Archive for 11/02/2012

یروشلم: اگر بشار الاسد کی حکومت ختم ہوتی ہے تو شام سے حساس ہتھیار عسکری گروپ حزب اللہ اور لبنان کو منتقل ہو سکتے ہیں ۔ یہ انتباہ جمعرات کو اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک نے دیا۔ انہوں نے اسرائیلی فوجی ریڈیو کو بتایا ”ہمیں اپنی ذمہ داری کے تحت خبردار رہنا ہو گا تا کہ حکومت گرنے پر حزب اللہ اور لبنان کو شام سے حساس ہتھیاروں کی منتقلی کو روکا جا سکے”۔ انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر  کہا ” ہم اس مسئلے کا مستقل اور محتاط انداز میں جائزہ لے رہے ہیں ”۔ باراک نے کہا کہ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ اسد کی حکومت کچھ وقت کا معاملہ رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا ”بشار الاسد کی حکومت کے دن پورے ہو چکے ہیں اور ہر ہفتے کے ساتھ صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے”۔ اسرائیل ہمسایہ ملک شام میں پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے جہاں اسد کی حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جن میں کارکنوں کے مطابق 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔اسرائیل کو خدشہ ہے کہ وہ حکومت کی کمزوری اور خاتمے سے بری طرح متاثر ہو گا ‘ان خدشات میں مہاجرین کی آمد یا توجہ ہٹانے کیلئے صہیونی ریاست پر حملے کے اقدامات شامل ہیں ۔حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام کے ہتھیار جن میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار شامل ہیں عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جن میں حزب اللہ بھی شامل ہے جو 2006ء میں اسرائیل کے خلاف ایک جنگ بھی لڑ چکی ہے ۔گزشتہ ماہ اسرائیلی فضائیہ کے آئندہ سربراہ میجر جنرل عامرایشل نے کہا تھا کہ شام کے پاس اس قسم کے ہتھیاروں کے ”بڑے ذخائر” موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا ”بڑا خدشہ کیمیائی ‘حیاتیاتی ہتھیاروں کے بڑے ذخائر اور شام کے پاس موجود عسکری صلاحیت ہے جو اسے زیادہ تر مشرقی یورپ سے ملی ہے” ۔” یہ ایک بڑا خدشہ ہے کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ آنے والے وقت میں انہیں کون سنبھالے گا اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ حزب اللہ کو کیا کچھ مل چکا ہے ؟حزب اللہ کو مزید کیا کچھ منتقل ہو گا ؟ شام کے اندر موجود گروپوں کے درمیان کیا کچھ تقسیم ہو گا ؟ اور آئندہ کیا کچھ ہونے جا رہا ہے؟

Advertisements

بیجنگ : چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے اپنے ایک سینئر عہدیدار کو ایران بھیجے گا تا کہ ایران اور مغرب کے درمیان تنائو کم ہو اور ایران پر لگائی گئی پابندیوں کا حل نکالا جا سکے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیووی فن نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام بات چیت کے لیے نائب وزیر خارجہ  مازائو ول اتوار کو ایران روانہ ہونگے اور وہاں جمہوریت کی بقاء اور پابندیوں کے خاتمے کے حل بارے تبادلہ خیال کرینگے۔ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کا کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ مذاکرات اور تعاون ہی ایران کے جوہری پروگرام کا واحد حل ہے واضح رہے کہ ایران پر امریکہ و مغرب کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کے فیصلے کے بعد ایران اور مغرب کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے ۔

سنگاپور نے امریکی سیاستدانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین کیخلاف بے بنیاد بیان بازی کا سلسلہ ترک کریں ورنہ انتخابات تو ختم ہوجائیں گے لیکن خطے میں نئے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سنگاپور میں وزیر خارجہ کے شان لگام نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے چین کے بارے میں خیالات اور بیانات کا انداز انتہائی محتاط ہے لیکن کچھ امریکی سیاستدان انتخابی ایشو کے طور پر چین کیخلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ صدارتی انتخابات رواں سال ختم ہوجائیں گے لیکن ان بیانات کے الزامات طویل ہونگے چین کے خطے کے لیے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی نوعیت انتہائی اہم ہے لیکن سنگاپور کی معیشت کا دارومدار چین سمیت اپنے پڑوسی ممالک پر ہے۔ سنگاپور چین کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا

جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق مقام معظم رهبری کا کہنا تھا کہ ایران کسی کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے اٹامک پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔مقام معظم رهبری کے بیانات سے ورلڈ میڈیا میں ہلچل کا سماں، ہر اخبار نے ان کے بیانات میں سے مختلف اہم نکات کا انتخاب کیا، فارس نیوز کے مطابق مقام معظم رہبری کے نمازِ جمعہ کے خطبے کے فورا بعد رویٹرز نیوز ایجنسی نے لکھا جمعے کے دن ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران کسی کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے اٹامک پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔
رویٹرز نیوز کے مطابق رهبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ایران پر حملہ کرنے کی دھمکیاں یا ایران پر حملہ کرنے سے خود امریکہ کو نقصان پہنچے گا۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا ایران کے اٹامک پروگرام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے جنگ، ایران پر اقتصادی پابندیوں اور تیل نہ خریدنے کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ ہمارے پاس بھی دھمکیوں کی کمی نہیں لیکن ہم ان کو مناسب وقت پر استعمال کریں گے۔   
رویٹرز نیوز ایجنسی نے مقام معظم رهبری  کے بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے یہ کہنے میں کوئی ڈر یا باک نہیں کہ جو قوم یا گروہ اسرائیل کا مقابلہ کرے گا ہم اسکی علی الاعلان حمایت کریں گے”۔ پاکستانی اخبار ڈان نے بھی رویٹرز کی اس خبر کو من و عن لگایا ہے۔ 
آذر بائیجان کی نیوز ایجنسی ترند نے مقام معظم رهبری کے بیانات کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے،”انقلابِ اسلامی، ایران کے لوگوں کے لئے آزادی اور عزت لایا، انقلابِ اسلامی ایران نے اسلام مخالف قوتوں کو درھم برھم کر دیا اور ڈیکٹیٹر شپ کو ڈیمو کریسی میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے باوجود عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں”۔ ترند نیوز نے رہبر معظم‌ کے بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کے بارے میں مقام معظم رهبری کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے بحرین میں مداخلت کی ہوتی، تو بحرین کے انقلاب کی صورتحال کچھ اور ہوتی۔
فرانس نیوز ایجنسی نے مقام معظم رهبری کے بیانات کو کچھ یوں نقل کیا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں اور دھمکیوں کا محکم جواب دے گا۔ اسرئیلی اخبار Haaretz نے تمام خبروں کو رویٹز نیوز کے مطابق نقل کیا ہے۔ ایک اور اسرائیلی اخبار بدیعوت آحارونوت نے نیز  مقام معظم رهبری کے بیانات میں سے اس فراز کا انتخاب بطور عنوان کیا ہے۔ کہ “اسرائیل ایک سرطانی غدہ ہے”، اس اخبار نے مزید نقل کیا ہے، امریکہ کی ایران کو دھمکیوں سے اسے خود کو ہی نقصاں پہنچے گا۔ اسرائیلی اخبار کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا اشارہ آبنائے ہرمز کی بندش کی طرف تھا۔ 
اسوشیتد پریس کے مطابق ایران کے رهبرِ عالی نے اپنے بیانات میں اسرائیل کو سرطان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا جو قوم یا گروہ اسرائیل کا مقابلہ کرے گا ہم اسکی علی الاعلان حمایت کریں گے، انہوں نے اپنے بیانات کہا کہ ایران نے اسرائیل کے مقابلے پر حماس اور حزب اللہ کی حمایت کی۔
جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق مقام معظم رهبری کا کہنا تھا کہ  ایران کسی کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے اٹامک پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے باوجود ٹیکنالوجی کے میدان میں مثالی ترقی کی ہے، اور نئی اقتصادی پابندیوں سے بھی ایران کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسی نیوز ایجنسی نے رهبر انقلاب اسلامی کے بیانات کی تحلیل کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایران سے مذاکرات کرنے سے ہراساں ہے، اور سمجھتا ہے کہ جنگ اور خونریزی ہی تمام مسائل کا حل  ہے۔  رهبر انقلاب اسلامی کے بیانات کی بازگشت ابھی بھی ورلڈ میڈیا پر جاری ہے۔

