Archive for 10/02/2012

مجلس وحدت مسلمین پا پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری اور ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی دفتر کے مسئول اقرار حسین نے محرم لحرام سے قبل پشاور میں شرپسندوں کی جانب سے بے حرمتی کا نشانہ بننے والی امام بارگاہ دربار حسینی کا دورہ کیا اس موقع پرایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخواہ کے سیکرٹری جنرل علامہ سبیل حسن مظاہری اور دیگر راہنما بھی ان کے ہمراہ تھے ، انہوں نے شرپسندوں کی اس مذموم کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کی ملت تشیع خود کو تنہا نہ سمجھے، ایم ڈبلیو ایم سمیت پوری قوم ان کے ساتھ ہے، انہوں نے خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امام بارگاہ پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کیخلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے ایم ڈبلیو ایم کے راہنمائوں نے توقع ظاہر کی کہ انشا اللہ جلد اس امام بارگاہ میں عزاداری کا سلسلہ شروع ہوگا۔ ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ دہشتگردی سے شدید متاثرہ پشاور شہر کی ملت تشیع نے جن نامساعد حالات کا سامنا کیا وہ لائق تحسین ہے اور پوری قوم ان کی ہمت کو سلام پیش کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اس امام کے ماننے والے ہیں جس نے ظلم کے سامنے سر جھکایا نہیں بلکہ کٹا دیا۔ انہوں نے محرم الحرام سے چند روز قبل امام بارگاہ دربار حسینی پر شرپسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حرکتوں سے ملت تشیع کے حوصلے پست نہیں ہوسکتے، پشاور کے شیعہ پرعزم ہیں اور حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتے ہیں، انہوں نے موقع پر موجود افراد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ فکر نہ کریں اس امام بارگاہ میں عزاداری سید شہدا کا سلسلہ بحال کرانے میں مجلس وحدت مسلمین اپنا بھرپور فرض ادا کرے گی، انہوں نے شرپسندوں کیخلاف کارروائی کی جائے اور امام بارگاہ کے گرفتار متولی محمد حسین حسینی اور ان کے بیٹے کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژادکے خطاب سے عالمی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے اس کانفرنس میں 50 اسلامی ممالک کے نمائندے شریک ہیں اور یہ کانفرنس پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے منعقد کی جا رہی ہے اورتین دن تک جاری رہیگی۔ کانفرنس میں تقریب مذاہب کونسل کی بیس سالہ کارکردگی ، علاقہ میں جاری اسلامی بیداری اور اسلامی بیداری کی پشت پناہی کے با حوالے سے غور و خوض کیا جائیگا۔ عالمی اسلامیوحدت کانفرنس ہر سال پندرہ تا سترہ ربیع الاول منعقد کی جاتی ہے۔ عالمی اسلامی وحدت کانفرنس میں کویت، امریکہ،سعودی عرب، آذربائیجان،سینیگال،انگلینڈ ، ترکی، عراق، انڈونیشیا، اردن ، گامبیا، قطر، سویڈن، الجزائر، سوڈان، افغانستان، مصر، لبنان، ہندوستان، ڈنمارک، چین، فرانس،، روس، یمن اور دیگر ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے زیر انتظام عید میلاد النبی اورہفتہ وحدت کے مبارک موقعہ پر بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بارہ فروری بروز اتوار ایک عظیم الشان گول میز کانفرنس منعقد کی جائے گی ، ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی کے مطابق اس اہم کانفرنس میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا ، انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی میر محمد صادق عمرانی، جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر لیاقت بنگلزئی، نیشنل پارٹی کے سینیٹر مہیم خان بلوچ،جمیعت علمائے پاکستان کے مولانا عبدالقدوس ساسولی اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالمتین اخونزادہ خسوسی شرکت کریں گے

