کدورتیں ختم کیے بغیر اتحاد ممکن نہیں ،مسلمانوں کےمتحدنہ ہونے کی بڑی قول و فعل میں تضاد ہے،مولانا اسحاق

Posted: 10/02/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

اہلحدیث کے ممتاز عالم دین مولانا اسحاق نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی دفتر اسلام آباد کا دورہ کیا ، اس دوران انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی اور دیگر راہنمائوں نے مختلف مسائل اور مذہبی امور ہر تبادلہ خیال کیا ، اس موقع مسلک اہلحدیث کے راہنما نے کہا کہ دلوں سے کدورتیںختم کیے بغیر اتحاد امت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، مسلمانوں کے بحیثیت قوم متحد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ قول و فعل میں تضاد ہے ، ہم اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے بلائی جانیوالی کانفرنسوں اور اجلاسوں میں تو اتحاد اور ذہنی ہم آہنگی کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن ہمارے دل صاف نہیں ہوتے ، انہوں نے کہا کہ کفر صرف اللہ اور اس کے رسول سے انکار کا نام ہے جو بھی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے کے رسول پر کامل ایمان رکھتا ہے وہ مسلمان ہے ۔ آج کلمہ گو مسلمانوں کو کافر کہنے والے انہیں کافر کیوں نہیں کہتے جنہوں نے علی کی شان میں گستاخیاں کیں ۔مولانا اسحاق نے کہا کہ ہمارے لیے حضرت علی کاطرز زندگی ایک بہترین نمونہ حیات ہے ، حضرت علی کی زندگی کے تین دور تھے ، ایک وہ دور جو زمانہ رسول میں تھا ،ایک وہ دورجو نبی کریم کے بعد انہوں نے اپوزشن میں گزارا اور تیسرا وہ دور ہے جب ان کوخلافت ملی، انہوں نے تینوں ادوار میں انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کے بہترین نمونے چھوڑے، نبی پاک کے دور میں انہوں نے جنگیں لڑیں اور غلبہ اسلام کے کی لیے مثالی کردار ادا کیا ، اپوزیشن کے دور میں خلفائے وقت کو گرانقدر مشوروں سے نوازا اور دور اقتدار میں پوری دنیا کو ایک بہترین طرز معاشرت دیا۔آج اگر مسلمان حضرت علی کا طرز زندگی اپنا لیں تو سارے فسادات ختم ہو سکتے ہیں۔

Comments are closed.