وکلاء کی شہادت کالعدم جماعتوں کی حکومتی سرپرستی کا شاخسانہ ہے، شیعہ علمائے کرام

Posted: 28/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

کراچی میں تین وکلاء کے جنازوں کے موقع پر شیعہ علمائے کرام نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار نہیں کیا گیا تو ملت جعفریہ ہر قسم کا حکومتی رابطہ منقطع کر دے گی۔ملت جعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی کے وکلاء کی شہادت حکومتی نااہلی اور کالعدم جماعتوں کی حکومتی سرپرستی کا شاخسانہ ہے، ان خیالات کا اظہار کراچی میں تین وکلاء کی نماز جنازہ سے قبل جامعہ مسجد و امام بارگاہ دربار حسینی ملیر کالا بورڈ کے باہر شیعہ علمائے کرام نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پریس کانفرنس میں موجود شیعہ علمائے کرام مولانا باقر زیدی، مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا ذوالفقار جعفری، مولانا شیخ حسن صلاح الدین، مولانا جعفر سبحانی، مولانا علی انور جعفری، مولانا حیدر عباس عابدی، مولانا شبیر حسن میثمی، مولانا عقیل موسٰی، محمد مہدی، چچا وحید الحسن و دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکم محرم سے ملت جعفریہ کے عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، وزیر داخلہ اور گورنر سندھ سوائے جھوٹے دعوؤں کے سوا کوئی عملی اقدام نہیں کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی گورنر سندھ نے ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم جماعت کے رہنماء اور سی آئی ڈی کے ایس ایس پی چوہدری اسلم کو گرفتار کرنے کے جھوٹے دعوے کیے جو کہ تاحال پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے 18 فروری تک یکم محرم سے لیکر اب تک شہید ہونے والے شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار نہیں کیا تو ملت جعفریہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے اور ملت جعفریہ ہر قسم کا حکومتی رابطہ منقطع کر دے گی، جس کے بعد پیش آنے والے تمام تر حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔  رہنماؤں نے شہید ہونے والے وکلاء کے خانوادوں کے جسد خاکی کو جلدی دفنانے اور جلوس جنازہ کے راستہ کو تبدیل کرنے کے ساتھ پرامن سوگ و ہڑتال میں دکانوں کو جلدی کھولنے کیلئے دی جانے والی دھمکیوں پر ایک سیاسی جماعت کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ کا کوئی شخص لاوارث نہیں، ملت جعفریہ کبھی بھی، کسی کی بھی ڈکٹیشن پر نہیں چلی ہے، اگر آج کے بعد کوئی اس قسم کی حرکت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

Comments are closed.