مجلس وحدت مسلمین ریاست آزاد و جموں کشمیر کی جانب سے جشن عید میلاد النبی و میلاد امام صادق کے حوالے سے مظفر آباد میں ایم ایک ایمان افروز تقریب کا اہتمام کیا گیا ، تقریب کی صدارت ایم ڈبلیو ایم کے ریاست سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین جوادی نے کی جبکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی مہمان خصوصی تھے ، تقریب میں مختلف مکاتب فکر کی نمائندہ شخصیات سمیت علاقہ بھر سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی ، اس موقع پر خطاب کرتیایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹڑی جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا کہ استعماری وطاغوتی طاقتیں اور پورا عالم کفرمسلمانوں کی اجتماعیت اورعشق رسول سے سرشار نوجوانوں سے خوفزدہ ہے،پیغمبر اسلام کی تعلیمات وسیرت طیبہ پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم کامل مسلمان بن سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول نے اپنی عملی سیرت اور تعلیمات کی روشنی میںایک ایسے صالح معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں رنگ ،نسل ،ذات پات ،قبیلوں اور گروہوں کے بجائے خوف خدا اور تقوےٰ الہی کو معزز ہونے کا معیار قرار دیا اور اس معاشرے کے افراد کے لئے اللہ تعالیٰ نے سند عطا فرمائی کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھی ہیں وہ کفار کے مقابلے میں سخت اورآپس میں نرم ہیں لیکن آج بد قسمتی سے مسلمان ایک دوسرے کے لئے سخت اور کفار کے لئے نہ صرف نرم ہو چکے ہیں بلکہ ان کی جبین نیاز بھی کفار کے لئے جھکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ جن مشکلات سے دوچار ہے اس کا سبسب تعلیمات وسیرت رسول سے دوری ہے آج دنیا کی جو تصویر بنی ہوئی ہے اسے صرف اور صرف رسول الرحمة کی تعلیمات پر عمل کر کے بدلا جا سکتا ہے علامہ امین شہیدی نے کہا کہ شام کے خلاف قرار داد میں پاکستانی سفیر کا ووٹ دینا ایک طرف قوم کے سروں کو شرم سے جھکا رہا ہے تو دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی امریکی غلامی کی سند بھی ہے انہوں نے آزاد کشمیر کے مثالی امن وبھائی چارے کے ماحول پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ تمام دینی ،مذہبی اور سیاسی وسماجی قوتوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس فضا کو قائم رکھا ہوا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک ہم مسلمان متحد تھے اس وقت تک طاغوت ہم سے ڈرتا تھا اور آج بھی اسی ڈر کی وجہ سے ہمیں ٹکڑوں اور گروہوں میں تقسیم کیا جارہا ہے کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیرعلامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے قیام کا مقصد قوم کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ کاموں کو تقسیم کرنا ہے اور ہم بحمد اللہ اس میں کامیاب بھی ہورہے ہیں آج کے اس اجتماع میں ملت کے تمام طبقات کی نمائندگی موجود ہے اور تمام تنظیمات وادارے اپنے اپنے وجود کر برقرار رکھ کر اتحاد وحدت کے لئے کو شاں ہیں اور رہیں گے ہم اتحاد بین المسلمین کے لئے انتہائی مخلصانہ کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ سفر جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ملت کی تمام نمائندہ تنظیمات اور شخصیات کا احترام کرتی ہے اور یہ درس ہمیں محبت رسول اور تعلیمات امام جعفر صادق سے ملا ہے انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادق رسول اللہ کی اولاد بھی تھے اور حقیقی جانشین بھی دنیا کے اندر رائج تمام علوم وفنون کے بانی بھی سرکار امام جعفرصادق تھے ،آپ دنیا کے کسی بھی علم کے بانی کی بات کریں گے تو وہ امام جعفر صادق کا شاگرد ہی نظر آئے گا وہ علوم بیالوجی ہوں ،کیمسٹری ،یاضی ،ا جیو میٹری کا علم ہو یافلسفہ والہیات اورفقہ کا علم، دنیا کی پہلی اسلامی یونیورسٹی اور رصد گاہ کی بنیاد امام جعفر صادق نے مدینہ طیبہ میں رکھی جہاں سے ہزاروں شاگردان مختلف علوم میں مہارت حاصل کر کے دنیا کے کونے کونے میں پھیل گے اور آج دنیا کا کوئی بھی انسان امام جعفر صادق کے علمی کمالات سے انکار نہیں کر سکتا ہے تقریب سے چیئر مین النور ٹرسٹ علامہ سید فرید عباس نقوی ، چیئرمین حسینی فاونڈیشن علامہ حاجی احمد علی سعیدی ، مرکزی انجمن جعفریہ مظفرآباد کے صدرسید ممتاز حسین نقوی ایڈووکیٹ ر،ڈاکٹر سید ذاکر حسین کاظمی،مولانا قاری محمد عدیل چشتی،مولانا ممتاز حسینی ،مولانا حافظ کفایت نقوی،جنرل سیکرٹری انجمن محبان محمدوآل محمد ناظم علی مغل نے بھی خطاب کیا پروگرام کے اختتام پر کیک بھی کاٹا گیا۔

