گزشتہ ایک دہائی کا شدید ترین شمسی طوفان، زمین سے ٹکرا گیا

Posted: 28/01/2012 in All News, Breaking News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

گزشتہ قریب ایک دہائی کے دوران کے شدید ترین شمسی طوفان کے باعث پیدا ہونے والی شعائیں منگل کے روز کرہ ارض سے ٹکرا گئیں۔ ان شمسی شعاؤں کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے امریکہ کی ایک ایئرلائن نے اپنی فلائٹس کا روٹ تبدیل کر دیا۔  دوسری جانب آسمان کا مشاہدہ کرنے والے شوقین حضرات کو ان شعاؤں کے زمینی کُرے سے ٹکرانے کے باعث پیدا ہونے والے رنگوں کا نظارہ کرنے کا موقع ملا۔  امریکی ڈیلٹا ایئرلائن کے مطابق شمسی شعاؤں کے طوفان کے خطرات اور اس سبب کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے اس نے امریکہ اور ایشیا کے درمیان چلنے والی اپنی پروازوں کا راستہ تبدیل کر دیا تھا۔  امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مطابق حالیہ طوفان اکتوبر 2003ء کے بعد کا شدید ترین شمسی طوفان تھا۔ مزید یہ کہ اس شمسی طوفان کے زمینی مقناطیسی میدان سے ٹکرانے کے سبب کورونل ماس ایجکشن ‘Coronal mass ejection’  عمل ہوا ہے، یعنی اس سبب شمسی ہوائیں چلنے کے علاوہ بہت ہی باریک ذرات پر مشتمل شعاعیں خلا میں بکھری ہیںامریکی خلائی ایجنسی کے مطابق یہ شمسی شعاعیں زمین پر موجود انسانوں کے لیے تو کم از کم کسی طور پر خطرناک نہیں ہیں، مگر یہ خلائی سیاروں اور شارٹ ویو ریڈیو لہروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔  ماہرین کے مطابق شمسی شعاؤں کے زمین سے ٹکرانے کا یہ سلسلہ بدھ 25 جنوری تک جاری رہا۔ اس طوفان کی بدولت قطبین کے قریب موجود مصنوعی سیاروں کے آپریشن میں ممکنہ مسئلے کے باعث ڈیلٹا ایئرلائن کی پروازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا۔ اٹلانٹا میں قائم دنیا کی اس دوسری سب سے بڑی ایئر لائن کے ترجمان انتھونی بلیک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کسی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے اس ایئر لائن کی بعض پروازوں کا روٹ تبدیل کر دیا گیا تھاشمسی طوفان کے باعث زمین سے ٹکرانے والے فوٹانز کی بدولت شمالی قطب کے قریب مختلف رنگوں کی روشنی کا مشاہدہ بھی  کیا گیا۔ ناردرن لائٹس کے نام سے جانے والی یہ رنگا رنگ روشنی سال کے اسی عرصے میں عام طور پر تو قطب شمالی کے قریبی علاقوں میں نظر آتی ہی ہے مگر شمسی طوفان کے باعث ان روشنیوں کا نظارہ اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ کے علاوہ امریکہ کے بعض علاقوں میں بھی کیا گیا۔  ’نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیر ایڈمنسٹریشن اسپیس ویدر پریڈکشن سنٹر‘ سے تعلق رکھنے والے ماہر طبیعات ڈؤگ بیسکر Doug Biesecker کے بقول حالیہ طوفان کا آغاز اتوار کے روز سورج کے وسطی سطح پر اٹھنے والے ایک درمیانے سائز کا شعلہ اٹھنے سے ہوا۔ بیسکر کے بقول یہ طوفان تو بہت غیر معمولی نہیں تھا مگر اس کے سبب بہت تیز رفتار کورونل ماس ایجکش سورج کی سطح سے ہوئی۔ اس کی رفتار 6.4 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

Comments are closed.