرائیل کےساتھ فلسطینی انتظامیہ کےمذاکرات کومشکلات سےدوچارکردےگا۔ صیہونی حکومت نے مشرق وسطی سازبازعمل کوہمیشہ فلسطینیوں سےمراعات حاصل کرنےاور ان پراپنی تسلط پسندانہ پالسیاں مسلط کرنے کےلئے ایک ہتھکنڈےکےطورپر استعمال کیاہے جس کافلسطینیوں کےلئےخطرناک منفی نتائج کےسوا کوئی نتیجہ نہيں نکلاہے۔ صیہونی حکومت اس بات سےواقف ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کاقومی مذاکرات کےعمل سےملحق ہوناجس کامحور صیہونی حکومت کی ہرطرح کی تسلط پسندی کی مخالفت کرناہے ، فلسطینی انتظامیہ کےصیہونی حکومت کےسامنےتسلیم رہنےکی روش سےدورہونےکاسبب بنےگا۔ یہ امرصیہونی حکومت کوسنگین خطرے سےدوچارکردےگا اور بنیادی طورپر فلسطینیوں کاقومی اتحاد اوراسی بناپر قومی حکومت کی تشکیل،صیہونی حکومت کےلئے ایک تلخ حقیقت شمارہوتی ہے۔ اس میں کوئي شک نہيں کہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی صیہونی حکومت کےمقابلےميں فلسطینیوں کےموقف میں استحکام اورآخرکار فلسطینیوں کےحقوق کےحصول میں معاون ثابت ہونےپرمنتج ہوگی۔ اوراسی بناپرصیہونی حکومت نےہمیشہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی کےعمل کی مخالفت اوراس میں رخنہ ڈالنےکی کوشش کی ہے۔اوراس تناظرمیں صیہونی حکومت نے فتح اورحماس کےدرمیان مذاکرات کےعمل کوروکنےکی کوششیں تیزکردی ہیں جس نےفلسطینیوں کی مستقل ہوشیاری کومزید ضروری بنادیا ہے۔

Comments are closed.