Archive for February, 2012

رباط : اسلامی تعاون تنظیم کے زیراہتمام تنظیم برائے سائنس وثقافت“آئیسیسکو” نے افغانستان میں قابض امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک کے نسخے نذرآتش کرنے کی جسارت کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کے نسخوں کو آگ لگانا ایک غلیظ اور گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے افغانستان میں قابض امریکی فوج عالم اسلام اور مسلمانوں سے نظریاتی دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق “آئی سیسکو” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے ایک اڈے میں قرآن پاک کا نذرآتش کیا جانا پرلے درجے کی اسلام دشمنی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے گستاخ امریکی فوجیوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو فوجیوں پرعائد ہوتی ہے، جو تواتر کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی شعائر پر حملوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اسلامی تنظیم برائے سائنس وثقافت نے امریکی حکومت، صدر براک اوباما، اقوام متحدہ، او آئی سی اورعرب لیگ سمیت انسانی حقوق کی تمام عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ قران پاک کی توہین کے مرتکب گستاخ امریکی فوجیوں کیخلاف ٹھوس تحقیقات شروع کریں اور صحائف کو جلانے کی پاداش میں ایسے قومی جنگی مجرموں کیخلاف عالمی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے ایک فوجی اڈے پرامریکی فوجیوں کی اس غلیظ حرکت پربھی امریکیوں کو ذرا شرمندگی نہیں ہے اور وہ ان گستاخان اسلام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو بچانے والوں کا بھی وہی بدترین انجام ہو گا جو قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کی مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں قرآن کریم کو نذرآتش کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔امریکی فوج اس سے قبل اسی طرح کی گھناؤنی حرکات عراق اور دیگرملکوں میں کرتی رہی ہے اور وہ اسرائیلی فوجیوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے جوفلسطین میں اس طرح کی اسلام دشمن سازشوں میں ملوث ہیں

Advertisements

مقبوضہ بیت المقدس : حرمین شریفین کے بعد مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی پر انتہا پسند یہودیوں کے حملے تیز ہو گئے ہیں، گزشتہ روز صبح ایک بار پھر انتہا پسند یہودی ٹولے نے قبلہ اول پر دھاوا بول دیا۔ صہیونی فوج کی بڑی تعداد نے اس موقع پر سیکڑوں فلسطینی نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔ گزشتہ اتوار کے دن سے آج مسلسل پانچویں روز بھی غاصب یہودیوں کے جتھوں کی مسجد اقصی آمد جاری رہی۔ بیت المقدس کے ذرائع کے مطابق مسجد میں موجود مسلمان نمازی مراکشی دروازے سے داخل ہونے والے ان حملہ آوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الاقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مسجد کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ مسجد میں داخل ہونے کے تمام دروازوں پر صہیونی سکیورٹی فورسز کا جھرمٹ ہے اور نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ خواتین سے بھی ان کی شناخت طلب کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ فلسطینی حکمران جماعت لیکود پارٹی سمیت متعدد انتہا پسند یہودی تنظیموں نے گزشتہ چند روز سے یہودی آباد کاروں جو تلمودی عبادات کی ادائیگی کے لیے مسجد آنیکی ہدایت کر رکھی ہے۔ الاقصی فاؤنڈیشن کی جانب سے مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والے بیان کے مطابق جمعرات کی علی الصبح پینسٹھ کے لگ بھگ غاصب یہودیوں کے تین ٹولوں نے مسجد پر دھاوا بولا، ان ٹولوں میں یہودی بستی کریات اربع کے آباد کار بھی شامل تھے۔ الاقصی فاؤنڈیشن اور مسجد اقصی کے گارڈز نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے اس موقع پر مزاحمت کرنے والے تین فلسطینی شہریوں اور ایک گارڈ کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں میں ام فحم کے ریاض اغباریہ، سخنین کے تامر شلاعطہ اور البعینہ نجیدات گاؤں کے ابراھیم خلیل شامل ہیں۔ مسجد کا گارڈ سامر قویدر بھی صہیونی فورسز کے ہتھے چڑھ گیا۔ خیال رہے کہ الخلیل شہر کی یہودی بستی کریات اربع کی انتہا پسند یہودی جماعتوں نے مسجد اقصی پر اجتماعی حملے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی دینی، سیاسی اور قومی قیادت نے مسلمانوں سے بھی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے جوق در جوق آنے کی کال دے دی ہے۔ اسی ضمن میں انتہا پسند یہودی تنظیموں نے مسجد اقصی کو گرانے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی کال بھی دے دی ہے۔ یہودی گروپوں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی کو خدانخواستہ گرا کر اس کی جگہ پر ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر مالی اور جانی تعاون کیا جائے۔ مرکز اطلاعات القدس کے مطابق غاصب یہودی ٹولے گلیوں اور شاہراہوں میں ریلیاں نکال رہے ہیں اور ان ریلیوں کے دوران اسپیکر پر مسجد اقصی کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی مہم کو کامیاب بنانے اور مہم کے لیے مالی امداد کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ مشرقی القدس کی اولڈ میونسپلٹی کی شاہراہیں اسرائیلی پولیس اور فوج کے اہلکاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ غاصب یہودیوں کی ان اشتعال انگیز ریلیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اولڈ میونسپلٹی اور پورے القدس کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ریلیوں کے گزرنے کی مقامات پر موجود فلسطینیوں کی دکانوں کو بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ مرکز نے بتایا کہ جنونی اور متشدد قسم کے ان یہودیوں کی ایک بڑی ریلی مسجد اقصی کے مراکشی دروازے تک پہنچی جہاں پر وہ مسجد کے دیگر دروازوں سے گزرتی ہوئی باب حطہ تک پہنچی۔ اس دروازے کے سامنے یہودیوں نے رقص کی محفل کا انعقاد کیا اور اسلام اور عربوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ خیال رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے مسجد اقصی پر یہودیوں کے حملوں کی کوششیں جاری ہیں جس کے بعد القدس میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں

یروشلم کی دیواروں پر’مسیحیوں کی موت‘ یا ’ تمہیں صلیب پر چڑھا دیں گے‘ کی طرح کی تحریریں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انتہاپسند یہودیوں کی جانب سے کلیساؤں، قبرستانوں اور دیگر مقامات پر حملوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ا س سے قبل اسرائیل میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یہودیی یا تو مسلمانوں کو نشانہ بناتے تھے یا ان کا ہدف بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ہوا کرتے تھے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیل اور غرب اردن میں دس مساجد کو نذز آتش کیا گیا۔ امن کے لیے سرگرم ’پیس ناؤ‘ نامی تنظیم کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھ کر انہیں ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ تاہم اب یہ تمام حربے اسرائیل میں آباد مسیحی برادری کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں نے فروری کے وسط میں مغربی یروم شلم میں ایک بیپٹسٹ چرچ، شہر کے قدیم یہودی علاقے کے ایک کرسچن قبرستان اور اسی طرح فروری میں ہی ایک اورتھوڈوکس کلوسٹر کی دیواروں پر اسپرے پینٹ کے ذریعے مسیحیت کے خلاف نعرے درج کیے۔پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عام سی غنڈہ گردی ہےاور ان کارروائیوں کا نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے بقول نہ ہی ان واقعات کا محرک قوم پرستی ہے۔ اسرائیل کے صدر شمعون پیریز کا اس حوالے سے کہنا تھا ’’ میں تینوں توحیدی مذاہب سے کہنا چاہتا ہو کہ اسرائیل میں مسلمانوں، کرسچنز اور یہودیوں کے مذہبی مقامات اور ان کے رسم و رواج کا احترام کیا جائے۔ Temple Mount یعنی الحرم القدسی الشریف کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس ہے‘‘۔ پیریز نے مزید کہا ’’جو مسلمانوں کے لیے مقدس ہے، وہ ہمارے لیے مقدس ہے، جو مقام کرسچنز کے لیے مقدس ہیں، وہ ہمارے لیے بھی ہیں اور جو کچھ ہمارے لیے مقدس ہے وہ یقینی طور پر سب کے لیے مقدس ہےلیکن اس طرح کے بیانات یروشلم میں آباد مسیحیوں کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اسرائیل کے دارالحکومت میں انہیں آئے دن امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قوم پرست اورانتہائی قدامت پسند یہودیوں کی جانب سےشہر کے قدیم حصے کے تنگ گلیوں میں مسیحی مذہبی شخصیات پر تھوکنا ایک عام سی بات ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے پادریوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم ’ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ‘ نے رابیوں کے سربراہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھوکنے کے ان حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تاہم ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہےاس دوران رابی شلومو آمار اور یونا میٹزگر یروشلم میں مسیحی باشندوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ دو سال قبل غرب اردن کے ایک گاؤں یوسف میں مسجد کو نذر آتش کر دیا گیا تھا، جس کے بعد میٹزگر نے اس علاقہ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا، ’’وہ اپنے پڑوسیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہر مقدس جگہ، جہاں انسان عبادت کرتے ہیں، چاہے وہ مسجد ہو، چرچ ہو یا سینیگوگ ہو، وہ اسے نذر آتش کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ تاہم دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند اور انتہا پسند یہودیوں نے ابھی تک رابی یونا میٹزگر کی اپیل پر کان نہیں دھرے

نیویارک: اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو شامی بحران کے لیے خصوصی مندوب مقرر کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے مشترکہ طور پر کوفی عنان کے نام کا اعلان کیا۔ کوفی عنان شام کے بحران کو حل کرنے میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ دونوں کی جانب سے خصوصی مندوب ہوں گے۔ اس حوالے سے جاری کیے جانے والے اعلان کے مطابق کوفی عنان اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے شام میں ہر طرح کے تشدد کے خاتمے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس بحران کا دیرپا اور مستقل حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اعلامیئے میں مزید کہا گیا کوفی عنان شام میں فعال اور سرگرم تمام جماعتوں اور بیرون ملک کام کرنے والی تمام شامی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے، انہیں ساتھ ملانے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس دوران کوفی عنان کی معاونت کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ عرب ممالک کے ذمے ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق بان کی مون کو خصوصی مندوب کے لیے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والی کسی ایسی شخصیت کی تلاش میں مشکلات کا سامنا تھا، جسے تمام فریقوں کی تائید حاصل ہو۔ اس حوالے سے کوفی عنان اور فن لینڈ کے سابق صدر مارتی آہتیساری کے ناموں پر غور کیا گیا۔ یہ دونوں رہنما ماضی میں مصالحت کار رہ چکے ہیں۔ عنان کینیا جبکہ  آہتیساری کوسووو میں ثالث رہے ہیں اور دونوں کو ان کی خدمات کے بدلے میں امن کا نوبل انعام دیا جا چکا ہے۔اسی دوران شام کے رونما ہونے والے واقعات کی تفتیش کرنے والے کمیشن نے ایک رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک فہرست ترتیب دی ہے، جس میں شام کے ان سرکاری اہلکاروں کے نام درج ہیں، جو مبینہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔ اطلاعلات کے مطابق حمص شہر میں بشارلاسد کی حامی فوج کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارے میں تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شام کے مختلف شہروں میں ساٹھ سے زائد افراد سرکاری فوج کا نشانہ بنے۔ بین الاقوامی تفتیش کاروں پر مشتمل اس کمیشن نے جنیوا میں بتایا کہ انہوں نے مکمل کوشش کی ہے کہ ان تمام افراد کے نام اور شناخت منظر عام پر لائی جائیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ ساتھ ہی اس رپورٹ میں شامی باغیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمیشن نے عالمی برادری کو دمشق حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کو بھی قریب لانے کی کوشش کی جائے

