کچھ قوتیں خوف میں زندہ رکھنا چاہتی ہیں: حسین حقانی

Posted: 23/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

کراچی: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل ‘ میں شائع حسین حقانی کے انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ کچھ قوتیں ہمیں خوف میں زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ کوششیں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہ سکتی’ میرے استعفیٰ دینے کے لئے فوری بعد صدر آصف علی زرداری بیمار پڑ گئے ۔ حسین حقانی پاکستان جرنیلوں کے ڈی فیکٹو قیدی ہیں۔ زرداری اور گیلانی  حقانی کے اہم محافظین ہیں’ گیلانی پر توہین عدالت کے الزامات ان کی وزارت اعلیٰ کو ختم کر سکتے ہیں ‘ فوج حکومت کے خاتمے پر تیار نہیں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حقانی کے انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ نومبر تک واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اب پاکستانی جرنیلوں کے ڈی فیکٹو قیدی ہیں امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اس وقت نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی نظر بندی کی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے فوج کو ناراض کیا ہے۔ حسین حقانی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فورسز ہمیں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خوف میں زندہ رکھنا چاہتی ہیں لیکن بالکل اسی طرح جیسے سوویت یونین کی جی بی اور مشرقی جرمنی کی اسٹاسی Stasi اپنے لوگوں کودبانے میں کامیاب نہیں ہوئی اسی طرح پاکستان میں بھی یہ فورسز طویل عرصے تک کامیاب نہیں ہوں گی۔ انٹرویو میں حقانی نے میمو گیٹ اسکینڈل کے تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اس نے میمو کو نہ تو گھڑا اور نہ اسے تحریر کیا۔ صدر آصف علی زرداری کی غیر مقبول حکومت پر نظر نہ آنے والے دبائو پر حقانی نے کہا کہ میرے استعفیٰ دینے کے فوری بعد صدر آصف علی زرداری بیمار پڑ گئے جس پر ایک نفسیاتی جنگ شروع کر دی گئی اور ان کے ملک سے فرار کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ حقانی کہتے ہیں کہ اگر اس طرح کی تمام نفسیاتی جنگوں میں اعصاب پر قابو رکھا جائے تو کچھ نہیں ہوتا۔ اخبار کے مطابق آصف علی زرداری اور وزیر اعظم گیلانی حقانی کے اہم محافظین ہیں اور دونوں اپنی سیاسی بقا ء کی مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں۔ گیلانی پر توہین عدالت کے الزامات ان کی وزارت عظمی کو ختم کر سکتے ہیں’ زرداری پر دیرینہ کرپشن کے الزامات بھی تعاقب میں ہیں اور ان کے حریف سپریم کورٹ میں ان کے صدارتی استثنیٰ کو ختم کراسکتے ہیں۔ اگر صدر کو ملزم ٹھہرا دیا گیا تو حکومت گر جائے گی اور اس کے ساتھ ہی حقانی ا ور ا س کے مقاصد بھی ڈوب جائیں گے۔ اخبار کے مطابق چیزیں حقانی کے حق میں ابھی بھی جا سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ فوج اور اس کے حلیف حقانی سے نفرت کرتے ہوں اور حکومت میں ان کے دوستوں کو زخم دینا چاہتے ہوں لیکن وہ حکومت کے خاتمے پر تیار نہیں ‘ رسمی طور پر کچھ حد تک وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں

Comments are closed.