کراچی میں ایرانی قونصل جنرل عباس علی نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ ایرانی صدر پاک، افغان و ایران سربراہی ملاقات کے لئے پاکستان آ رہے ہیں جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سولہ فروری سے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ایرانی نائب صدر کی سربراہی میں اعلٰی سطح کا ساٹھ سے ستر رکنی تجارتی وفد چھ اور سات فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ کراچی میں ایرانی قونصل جنرل عباس علی نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ محمود احمدی نژاد پاک، افغان و ایران سربراہی ملاقات کے لئے پاکستان آ رہے ہیں جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایرانی قونصل جنرل نے بتایا کہ امریکی کوششوں کے برخلاف پاکستان اور ایران کے تعلقات میں گرمجوشی پائی جاتی ہے اور دونوں ممالک کی قیادت نے توانائی سمیت معیشت کے متعدد شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان نے گیس پائپ لائن منصوبے اور دس ہزار میگاواٹ بجلی کی درآمد کے سلسلے میں معاملات کو جلد انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صیہونی حکومت نےاعلان کیاہے کہ تحریک فتح اورحماس کی متحدہ فلسطینی حکومت کو وہ تسلیم نہيں کرےگی ۔ واضح رہے کہ دوحہ میں فلسطینی انتظامیہ کے صدرمحمودعباس اور تحریک حماس کےسیاسی شعبے کےسربراہ خالدمشعل کےدرمیان قومی مذاکرات اور مذاکرات کےدوران متحدہ حکومت کی تشکیل پراتفاق رائےکا فلسطینی عوام اوررائےعامہ نے خیرمقدم کیاہے جبکہ صیہونی حکومت اور اس کےحامی سیخ پاہوگئےہيں۔ فلسطینی انتظامیہ کےصدر محمودعباس اور تحریک حماس کےسیاسی شعبےکےسربراہ خالدمشعل نے چھ فروری کو قطرکےدارالحکومت دوحہ میں اٹھارہ فروری کومحمودعباس کی سربراہی میں ایک عبوری فلسطینی حکومت کی تشکیل نیزچارمئی کو فلسطینی مجلس قانون سازکےانتخابات کرائے جانےکےمعاہدے پردستخط کئےہیں۔ ان حالات میں صیہونی وزيرخارجہ اویگیدورلیبرمین نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےنمائندوں کےاجلاس میں کہاکہ اگرتحریک حماس اسرائیل کےسلسلےمیں اپنی پالیسی تبدیل نہيں کرےگی تو اسرائیل، فتح اورحماس کی مشترکہ حکومت کوتسلیم نہيں کرےگا۔ لیبرمین نےتاکید کےساتھ کہاکہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی معاہدہ اسرائیل کےساتھ فلسطینی انتظامیہ کےمذاکرات کومشکلات سےدوچارکردےگا۔ صیہونی حکومت نے مشرق وسطی سازبازعمل کوہمیشہ فلسطینیوں سےمراعات حاصل کرنےاور ان پراپنی تسلط پسندانہ پالسیاں مسلط کرنے کےلئے ایک ہتھکنڈےکےطورپر استعمال کیاہے جس کافلسطینیوں کےلئےخطرناک منفی نتائج کےسوا کوئی نتیجہ نہيں نکلاہے۔ صیہونی حکومت اس بات سےواقف ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کاقومی مذاکرات کےعمل سےملحق ہوناجس کامحور صیہونی حکومت کی ہرطرح کی تسلط پسندی کی مخالفت کرناہے ، فلسطینی انتظامیہ کےصیہونی حکومت کےسامنےتسلیم رہنےکی روش سےدورہونےکاسبب بنےگا۔ یہ امرصیہونی حکومت کوسنگین خطرے سےدوچارکردےگا اور بنیادی طورپر فلسطینیوں کاقومی اتحاد اوراسی بناپر قومی حکومت کی تشکیل،صیہونی حکومت کےلئے ایک تلخ حقیقت شمارہوتی ہے۔ اس میں کوئي شک نہيں کہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی صیہونی حکومت کےمقابلےميں فلسطینیوں کےموقف میں استحکام اورآخرکار فلسطینیوں کےحقوق کےحصول میں معاون ثابت ہونےپرمنتج ہوگی۔ اوراسی بناپرصیہونی حکومت نےہمیشہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی کےعمل کی مخالفت اوراس میں رخنہ ڈالنےکی کوشش کی ہے۔اوراس تناظرمیں صیہونی حکومت نے فتح اورحماس کےدرمیان مذاکرات کےعمل کوروکنےکی کوششیں تیزکردی ہیں جس نےفلسطینیوں کی مستقل ہوشیاری کومزید ضروری بنادیا ہے۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص)کی ولادت باسعادت کے موقع پر حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے، آپ (ص)کی والدہ ماجدہ کو بارحمل محسوس نہیں ہوا اور وہ آپ کی ولادت کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے موقع پرآپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا تاریخ اسلام کےحوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوروجودکی خلقت ایک روایت کی بنیاد پرحضرت آدم (ع) کی خلقت سے ۹لاکھ برس پہلے  ہوئی اوردوسری روایت کے مطابق۴۔ ۵لاکھ سال قبل ہوئی تھی، آنحضور (ص) کا نور اقدس اصلاب طاہرہ، اور ارحام مطہرہ میں ہوتا ہواجب صلب جناب عبداللہ بن عبدالمطلب تک پہنچاتوآپ کاظہوروشہود انسانی شکل میں بطن جناب ” آمنہ بنت وہب” سے مکہ معظمہ میں ظاہرہوا۔ آنحضور (ص)کی ولادت باسعادت کے موقع پر حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے، آپ (ص)کی والدہ ماجدہ کو بارحمل محسوس نہیں ہوا اور وہ آپ کی ولادت کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے موقع پرآپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا۔ ابن واضح المتوفی ۲۹۲ھ کی روایت کے مطابق شیطان کورجم کیاگیااوراس کاآسمان پرجانابندہوگیا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے پوری دنیامیں ایسازلزلہ آیاکہ دنیاکے تمام بتکدےاوردیگر غیراللہ کی عبادت گاہیں منہدم ہوگئییں، جادواورکہانت کے ماہراپنی عقلیں کھوبیٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ایسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہیں کبھی کسی نے دیکھانہ تھا۔ ساوہ کی وہ جھیل جس کی پرستش کی جاتی تھی وہ خشک ہوگئی ۔ وادی سماوہ جوشام میں ہے اورہزارسال سے خشک پڑی تھی اس میں پانی جاری ہوگیا، دجلہ میں اس قدرطغیانی ہوئی کہ اس کاپانی تمام علاقوں میں پھیل گیا محل کسری میں پانی بھر گیااورایسازلزلہ آیاکہ ایوان کسری کے ۱۴کنگرے زمین پرگرپڑے اورطاق کسری شگافتہ ہوگیا، اورفارس کی وہ آگ جوایک ہزارسال سے مسلسل روشن تھی، فورا بجھ گئی۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا پیکر بنا کر بھیجا وہ کائنات کے لئےرحمۃ للعالمین اور عباداللہ کے لئے اسوہ حسنہ ہیں آنحضور نے بشریت کی تعلیم و تربیت کے لئے بہت مشقتیں اور سختیاں برداشت کیں اور انھوں نے اپنے عمل کے ذریعہ عرب کے جاہل ماحول میں انسانیت کی شمعیں روشن کیں اور دشمنوں سے اپنی صداقت اور امانت کا لوہا منوایا اور معاشرے میں صبر و استقامت اور اخلاق و نیکی کے پھول لگائے۔ پیغمبر اکر کی سیرت آج بھی مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پیغمبر اسلام کے چھٹے جانشین اور آسمان امامت و ولایت کےچھٹے درخشاں ستارے ہیں آّپ 17 ربیع الاول ۸۳ھ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت امام جعفر صادق کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں۔ تاریخاسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ھ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے امام جعفر صادق (ع) کی ولادت کی تاریخ کوخداوندعالم نے بڑی عزت و عظمت عطا کی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا۔ علامہ مجلسی تحریر کرتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔۔ حضرت امام جعفر صادق کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت امام جعفربن محمد(ع)کولقب صادق سے ملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا ۔  جعفرکے متعلق علماء کابیان ہے کہ جنت میں جعفرنامی ایک شیرین نہرہے اسی کی مناسبت سے آپ کایہ لقب رکھاگیاہے چونکہ آپ کافیض عام   نہرجاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ملک کے بعض اعلی حکام، عوام کے مختلف طبقات ، پچیسویں عالمی وحدت کانفرنس میں شریک مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفراء سے ملاقات میں فرمایا: امت اسلامی کو اتحاد و یکجہتی کی سخت ضرورت ہے اورایرانی عوام نے حضرت امام خمینی (رہ) کی راہ پرگامزن رہ کر اپنے عزم و ارادے کو دشمن پر غالب بنادیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ملک کے بعض اعلی حکام، عوام کے مختلف طبقات ، پچیسویں عالمی وحدت کانفرنس میں شریک مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفراء نے آج صبح رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں پیغمبر اسلام (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع)کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور اس دن کو طول تاریخ میں انسانیت کی سب سے بڑي عید قراردیتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اسلام (ص) کی عظیم شخصیت اور ان کے وجود مبارک کے مختلف پہلوؤں سے سبق حاصل کرنے کے ذریعہ امت اسلامی حقیقی عزت ، عظمت ، کرامت اورمعنوی و مادی سعادت  تک پہنچ سکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام (ص) کو علم ، امانتداری، عدالت و انصاف ، اخلاق حسنہ، رحمت اور اللہ تعالی کے وعدوں پر اطمینان کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: بشریت اپنی زندگی میں تمام مادی پیشرفتوں اور تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ طول تاریخ میں ان اعلی اقدار اور صفات کے پیچھے رہی ہےاور آج امت اسلامی کو ان خصوصیات کی دوسروں سے بہت زيادہ ضرورت ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے درمیان ایکدوسرے کے ساتھ  صبر و تحمل اور برادرانہ رفتار پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد اور اطمینان امت اسلامی کے لئے آج ایک اور ضرورت ہے۔کیونکہ اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے کہ دباؤ کے مقابلے میں مجاہدت ، تلاش و کوشش ، استقامت اور اسی طرح دنیاوی شہوات اور مال و مقام کے مقابلے میں پائداری کے ذریعہ انسان  ہدف اور مقصد تک پہنچتا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام (ص)کی مدینہ میں دس سالہ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر چہ اس حکومت کی عمر مختصر تھی لیکن اس کی ایسی بنیاد رکھی گئی جو طویل صدیوں سے بشریت کی مادی و معنوی  ترقی و پیشرفت اور علم و تمدن کے لئے بلند اور روشن مینار رہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اتحاد و یکجہتی کو امت اسلامی کی ایک اور اہم ضرورت قراردیا اور علاقہ میں عوامی انقلاب اور قوموں کی بیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ میں جاری انقلابات ،حالات اور اسی طرح امریکہ کی مسلسل پسپائی ،عقب نشینی اور اسرائيل کی غاصب حکومت کی روز افزوں کمزوری امت اسلامی کے لئے بہترین موقع ہے اور اس موقع سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ تعالی کے لطف و کرم ،امت اسلامی کی ہمت،، ممتاز علمی ماہرین ، سیاسی اور دینی شخصیات کے تعاون سے یہ تحریک جاری رہےگی اور امت اسلامی اپنی عزت و عظمت کی بلندی تک ایک بار پھر پہنچ جائےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) اور حضرت امام جعفر صادف (ع) کی ولادت باسعادت اور انقلاب اسلامی کے تقارن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ انقلاب، پیغمبر اسلام (ص) کی تاریخ میں عظیم حرکت کے ثمرات میں سے ہے اور انقلاب اسلامی در حقیقت اسلام کے لئے حیات نو ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جس دور میں تسلط پسند طاقتیں یہ تصور کرتی تھیں کہ انھوں نے اپنے تسلط سے اسلام اور معنویت کی پیشرفت کی تمام راہیں ختم کردیں  ہیں  تو اچانک و ناگہاں  انقلاب اسلامی کی تاریخی  ، پائدار اور عظيم صدا بلند ہوئی جس کی وجہ سے دشمن وحشت میں پڑ گئے اور آگاہ و بابصیرت انسانوں اور دوستوں کی امیدوں میں اضآفہ ہوگیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی آواز کو خاموش کرنے کے لئےتسلط پسند اور سامراجی طاقتوں کی پیچیدہ اور مختلف سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  دشمن کی تمام سازشوں اور دباؤ کے باوجود، امام خمینی (رہ) کی رہبری کی برکت اور ایرانی قوم کی استقامت کی وجہ سے انقلاب اسلامی باقی رہا، انقلاب کو فروغ ملا اور انقلاب کی طاقت و قدرت میں روز افزوں اضافہ ہوگیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام خمینی (رہ) کے معین کردہ اہداف کی جانب انقلاب کی مستمر حرکت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم حضرت امام (رہ) کی راہ پر وفاداری ، استقامت اور مشکلات کو برداشت کرکے اپنے عزم و ارادہ کے ساتھ دشمن  کی سازش پر غالب ہوگئی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کے روز افزوں فروغ اور استحکام کو اسلام اور پیغمبر اسلام (ص)کی عظیم حرکت کا ثمرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: گذشتہ 33 برسوں میں ایرانی قوم کی جد وجہد، تلاش و کوشش ، تحرک، استقامت اور مجاہدت ایک گرانقدر تجربہ اور عبرت ہےجو امت اسلامی اور قوموں کی نگآہوں کے سامنے ایک بورڈ کے مانند ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں صدر احمدی نژاد نےاپنے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور تاریخ میں تمام حریت پسند تحریکوں اور اصلاح پسند حرکتوں منجملہ انقلاب اسلامی کو  اللہ تعالی کے انبیاء (ع) بالخصوص خآتم النبیین (ص) کی عظيم  تحریک کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا: پیغمبر اسلام (ص) توحید کا علم بلند کرنے، حقیقی اقدار کی ترویج، ظلم و جور ، جہل اوربرائیوں کو دور کرنے،اور اخلاق و عدالت کی حاکمیت قائم کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور انقلاب اسلامی ایران در حقیقت اسی حرکت کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ صدر احمدی نژاد نے علاقہ میں جاری حالیہ تحریکوں کو بھی پیغمبر اسلام (ص) کی عظيم تحریک کی کڑي قراردیتے ہوئے کہا:  علاقہ کے حالیہ حالات سرعت کے ساتھ ایک عظيم انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوجائیں گے،جس کی بدولت دنیا پر توحید کی حکومت قائم ہوجائے گی اور دنیا ،ظالموں اور صہیوینوں کے شر اور مصیبت سے محفوظ ہوجائےگی ۔ اس ملاقات کے اختتام میں 25ویں عالمی وحدت کانفرنس کے غیر ملکی مہمانوں  نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ قریب سے گفتگو اور ملاقات کی۔

امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے  نقل کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے۔ سعودی بادشاہ نے کہا کہ یہ ایام ہمارے لئے خوفناک ایام ہیں شام کے حق میں ویٹو سکیورٹی  کونسل کا پسندیدہ اقدام نہیں تھا جو واقعہ رونما ہوا وہ اچھی خبر نہیں تھی کیونکہ اس  سے پوری دنیا کا اعتماد سکیورٹی کونسل پر متزلزل ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق سعودی منفور اور منحوس بادشاہ نے فلسطینیوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جرائم پر کبھی بھی اظہار افسوس نہیں کیا لیکن شام کے خلاف وہ اپنے دل کی بات کہنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ وہ خادم الحرمین نہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائيل کا خادم ہے۔ سعودی بادشاہ کا اعتماد اللہ تعالی پر ختم ہوگیا اور اس کا اعتماد امریکہ اور اسرائیل پر بڑھ گیا ہے سعودی عرب، اللہ تعالی سے  مدد مانگنے کے بجائے امریکہ سے مدد طلب کرتا ہےاور اس ملک کے حکام کفر کی جانب بڑھ گئے ہیں

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سابق انسپکٹر نے کہا ہ ےکہ ایرانی اپنے ملک کا دفاع کرنے میں بہت ہی سنجیدہ ہیں اور وہ اپنے خلاف کسی فوجی کارروائی پر تماشا نہیں دیکھیں گے بلکہ منہ توڑ جواب دیں گے، ایران کے خلا ف فوجی کارروائی سے علاقہ میں عدم استحکام اور بحران پیدا ہوجائےگی جس کی ذمہ داری امریکہ اور مغربی ممالک پر عائد ہوگیرپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سابق انسپکٹر اور سربراہ ہانس بلیکس نے رشیا ٹو ڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایرانی لوگ اپنے ملک کا دفاع کرنے میں بہت ہی سنجیدہ ہیں اور وہ اپنے خلاف کسی فوجی کارروائی پر تماشا نہیں دیکھیں گے بلکہ منہ توڑ جواب دیں گے، ایران کے خلا ف فوجی کارروائی سے علاقہ میں عدم استحکام اور بحران پیدا ہوجائےگا جس کی ذمہ داری امریکہ اور مغربی ممالک پر عائد ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائيل میں انتہا پسندوں کی دھمکیوں سے ایران اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو ہرگز ترک نہیں کرےگا کیونکہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں ایران کا حق ہے اور ایرانی اس سلسلے میں اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ اس نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں اور نہ ہی ایران  ایٹمی ہتھیار بنانے کا خواہاں ہے اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ میں بھی ایسے شواہد موجود نہیں ہیں ۔ اس نے کہا کہ ایران پر فوجی حملے کی صورت میں علاقہ میں عدم استحکام اور بحران پیدا ہوجائے جس کے پوری دنیا پر منفی اثرات پڑیں گے۔