مجلس وحدت مسلمین خیبر پختون خواہ کے سیکرٹری جنرل مولانا سبیل حسن مظاہری نے کہا ہے کہ نبی کرم کا منشور اتحاد بین المسلمین کا محور ہے، اگر مسلمان اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں تو ایک ناقابل تسخیر قوت بن کر ابھر سکتے ہیں ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین ضلع کوہاٹ کی زیر نگرانی میونسپل کمیٹی ہال میں ہفتہ وحدت کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ، کانفرنس میں مختلف مسالک کی سرکردہ شخصیات موجود تھیں ، مولانا سبیل حسن مظاہری نے کہا ، اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور ہمیں اتحاد اور بھائی چارے کادرس دیا ہے ، اسلام دشمن طاقتیں فروعی اختلافات کو ہوا دے وحدت ملت اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں ، ربیع الاول رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ، ہمیں ان مقدس ایام میں اتحاد اور اخوت کا پیغام عام کرنا چاہیے، امام خمینی نے کہا تھا کہ شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والا نہ شیعہ ہے اور نہ سنی ہے بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے ، اس لیے ہمیں استعماری سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، کانفرنس سے منہاج القران کے راہنما مولانا عبدالجلیل، مولانا ملازم حسین الاصغر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور انہوں اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور تفرقہ نیہ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا ۔

اہلحدیث کے ممتاز عالم دین مولانا اسحاق نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی دفتر اسلام آباد کا دورہ کیا ، اس دوران انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی اور دیگر راہنمائوں نے مختلف مسائل اور مذہبی امور ہر تبادلہ خیال کیا ، اس موقع مسلک اہلحدیث کے راہنما نے کہا کہ دلوں سے کدورتیںختم کیے بغیر اتحاد امت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، مسلمانوں کے بحیثیت قوم متحد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ قول و فعل میں تضاد ہے ، ہم اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے بلائی جانیوالی کانفرنسوں اور اجلاسوں میں تو اتحاد اور ذہنی ہم آہنگی کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن ہمارے دل صاف نہیں ہوتے ، انہوں نے کہا کہ کفر صرف اللہ اور اس کے رسول سے انکار کا نام ہے جو بھی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے کے رسول پر کامل ایمان رکھتا ہے وہ مسلمان ہے ۔ آج کلمہ گو مسلمانوں کو کافر کہنے والے انہیں کافر کیوں نہیں کہتے جنہوں نے علی کی شان میں گستاخیاں کیں ۔مولانا اسحاق نے کہا کہ ہمارے لیے حضرت علی کاطرز زندگی ایک بہترین نمونہ حیات ہے ، حضرت علی کی زندگی کے تین دور تھے ، ایک وہ دور جو زمانہ رسول میں تھا ،ایک وہ دورجو نبی کریم کے بعد انہوں نے اپوزشن میں گزارا اور تیسرا وہ دور ہے جب ان کوخلافت ملی، انہوں نے تینوں ادوار میں انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کے بہترین نمونے چھوڑے، نبی پاک کے دور میں انہوں نے جنگیں لڑیں اور غلبہ اسلام کے کی لیے مثالی کردار ادا کیا ، اپوزیشن کے دور میں خلفائے وقت کو گرانقدر مشوروں سے نوازا اور دور اقتدار میں پوری دنیا کو ایک بہترین طرز معاشرت دیا۔