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اہل مغرب کی جانب سے اس سے قبل بھی ایسی شرمناک حرکات کا ارتکاب کیا جا چکا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے مذہبی جذبات اور مقدسات کی توہین کے عادی ہیں جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کے نام نہاد علمبردار بنے پھرتے ہیں۔اپنے ایک  بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے نیٹو فورسز کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل میں قرآن مجید نذر آتش کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعہ سے امت مسلمہ کے مذہبی جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ اہل مغرب کی جانب سے اس سے قبل بھی ایسی شرمناک حرکات کا ارتکاب کیا جا چکا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے مذہبی جذبات اور مقدسات کی توہین کے عادی ہیں جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کے نام نہاد علمبردار بنے پھرتے ہیں ان کے قول و فعل کا تضاد درحقیقت عالم اسلام کے خلاف ان کے تعصب اور تنگ نظری کا عکاس ہے یہی وجہ ہے کہ وہ امت مسلمہ کے جذبات کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایک اخباری بیان میں ترجما ن نے گذشتہ روز پشاور میں کوہاٹ اڈے پر بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد کے جاں بحق ہونے‘ پشاور کے تھانے پر خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا مرکزی ترجما ن نے علی پور مظفر گڑھ میں ممتاز عالم دین علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی پر قاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر صوبائی حکومت کو خبردار کیا کہ صوبہ بھر بالخصوص جنوبی پنجاب میں شرپسندوں اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں تیزی اور سانحہ خان پور کے بعد علی پور کا یہ واقعہ صوبہ میں بدامنی‘ افراتفری‘ شرانگیزی اور فتنہ و فساد کی نئی لہر کا آغاز ہے جس پر قابو پانے میں کسی قسم کی سستی اور غفلت ملک کی داخلی سلامتی کے لئے انتہائی مضر اور مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ سربراہ شیعہ علماء کونسل کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاراچنار کے دلخراش سانحہ کے بعد ملک کی تقدیر کے مالک و مختار عوام کی مایوسی اور بے چینی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ کراچی ہو یا کوئٹہ‘ ڈیرہ اسماعیل خان ہو یا ہری پور‘ پاراچنار ہو یا خان پور عوام اپنے دکھوں کے مداوا اور جانی و مالی تحفظ کے لئے جائے امن اور پناہ کی تلاش میں ہیں اور صوبائی و مرکزی حکومتوں اور امن و امان کے ضامن اداروں سمیت اعلی عدلیہ کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے اندرونی کرب کو پرامن احتجاج اور سوگ کے انداز میں ظاہر کرکے یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ملک کب تک مزید ایسے سانحات کا متحمل ہوسکتا ہے۔

ملزمان کے مطابق انہوں نے نارتھ ناظم آباد میں تین افراد غلام حسین عرف فوجی، قاسم اور دلاور، تیموریہ میں عمران عباس، سعید آباد میں سید ذاکر حسین شاہ، اورنگی ٹاؤن میں ذاکر علی اور عبدالجبار جبکہ مومن آباد میں نیئر عباس کو قتل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔سی آئی ڈی پولیس نے کالعدم سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے 5 خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان کی نگرانی میں عملے نے کورنگی صنعتی ایریا عبداللہ ٹاؤن میں چھاپے کے دوران کالعدم سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے 5 ملزمان محمد ابراہیم، شکیل ملک عرف محمد علی، حضرت انیس عرف جواد، نیاز اللہ اور عبدالجلیل کو گرفتار کر کے دو ہینڈ گرینیڈ، دو کلاشنکوفیں، تین ٹی ٹی پستول اور گولیاں برآمد کر لیں۔ سی آئی ڈی کے ذرائع کے مطابق پکڑے جانے والے ملزمان نے اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے 8 افراد کے قتل سمیت پیرآباد کے علاقے میں کلینک پر دستی بم سے حملے کا انکشاف کیا، جس سے 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ملزمان کے مطابق انہوں نے نارتھ ناظم آباد میں تین افراد غلام حسین عرف فوجی، قاسم اور دلاور، تیموریہ میں عمران عباس، سعید آباد میں سید ذاکر حسین شاہ، اورنگی ٹاؤن میں ذاکر علی اور عبدالجبار جبکہ مومن آباد میں نیئر عباس کو قتل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

سربراہ سنی اتحاد کونسل کا کہنا ہے کہ امریکہ بلوچستان کے اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن پاکستان کے غیرت مند بیٹے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گےکراچی روانگی کے موقع پر لاہور ائیرپورٹ پر پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ بلوچستان بچانے کے لیے 20 ویں ترمیم جیسے اتحاد کی ضرورت ہے، سینٹ کی نشستوں اور 20 ویں ترمیم پر متحد ہونے والے بلوچستان بچانے کے لیے کیوں متحد نہیں ہو سکتے، بلوچوں سے معافی کے ساتھ ساتھ ناانصافیوں کی تلافی بھی ضروری ہے، حساس اداروں اور افواج پاکستان پر بلاوجہ تنقید بند ہونی چاہیے اور بلوچستان میں بے گناہ پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی قابل مذمت ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ بلوچستان کے علیحدگی پسند باغی بندوق پھینک کر آزادی کی بجائے حقوق کی بات کریں تو پورا ملک ان کا ساتھ دے گا۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا افواج پاکستان کو ذمہ دار قرار دینا امریکہ کی زبان بولنے کے مترادف ہے کیونکہ امریکہ پاک فوج کو بدنام کر کے کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قبضہ کر سکے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں امریکی مداخلت کا راستہ روکنے کے لیے پوری قوم، حکومت، اپوزیشن اور فوج ایک ہو جائے، ایسا نہ کیا گیا تو ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بلوچستان کے اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن پاکستان کے غیرت مند بیٹے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور بلوچستان کوبنگلہ دیش بنانے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ اس سے پہلے کہ امریکہ لیبیا میں قذافی کے باغیوں کی عملی مدد کا عمل بلوچستان میں دہرائے، حکمران اور قوم جاگ جائیں۔ ائیرپورٹ پر صاحبزادہ فضل کریم کو الوداع کہنے کے لیے آنے والوں میں پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، محمد نواز کھرل، صاحبزادہ سید صابر گردیزی، شیخ اظہر سہیل، مولانا قاری مختار احمد صدیقی، پیر ضیاء المصطفیٰ حقانی، مفتی محمد کریم خان، علامہ مشتاق احمد نوری و دیگر شامل تھے۔

عداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت 3.168 ڈالر کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے ساتھ 3.565 ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ایران کی جانب سے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی برآمد روکنے کے اقدام کے نتیجے میں امریکہ میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے یومیہ ایندھن کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے ماہ فروری میں گذشتہ ماہ کی نسبت گیسولین کی قیمت میں تقریباً ۲۵ سینٹ اوسطاً اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت ۳.۱۶۸ ڈالر کے مقابلے میں ۱۲.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۳.۵۶۵ ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ امریکی شہریوں نے گیسولین کی قیمتوں میں اضافے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کو ماہ اپریل میں خام تیل کی فراہمی میں ۲فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت ۱۰۵.۸ ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے۔ یورپی منڈی میں پرینٹ کروڈ کی قیمتیں ۰.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۲۰.۱۸ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ یورپ کو تیل کی فراہمی بند کرنے کا ایرانی فیصلہ یورپ اور امریکہ کی ایران پر پابندیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ ایران کے خلاف یورپی اور امریکی پابندیاں یکم جولائی ۲۰۱۲ءسے نافذ العمل ہونگی لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق امریکی ڈرون طيارے کو علاقے ميں موجود شدت پسندوں نے مار گرايا ہے، جبکہ مقامی لوگ تباہ شدہ جاسوس طيارے کا ملبہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہيںشمالی وزيرستان ميں ایک امريکی جاسوس طيارہ گر کر تباہ ہو گيا ہے، ذرائع کے مطابق جاسوس طيارہ ميرعلی کے علاقے مچھی خيل ميں آبادی سے دور ويرانے ميں گرکر تباہ ہوا، مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے اچانک زوردار دھماکوں کی آوازيں سنيں اور ديکھا تو گرنے والے جاسوس طيارے کے ملبے ميں آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے کے بعد سيکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھيرے ميں لے ليا اور کسی کو بھی اس طرف آنے کی اجازت نہيں دی جارہی۔  ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق امریکی ڈرون طيارے کو علاقے ميں موجود شدت پسندوں نے مار گرايا ہے، جبکہ مقامی لوگ تباہ شدہ جاسوس طيارے کا ملبہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہيں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک امریکی ڈرون طیارہ وزیرستان میں گر کر تباہ ہوا تھا۔

  امریکی16 انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظرثانی کا باعث بنے۔امریکی اخبار نے 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی متفقہ طور پر تیار کردہ حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران جوہری ریسرچ میں ضرور ہے جو اسے ایٹم بم بنانے کے قابل بنا سکتا ہے لیکن ایران کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے 2003ء میں اپنے جوہری بم بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف عوامی سطح پر فوجی حملے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایک حقیقت کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ ایران جوہری بم بنانے میں کوئی فعال سرگرمی کی کوشش میں ہے۔  امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے ایک 2007ء میں تیار کی گئی ایک انتہائی اہم رپورٹ گزشتہ برس پالیسی سازوں کو فراہم کی گئی تھی۔ قومی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق تہران نے 2003ء میں ایٹمی وار ہیڈز بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا جبکہ حال ہی میں 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظر ثانی کا باعث بنے۔  سینئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بنیادی انٹیلی جنس یا تجزیے سے اختلاف نہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کے قابل بننے کی اجازت نہیں دینا چاہتا۔ کچھ اسرائیلی حکام سمجھتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ ایران جوہری پیش رفت میں بہت آگے چلا جائے اس کو روکنے کیلئے فوجی حملے کا امکان ہے۔

معروف سیاسی اور عسکری تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان جیسی شکایات ایران کے خلاف نہیں۔ افغانستان میں پاکستان کی مخالفت زیادہ ہے۔ پاکستان امریکی influence سے خود کو باہر نکالنا چاہتا ہے۔ پاکستان کمزور معیشت کی وجہ سے امریکہ اور مغرب پر انحصار کرتا ہے۔ ایران ضرورت پوری کر دے تو یہ انحصار کم ہو جائے گا۔ امریکہ اس خطے میں اپنا پریشر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اگر دباو میں آئے گا تو کچھ نہیں کر پائے گا۔ حکومت کے پاس قوت فیصلہ نہیں۔ کوئی نہ کوئی حکومت کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ امریکہ کے بارے میں اب فوج بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ پاکستان ایران پر امریکی حملے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خطے میں امریکہ کو چیلنج کرنے والی ایران جیسی قوتوں کی حمایت پاکستان کے مفاد میں ہے

صہیونی حکومت کے اعلی حکام کی لبنان کے خلاف دھمکیوں پر لبنان کے اعلی حکام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ جب تک مزاحمت و استقامت زندہ ہے صہیونی حکومت لبنان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ سید حسن نصر اللہ نے گزشتہ روز صہیونیوں کے خلاف مزاحمت و استقامت کے کمانڈروں اور رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد مرتبہ جنوبی لبنان میں صہیونی غاصبوں سے جنگ کے دوران حزب اللہ نے اس حکومت کو سنگین شکست سے دوچار کیا اور اس علاقے میں امن و استحکام بحال کیا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے صہیونی حکومت کی حالیہ دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلیوں کی دھمکیوں سے ہرگز نہیں ڈرتے اوران دھمکیوں کا ہمارے عزم و ارادے پر کوئي اثر نہیں پڑے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ گزشتہ زمانے میں جب ہم تعداد و طاقت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی نہ تھے تب بھی ایریل شیرون اور اسحاق رابین جیسے اسرائیل کے نام نہاد بڑے جنرلوں سے مرعوب نہیں ہوئے تو آج جب ہم طاقت و قوت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی ہیں تو کس طرح ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہو جائیں گے۔  صہیونی حکومت لبنان پر بار بار زمینی ، فضائی اور بحری حملے کر کے اس ملک کو ہمیشہ نئے حملوں کی دھمکیاں دیتی رہتی ہے۔ صہیونی حکومت کے لبنان پر متعدد حملوں، لبنان کے بعض علاقوں پر قبضے اور ہمسایہ ممالک کو دی جانے والی مستقل دھمکیوں نے پہلے سے زیادہ اس حکومت کی جنگ پسند اور مہم جو ماہیت کو واضح و آشکار کر دیا ہے۔ جس چیز نے صہیونی حکومت کے تمام منصوبوں اور ارادوں پر پانی پھیر تے ہوئے اسے علاقے میں شکست دی ہے وہ علاقے کے عوام کی مزاحمت و استقامت تھی اور گزشتہ چند سالوں میں لبنان کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ سید حسن نصر اللہ کی حقیقت کو برملا کرنے والی تقریر نے ایک بار پھر لوگوں کو لبنان کے خلاف صہیونی حکومت کی مذموم سازشوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ صہیونی حکومت اور اس کی حامی مغربی حکومتیں لبنان کی مزاحمت کو لبنان میں اپنی تسلط پسندانہ پالسیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔ صہیونی حکومت مغربی حکومتوں کی بھرپور حمایت کے باوجود گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ لبنان کی مزاحمت کے مقابلے میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ لبنان کی استقامت کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی مستقل ناکامیاں، جس نے دو ہزار میں اس حکومت کو لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا اور اسی طرح دوہزار چھ میں لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست، لبنان کی مزاحمت و استقامت کی گرانبہا کامیابیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکومت اور اس کی حامی حکومتیں لبنانی عوام کے درمیان خوف و وحشت اور اختلاف و تفرقہ پھیلا کر انھیں استقامت سے دور کرنا اور لبنان کے خلاف اپنی سازشوں پر عمل کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن لبنان کی عوام نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کی سازشوں اور ہتھکنڈ وں سے باخبر اور ہوشیار ہیں۔ لبنانی عوام میں حزب اللہ کی مقبولیت میں روزافزوں اضافہ رہا ہے اور حزب اللہ بھی روزبروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے عوام صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی نئی سازشوں کو ناکام بنانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کی طرف سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں اشارہ کیا ہے۔