عراق کے ایک ممتاز عالم دین نےبحرین کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ بحرینی عوام ہمارے دینی بھائی ہیں اور بحرینی عوام پرآل خلیفہ کے ظلم و ستم پر خاموشی بالکل جائز نہیں آل خلیفہ کو بحرینی عوام کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگیعراق کے ایک ممتاز عالم دین مقتدی صدر نےبحرین کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ بحرینی عوام ہمارے دینی بھائی ہیں اور بحرینی عوام پرآل خلیفہ کے ظلم و ستم پر خاموشی بالکل جائز نہیں آل خلیفہ کو بحرینی عوام کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ انھوں نے کہا کہ قرآن مجید میں واضح ہے کہ مؤمن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور جو ظلم آج بحرینی عوام پر ہورہا ہے وہ ہمارے بھائیوں پر ظلم ہورہا ہے اور ہم اس ظلم کے خلاف خاموش تماشائي نہیں رہیں گے۔انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی ظالم و جابر حکومت بےگناہ شہریوں کو بدترین شکنجے دے رہی ہے حتی خواتین اور بچوں کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

تیونس کے اسلام پسند رہنما نے تاکید کی ہے کہ  تیونس اسرائیل کی غاصب حکومت کو ہرگز تسلیم نہیں کرےگا۔ الشرق الاوسط کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تیونس کی اسلام پسند تنظیم النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے تاکید کی ہے کہ تیونس اسرائیل کی غاصب حکومت کو ہرگز تسلیم نہیں کرےگا۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین تمام اسلام پسند تنظیموں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تیونس کا دشمن نہیں ہے۔ الغنوشی نے کہا کہ تیونس میں اب ڈکٹیٹرشپ واپس نہیں آئے گی اورقومی بیداری جمہوریت کی پشتپناہ ہے۔ الغنوشی نے کہا کہ ایران ہمارا دشمن نہیں ، ایران کے  ساتھ بعض مسائل میں ہمارا اتفاق ہے اور بعض مسائل میں اختلاف ہے۔ واضح رہے کہ تیونس کے فراری صدر کے بعد اسلام پسند تنظيم النہضہ کو تیونس میںزبردست کامیابی ملی ہے تیونس کے فراری اور ڈگٹیٹر صدر بن علی نے سعودی عرب کے ڈکٹیٹروں کی آغوش میں پناہ لےرکھی ہے

فلسطینی منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ ایک اعلی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ ایک اعلی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔ اسماعیل ہنیہ تہران میں  اپنے دو روزہ دورے کے دوران ایران کے اعلی حکام منجملہ ایران کے روحانی پیشوا خصرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کریں گے اور فلسطین کے بارے میں انھیں رپورٹ پیش کریں گے۔ فلسطینی وزیر اعظم ایران کے صدر احمدی نژاد اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ بھی دو طرفہ روابط اور مسئلہ فلسطین کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا رحیمی نے اسماعیل ہنیہ کا استقبال کیا۔ اور اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے سرکاری مذاکرات کا آغاز کردیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ نے شام کے مفتی اعظم سے ملاقات میں علاقائی ممالک کو تقسیم کرنے کے سلسلے میں مغربی ممالک کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے برحق اور پائدار مؤقف پر قائم ہے اور علاقائی ممالک کو ہوشیار رہنا چاہیے  رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ علی اکبر صالحی نے شام کے مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسون سے ملاقات میں علاقائی ممالک کو تقسیم کرنے کے سلسلے میں مغربی ممالک کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے برحق اور پائدار مؤقف پر قائم ہے اور علاقائی ممالک کو مغربی ممالک کی سازشوں کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مسلمانوں کےدرمیان  اتحاد اور وحدت کے سلسلے شامی مفتی کی کوششوں اور تقریروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشمنان اسلام علاقائی اسلامی ممالک کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی کوشش میں ہیں اور اس صورت حال کے پیش نظر اتحاد کی اہمیت دوچنداں ہوجاتی ہے۔ شام کے مفتی نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ شام کے حالیہ بحران میں بعض علاقائی عرب حکام نے برطانیہ اور اسرائيل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی بھر پور کوشش کی ہے انھوں نے کہا کہ بی بی سی، سی این این، اور ان کے ساتھ الجزيرہ اور العربیہ کا تعاون کسی پر پوشیدہ نہیں انھوں نے شام کے حالات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی بہت زيادہ کوشش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا شام ، اسلامی ممالک اور امت مسلمہ کے بارے میں مؤقف قابل قدر اور قابل ستائش ہے۔

روس کے وزیراعظم ولاديمير پيوٹن نے امريکہ اور يورپي ممالک کو متنبہ کيا ہے کہ وہ شام کيخلاف کسي بھي قسم کي فوجی جارحيت سے باز رہيں. اینٹرفیکس  کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس کے وزیراعظم ولاديمير پيوٹن نے امريکہ اور يورپي ممالک کو متنبہ کيا ہے کہ وہ شام کيخلاف کسي بھي قسم کي فوجی جارحيت سے باز رہيں.ايک بيان ميں ولاديمير پيوٹن نے کہا ہے کہ ہم شام ميں جاري پرتشدد کارروائيوں کي مذمت کرتے ہيں مگر اس کے باوجود ہم شام کيخلاف کسي بھي قسم کي جارحيت کي اجازت نہيں ديں گے. ولاديمير پيوٹن کا يہ بيان روسی وزير خارجہ سرگئي لاروف کي شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات کے بعد وطن واپسي پر سامنے آيا ہے. ان کا کہنا تھا کہ صرف شام کے عوام کو اپنے مستقبل کا فيصلہ کرنے کا اختيار ہے. دوسري جانب روس کے وزير خارجہ سرگئي لاروف نے شام سے واپسي پر ميڈيا سے گفتگو ميں کہا کہ شام کي صورتحال پر ہونيوالے قومي سطح کے ڈائيلاگ کے نتائج کا فيصلہ کرنا شامي عوام کا اختيار ہے نہ کے بين الاقوامي کميونٹي کا. انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوسرے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کو شام کے بارے میں اپنے معاندانہ مؤقف کو تبدیل کرنا چاہیے۔

