اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک: شام کے حساس ہتھیار حزب اللہ، لبنان کو منتقل ہونیکا خطرہ

Posted: 11/02/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Palestine & Israel, USA & Europe

یروشلم: اگر بشار الاسد کی حکومت ختم ہوتی ہے تو شام سے حساس ہتھیار عسکری گروپ حزب اللہ اور لبنان کو منتقل ہو سکتے ہیں ۔ یہ انتباہ جمعرات کو اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک نے دیا۔ انہوں نے اسرائیلی فوجی ریڈیو کو بتایا ”ہمیں اپنی ذمہ داری کے تحت خبردار رہنا ہو گا تا کہ حکومت گرنے پر حزب اللہ اور لبنان کو شام سے حساس ہتھیاروں کی منتقلی کو روکا جا سکے”۔ انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر  کہا ” ہم اس مسئلے کا مستقل اور محتاط انداز میں جائزہ لے رہے ہیں ”۔ باراک نے کہا کہ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ اسد کی حکومت کچھ وقت کا معاملہ رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا ”بشار الاسد کی حکومت کے دن پورے ہو چکے ہیں اور ہر ہفتے کے ساتھ صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے”۔ اسرائیل ہمسایہ ملک شام میں پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے جہاں اسد کی حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جن میں کارکنوں کے مطابق 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔اسرائیل کو خدشہ ہے کہ وہ حکومت کی کمزوری اور خاتمے سے بری طرح متاثر ہو گا ‘ان خدشات میں مہاجرین کی آمد یا توجہ ہٹانے کیلئے صہیونی ریاست پر حملے کے اقدامات شامل ہیں ۔حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام کے ہتھیار جن میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار شامل ہیں عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جن میں حزب اللہ بھی شامل ہے جو 2006ء میں اسرائیل کے خلاف ایک جنگ بھی لڑ چکی ہے ۔گزشتہ ماہ اسرائیلی فضائیہ کے آئندہ سربراہ میجر جنرل عامرایشل نے کہا تھا کہ شام کے پاس اس قسم کے ہتھیاروں کے ”بڑے ذخائر” موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا ”بڑا خدشہ کیمیائی ‘حیاتیاتی ہتھیاروں کے بڑے ذخائر اور شام کے پاس موجود عسکری صلاحیت ہے جو اسے زیادہ تر مشرقی یورپ سے ملی ہے” ۔” یہ ایک بڑا خدشہ ہے کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ آنے والے وقت میں انہیں کون سنبھالے گا اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ حزب اللہ کو کیا کچھ مل چکا ہے ؟حزب اللہ کو مزید کیا کچھ منتقل ہو گا ؟ شام کے اندر موجود گروپوں کے درمیان کیا کچھ تقسیم ہو گا ؟ اور آئندہ کیا کچھ ہونے جا رہا ہے؟

Comments are closed.