لبنان کی عدلیہ نے تین صیہونی جاسوسوں کو موت کی سزا سنائي ہے۔ لبنان کی فوجی عدالت نے گذشتہ روز تین لبنانی شہریوں کو جو صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی کر رہے تھے، موت کی سزا سنائي ہے۔ ایک ہفتے پہلے بھی لبنان کی فوجی عدالت نے تین لبنانیوں کو جو صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی میں ملوث تھے، موت کی سزا سنائي تھی۔ لبنان کی سکیورٹی فورسز نے حزب اللہ کی مدد سے صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی کرنے والے متعدد نیٹ ورک پکڑے ہیں۔ صیہونی حکومت حزب اللہ اور ملت لبنان کو نقصان پہنچانے کے لئے لبنان میں وسیع پیمانے پر جاسوسی کی کارروائیوں میں مشغول ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں جن میں کوئي انحراف موجود نہیں ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں جن میں کوئي انحراف موجود نہیں ہے۔ آمانو نے کہا کہ ابھی بعض ابہامات دور کرنے کے لئے باقی ہیں جن کو دور کرنے کے لئے طرفین میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے آمانو نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ باقی ماندہ مسائل کو حل کرنے کے لئے پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کا آغاز کردے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے ایٹمی شعبہ میں ایران کی پیشرفت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے 20 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی مہارت حاصل کرلی ہے اور اس شعبہ میں ایران کا انحصار اب مغربی ممالک پر ختم ہوگیا ہے، ادھر روس کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی حکومت کو تبدیل کرنے کے لئے ایران کے ایٹمی مسئلہ کو بہانہ بنا رہا ہے۔

ايران اور یورپی ممالک کے درميان اقتصادی اور تجارتی کشيدگي کي وجہ سے عالمي منڈي ميں خام تيل کي قيمت مسلسل بڑھتي جارہي ہے جس کے نتيجے ميں عالمي معاشي صورتحال مزيد ابتر ہونے کا خدشہ ہے اورایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک خود اقتصادی بحران کا شکارہوگئے ہیں ايران اور یورپی ممالک کے درميان اقتصادی اور تجارتی کشيدگي کي وجہ سے عالمي منڈي ميں خام تيل کي قيمت مسلسل بڑھتي جارہي ہے جس کے نتيجے ميں عالمي معاشي صورتحال مزيد ابتر ہونے کا خدشہ ہے اورایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک خود اقتصادی بحران کا شکارہوگئے ہیں۔ہفتے کے آخري روز لندن کي مارکيٹ ميں خام تيل کي قيمت ايک ڈالر 85 سينٹس اضافے کے بعد 125 ڈالر في بيرل سے اوپر چلي گئي. اپريل کے بعد سے يہ في بيرل تيل کي سب سے زيادہ قيمت ہے. ہفتے کے دوران برينٹ کروڈ آئل کي قيمت مجموعي طورپر 5 ڈالر 89 سينٹس بڑھي ہے. قيمت ميں اضافے نے ان پريشانيوں کو بھي بڑھا ديا ہے کہ صارفين کي طرف سے طلب ميں کمي عالمي شرح نمو کو بھي متاثر کرے گي. اس سے قبل یورپی ممالک نے ایران کے تیل کی خرید پر جولائي میں پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ایران نے یورپی ممالک کے غیر منصفانہ اقدام کے خلاف جوابی  کارروائی کرتے ہوئے یورپی ممالک کو تیل کی فروخت ابھی سے بند کردی ہے اور ایران نے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی فروخت متوقف کردی ہے جس کی وجہ سے یورپی اور مغربی ممالک میں شدید اقتصادی بحران پیدا ہوگیا ہے اور ایران کو اقتصادی محاصرہ کرنے والے خود اقتصادی محاصرے میں آگئے ہیں۔

افغانستان میں قرآن مجید کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بے حرمتی اور امریکہ کے خلاف احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔الجزیرہ کے حوالے  سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں قرآن مجید کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بے حرمتی  اور امریکہ کے خلاف احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔پورے افغانستان ميں قرآن پاک کي بے حرمتي کے خلاف آج پانچويں روز بھي مظاہرے جاری ہيں جبکہ مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کي تعداد27 ہوگئي ہے. مشرقي صوبوں لوگر، ننگرہار، وسطي صوبوں سري پل اور کئي دوسرے علاقوں ميں احتجاجي ريلياں نکالي جارہي ہيں ،قندوز ميں مظاہرين نے اقوام متحدہ کے دفتر کا گھيراؤ کرليا اس موقع پر پوليس اورمظاہرين ميں جھڑپيں بھي ہوئي ہیں

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیےالیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار عمرو موسی نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس نے کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات زیادہ ہیں اور ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے تعمیری مذاکرات کی ضرورت ہے اور ایران کو ایک دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے عمرو موسی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ روابط امریکی تقلید پر مبنی نہیں ہونے چاہییں  اس نے کہا کہ ہمیں تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط کی ضرورت ہے

اسلامی جموریہ ایران کے وزیر دفاع نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائيل پہلے کی نسبت بہت کمزور ہوگيا ہے اور حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ عالم عرب کی سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ شخصیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالم اسلام کے شہیدوں کے دوسرے عالمی سمینار سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ اسرائیلی فوج درمنادہ ، کمزور ، تھکی ہوئی اور شکست خوردہ فوج ہے اور وہ صہیونی جو مقبوضہ فلسطین میں زندگی بسر کررہے ہیں انیھں معلوم نہیں وہ کتنے عرصہ تک فلسطین میں رہ سکتے ہیں انھوں نے کہا کہ آج اسرائيل کا وجود حقیقی معنی میں خطرے میں پڑگیا ہے۔ ایرانی وزیر دفاع نے حزب اللہ کے شہید کمانڈروں کی یاد میں منعقدہ سمینار سے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان واحد عرب ملک ہےجس نے طاقت کے زور پر غاصب اسرائیلیوں کو ملک سے باہر نکال دیا اور یہ اسلامی مقاومت اور حزب اللہ کی استقامت و پائداری اور لبنانی عوام اور فوج کے تعاون سے ممکن ہوا۔ انھوں نے کہا کہ آج حزب الہ کی دفاعی پوزیشن سے اسرائيل پر خوف و ہراس طاری ہے اور حزب اللہ کا نظریہ لبنان تک محدود نہیں بلکہ وہ دیگر مقبوضہ عرب زمین کو بھی آزاد کرانے کی فکر میں ہے انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ عالم عرب کی سب سے پسندیدہ اور محبوب شخصیت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی ہونا مہم نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ ہم کس طرف ہیں اور کس کے حامی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 33 روزہ لبنان کی جنگ میں اسرائيل کی تاریخی شکست اور اس کے بعد غزہ میں 22 روزہ جنگ میں اسرائيلی شکست سے صاف ظاہر ہوگيا ہے کہ اسرائيل بہت ہی کمزور اور شکست پذير ملک ہے اور اس کی طاقت پہلے جیسی نہیں ہے

يمن کے نئے صدر عبد ربہ منصور ہادي نے آج ہفتے کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھا ليا ہے. وہ سابق صدر علي عبداللہ صالح کي اقتدار سے عليحدگي کے بعد گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتي انتخاب ميں واحد اميدوار تھےالجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ يمن کے نئے صدر عبد ربہ منصور ہادي نے آج ہفتے کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھا ليا ہے. وہ سابق صدر علي عبداللہ صالح کي اقتدار سے عليحدگي کے بعد گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتي انتخاب ميں واحد اميدوار تھے.يمن ميں نيا صدارتي انتخاب امريکي حمايت يافتہ خليج تعاون کونسل فارمولے کے تحت عمل ميں لايا گيا.جسے یمنی عوام کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہے علي عبداللہ صالح چوتھے امریکہ نوازعرب سربراہ ہيں کہ جنہيں اپنے خلاف ايک سال تک جاري رہنے والي عوامي احتجاج کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ہيں.امریکہ قطر اور سعودی عرب  کے تعاون سے عرب ممالک میں اپنے آلہ کاروں کو بچآنے اور اپنے مخالفین کو گرانے کی کوشش کررہا ہے۔ سعودی عرب ، بحرین اور قطر کے عوام يں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور عرب عوام امریکہ کی غلامی کرنے پر اپنے حکمرانوں سے شدید متنفر ہیں۔ لیکن عرب حکمراں امیرکہ کے تعاون سے اپنا اقتدار قائم رکھنے کی کوشش کررہےہیں

سعودی عرب اور قطرکے وزراء خارجہ اور اعلی حکام کی طرف سے شام کے صدر بشار اسد کے خلاف گہرے کینہ و عناد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیونس میں شام مخالف اجلاس کی ناکامی پر سعودی وزیر خارجہ نے اجلاس سے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا ہے سعودی عرب اور قطر کی اسرائیل کے بارے میں نرمی اور شام کے خلاف سختی ان کی منافقانہ روش کا مظہر ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیونس میں شام مخالف اجلاس  کے شرکاء میں شگاف اور اختلاف پیدا ہوگیا ہے ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب اور قطرکے وزراء خارجہ اور اعلی حکام کی طرف سے شام کے صدر بشار اسد کے خلاف گہرے کینہ و عناد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیونس میں شام مخالف اجلاس کی ناکامی پر سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے اجلاس  سے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا ہے سعودی عرب اور قطر کی اسرائیل کے بارے میں نرمی اور شام کے خلاف سختی ان کی منافقانہ روش کا مظہر ہے۔ العربیہ کے مطابق سعودی وفد اجلاس کی ناکامی کے بعد اجلاس ہال سے نکل گيا سعودی وزیر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھیں گے، سعودی وزیر خارجہ کو توقع تھی کہ اس اجلاس میں شام میں فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ادھر روس ، چين اور لبنان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ سعودی عرب بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں بحران کو چھپانے کے لئے شام کے معاملات میں بے جا مداخلت کررہا ہے

سعودی عرب کے شہر قطیف میں سخت اور شدید سکیورٹی کے باوجود عوام نے آل سعود کے ظلم و ستم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔ سعودی عرب کے شہر قطیف میں سخت اور شدید سکیورٹی کے باوجود عوام نے آل سعود کے ظلم و ستم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔سعودی عرب کے مشرق علاقوں میں آل سعود کے خلاف شدید عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد شہید اور سیکڑوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے سعودی عرب میں ظلم و ستم کے خلاف عوامی مظآہرے جاری ہیں لوگ سعودی بادشاہت کے خلاف اور ملک میں جمہوریت کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہیں  سعودی شہریوں کا کہنا ہے آل سعود امریکہ اور اسرائیل کے نوکر اور غلام ہیں، سعودی عرب کے مظآہرین نے بحرین میں جاری عوامی مظآہروں کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین نے آل سعود اور آل خلیفہ کی جیلوں میں بند قیدیوں کی آزادی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بحرین کی امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت کے مخالفین نے آل خلیفہ کے ساتھ گفتگو کو بیہودہ قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ آل خلیفہ کی منحوس حکومت کے خلاف بحریری عوام کی جد وجہد کا سلسلہ جاری رہےگا اور شمشیر پر خون کی فتح یقینی ہے۔ الوفاق سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کی امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت  اسلام اور مسلمانوں کی دشمن حکومت ہے آل خلیفہ حکومت کے مخالف گروہوں نے آل خلیفہ  حکومت کے ساتھ گفتگو کو بیہودہ قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ آل خلیفہ کی منحوس حکومت کے خلاف بحرینی عوام کی جد وجہد کا سلسلہ جاری رہےگا اور شمشیر پر خون کی فتح یقینی ہے۔ بحرینی عوام کا کہنا ہے کہ بحرین میں جمہوریت ، استقلال و آزادی کے حصول تک جد وجہد اور تلاش و کوشش جاری رہےگی۔بحرینی عوام کے مطابق پرامن مظاہرے بحرینی عوام کے مسلّم حقوق میں شامل ہیں ، ادھربحرین کے ممتاز عالم دین  آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نےکہا ہے کہ بحرینی حکومت کے اداروں میں سیاسی اور مالی فساد معاشرے میں جاری بے چینی کا سب سے بڑاعامل ہے اور بحرینی حکومت کو استعفی دیکر اقتدار عوام کے حوالے کرنا چاہیے انھوں نے کہا کہ اقتدار بچانے کے لئے عوام کا قتل عام بالکل جائز نہیں ہے اور حکومت کو عوامی مظاہروں کو کچلنے کے بجائے اقتدار عوام کے حوالے کردینا چاہیے انھوں نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر ان پر حکومت کرنا جائز نہیں ہے عوام جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں بحرین کے بحران کا حل جمہوریت اور بحرین کی آزادی میں ہے۔ واضح رہے کہ بحرین کی امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت اپنے امریکی اور سعودی  آقاؤں کے ذریعہ بحرینی عوام کے پرامن مظاہروں کو شدت کے ساتھ کچل رہی ہے۔