روس کی وزارت خارجہ نے ایران کے خلاف کسی بھی حماقت اور فوجی کارروائی پرخبردار کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں تمام پروپیگنڈے بےبنیاد ہیں اور ان کی اصل وجہ مغربی ممالک کےسیاسی اور تبلیغاتی اہداف ہیں۔رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے اہلکار میخائیل اولیانوف نے اینٹر فیکس کے ساتھ گفتگو میں ایران کے خلاف کسی بھی حماقت اور فوجی کارروائی پرخبردار کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں تمام پروپیگنڈے بےبنیاد ہیں اور ان کی اصل وجہ مغربی ممالک کےسیاسی اور تبلیغاتی اہداف ہیں۔ اس نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی نوعیت کا بالکل نہیں ہے اور ایٹمی ایجنسی اپنی متعدد رپورٹوں میں اس کی مکمل تائید کرچکی ہے اور آج بھی ایران کے ایٹمی پروگرام پر ایٹمی ایجنسی کی مکمل نگرانی جاری ہے اور اس صورت میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا سیاسی اور تبلیغاتی اہداف کے لئے ہے۔ اس نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ یوکیوآمانو کی حالیہ رپورٹ میں ایران کے  ایٹمی پروگرام کے فوجی ہونے کے بار ےمیں کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔ ادھر فرانس کے صدر نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر خبردار کیا ہے۔

فرانس کے صدر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تباہ کن اثرات پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانس کے صدرنکولا سرکوزی نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تباہ کن اثرات پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ فرانسیسی صدر نے فرانس کے یہودیوں کی کونسل سے کل رات خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو فوجی کارروائی کے ذریعہ متوقف کرنا تباہ کن ثابت ہوگا۔سرکوزی نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی ایران کے ایٹمی معاملے کا حل نہیں ہے۔ اس معاملے کو صرف مذاکرات اور گفتگو کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں افغانستان سفارتخانہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہےکہ افغانستان کے سابق صدر اور افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث دو افراد کو پاکستان نے گرفتار کرلیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں افغانستان سفارتخانہ کےایک اہلکار نے کابل میں نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں کہا ہےکہ افغانستان کے سابق صدر اور افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث دو افراد کو پاکستان نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس نے کہا کہ افغانستان نے ربانی کے قتل میں ملوث 5 افراد کی فہرست پاکستان کو دی تھی جس میں پاکستان نے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے اس نے کہا کہ ان افراد کی نشاندہی ربانی کے قتل میں گرفتار ایک افغانی بنام حمید اللہ نے فراہم کی تھی اس نے کہا کہ جب تک تین باقی ماندہ افراد گرفتار نہ ہوجائیں اس وقت تک ان کے نام نہیں بتائے جاسکتے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران علاقائی ممالک کے حالات میں مداخلت نہیں کرتا بحرین میں اگر ایران کی مداخلت ہوتی تو آج بحرین کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ایران اسرائیل کے خلاف ہراس قوم ،ملک اور ہر گروہ کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے جو اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہو۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران کیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نماز جمعہ کے خطبوں میں بحرین میں ایران کی مداخلت کے الزام کے جواب میں کہا ،ایران اسرائیل کے خلاف حماس اور حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے اور دونوں تنظیموں نے 33 روزہ جنگ اور 22 روزہ جنگ میں اسرائیل کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد بھی ایران ہراس قوم ،ملک اور ہر گروہ کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے جو اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہو۔ رہبر معظم نے بحرین کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ایران بحرین کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتا اور اگر ایران کی مداخلت ہوتی تو آج بحرین کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہاایران نے گذشتہ 32 برسوں میں مختلف چیلنجوں کا مقابلہ اور ان پر غلبہ حاصل کیا ہے اور اسی طرح ایران نے گذشتہ برسوں میں علم و پیشرفت کی سمت خاطر خواہ اور قابل اطمینان پیشرفت حاصل کی ہے اور ایران کی علمی پیشرفت سے دشمن سخت پریشان ہے اور اسی لئے اس نے ایران کے خلاف اپنی سازشوں میں اضافہ کردیا ہے