آج اگر مسلمان حضرت علی کا طرز زندگی اپنا لیں تو سارے فسادات ختم ہو سکتے ہیں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی جن اہداف کے لئے برپا کیا گیا وہ ایسے ہیں کہ جو پوری امت مسلمہ کو متحد و متفق کرتے ہیں انقلاب کے لئے جو طریقہ کار اختیارکیا گیا اس سے استفادہ کرکے دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی اسی قسم کی کوششیں کی جا سکتی ہیں کیونکہ انقلاب کے لئے جو بنیادی شرط مدنظر رکھی گئی وہ اتحاد امت اور وحدت ملی ہے امت مسلمہ کے اندر ملی یکجہتی کو مضبوط بنانے جیسے مقصد کو سامنے رکھ کر جس ملک میں بھی کوشش کی جائے اور عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا جائے تو عوام کی طرف سے مثبت تعاون سامنے آئے گا۔ انقلاب اسلامی ایران کا بھی سب سے بڑا درس یہی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کا نفاذ ہو، شریعت کی بالا دستی ہو، تفرقے اور انتشار کا خاتمہ ہو، اتحاد کی فضا ء قائم ہولہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں، تفرقہ بازی اور انتشار اور اس کے اسباب و عوامل کے خاتمے کی کوشش کریں۔ برادر ہمسایہ ملک ایران میں انقلاب اسلامی کی 33  ویں سالگرہ کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ  انقلاب اسلامی ایران کے قائد اور رہبر حضرت امام خمینی  نے انقلاب برپا کرتے وقت اسلام کے زریں اصولوں اور پیغمبر اکرم ۖ کی سیرت و سنت کے درخشاں پہلوئوںسے ہر مرحلے پر رہنمائی حاصل کی۔ جس طرح رحمت اللعالمین ۖ کے انقلاب کا سرچشمہ صرف غریب عوام تھے اسی طرح امام خمینی  کے انقلاب کا سرچشمہ بھی عوام ہی تھے۔یہی وجہ ہے کہ تمام سازشوں ، مظالم، زیادتیوں، محاصروں، پابندیوں اور دیگر ہتھکنڈوں کے باوجود انقلاب اسلامی ایران کرئہ ارض پر ایک طاقتور انقلاب کے طور پر جرات واستقامت کی بنیادیں فراہم کررہا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کا ایک ہی راز ہے کہ یہ محض عارضی اور مفاداتی انقلاب نہیں بلکہ شعوری انقلاب ہے۔ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ انقلاب عالم اسلام اور انسانیت کا ترجمان انقلاب ہے۔جس کے لیے سینکڑوں علماء ، مجتہدین، مجاہدین، اسکالرز، دانشور اور قائدین نے اپنے خون، اپنی فکر، اپنے قلم، اپنی صلاحیت، اپنے عمل ،اپنے سرمائے اور اپنے خاندان کی قربانیاں دے کر انقلاب اسلامی کی عمارت استوار کی۔ اس انقلاب نے مسلمانوں کو ان کے مشترکات پر جمع کرنے اور فروعات کو نظر انداز کرنے کا جو درس دیا وہ قابل تقلید ہے۔اسی درس اخوت ووحدت کے ثمرات دنیا کے تمام ممالک میں نظرآرہے ہیں ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں بھی ایسے ہی عادلانہ نظام کی ضرورت ہے جس کے تحت تمام لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہو، امن و امان کی فضاء پیدا ہو، عوام کوپرسکون زندگی نصیب ہو۔ لہذا پرامن انداز میں پرامن طریقے اور راستے کے ذریعے تبدیلی لائی جائے اور اس کے لیے عوام اور خواص سب کے اندر اتحاد و وحدت اور یکسوئی کے ساتھ جدوجہد کرنے کا شعور پیدا کیا جائے۔عالمی سامراج کے امت مسلمہ کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر وہ قوت، طاقت اور اتحاد موجود نہیں ہے جو انقلاب پیدا کر سکے۔ اگر ہم زندہ اور باوقار قوم کے طور پر دنیا میں رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اعلی اہداف کے حصول کے لئے متحد ہونا پڑے گا، گروہی اور مسلکی حصاروں سے دست کش ہونا پڑے گااور اپنے اندر جذبہ اور استقامت پیدا کرنا پڑے گی۔

شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے آئندہ انتخابات سے قبل نئے سیاسی جوڑ توڑ کو ملکی سیاسی فضاء کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ انتخابات کیلئے اپنی تیاریاں شروع کردیں اور اس ضمن میں تنظیمی اور عوامی روابط کو منظم بنائیں، شیعہ علماء کونسل کے صوبائی سیکرٹریٹ میں منعقدہ شیعہ علماء کونسل ضلع پشاور کی کابینہ اور ضلعی کونسل کے اراکین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد رمضان توقیر نے تنظیمی فعالیت پر زور دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ آئندہ چند روز میں اُنکے