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کو متواتر پیٹ کی تکلیف کے باعث ہسپتال داخل کردیا گيا ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کو متواتر پیٹ کی تکلیف کے باعث ہسپتال داخل کردیا گيا ہے۔ اطلاعات کے مطابق  ترانوے سالہ سابق صدر کے پیٹ میں تکلیف کی شکایت کافی عرصے سے موجود تھی جس کے وجہ سے انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا۔صدارتی ترجمان کے مطابق اب وہ بہتر محسوس کر رہے ہیں اور خوشگوار مزاج میں ہیں۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران حکومت نے سرکاری ملازمتیں کرنے والی خواتین کے لیے یونیفارم پہننا لازمی کر دیا ہے۔ایرانی حکومت کے مطابق خواتین سرکاری اہلکاروں پر اکیس مارچ سے یونیفارم  رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے رنگ کا کورٹ یا چادر اور اسکارف زیب تن کرنے کی شرط لگا دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس یونیفارم کو جامعات کے پروفیسروں اور ایران کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے۔ ایران کے اسلامی قوانین کی رو سے ملک میں خواتین کو ویسے ہی لمبے کورٹ یا چادر اور اسکارف پہننا پڑتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے لباس کے حوالے سے پہلے ہی سے سخت شرائط موجود ہیں جبکہ لبرل ایرانی حلقے ویسے ہی اس کے خلاف ہیں۔مدیحہ ایم تہران کے ایک سرکاری دفتر میں کام کرتی ہیں۔ یونیفارم پہننے کی اس نئی شرط کے بارے میں وہ کہتی ہیں: ’’یونیفارم کے جو نمونے میں نے دیکھے ہیں، وہ تقریباً اسی طرح کے ہیں جو ہم اس وقت پہنتے ہیں اور یہ بات مجھے اسکول کے زمانے کی یاد دلاتی ہے۔ایرانی اسٹیٹ بینک کی ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی حکومت نے یہ کوشش کی تھی کہ تمام خواتین ایک سی لگیں، مگر وہ کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ تہران حکومت کے مطابق اس نے یونیفارم کی تیاری کے لیے ایک سروے کروایا تھا جس کے بعد یونیفارم کے رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے کورٹ یا چادر اور اسکارف جو کہہ پہلے سے ایرانی معاشرے میں رائج ہیں  رکھے گئے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ لباس سے متعلق ایسا ہی ایک لازمی ضابطہ جلد ہی سرکاری دفاتر کے مرد اہلکاروں کے لیے بھی نافذ کر دیا جائے گا۔

بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے ايران کے ساتھ تازہ ترين مذاکرات بے نتيجہ رہے ہيں۔ تبصرہ نگار کے مطابق يہ ايک سفارتی حل کے ليے اچھی علامت نہيں ہےبين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں نے ايک فوجی اڈے کے اندر واقع ايرانی ايٹمی تنصيب پارشين تک رسائی کے ليے دو روز تک کوشش کی ليکن تہران حکومت اس پر راضی نہ ہوئی۔اس نے کليدی دستاويزات کا معائنہ کرنے اور ايٹمی پروگرام ميں حصہ لينے والے سائنسدانوں سے بات چيت کرنے کی اجازت بھی نہيں دی۔ اس کے بعد ايٹمی توانائی ايجنسی کے سائنسدان اپنے مشن ميں ناکام ہو کر واپس آ گئے۔ ايرانی حکام کی طرف سے کہا گيا کہ بين الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ بات چيت خوشگوار اور پراعتماد ماحول ميں ہوئی۔ ايک ناکام مشن کی اس سے زيادہ غلط تشريح ممکن نہيں تھی۔ چند ہفتوں کے اندر معائنہ کاروں کے دوسرے ناکام مشن کا مطلب اگلے ہفتوں اور مہينوں کے ليے اچھا نہيں ہے۔ خاص طور پر جب اسے سياق و سباق کے حوالے سے ديکھا جائے۔
ايک دوسرے کی اقتصادی ناکہ بندی
ايرانی حکومت مارچ کے پارليمانی انتخابات سے قبل ايک اور زيادہ سخت پاليسی پر مائل نظر آتی ہے۔ ايرانی وزارت تيل نے پچھلے ويک اينڈ پر ہی فرانس اور برطانيہ کو ايرانی تيل کی فراہمی فوراً بند کر دينے کا اعلان کر ديا تھا۔ دونوں ملکوں نے يورپی يونين کی طرف سے ايرانی تيل کی درآمد پر يکم جولائی سے عائد کی جانے والی پابندی کو خاص طور پر سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کيا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ايرانی بحريہ نے شام کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے ليے دو جہاز بحيرہء روم پہنچا ديے تھے۔ فوجی لحاظ سے يہ ايک غير اہم کارروائی ہے ليکن شام کی صورتحال کی وجہ سے يہ ايک سوچی سمجھی اشتعال انگيزی تھی۔ يورپی اور امريکی ايرانی تجارت ميں خلل ڈالنے کی کوششوں ميں اچھا خاصا آگے بڑھ چکے ہيں۔ ٹيلی کميونیکيشن سسٹم اوررقوم کی منتقلی کا زيادہ تر کاروبار انجام دينے والا ادارہ Swift ايرانی بينکوں سے روابط منقطع کرنے ميں مصروف معلوم ہوتا ہے۔ اس کے نتيجے ميں ايران کو ان ممالک سے بھی تجارت کرنے ميں شديد مشکلات پيش آئيں گی جنہوں نے ايران پر کوئی پابندی نہيں لگائی۔ ان ميں روس اور چين پيش پيش ہيں۔
اعتماد کے بجائے مخاصمت
درحقيقت فريقين نے آخر ميں نئے مذاکرات کے ليے کوششيں کی تھيں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ايرانی مذاکراتی قائد جليلی نے يورپی يونين کی امور خارجہ کی ذمہ دار کیتھرين ايشٹن کو ان کے اکتوبر 2011 کے مکتوب کا جواب ديا تھا اور ايران کے ايٹمی پروگرام پر بات چيت پر آمادگی کا اشارہ ديا تھا۔ ايشٹن نے اپنے خط ميں پرامن مقاصد کے ليے ايٹمی پروگرام کے ايرانی حق کو واضح طور پر تسليم کيا تھا اور اس طرح ايک سازگار فضا پيدا کردی تھی۔بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کار ايران ميں يہ جانچ پرکھ کرنا چاہتے تھے کہ کيا ایران کا ايٹمی پروگرام واقعی پرامن مقاصد کے ليے ہے، جيسا کہ ايران کا دعوٰی ہے۔ ليکن ايران نے تعاون اور اس طرح رفتہ رفتہ اعتماد کا ماحول پيدا کرنے کے بجائے سختی اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختيار کيا۔ اس طرح مذاکرات پر زور دينے والے جرمنی جيسے ممالک بھی يہ تاثر حاصل کر رہے ہيں کہ ايران کے ليے مذاکرات کا واحد مقصد مزيد مہلت حاصل کرنا ہے، جس دوران اسرائيل ايرانی ايٹمی تنصيبات پر حملے سے گريز کرتا رہے اور ايران ايٹمی ہتھياروں کی تياری جاری رکھے۔
اسرائيلی عزائم کی حوصلہ افزائی
اقوام متحدہ کی ويٹو طاقتيں اور جرمنی اب ايران کی نئے مذاکرات کی پيشکش قبول کرنے پر غور کر رہے ہيں۔ بين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں کے حاليہ مشن کا مقصد يہ بھی آزمانا تھا کہ ايران اپنے ايٹمی پروگرام کے بارے ميں شکوک و شبہات دور کرنے کے ليے کس حد تک معائنے کی اضافی اجازتيں دينے پر تيار ہے۔ يہ آزمائش دوسری بار ناکام رہی ہے۔يہ سب کچھ اسرائيلی حکومت کے عزائم کے لیے اور تقويت کا باعث ہے، جو يہ سمجھتا ہے کہ ايران کو صرف فوجی طاقت کے ذريعے ہی ايٹم بم بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اسرائيلی وزير اعظم بینجمن نيتن ياہو اگلے ہفتے سياسی مذاکرات کے ليے واشنگٹن جا رہے ہيں۔ اب امريکی صدر کے ليے اسرائيل سے يہ کہنا اور بھی مشکل ہو گيا ہے کہ وہ تحمل سے کام لے۔

مرکزی دفتر سے جاری بیان میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دینے والوں کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے، اب مسئلے کا واحد حل نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے بگرام ائیر بیس میں امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک اور دیگر اسلامی کتب نذر آتش کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مکروہ ترین فعل اور ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ مرکزی دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ  امریکی اور دیگر مغربی ملکوں کے فوجیوں نے قرآن پاک کے نسخوں سمیت دیگر اسلامی کتب کو نذر آتش کر کے تمام عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوس اور رنج کی بات یہ ہے کہ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولے برسائے گئے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اگرچہ کچھ قرآنی نسخوں کو مکمل طور پر جلنے سے بچا لیا گیا ہے لیکن مغربی افواج کے اس گھناؤنے جرم کو کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کو مذہبی اخوت اور رواداری کا سبق سکھانے والوں اور نام نہاد مہذب معاشروں سے تعلق رکھنے والوں کے چہروں سے نقاب اٹھ چکا ہے اور ان کی اصل شکل اور رنگ سب کے سامنے آ چکا ہے۔ دراصل اسی طرح کے لوگ انتہا پسند اور دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ انھوں نے کہا یہ فوجی تو دور جاہلیت سے بھی بدتر تہذیب کی نمائندگی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی مغربی ممالک ساری دنیا کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف ان کا اصل چہرہ یہ ہے کہ یہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دینی کتب کا بھی احترام نہیں کرتے۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں نیٹو افواج کے سربراہ امریکی جنرل جان ایلن کی محض معافی کافی نہیں۔ اب مسئلے کا واحد حل صرف یہ ہے کہ نیٹو افواج فوری طور پر افغانستان سے نکل جائیں، تاکہ یہاں پر افغان عوام اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکیں۔