حزب اللہ لبنان سربراہ نے سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے خلاف33 روزہ جنگ میں ایران کی حمایت نہ ہوتی توحزب اللہ کامیاب نہیں ہوسکتی تھی ایران کی جانب سے استقامت کی حمایت نے ہماری کامیابی کو یقینی بنایا اور اس کامیابی میں شام نے بھی اہم کردار ادا کیا۔وہ ہفتہ وحدت کی مناسبت سے جنوبی بیروت کے سید الشہدا ء کمپلیکس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ میں امریکہ، اسرائیل اور بعض عرب ممالک صدام کی مدد کر رہے تھے کہا کہ عرب ممالک کی دولت استقامت اور فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کے لیے خرچ ہونے کے بجائے ایران کے خلاف جنگ میں خرچ ہوئی۔انہوں نے شام کے خلاف امریکہ، اسرائیل اور میانہ رو عرب ممالک کی سازش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سازش کا اصلی مقصد استقامت اور فلسطینیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران 1982 سے انکی تنظیم کی ہر لحاظ سے اخلاقی، سیاسی اور اقتصادی مدد کر رہا ہے، لیکن ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ حزب اللہ تہران کے حکم پر نہیں چلتی۔انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم نے اب پالیسی بدل دی ہے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو تہران حزب اللہ سے حملے کے لیے نہیں کہے گا، اگر ایران پر حملہ ہوا تو حزب اللہ کی قیادت سوچ سمجھ کر فیصلہ کریگی۔ شام کے بارے میں ا انہوں نے کہا کہ اسرائیل صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے اس لیے شام میں خانہ جنگی کی سازش کی جا رہی ہے، جو ناکام رہے گی۔

بحرینی نیوز ویب سائٹ مرآت البحرین کے مطابق آل خلیفہ اور آل سعود کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدے کی روشنی میں آل خلیفہ کے خاندان نے بحرین کو آل سعود خاندان کی حاکمیت میں دینے اور سعودی عرب سے ملحق کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بحرین کے بادشاہ شیخ حمد عنقریب اس کا عوام کے سامنے اعلان کریں گے۔اس سے پہلے بھی یہ خبر مختلف ذرائع میں شائع کی گئی ہے لیکن بحرین کے اخبار الایام کے چیف ایڈیٹرنجیب الحمر نے حال ہی میں آل خلیفہ اور آل سعود کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدہ کا پردہ فاش کیا ہے نجیب الحمر کے بھائی نبیل الحمر بحرین کے بادشاہ شیخ حمد کے ذرائع ابلاغ کے مشیر ہیں۔ نجیب الحمر کے مطابق دونوں بادشاہوں کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے ۔ اگرچہ مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بحرین اور سعودی بادشاہوں کے درمیان اس سلسلے میں کئی خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں جس کے بعد بحرین کو سعودی عرب کے ساتھ الحاق کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے واضح رہے کہ سعودی عرب نے بحرینی عوام کے انقلاب کو کچلنے کے لئے پہلے ہی اپنے کئی ہزار فوجی بحرین میں تعینات کررکھے ہیں ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری برائے سیاسی امور سید علی اوسط رضوی نے کہا ہے کہ اگر حکومت اور حکومتی ادارے ابتدا ہی سے کافر کافر کا نعرہ لگانے والوں کا محاسبہ کرتے تو آج ملک بھر میں عبادت گاہیں اور کوچہ وبازار انسانی خون سے رنگین نہ ہوتے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قانوں پر عمل داری کے ذمہ داران نے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے سرزمین وطن پر دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ اور لاقانونیت کا پودا جڑ پکڑتا گیا ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہارٹی وی چینل سی این بی سی کے ٹاک شو پاکستان آج رات میںکیا ، اس ٹی وی ٹاک شو میں مفتی محمد نعیم، شرمیلا فاروقی ، اور ثروت اعجاز قادری نے بھی حصہ لیا ، سید علی اوسط رضوی نے کہا ابتدا میں کافر کافر کا نعرہ لگانے والوں میں اکثریت ان افراد کی تھی جنہیں جہاد افغانستان کے نام پر بھرتی کیا گیا اور وہ نام نہادمجاہدین افغانستان اور کشمیر کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیل گئے ، انہوں نے بے گناہ مسلمانوں کی قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر دیا اور مساجد ، امامبارگاہوں اور خانقاہوں کے ساتھ ساتھ گلیاں اور بازار بھی بم دھماکوں سے لرز اٹھے ۔ایم ڈبلیو ایم کے راہنما نے کہا اگرچہ اب بہت دیر ہو چکی ہے لیکن اگر حکومت اور ایجنسیان اب بھی سنجیدگی سے اپنقا کردار اد کریں تو دہشت گردی اور لا قانونیت کے عفریت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سید علی اوسط رضوی نے کہا کہ ہمارے ملک میں شیعہ سنی کا کوئی جھگڑا نہیں ایک مخصوص گروہ ہے کسی تیسری قوت کا آلہ کار بن کر فساد پیدا کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر مساجد اور اداروں کے ساتھ ساتھ جمعہ کے خطبات کی مانیٹرنگ کی جائے تو واضح ہو جائے گا کہ شر کی آواز کہاں سے بلند ہو رہی ہے ۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اگر کو سیاسی کارکن مارا جائے تو اسے شہید کہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی مذہبی شخصیت دہشت گردی کا نشانہ بنے تو اسے ہلاک کہا جاتا ہے ۔ لائڈ سپیکر کے استعمال پر پاپندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے پولیٹیکل سیکرٹری نے کہا لائڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگانے کی بجائے اس کے منفی استعمال کو روکا جائے ۔ انہوں نے کالعدم کتنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی لگاے ، انہیں میڈیا پر کوریج نہ دینے اور ان کے جلوسوں و ریلیوں پر بھی پابندی لگانے کی تجویز پیش کی