سلمان رشدی کی جے پور میں غیر حاضری، سياست يا محض بزدلی

Posted: 28/01/2012 in Afghanistan & India, All News, Important News, Religious / Celebrating News, Survey / Research / Science News

متنازعہ بھارتی مصنف سلمان رشدی کو گزشتہ ہفتے جےپور ميں منعقدہ ادبی ميلے ميں حصہ لينے سے روک ديا گيا تھا۔ تاہم اب اس واقعہ کو بھارت ميں سياسی پہلو سے ديکھا جا رہا ہے۔بھارت ميں جاری تنازع اس وقت شروع ہوا جب جے پور ميں منعقدہ ساتويں ادبی ميلے ميں متنازعہ مصنف سلمان رشدی کی شرکت کی خبريں سامنے آئيں۔ وہاں مقيم مسلمانوں نے اس پر احتجاج کيا۔ اس حوالے سے رشدی نے اپنی جان کو لاحق خطرے کے باعث ادبی ميلے ميں شرکت سے انکار کرديا۔ ليکن بعد ميں انہوں نے خطرے کو علاقائی پوليس کی جانب سے من گھڑت کہانی ٹھہراتے ہوئے اپنے خلاف سازش قرار ديا۔ اطلاعات کے مطابق، رشدی اس ميلے ميں ويڈيو کے ذريعے ايک خطاب بھی کرنے والے تھے جسے بعد ميں سيکورٹی خدشات کے باعث ميلے کی انتظاميہ نے پروگرام سے خارج کر ديا تھا۔ بھارت ميں موجود تجزیہ کار اس پورے معاملے کو سياسی نقطہ نظر سے ديکھ رہے ہيں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ رشدی کو جان بوجھ کر ادبی ميلے سے دور رکھنا، آزادی رائے اور آزادی خيال کے خلاف ہے تو کچھ لوگ اس اقدام کو محض ايک سياسی چال بتا رہے ہيںٹائمز آف انڈيا کے ايک بلاگ ميں مصنف پرشنت پانڈے نے سلمان رشدی کے معاملے کو کانگريس کی بزدلی قرار ديتے ہوئے اسے بھارت کے ليے دنيا بھر ميں شرمناک بھی کہا۔ ان کا خیال ہے کہ چند قدامت پسند مسلمان گروہوں کی دھمکيوں کے پيش نظر، کانگريس حکومت کا يہ اقدام يوپی ميں ہونے والے انتخابات ميں مسلمان طبقوں کے ووٹ حاصل کرنے کے ليے تھا۔ اپنے بلاگ ميں پرشنت پانڈے نے بھارتی عوام کو مجموعی طور پر قدامت پسند قرار ديا۔ ان کا يہ بھی خیال ہے کہ رشدی کا معاملہ اپنی نوعيت کا آخری معاملہ نہيں، مستقبل ميں بھی جب کبھی مذہب سے جڑا مسئلہ سامنے آئے گا، بھارتی حکومتيں اسی قسم کے فيصلے کريں گی۔ ٹائمز آف انڈيا کے ايسوسی ايٹ ايڈيٹر جَگ سوريا نے لکھا ہے کہ يہ معاملہ سلمان رشدی کے ليے تو ايک معمولی رکاوٹ کی مانند ہے، ليکن يہ ان تمام لوگوں کے ليے بہت بڑی جيت ہے جو اس قسم کے معمولی جرائم ميں ملوث ہيں۔ ان کے بلاگ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے يہ سوال اٹھايا کہ اگر سلمان رشدی کی کتاب متنازعہ ہے اور اس سے کسی کی مذہبی دل آزاری ہوتی ہے تو کتاب يا شخصيت کو پزيرائی دينا کيوں ضروری ہے۔ ايک اور بلاگر منہاز مرچنٹ نے بھی کانگريس حکومت کو قصور وار ٹھہرايا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ حاصل کرنے کے ليے حکومت نے سيکولرازم پر سمجھوتہ کيا۔ ان کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کے چند نمائندگان اور حکومتی اہلکاروں کے اس باہمی تعاون والے سمجھوتے کے نتيجے ميں اسلام کا نام خراب ہوتا ہے جبکہ دراصل اسلام ايک آزاد خيال مذہب ہے۔دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کی ويب سائٹ پر شائع ہونے والے ايک بلاگ ميں لکھا گیا ہے کہ رشدی کے حوالے سے پيدا ہونے والی صورتحال سے عالمی طور پر، ايک ابھرتی ہوئی جمہوری طاقت کی بھارتی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ بلاگر کا ماننا ہے کہ اس طرح جعلی انٹيلیجنس رپورٹوں کی من گھڑت کہانی بنانے سے علاقائی اور ملکی حکومت کی بدنامی ہوئی ہے۔ برطانيہ ميں مقيم بھارتی مصنف سلمان رشدی اپنی 1988ء ميں شائع ہونے والی کتاب The Satanic Verses کے بعد دنيا بھر کے مسلمانوں کے غصے اور تنقيد کا شکار بنے۔ مسلمانوں کے مختلف دھڑوں کے مطابق، اس کتاب ميں لکھی باتيں اسلام اور نبی کے ليے توہين آميز ہيں۔ اس حوالے سے ايران کے آیت اللہ خمینی نے 1989ء ميں سلمان رشدی کے قتل کا ايک فتوی بھی جاری کيا۔ 1991ء ميں اس کتاب کا جاپانی زبان ميں ترجمہ کرنے والے ہٹوشی اگراشی اور اطالوی ترجمہ کرنے والے ايٹورے کيپريولے، دونوں افراد تشدد کا شکار بنے اور ان پر حملے ہوئے۔ سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ انہيں آج تک دھمکيوں کا سلسلہ جاری ہے۔

Comments are closed.