صاحبزادہ فضل کریم کا کہنا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں، ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائی جائے گی۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے فنانس سیکرٹری پیر محمد اطہر القادری کی رہائش گاہ واقع محافظ ٹاؤن پر ’’سلگتا بلوچستان اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں اور دشمنوں کو گوادر بندرگاہ ہضم نہیں ہو رہی ملک دشمن عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت بلوچستان میں بدامنی کے ہر واقعہ کو ایف سی سے منسوب کر کے درحقیقت پاک فوج کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں بلوچستان کے فسادات میں غیر ملکی فنڈڈ چار پاکستانی این جی اوز کا کردار بھی سامنے آ گیا ہے بلوچستان کے 27 اضلاع میں صرف پانچ اضلاع میں سورش برپا ہے۔ اس موقع پر حاجی حنیف طیب، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، محمد نواز کھرل، شیخ اظہر سہیل اور صاحبزادہ صابر گردیزی نے بھی خطاب کیا۔ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو افغانستان میں فوجی اور کمانڈو تربیت دی جا رہی ہے امریکہ جنداللہ کھڑی کر کے پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کی بھی سازش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد کا مقصد ڈارفر اور مشرقی تیمور کی طرز پر آزاد مملکت بنانا ہے امریکہ پاکستان کے الگ الگ حصے کر کے پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے بلوچستان کے محب وطن عوام کی اکژیت علیحدگی نہیں چاہتی، بلوچ مزاحمت کار اور جنگ جو امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ بلوچستان کو بچانے کا ہے اس لیے تمام قومی قیادت باہمی اختلافات بھلا کر بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کی طرف میدانِ عمل میں آئے کانگریس میں قرارداد پیش کرنے والے امریکہ کو مقبوضہ کشمیر، افغانستان اور فلسطین میں ہونے والے مظالم نظر کیوں نہیں آتے۔ دریں اثناء سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے اعلان کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائے گی، اس تحریک کے دوران چاروں صوبوں میں بلوچستان بچاؤ کانفرنسیں اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی اور پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخواہ سے سینئر علماء و مشائخ کے وفود بلوچستان بھیجے جائیں گے جو بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے نیز بلوچستان میں امریکی و بھارتی مداخلت کے خلاف دستخطی مہم چلا کر لاکھوں دستخطوں پر مشتمل خصوصی یادداشت اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کو بھیجی جائے گی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچ عوام پاکستان سے نہیں علیحدگی پسند اور امریکہ و بھارت کے ایجنٹ مٹھی بھر بلوچ سرداروں سے آزادی چاہتے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند قوتوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امریکہ و بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ اور بھارت بلوچستان کو بنگلہ دیش بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے چار گروپ کام کر رہے ہیں جنہیں امریکہ، یورپ اور بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کے چودہ قونصل خانے بلوچستان میں مداخلت کر رہے ہیں، صوبے کے خراب حالات کی ذمہ دار بھارتی ایجنسیاں ہیں اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کی ٹریننگ را اور سی آئی اے کرتی ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ پاکستان کی غیرت مند اور دلیر قوم پاکستان توڑنے کی کسی ناپاک سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت اکبر بگٹی کے قاتل جنرل مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لائے تا کہ بلوچ عوام کا غصہ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج متحد ہو جائے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان پر امریکی قرارداد سے امریکہ کے مکروہ عزائم سامنے آ گئے ہیں، امریکی ریشہ دوانیوں کے خلاف بند باندھنے اور بلوچ عوام کی دلجوئی کی ضرورت ہے۔ اجلاس سے حاجی محمد حنیف طیب، پیر محمد افضل قادری، صاحبزادہ سید مظہر سعید کاظمی، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، طارق محبوب، شیخ الحدیث علامہ محمد شریف رضوی، محمد نواز کھرل، مولانا وزیر القادری، الحاج سرفراز تارڑ، مفتی محمد سعید رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔

فوجی ذرائع کے مطابق کچھ ممالک پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دہشتگرد تنظیم جنداللہ سے ”سمجھوتہ“ کر کے ایران میں دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔گوادر پورٹ کے شدید مخالف ممالک اور ان کی ایجنسیاں جو پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی خراب کرانا چاہتی ہیں بلوچستان میں دہشتگردی اور قتل و غارت کی ذمہ دار ہیں۔ یہ بات عسکری ذرائع نے ”دی نیشن“ کو بتائی۔ فوجی ذرائع کے مطابق گوادر بندرگاہ بلوچستان کی تقدیر بدل کر وہاں معاشی خوشحالی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ بات دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اسی طرح کچھ ممالک پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دہشتگرد تنظیم جند اللہ سے ”سمجھوتہ“ کر کے ایران میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔  فوجی ذرائع کے مطابق امریکی سی آئی اے، تنظیم زی (بلیک واٹر کا نیا نام) بھارت اور اسرائیل ان ممالک میں شامل ہیں جو بلوچستان میں دہشتگردی کرا رہے ہیں اور ناراض بلوچ رہنماوں میں علیحدگی پسندی کے جذبات ابھار رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ ان عناصر کو بلوچستان سے نکالنے میں ناکام رہی ہے، اس وجہ سے ان کی دہشتگردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ دہشت گردی کی کارروائیاں اور روزمرہ کی قتل و غارت بلوچستان کے عوام میں پریشانی کی لہر پیدا کر رہی ہے جس کی وجہ سے کئی رہنماوں کو فیڈریشن کے خلاف بولنے کا موقع مل رہا ہے اور ان میں سے بعض نے آزاد بلوچستان کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ حکومت اور کچھ سیاسی جماعتوں نے الگ الگ کانفرنسیں منعقد کی ہیں تاکہ بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے، تاہم دشمنوں نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور ان کارروائیوں کے نتیجہ میں بلوچستان کے عوام یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے، تاہم فوجی ذرائع نے کہا کہ فوج اور ایف سی نے اپنے طور پر کبھی بھی آپریشن نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بلوچستان کی حکومت کے احکامات پر عمل کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں فوج اور ایف سی بلوچستان میں جو کچھ کر رہی ہیں اس کی ذمہ دار بلوچستان کی حکومت ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق فوج ا ور ایف سی نے اس وقت جوابی کارروائی کی جب ان پر حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوج اور ایف سی نے صوبے میں ایسے منصوبے بنائے جن سے 20 ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔ ان منصوبوں کے تحت 15 ہزار افراد کو پہلے ہی ر وزگار مل چکا ہے اور باقی 5 ہزار افراد کو اس برس کے آخر تک روزگار مل جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں فوجی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان پر کوریج کے حوالے سے وہ میڈیا کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ میڈیا پر دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ اسے جو فوج، ایف سی اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اپنے دفاع میں کرتی ہیں اسے بڑھا چڑھا کر بیان کر دیا جاتا ہے۔ کوئی یہ سوال پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا کہ پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں کون ملوث ہے، علیحدگی کو کون ہوا دے رہا ہے اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ کون ڈال رہا ہے۔  ایک سوال پر فوجی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے مخالف بہت سے بلوچ رہنما ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں ترقی سے ان کی حیثیت پر فرق پڑے گا اور ان کی اتھارٹی کمزور ہو گی۔ اس موقع پر ایف سی کی طرف سے 26 برس بعد کان کنی کا کام دوبارہ شروع کرنے کا حوالہ دیا گیا، جس پر نواب خیر بخش مری نے تبصرہ کیا تھا کہ میرے بیٹے کی موت سے میری کمر نہیں ٹوٹی لیکن اس منصوبے سے ٹوٹ گئی۔

