اگر ابتدا ہی سے کافر کافر کا نعروں کا نوٹس لیا جاتا تو آج کوچہ وبازار انسانی خون سے رنگین نہ ہوتے، علی اوسط رضوی

Posted: 11/02/2012 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری برائے سیاسی امور سید علی اوسط رضوی نے کہا ہے کہ اگر حکومت اور حکومتی ادارے ابتدا ہی سے کافر کافر کا نعرہ لگانے والوں کا محاسبہ کرتے تو آج ملک بھر میں عبادت گاہیں اور کوچہ وبازار انسانی خون سے رنگین نہ ہوتے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قانوں پر عمل داری کے ذمہ داران نے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے سرزمین وطن پر دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ اور لاقانونیت کا پودا جڑ پکڑتا گیا ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہارٹی وی چینل سی این بی سی کے ٹاک شو پاکستان آج رات میںکیا ، اس ٹی وی ٹاک شو میں مفتی محمد نعیم، شرمیلا فاروقی ، اور ثروت اعجاز قادری نے بھی حصہ لیا ، سید علی اوسط رضوی نے کہا ابتدا میں کافر کافر کا نعرہ لگانے والوں میں اکثریت ان افراد کی تھی جنہیں جہاد افغانستان کے نام پر بھرتی کیا گیا اور وہ نام نہادمجاہدین افغانستان اور کشمیر کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیل گئے ، انہوں نے بے گناہ مسلمانوں کی قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر دیا اور مساجد ، امامبارگاہوں اور خانقاہوں کے ساتھ ساتھ گلیاں اور بازار بھی بم دھماکوں سے لرز اٹھے ۔ایم ڈبلیو ایم کے راہنما نے کہا اگرچہ اب بہت دیر ہو چکی ہے لیکن اگر حکومت اور ایجنسیان اب بھی سنجیدگی سے اپنقا کردار اد کریں تو دہشت گردی اور لا قانونیت کے عفریت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سید علی اوسط رضوی نے کہا کہ ہمارے ملک میں شیعہ سنی کا کوئی جھگڑا نہیں ایک مخصوص گروہ ہے کسی تیسری قوت کا آلہ کار بن کر فساد پیدا کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر مساجد اور اداروں کے ساتھ ساتھ جمعہ کے خطبات کی مانیٹرنگ کی جائے تو واضح ہو جائے گا کہ شر کی آواز کہاں سے بلند ہو رہی ہے ۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اگر کو سیاسی کارکن مارا جائے تو اسے شہید کہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی مذہبی شخصیت دہشت گردی کا نشانہ بنے تو اسے ہلاک کہا جاتا ہے ۔ لائڈ سپیکر کے استعمال پر پاپندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے پولیٹیکل سیکرٹری نے کہا لائڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگانے کی بجائے اس کے منفی استعمال کو روکا جائے ۔ انہوں نے کالعدم کتنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی لگاے ، انہیں میڈیا پر کوریج نہ دینے اور ان کے جلوسوں و ریلیوں پر بھی پابندی لگانے کی تجویز پیش کی

Comments are closed.