صوبہ بھر میں تنظیمی دوره جات کے مکمل ہونے کے بعد ضلع پشاور کی میزبانی میں صوبائی کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ جس میں تمام صوبے کے اضلاع اور تمام ڈویژنز کی قیادت پر مشتمل اجلاس میں شیعہ علماء کونسل اپنے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ اجلاس میں ملک بھر سمیت صوبائی دارلحکومت پشاور، ہنگو، ڈی آئی خان اور پارا چنار میں ٹارگٹ کلنگ، انتظامیہ کی یکطرفہ کارروائیوں اور ملت ِتشیع کی وقف املاک پرقبضہ مافیا کی حکومتی پشت پنائی جیسے معاملات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے شرکاء نے اس ضمن میں اب تک کی گئی کاوشوں کو عوام میں لے جانے اور اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیا، اجلاس میں دو مختلف قرار دادوں کے ذریعے سانحہ خانپور کے ملزمان کی تاحال عدم گرفتاری اور پشاور کی امام بارگاہ دربار حسینی پرحملہ کے مرتکب ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں انتظامیہ کے لیت و لعل سے کام لینے سمیت انتظامیہ کے ملت ِتشیع سے رواء رکھے جانے والے معاندانہ روئیے کی مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ضمن میں انتظامیہ کی کارروائیوں کا فوری نوٹس لے۔

 

تہران میں عالمی اسلامی بیداری یوتھ کانفرنس کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی نمائندگی کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات سید اظہار نقوی اور حزب اللہ کے مرکزی رہنماء اور امور نوجوانان کے انچارج سید حسن یوسف بسام کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ دنیائے اسلام میں پیدا ہونے والی بیداری کی لہر اور استعماری قوتوں، جابروں اور غاصبوں کے خلاف نفرت میں شدت سے مستقبل قریب میں بہت مثبت اور بہتر اثرات مرتب ہوں گے اور ملک بہ ملک تبدیلی کے بعد اسلامی فکر اور سوچ کی حامل حکومتیں قائم ہونے کے امکانات قوی سے قوی تر ہوں گے۔ شیعہ علماء کونسل اور حزب اللہ کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اسلامی بیداری کی تازہ لہر شہداء کے خون کا ثمر اور اسلام و مسلمین کے لیے قربانیاں دینے والی قوتوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلہ میں حزب اللہ لبنان تمام اسلامی تحریکوں میں بلاشبہ سرخیل اور قائدانہ حیثیت کی حامل ہے اور دنیا بھر کے اسلام پسند عوام حزب اللہ کے ساتھ اپنی وابستگی اورمحبت والہانہ اندازمیں رکھتے ہیں جبکہ قائدمقاومت سید حسن نصراللہ کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں اس لئے موجودہ اسلامی بیداری میں حزب اللہ اور حسن نصراللہ کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سید اظہار نقوی اور سید حسن یوسف بسام نے پاکستان اور لبنان کے درمیان موجود اخوت، محبت اور عقیدت کے روابط پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے انہیں مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ تبدیلی کے دور میں اسلامی تحریکوں کے باہمی روابط اور قربت میں جتنا اضافہ ہو گا عالم اسلام میں اتنی ہی تیزی سے تبدیلیاں لانے کے لیے راستے ہموار ہوں گے۔ سید حسن یوسف بسام نے کہا کہ جس طرح قائد مقاومت سید حسن نصراللہ اور قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی کے درمیان اخوت کا رشتہ موجود ہے اسی طرح ہمیں بھی نوجوانوں میں اس رشتے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا اور مستحکم کرنا چاہیے، تاکہ مستقبل میں اسلام کے تحفظ کے لیے عالمی صف بندیوں میں مشترکہ کردار ادا کیا جا سکے۔ اس ملاقات میں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر برادر حسنین جاوید اور حزب اللہ کے رہنماء سلمان الحرب بھی موجود تھے۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشاور ڈویژن اور مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے زیراہتمام ہفتہ وحدت کی مناسبت سے پشاور پریس کلب میں ”وحدت کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس سے کرتے ہو ئے مقررین کا کہنا تھا کہ اتحاد کاغذی نہیں بلکہ حقیقی ہونا چاہئے، شیعہ سنی میں انتشار پھیلانے والے استعمار کے ایجنٹ ہیں، آج مسلمانوں کو درپیش مسائل صرف اتحاد کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں، سرورِ کائنات حضرت محمد ص سے منسوب یہ مہینہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایک نبی ص کے ماننے والے تمام اختلافات کو بھلا کر ایک ہو جائیں اور دشمنانِ اسلام کے عزائم خاک میں ملا دیں، کیونکہ ایک امت کے طور پر ابھرنا ہی حضرت محمد ص کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا حقیقی روپ ہے، مذہبی رہنمائوں نے کہا کہ ایامِ وحدت، عالمِ اسلام کے لئے رحمت کے دن ہیں اور رسول ص ہمارے لئے نمونہِ حیات بن کر آئے ہیں، آپ ص کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم اپنی دنیا و آخرت کو سنوار سکتے ہیں۔

شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ہے کہ پیغمبر گرامی ص نے اندھیروں میں ہدایت کی روشنی پھیلائی، پاکستان کے عوام نبی کریم ص کی سیرت پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کو کمزور کرنے والی قوتوں کے عزائم ناکام بنا دیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مانسہرہ میں ہفتہ وحدت کی مناسبت سے دارالموت پبلک سکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکز اہل بیت کے سرپرست اعلیٰ علامہ سید ریاض شاہ کاظمی، محمود علی نقی ایڈووکیٹ، فدا حسین شاہ اور مولانا احمد علی نقوی نے بھی خطاب کیا، تقریب کے مہمان خصوصی علامہ رمضان توقیر کا کہنا تھا کہ خاتم المرسلین ص نے عرب کے دشمنوں کو بھی اخوت کا درس دیا، آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نبی کریم ص اور امام جعفر صادق ع کی سیرت اور تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اسلام مخالفین کی سازشوں کو ناکام بنادیں، اس موقع پر انہوں نے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ شریعت محمدی کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کریں،  تقریب کے آخر میں علامہ رمضان توقیر نے مضمون نویسی اور نعت خوانی کے مقابلہ میں حصہ لینے والے طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

کراچی میں١٢ ربیع الاول کی مناسبت سے ہر سال کی طرح اہلسنت کی جانب سے ریلی کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر شیعہ علماء کونسل اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے استقبالیہ کیمپ لگایا گیا۔جس میں شیعہ علماء کونسل سندھ کے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا ناظر عباس تقوی ، مولانا علی نجم ، مفتی جان نعیمی اور قاری ممتاز رحمانی نے خطاب کیا ۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ١٢ ربیع الاول کا دن امت مسلمہ کا اتحاد اور یکجہتی کا دن ہے ۔حضرت رسول اکرم (ص) کا وجودگرامی اس قدر  با برکت  ہے کہ آج تمام مسالک ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔جب عالم کفراپنے تمام تراختلافات کے با وجود ،باطل کے پرچم کے تحت متحد ہوسکتے ہیں تو کیا امت محمدیہ اپنے اند پائے جانے والے مشترکات کے پیش نظر ، حضرت رسول اکرم (ص)  کے پرچم کے زیر سایہ متحد نہی ہو سکتی ؟ آج استعماری قوتیں اور انکے آلہ کار دیکھ لیں کہ تم امت مسلمہ کے خلاف جتنی سازشیںکر کے اختلاف ایجاد کرنا چاہتے ہو،لیکن پھر بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف ایجاد نہیں کر سکتے۔کل بھی امت محمدیہ ایک تھی ، آج بھی ایک ہے اورآئندہ بھی اس پرچم کے سایہ تلے ایک رہے گی ۔ ہم حکومت کو کہتے ہیں کے عزاداری اور ١٢ ربیع الاول کے جلوسوں کو محدود ہونے کی کسی بھی سازش  کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ آخر میں اہل سنت کے خطباء نے شیعہ علماء کونسل کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ ہر سال١٢ربیع الاول کے جلوس  میں استقبالیہ کیمپ لگا کر اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیتے ہیں۔