لاہور سے آئے ہوئے ذمہ داران و علماء کرام کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں حکمران اور طاقتور ادارے عوام کی اصل صورتحال سے آگاہ رہیں تاکہ عوام اُن اندرونی و بیرونی قوتوں کا آلہ کار نہ بنیں جو کہ بلوچستان اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ آج کا پاکستان شدید ترین بحرانوں میں گھرا ہوا اور کٹھن حالات کا شکار ہے، ہماری صفوں کا انتشار اپنی حدوں کو چھو رہا ہے اور ملک دشمن قوتیں اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملک کے خلاف صف آراء ہو رہی ہیں۔ یہود و ہنود کی ایجنٹ کالعدم جماعتوں نے ذاتی مفادات، مالی فائدے کی خاطر پوری قوم کی جان و مال عزت و آبرو کو داو پر لگا دیا ہے۔ پاکستان سنی تحریک ملک سے کرپشن، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت سے پاک مستحکم پاکستان چاہتی ہے اور قائداعظم محمد علی جناح کے خواب کی تعبیر کو پورا کرنے کیلئے فلاحی ریاست کے حقیقی تصور کو پورا کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کریگی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے لاہور سے آئے ہوئے ذمہ داران و علماء کرام کے علیحدہ علیحدہ وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ہونا چاہیے بلوچستان کی صوبائی حکومت مقامی انتظامیہ کو مستحکم کرے اور حکومت بلوچستان ایف سی کی ڈیوٹیوں کو سرحدوں تک محدود کرے تاکہ بلوچستان کے بلوچ بھائیوں کے احساس محرومی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کیلئے حکمران اعلانات کرنے کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات کریں تاکہ بلوچ بھائیوں کو گمراہ کرنے والی بیرونی و اندرونی طاقتوں کو کمزور کیا جاسکے اور یہ اُسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب بلوچستان کے عام آدمی کے مسائل وہاں کے وسائل کے لحاظ سے حل کئے جائیں اور ان کا حق خودارادی دیکر صوبے کو بااختیار بنایا جائے کیونکہ یہ ہی جمہوری اور آئینی راستہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں حکمران اور طاقتور ادارے عوام کی اصل صورتحال سے آگاہ رہیں تاکہ عوام اُن اندرونی وبیرونی قوتوں کا آلہ کار نہ بنیں جو کہ بلوچستان اور ملک کو غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں بریفینگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایک ملزم نے ڈیڑھ سال بعد واردات میں استعمال ہونے والی سم ڈالی، جس سے پیش رفت ہوئی۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد تمام تفصیلات بتائیں کہ وہ کس مدرسے میں ٹھہرے، کہاں سے اسلحہ حاصل کیا اور ملزم نے یہ بھی بتایا کہ مدرسے کا کون سا کمرہ استعمال ہوا۔وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے محترمہ بےنظیر بھٹو سے کہا کہ اگر آپ انتخابات سے قبل پاکستان آئیں تو سکیورٹی کی ذمہ دار حکومت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بےنظیر قتل میں مدرسہ حقانیہ کا پلیٹ فارم استعمال ہوا، شواہد اور ثبوت سامنے لانے میں وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر قتل کیس کے ہر ملزم کے خلاف شواہد مل گئے۔ منصوبہ سازوں تک پہنچنا ابھی باقی ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے سندھ اسمبلی کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بینظیر کے واپس آنے پر 18 اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملزم نے ڈیڑھ سال بعد واردات میں استعمال ہونے والی سم ڈالی، جس سے پیش رفت ہوئی۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد تمام تفصیلات بتائیں کہ وہ کس مدرسے میں ٹھہرے، کہاں سے اسلحہ حاصل کیا اور ملزم نے یہ بھی بتایا کہ مدرسے کا کون سا کمرہ استعمال ہوا۔ اگر میں پہلے مدرسے کا نام لے لیتا تو لوگ کہتے کہ ان کے پاس ثبوت نہیں۔ اب معلوم ہو چکا ہے کہ مدرسہ حقانیہ کا کونسا کمرہ اور ٹرانسپورٹ استعمال کی گئی، اس بارے میں تمام ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کافی حد تک بینظیر بھٹو کا کیس حل ہو چکا ہے، تاہم بعض معلومات حساس نوعیت کی ہیں جنہیں منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ن لیگ اور مشرف نے انتقامی کارروائیاں کیں، دھمکیوں کے باوجود بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں۔ انہیں وعدے کے مطابق سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ مشرف اور طالبان بینظیر کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ انہوں ‌نے کہا کہ قاری حسین نے درجنوں خودکش حملہ آوروں کو تربیت دی، حملہ آور بھیس بدل کر بینظیر بھٹو کے جلسے میں شریک ہوئے۔ ایک خاص گروپ محترمہ کو خطرہ سمجھتا تھا۔ رمزی یوسف جو خالد شیخ محمد کو بھانچا ہے نے بھی محترمہ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ بیت اللہ محسود اور القاعدہ رہنما المصری نے بنایا۔ انہوں‌نے کہا کہ مشرف کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔ ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔ سندھ اسمبلی میں حملہ آوروں ‌کی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ دیگر ذرائع کے مطابق بینظیر قتل کی سازش القاعدہ رہنما ابو عبیدہ المصری نے تیار کی عمل درآمد بیت اللہ محسود نے کرایا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی تفصیلات سندھ اسمبلی میں پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کے ذمہ دار پرویز مشرف ہیں، انٹر پول کے ذریعے گرفتار کیا جائے گا۔ رحمان ملک نے کہا کہ جانتے ہیں بینظیر بھٹو کو قتل کس نے کیا۔ سازش سے لیکر سازش پر عمل تک کے ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔ رحمان ملک کے مطابق پرویز مشرف نے مذاکرات کے دوران بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ انتخابات سے پہلے پاکستان مت آئیں، جس پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گی۔
رحمان ملک کے مطابق بینظیر بھٹو کی طرف سے پاکستان نہ آنے کی بات نہ ماننے پر پرویز مشرف نے دھمکی دی تھی کہ واپسی پر نتائج کی ذمہ دار وہ خود ہوں گی، رحمان ملک نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو طویل عرصے سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ نواز شریف کے دور میں سیف الرحمان کی طرف سے جھوٹے مقدمات درج کرائے جانے کا سلسلہ پرویز مشرف کے دور میں بھی جاری رہا، تاہم محترمہ بینظیر بھٹو نے تمام زیادتیوں کے باوجود مفاہمت کا فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو نے کراچی میں امن کی خواہش کیساتھ ایم کیو ایم سے مذاکرات کیلئے کہا تھا۔ رحمان ملک نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو اندازہ تھا کہ مستقبل میں ملک کو بڑے مسائل کا سامنا ہو گا، اسی لئے انہوں نے مصالحت کا آغاز کیا۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق الازہر یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بزرگان اسلام بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔مصر کی الازہر یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الازہر نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان گفتگو کو مغرب کے ساتھ اسلام کے ڈائیلاگ سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ العالم نے شیخ الازہر احمدالطیب کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بزرگان اسلام  بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ شیخ الازہر نے کہا کہ شیعہ، مسلمان ہيں اور ان کا اسلام بھی اہلسنت کا اسلام ہے اور اہلسنت اور شیعہ صرف چند معمولی مسائل میں اختلافات رکھتے ہيں۔ احمدالطیب نے مزید کہا کہ الازہر شیعہ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ شیعوں اور سنیوں کا اختلاف اصول دین میں نہيں ہے بلکہ صرف فروع دین میں ہے۔ الطیب نے کہا کہ الازہر کی نظر میں شیعوں اور سنّیوں کے درمیان کوئی فرق نہيں ہے کیونکہ یہ دونوں اسلامی فرقے کلمہ شہادتین کے قائل ہيں۔ دیگر ذرائع نے بھی کہا ہے کہ العالم کی رپورٹ کے مطابق شیخ الازہر احمد محمدالطیب نے انتہا پسندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر بعض الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نماز میں شیعوں کی اقتداء کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احمدالطیب نے شیعہ سنی اختلاف کو مسترد کرتے ہوئے کہ جس کے با‏عث بعض افراد شیعوں کو کافر کہتے ہیں کہا کہ شیعہ سنی اختلافات چندجزئی چيزوں تک محدود ہیں اور بعض افراد کا یہ دعوی کہ شیعوں کا قرآن اہل سنت کے قرآن سے مختلف ہے، یہ باتیں  بےبنیاد ہیں۔ روزنامہ المصریون کے مطابق شیخ الازہر شیعہ اور سنی نظریات کو ایک دوسرے سے نزدیک کرنے کے لئے کچھ اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان نے شیعہ مسلمانوں کے بارے ميں شیخ الازہر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں فرمایا: ایٹمی ہتھیار طاقت و قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں اور ایران کی عظيم قوم ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ طاقتوں کے اقتدارکو ختم کردےگي نیزتسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈہ کا مقصد ایران کی علمی پیشرفت کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی عظیم ترقیات اور کامیابیوں کے نتائج کوملک میں قومی عزت و وقار، دباؤ کے مقابلے میں ایک قوم کی طرف سے عالمی اورعلاقائی قوموں کے لئے بہترین نمونہ پیش کرنے اور سامراجی طاقتوں کے علمی انحصار کو توڑنے اور استقلال پیدا کرنے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں رہی اور نہ وہ ایٹمی ہتھیارحاصل کرنے کی کوشش کرےگی کیونکہ ایٹمی ہتھیار طاقتور بننے اور قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں بلکہ ایک قوم اپنے عظيم انسانی اور قدرتی وسائل، ظرفیتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لینے والی طاقتوں کے اقتدار کو ختم کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں تجربہ کار ، کارآمد، ذہین، خوش فکر اور ولولہ انگیز افرادی قوت کو اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر چہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی ترقیات کے مختلف پہلو ہیں لیکن اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے ایرانی قوم کے اندر قومی عزت و وقار کا احساس پیدا ہوگيا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے ملک میں عزت نفس کا جذبہ پیدا کرنے کو انقلاب اسلامی کا مرہون منت قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن نے اس بات کے بارے میں وسیع تبلیغات اورپروپیگنڈہ کیا کہ “ایرانی جوان اور ایرانی قوم کچھ نہیں کرسکتے”  ، لیکن ہر عظيم علمی پیشرفت اور علمی محصول اس بات کی بشارت دیتی ہے کہ ایرانی قوم پیشرفت اور ترقی کی عظيم منزلیں طے کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی اور سائنسی میدان میں ترقی کو مستقبل میں قومی اور ملکی مفادات سے متعلق قراردیتے ہوئے فرمایا: کچھ ممالک نے ناحق علمی انحصار کو اپنے اختیارمیں  رکھ کردنیا پر تسلط قائم کیا ہوا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالمی برادری سے تعبیر کرتے ہیں وہ دیگر اقوام کے ذریعہ اس علمی انحصار کے ختم ہو جانے سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ایرانی قوم کے خلاف ان کے بے بنیاد پروپیگنڈہ  اوروسیع تبلیغات کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سےمنہ زوری اور تسلط پسندی کے لئے علم سے استفادہ کو بشریت اور انسانیت کے خلاف سنگين جرم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر قومیں مستقل طور پر سائنس ، و ٹیکنالوجی، ایٹمی اور فضائي اور علمی و صنعتی شعبوں میں پیشرفت حاصل کرلیں تو پھر عالمی منہ زور طاقتوں کے تسلط کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کی طرف سے قائم علمی انحصار کو ایران کے توسط  سے توڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں کے پروپیگنڈے پر توجہ کئے بغیر علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں قدرت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈے کو ایرانی قوم کی علمی پیشرفت روکنے کے لئے قراردیتے ہوئے فرمایا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہمارے مخالف ممالک  میں ہمارے خلاف منصوبہ بنانے اورفیصلہ کرنے والے اداروں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران، فکری، نظری اور فقہی لحاظ سے ایٹمی ہتھیاروں کے رکھنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہےاور اس بات پر اعتقاد ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کی نگہداری بیہودہ، نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا رکھنا طاقتور ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ اقتدار کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے اور ایرانی قوم اس کام کو انجام دےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے  دباؤ، دھمکیوں،پابندیوں اور قتل جیسی کارروائیوں کو بے نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم علمی پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگی اور دباؤ ، دھمکیاں اور ایرانی دانشوروں کا قتل ایک لحاظ سے تسلط پسند طاقتوں اور ایرانی قوم کے دشمنوں کی کمزوری اور ناتوانی کا مظہر ہیں جبکہ ایرانی قوم کے استحکام اور طاقت و قدرت کا آئینہ دار ہیں کیونکہ ایرانی قوم دشمن کے غیظ و غضب سے متوجہ ہوجاتی ہے کہ اس نے صحیح راہ اور صحیح مقصد کا انتحاب کیا ہے اور اس پر وہ گامزن رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کو بھی دشمن کا ایک بہانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے ہی ایران کے خلاف پابندیاں جاری ہیں جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام حالیہ برسوں سے متعلق ہے لہذا ان کی اصل مشکل ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ وہ قوم ہے جس نے مستقل رہنے اور ظلم و ظالم کے سامنے تسلیم نہ ہونےکا فیصلہ کیا ہے اور اس نے یہ پیغام تمام اقوام کوبھی دیا ہے کہ اس نے یہ کام انجام دیا ہے اور اس کام کو مزید انجام دےگی۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جب کوئی قوم اللہ تعالی کی نصرت و مدد پر توکل اور اپنی اندرونی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی پیشرفت کو دنیا کی کوئي طاقت روک نہیں سکتی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے ایٹمی سائنسدانوں کو علمی ترقیات کے سلسلے میں اپنی ہمت اور اپناحوصلہ بلند رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاملہ ملک کے قومی اور مختلف شعبوں میں استفادہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حرکت جوانوں ، دانشوروں اور قوم کوپختہ عزم و ارادہ عطا کرتی ہےکیونکہ قوم میں استقامت و پائداری اور جذبہ و ولولہ کو قائم رکھنا بہت ہی اہم ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عباسی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے جدید تجربات اور اس علم و دانش کو مقامی سطح پرانجام دینے کی کوششوں  اور مختلف طبی، صنعتی اور زراعتی شعبوں میں اس سے استفادہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکہ کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور صہیونیوں نے مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرکے ایک ارب مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا ہے۔ حزب اللنے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کا مجرمانہ اقدام تمام اخلاقی، سیاسی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ امریکی فوجیوں نے کل افغانستان میں قرآن مجید کے کئی نسخوں کو آگ ل‍گا کر جلا دیا تھا جس کے بعد امریکہ کے خلاف افغانستان اور دیگر ممالک میں مظاہرے جاری ہیں ادھر امریکی فوج کے افغانستان میں سربراہ اور امریکی وزیر دفاع پنیٹا نےامریکی فوجیوں کےاس  وحشیانہ اقدام پر معافی مانگی ہے۔

کراچی: امریکانے پاکستان کو سمندری حدود کی فضائی نگرانی کرنے والے دوجدید”پی تھری سی “ اورین طیارے فراہم کردیئے ہیں اوران کو باقاعدہ طورپر بحریہ کے بیڑے میں شامل کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ایک تقریب منگل کو یہاں نیول ایوی ایشن بیس میں منعقد ہوئی،پاکستان نیوی کے مطابق ان ایئرکرافٹس کے ملنے سے سمندری حدودکی فضائی نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا،یہ ایئرکرافٹس جنہیں جدید ایویونکس(الیکٹرانک نظام) اور سینسرز سے لیس کیاگیاہے اس امریکی امداد کا حصہ ہے جو پاک بحریہ کو فارن ملٹری فنڈنگ (ایف ایم ایف) پروگرام کے تحت مہیا کی جا رہی ہے جس کے مطابق امریکہ پاکستان نیوی کو اس طرز کے کل چھ جہازفراہم کرے گا۔ اس سلسلے کا پہلابیچ 2010ء میں پاکستان نیوی کے حوالے کیا گیا تھا ، پاکستان نیوی کے مطابق ان ائیر کرافٹس کے ملنے سے شمالی بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کی اپنی سمندری حدود کی فضائی نگرانی اور مفادات کے تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ یہ علاقہ عالمی معیشت کے حوالے سے تجارت اور توانائی کا اہم راستہ تصور کیا جاتا ہے جو قانونی اور غیر قانونی بحری سرگرمیوں کا مرکز ہے اس لئے مسلسل نگرانی کا متقاضی ہے۔

امریکہ اور یورپ میں مختلف عمروں کے افراد اور نوجوانوں جو ایسی فلمیں بہت زیادہ دیکھتے ہیں جن میں بھرپور بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) اور شراب نوشی دکھائی جاتی ہے عام لوگوں سے دو گنا زیادہ سیکس اور شراب نوشی کرتے ہیں۔ ماہرین نے 6500 افراد اور نوجوانوں سے چار مرتبہ سے زیادہ سوال کیا کہ کیا انہوں نے 50 فلموں میں سے کوئی فالم دیکھی ۔ ان  افراد اور ٹین ایجرز سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا انہوں نے اپنے والدین سے چھپ کرسیکس فلمیں دیکھیں ہیں اور شراب نوشی کی نیز کب سے انہوں نے ایک ساتھ کم ازکم پانچ جام پینا شروع کئے۔اس کے بعد ان سے سیکس فلموں کا اور شراب نوشی کے استعمال کے نقطہ نظر سے تجزیہ کیا گیا۔ مطالعہ کے مطابق ان نوجوانوں نے ان فلموں میں راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) اور  شراب نوشی کے مناظر کم از کم ساڑھے چار گھنٹے دیکھے اور ان میں سے بعض نے آٹھ گھنٹے سے بھی زیادہ یہ مناظر دیکھے۔ اس مطالعہ میں اس کا جائزہ بھی لیا گیا کہ والدین کی جانب سے اہل خانہ کو راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) سے نہ روکنے اور شراب نوشی کا اولادوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔11 فیصد افراد اور نوجوانوں نے بتایا کہ سیکس کرنے کے لیے مختلف کمپنیز کے سیکسی گفٹس اور فری کنڈوم کے سیمپلز اور شراب کے ساتھ ملنے والے گفٹس مثلا بیئر کی بوتل والی شرٹس انکے پاس موجود ہیں۔ 23 فیصد کے مطابق ان کے والدین ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ گھر میں ان کے سامنے شراب پیتے ہیں۔دو سال کے عرصے پر محیط اس سروے میں دیکھا گیا کہ راہ روی، اخلاقی انحطاط (سیکس) اور شراب نوشی کرنے والے افراد اور نوجوانوں کا تناسب 11 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہوگیا۔جبکہ بنج ڈرنکنگ کرنے والے نوجوانوں کا تناسب تین گنا ہو گیا۔ راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) والی اور شراب نوشی دکھانے والی فلمیں دیکھنے والے 63 فیصد افراد اور نوجوان عام افراد سے زیادہ سیکس اور بنج ڈرنکنگ کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے کئی قسم کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں     

پیرس (رائٹرز) آئی ایم ایف کے سابق سربراہ اسٹراس کاہن کو فرانس کی پولیس نے گرفتار کر لیا، ان سے شمالی فرانس میں قحبہ خانے چلانے اور کمپنی فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق الزام کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے،اس الزام میں اسٹراس کو پولیس 48 گھنٹے اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس نے پاکستان کو مسلسل دوسرے سال صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملک قرار دیاہے،نیویارک میں قائم تنظیم کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 46صحافی ماریگئے جس میں سے پاکستان میں سات جبکہ عراق اورلیبیامیں پانچ ،پانچ صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے،مرنیوالوں میں 40فیصد فوٹوگرافرز اور کیمراآریٹرزتھے۔تنظیم کے مطابق 2010ء میں مرنیوالے صحافیوں کی تعداد44تھی۔

تہران : ایران میں الیکشن کیلئے اہل سمجھے جانے والے امیدواروں کی منظوری دینے والی گارڈین کونسل نے 5/ ہزار میں سے 3/ ہزار 444/ کو 2/ مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی ہے۔ جولائی 2009ء میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دوسری مرتبہ منتخب ہونے پر ہونے والے تنازع کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایرانی عوام 2/ مارچ کو ملک بھر میں اپنے منتخب نمائندوں کو ووٹ دیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حامی امیدوار انتخابات جیت جائیں گے۔

ماسکو (ایجنسیاں) روس نے شام میں جاری بحران کے تصفیے کیلئے منعقد ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ ذرائع ابلاغ نے روسی وزیر خا رجہ کے حوالہ سے بتایا کہ شامی حکومت کو رواں ہفتے منعقد ہونے والے اجلاس میں نمائندگی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف شامی اپوزیشن کو نمائندگی دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تجویز پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو شام میں جاری بحران کے حل کیلئے خصوصی طور پر اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنا چاہئے

لندن (رائٹرز) دنیا میں تیل کی تجارت میں مصروف سب سے بڑی کمپنی ویٹول کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں 120/ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں اور یورپی مالیاتی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اس سے ایران کا فائدہ ہو رہا ہے۔ ویٹول کے چیف ایگزیکٹو ایان ٹیلر کا کہنا ہے کہ ایرانی چاہتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں جتنی بڑھ سکتی ہیں اتنی بڑھ جائیں کیونکہ ان کا تیل کم ممالک خریدیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اعداد و شمار کے کھیل میں وہ جیت رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا اور یورپ نے ایران پر سخت ترین مالیاتی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کیونکہ وہ جوہری پروگرام پر ایران کو سزا دینا چاہتے ہیں۔ 

اقوامِ متحدہ کے جوہري توانائي کے عالمي ادارے(آئي اے اي اے) نے کہا ہے کہ ايراني حکام نے انسپکٹروں کي ايک ٹيم کو تہران کے قريب ايک اہم فوجي اڈے کا معائنہ کرنے سے روک ديا ہے.برطانوي خبر رساں ادارے کے مطابق جوہري توانائي کے ادارے آئي اے اي اے نے کہا کہ جنوبي تہران ميں واقع پارچن ميں تمام کوششوں کے باوجود اس اڈے کے معائنے پر کوئي سمجھوتہ نہيں ہوسکا ہے.جوہري توانائي کے ادارے کے انسپکٹرز ايران ميں موجود ہيں. انہوں نے کہا ہے کہ وہ تصديق کرنا چاہتے ہيں کہ آيا يہ فوجي اڈہ ايراني جوہري پروگرام کے تناظر ميں استعمال کيا جارہا ہے.ادارے کے ايک اہلکار نے کہا کہ ايراني حکام سے دو روز تک تہران سے تيس کلوميٹر دور پارچن کے فوجي اڈے تک رسائي کا مطالبہ کيا گيا ليکن ايراني حکام نے اس کي اجازت نہيں دي ہے جس کے بعد اب يہ ٹيم ايران سے واپس جارہي ہے.آئي اے اي کے ڈائريکٹر يوکيو امانو نے ايراني جوہري تنصيبات کے معائنے کي اجازت نہ ملنے پر مايوسي کا اظہار کياہے.ادھر ايراني وزارت خارجہ نے کہا کہ آئي اے اي اے کي ٹيم کے پاس معائنے کا مينڈيٹ نہيں ہے. اس سے پہلے ايراني وزارت خارجہ کي جانب سے جاري بيان ميں کہاگيا تھاکہ ايران کي موجودہ ٹيم کو معائنے کا مينڈيٹ حاصل نہيں، ٹيم ارکان سے صرف مذاکرات کئے جائيں گے. واضح رہے کہ ايران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہري پروگرام پرامن مقاصد کے ليے ہے، تاہم مغرب کو شبہ ہے کہ وہ اسے ہتھيار بنانے کے ليے استعمال کرنا چاہتا ہے.

گلگت بلتستان ميں 6روز سے جاري برف باري سے لوگ گھروں ميں محصور ہو کر رہ گئے ہيں . مالاکنڈڈويژن ميں بھي چند ايک مقامات پر ہلکي برف باري جاري ہے. استور ميں 6روز سے جاري برف باري سے لوگ گھروں ميں محصور ہو کر رہ گئے ہيں ،کئي علاقوں ميں بجلي کا نظام متاثر ہے.ديامر،غذر اور اسکردو کے پہاڑوں اور بالائي علاقوں ميں وقفے وقفے سے برف باري ہورہي ہے. مالاکنڈ ڈويژن ميں کالام ،مالم جبہ اور لواري ٹاپ ميں ہلکي برفباري جاري ہے. کالام روڈ ہر قسم کي آمد و رفت کے لئے کھول دياگيا ہے. شمالي بلوچستان ميں بارش اور ژالہ باري کا سلسلہ تھم جانے کے بعد شديد سردي ہے،،ہزارہ ڈويژن ميں موسم ابر آلود ہے.بٹگرام ميں بارش اور ژالہ باري سے کھڑي فصلوں کو شديد نقصان پہنچا ہے ،کوہستان ميں بارش اورلينڈ سلائيڈنگ سے قراقرم ہائي وے کيرو،جيجال اور کيہال کے مقامات پر بند ہے.

برطانوي اورامريکي دفاعي سازوسامان ميں نصب کمپيوٹر ٹيکنالوجي 40برس پراني ہے،برطانيہ کے جوہري پروگرام،امريکي بحريہ کے راڈار نظام اور فرانسيسي ہوائي جہازوں کي کمپيوٹر ٹيکنالوجي 1970کي ہے.ايف15اور ايف18لڑاکا طيارے،ہاک ميزائل، امريکي آبدوزيں،بحري بيڑے، بحريہ کا فائٹر سسٹم اور بين البراعظمي بيلسٹک ميزائلوں ميں 1980کے ويکس مني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں.برطانوي جوہري نظام ميں منسلک کمپيوٹر ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دورکي ہے جو فرانسيسي طيارہ ساز کمپني اپنے ہوائي جہازوں ميں استعمال کرتي ہے.ان کو جديد ٹيکنالوجي سے ليس کرنے ميں کروڑوں ڈالر لاگت اور قومي سيکورٹي ميں خلل کا خدشہ ہے .امريکي اخبار’وال اسٹريٹ جرنل‘ کے مطابق يہ انکشاف حال ہي ميں شائع مضمون ميں سامنے آيا کہ دفاعي ميدان ميں منسلک ٹيکنالوجي قديم ہے اورجديد تقاضوں کے مطابق نہيں ہے. عام طور پر يہ خيال کيا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ميں ريموٹ کنٹرول سے فوجي انٹيلي جنس اکھٹي کرنے اور دشمنوں کو ہدف بنانے کے لئے ڈرونز استعمال کيے جاتے ہيں ڈرونز کي طرح تمام فوجي سازوسامان بھي جديد ترين ٹيکنالوجي سے ليس ہوگا جب کہ ايسا حقيقت ميں نہيں ہے.تاہم کچھ دفاعي ضروريات جديد ٹيکنالوجي سے ليس ہيں جن پر فوج کا انحصار ہے. ليکن زيادہ ترفوجي سازو سامان ميں نصب ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دور کي ہے،يہي ٹيکنالوجي دنيا کا سب بڑا ہوائي جہاز A-380بنانے والے بھي اپني ائر بسوں ميں استعمال کرتے ہيں. اخبار لکھتا ہے کہ يہ صورت حال مشکل اورپريشان کن ہے.بحري جہازوں کا راڈار نظام اور برطانيہ کے جوہري ہتھياروں کي اسٹيبلشمنٹ بھي 1970کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کي طرف سے تيار کردہ پي ڈي پي مني کمپيوٹرز استعمال کرتے ہيں جب کہ فرانسيسي طيارہ ساز بھي اپني ايئر بس ميں اسي نظام کو استعمال کرتے ہيں.F-15اورF-18 لڑاکا طيارے، ہاک ميزائل نظام، امريکي بحريہ کي سب ميرينز اور امريکي بحري بيڑے کے مختلف حصوں، طيارہ بردار بحري جہاز اور بحريہ کا فائٹر سسٹم ان سب ميں 1980 کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کے VAXمني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں. اخبار کے مطابق حسا س اہميت کے پيش نظر ان نظاموں پر مستقبل ميں بھي انحصار کيا جائے گا شايد آئندہ وسط صدي تک يہ نظام اسي طرح کام کرتے رہيں گے.امريکي بين البراعظمي ميزائلوں کا انحصار DEC VAXنامي ٹيکنالوجي پر ہے اور حال ہي ميں اس کو اپ گريڈ کے ليے فنڈز مہيا کيے گئے اور يہ عمل2030تک مکمل ہوگا.رپورٹ کے مطابق دفاعي سازو سامان کي تمام ٹيکنالوجي کي تنصيب ميں کئي اربوں ڈالر کے اخراجات کيے گئے . اس کي تبديلي کے لئے کروڑوں ڈالر کي لاگت آئے گي اور اس عمل کے دوران قومي سلامتي ميں خلل پڑ سکتا ہے.

ميموگيٹ اسکينڈل کے تحقيقاتي کميشن کا اجلاس اسلام آباد ہائي کورٹ جسٹس فائز قاضي عيسي? کي زير صدارت جاري ہے جبکہ دوسري جانب لندن ميں پاکستاني ہائي کميشن ميں اسکينڈل کے مرکزي کردار منصور اعجاز وڈيو لنک کے ذريعے اپنا بيان ريکارڈ کرا رہے ہيں جس کے دوران انہوں نے پاکستاني کے سياسي اور عسکري رہنماو?ں سے تعلقات کا اعتراف کيا. اپنے بيان ميں منصور اعجاز نے کہا کہ تمام باتيں تحريري طور پر دے دي ہيں جو صحيح ہيں. انہوں نے کہا کہ 2003 ميں آئي ايس آئي کے سابق سربراہ جنرل احسان الحق سے برسلزميں ملاقات ہوئي جبکہ جنرل پرويزمشرف سے2005يا2006ميں لندن ميں ملاقات ہوئي تھي. انہوں نے مزيد کہا کہ پاکستاني حکام کي ساتھ ميرے تعلقات کم ہوگئے ہيں. انہوں نے کہا کہ ان کي صدر آصف زرداري سے آخري ملاقات2009ميں ہوئي تھي. اس سے قبل حسين حقاني کے وکيل زاہدبخاري کي جانب سے بارباراعتراض اٹھانے پرکميشن نے برہمي کا اظہار کيا. زاہد بخاري کاکہنا تھا کہ منصوراعجاز کے تحريري بيان کوزباني بھي ريکارڈ کياجائے. کميشن کے سربراہ جسٹس قاضي فائزعيسي? کا کہنا تھا کہ آپ بارباراعتراضات کرکے عدالت کي معاونت نہيں کررہے.

امير جماعت اسلامي سيد منور حسن نے کہاہے کہ پاکستان کو غير مستحکم کيا جارہا ہے، ملک ميں لاقانونيت، مہنگائي، بے روزگاري، لوڈشيڈنگ ميں اضافہ کيا جارہاہے تاکہ پاکستان کو ايک ناکام رياست اور ايٹمي اثاثوں کو غير محفوظ قرار دے کر ان پر قبضہ کر ليا جائے. وہ منصورہ ميں جماعت اسلامي حلقہ خواتين کي مرکزي شوري? کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے. سيد منورحسن نے کہا کہ امريکا ، بھارت اور اسرائيل کا ٹرائيکا باقاعدہ منصوبے کے تحت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے ايجنڈے پر کام کررہا ہے. انہوں نے کہا کہ برطانيہ سے ڈرون حملے رکوانے کي درخواست کرنے کے بجائے پارليمنٹ اور اے پي سي کي قرار دادوں پر عمل کيا جائے. سيد منورحسن کا کہنا تھا کہ بھارت کي افغانستان کے راستے بلوچستان ميں کھلم کھلا مداخلت کے ثبوت پاکستاني حکام کے پاس موجود ہيں، اس کے باوجود بھارت کو موسٹ فيورٹ نيشن کا درجہ دينے کيلئے بے تابي ہے. ان کا کہنا تھا کہ پاکستاني حکمران بلوچستان کے عوام کو اعتماد ميں ليں وہاں آپريشن بند کر کے مذاکرات کي راہ اختيار کي جائے اور لاپتا افراد کو بازياب کيا جائے .

برطانیہ اور بیرون ملک مقیم پاکستانی جو امریکہ کیلئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے تھے، اس امریکی کانگریس میں کیلی فورنیا کے ڈینا روہراباکو کی طرف سے پہلے تو ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے تحت بلوچستان پر عوامی سماعت کرانے اور بعدازاں قرارداد پیش کرنے پر سخت صدمہ پہنچا ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ جو ایک قوم ہیں، پاکستان افغانستان اور ایران میں منقسم ہیں ان کو اپنا حق خودارادیت اور علیحدہ ملک بنانے کا اختیار ملنا چاہئے، اگرچہ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد حکومت کی پالیسی نہیں اور وہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، لیکن اہل نظر بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ہورہاہے، جو بیک وقت اس مسئلے کے ذریعے پاکستان، ایران اور افغانستان کو اپنا نشانہ بنارہی ہے، بلوچستان اور خصوصاً گوادر کی بندرگاہ جو اس وقت بین الاقوامی طور پر اہم مقام کی حامل ہے، میاں امریکہ نے اپنے مستقبل کے حریف چین کے اثر و نفوذ سے بھی نہایت خوفزدہ ہے اب وہ بلوچستان کو ایک آزاد ملک بنواکر یہاں اپنا اڈہ بنانے کا خواہاں ہے، چین کی پیش قدمی کو روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ چین کے دوستوں کو کمزور کیاجائے اور اس کے دشمنوں کو مضبوط بنایاجائے، اس پالیسی کے تحت پاکستان کو توڑنے اور بھارت کو ہر قسم کی سہولیات مثلاً انرجی اور ہائی ٹیکنالوجی دے کر طاقتور بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں، اسی پالیسی کے تحت امریکی دانشور پاکستان کے ٹوٹنے کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں، ان پیش گوئیوں کا مطلب یہ ہوتاہے کہ اب یہ لوگ کسی ملک کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں اور وارننگ دی جارہی ہے کہ ہماری باتوں کو بلا چوں چراں تسلیم کرلیاجائے، بصورت دیگر ہم تمہارا یہ حشر بھی کرسکتے ہیں، اس سازش میں بھارت اور اسرائیل پوری طرح امریکہ کے ساتھ ہیں، بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے یقیناً اس میں ہماری اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں بھی شامل ہیں، 58, 73, ء کی بغاوتوں کے اسباب کا سدباب نہ کیاگیا اور اب حال ہی میں سابق صدر مشرف نے قبر میں ٹانگیں لٹکائے اکبر بگٹی کو جس طرح ہلاک کیا، اس سے پاکستان دشمن قوتوں کو جلتی پر تیل ڈالنے کا موقع ملا ہے، پاکستانسیٹو اورسینٹو میں صرف بھارت کے خوف اور جارحانہ ارادوں کے باعث شامل ہوا تھا، لیکن 65ء اور71ء کی جنگوں میں امریکہ کا جو کردار رہا، اس سے دوستی کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی، 9/11 کے بعد کی جنگ جو بیشتر حلقوں کے نزدیک پاکستان کے مفادات کے خلاف تھی، اس میں ہمیں پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر زبردستی شامل ہونے پر مجبور کیاگیا، اس بارے میں دونوں ممالک کے مفادات مختلف تھے، جس پر دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ ناگزیر تھا، اب جب کہ امریکہ ایک طرح سے ناکام ہوکر اس علاقے سے واپسی تیاریوں میں مصروف ہیں، اپنا تمام ترغصہ پاکستان پر نکال رہاہے، مختلف طریقوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور وسیع تر آزاد بلوچستان کی آڑ میں ایران کو بھی نقصان پہنچانا چاہتاہے، ایرانی قوم کو امریکی چالوں کو عرصے دراز جانتی ہے اور امریکہ کو شیطان بزرگ کے نام سے پکارتی ہے وہ اسے دنیا کا پولیس مین نہیں بلکہ بدمعاش کہتے ہیں، امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ایٹم بم چلاکر بے تحاشا تباہی پھیلائی، بعد میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان اور دنیا کے دیگر کوئی ممالک میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اپنے حامی ڈکٹیٹروں کو تحفظ دیتا رہا اور مخالفین کی حکومتوں کو سی آئی اے کے ذریعے گرایا، اس کو بلوچستان کے عوام کا حق خودارادیت تو واضح طرز پر نظر آگیا ہے،مطالبہ اگرچہ بلوچستان کی جمہوری طور پر منتخب اسمبلی نے بھی نہیں کیا، امریکہ کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر راتو کو نیند نہیں آرہی، لیکن اس کو نہ تو ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی قربانیاں دینے والے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ نظرآیا اور نہ ہی اسے فلسطین میں انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی کا علم ہے اور انسانی حقوق کی بات وہ ملک کررہاہے، جسکے فوجیوں نے حال ہی میں افغانستان میں مردہ افغانیوں کی لاشوں پر پیشاب کیا، عراق کی ابو غریب جیل میں عراقیوں پر کتے چھوڑے اور لاشوں کی بے حرمتی کی اور گوانتاناموبے میں جو کچھ کیا اس پر خود امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ماتم کررہی ہیں۔

افغان جنگ ميں عبد الحکيم کو طالبان کمانڈروں ،افغان حکومت اور اتحادي افواج ميں يکساں قابل احترام شخصيت کے طور پر جانا جاتا ہے.وہ کسي بھي سانحے،دھماکے ،يا جنگي جھڑپ کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کرعسکريت پسندوں کي لاشيں اٹھاتاہے ،مناسب ضابطے کي کارروائي کے بعد لاشوں کولواحقين تک پہنچاتا ہے، لاوارث لاشوں کو اسلامي طريقے سے دفن کرديتا ہے ،قندھار ميں اس نے عسکريت پسندوں کے لئے قبرستان بنايا ،گزشتہ چھ برس ميں وہ127لاشوں کو ان کے خاندانوں يا ساتھيوں کے حوالے کرچکاہے.طالبان کمانڈر کسي بھي دھماکے فوراًبعد اسي سے رابطہ کرتے ہيں. قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں ہر لاش کے کوائف ميں’طالب‘ لکھا جاتا ہے،گزشتہ برس ہر ماہ وہاں150لاشيں لائي جاتي تھي.امريکي اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ہزاروں افرادافغان جنگ کا نشانہ بن چکے ،ان ميں کئي افراد حملوں اور دھماکوں کا شکار ہوئے، عبد الحکيم عسکريت پسندوں ،جنگ جوو?ں کي لاشوں،دھماکے کے بعد بکھري باقيات کو لواحقين تک پہچانے کے کام سے پہچانا جاتا ہے . ايسا کوئي واقعہ پيش آئے تو طالبان کمانڈ ان سے رابطہ کرتے ہيں تو حکيم کي طرف سے ايک ہي جواب ہوتا ہے کہ ہم لاشيں تلاش کر رہے ہيں. جنوبي افغانستان ميں جنگ کے دوران سب سے زيادہ ہلاکتيں ہوئيں . وہ امريکي حکام،افغان حکومت اور طالبان سے اجازت نامے کے بعد وہ ٹرنکوں،لکڑي کے بکسوں والے تھيلوں ميں ڈال کر اپني پيلي ٹيکسي ميں رکھ کر پہنچاتا ہے .خودکش بمبار کي باقيات کے لئے وہ چھوٹے ڈبوں کو استعمال کرتا ہے.حکيم کے مطابق اسے اس سے کوئي غرض نہيں کہ وہ کون ہے ليکن وہ ہر لاش کو اسلامي طريقے سے دفن کرتے ہيں .قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں نيٹو کے فوجيوں کي لاشوں کوا مريکي جھنڈے جب کہ عسکريت پسندوں کي لاشوں کو لکڑي کے تابوت ميں ساتھ ساتھ رکھا جاتا ہے. ريڈ کراس نے اس مردہ خانے ميں ان لاشوں کي باقيات کے تمام کوائف رکھنے کيلئے ايک رجسٹر رکھا ہوا ہيجس ميں ہر عسکريت پسند کے لئے صرف ’طالب‘ استعمال کيا جاتا ہے، حکومت اور عسکريت پسندوں دونوں ميں حکيم عزت کي نگاہ سے ديکھے جاتے ہيں.

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کامرکز بنانے پر قادر ہیں جن میں ایران بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے مغربی ممالک حیرت زدہ ہوگئے ہیں۔ رپورٹ یے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے عمان کے وزير خارجہ یوسف بن علوی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کے دوران ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  دنیا میں اس وقت صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کا مرکز بنانے پر قادر ہیں  جن میں ایران بھی شامل ہے اور ایران کی اس پیشرفت کی وجہ سے مغربی ممالک حیرت ذدہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے دو سال پہلے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو 20 فیصد ایندھن فراہم کرنے کا تقاضا پیش کیا تھا اور انھوں نے اس کے بارے میں سخت شرائط عائد کرنا شروع کردیئے جس کے بعد ہم خود 20 فیصد ایندھن کی پیدوار کے لئے مجبور ہوگئے اور ہم نے 20 فیصد ایندھن تیار کرنے کا اقدام کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے غیور جوانوں نے ہمت و شجاعت سے کام لیا اور ملک اندرونی ضروریات کو پورا کرنےکے لئے 20 فیصد ایندھن تیار کرلیا انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے ایران کے خلاف بہت پروپیگنڈہ کیا کہ ایران ایٹمی ایندھن کا مرکز تعمیر کرنے پر قادر نہیں ہے لیکن ہم نے ایسا کرکے دکھا دیا اور اس پر مغربی ممالک چراغ پا ہوگئے ہیں انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک ایران کی علمی پیشرفت کو روکنے کی جستجو میں ہیں لیکن ایران انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دےگا کیونکہ علمی پیشرفت ایرانی عوام اور ایرانی جوانوں کا مسلّم حق ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بن علوی نے علاقائی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کے عوام کی طرح بحرینی عوام کے مطالبات بھی جائز، قانونی اور محترم ہیں۔ رپورٹ کےمطابق عمان کے وزیرخارجہ یوسف بن علوی،  ایرانی وزير خارجہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تہران پہنچ گئے ہیں جہاں اس نے ایرانی وزیر خآرجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس  میں علاقائي حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے عرب ممالک کے عوام کی طرح بحرینی عوام کے مطالبات بھی جائز، قانونی اور محترم ہیں۔ بن علوی نے کہا کہ علاقائي عوام  تبدیلی اور تحولات کے خواہاں ہیں اور علاقہ میں یہ صورت حال جاری ہے اورتعمیری مذآکرات کے ذریعہ عوامی مطالبات کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس نے کہا کہ شہریوں کے مطالبات ہیں اور حکومتوں کو ان کے مطالبات پر سچائی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔ بن علوی نے کہا کہ بحرینی عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں اور یہ ان کا حق ہے جیسا کہ دیگر ممالک میں عوام تبدیلی لائے ہیں یا تبدیلی کے خواہاں ہیں اس نے کہا کہ عمان بحرینی عوام کے مطالبات کا احترام کرتا ہے

لبنان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان نے تیونس میں ہونے والے شام مخالف اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس اجلاس کے پیچھے شام کے خلاف امریکہ کی سرپرستی میں عربی اورمغربی سازش کارفرما ہے۔اخبار القدس العربی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کے وزیر خارجہ عدنان منصور نے کہا ہے کہ لبنان نے تیونس میں ہونے والے شام مخالف اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس اجلاس کے پیچھے شام کے خلاف امریکہ کی سرپرستی میں عربی اورمغربی ممالک کی گہری سازش کارفرما ہے۔ انھوں نے کہا کہ تیونس کے وزیر خارجہ رفیق عبد السلام اس اجلاس میں شرکت کے لئے لبنان کو دعوتنامہ ارسال کیا ہے تاہم لبنان نے اس معمالے میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور لبنان اسی پالیسی کے تحت عرب ممالک کی جانب سے شام کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں بھی شریک نہیں ہے