نائجیریا: سلسلے وار12 بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک پچاس سے تجاوز

Posted: 23/01/2012 in African Region, All News, Breaking News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

نائجیریا کے مسلم اکثریتی آبادی والے شمالی حصے میں جمعے کی شام ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک پچاس سے تجاوز کرگئی۔خبر ایجنسی اے پی کے مطابق مختلف مقامات پر متعدد بموں اور خود کار ہتھیاروں سے کیے گئے یہ سلسلہ وار حملے ملک کے شمالی حصے کے سب سے بڑے اور مجموعی طور پر دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کانو میں کیے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ان حملوں کے دوران کانو کے شہر میں بار بار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے متعدد حصے فائرنگ کی آوازوں سے گونجتے رہے۔ بین الاقوامی رضا کار ادارے ریڈ کراس کے مطابق بد امنی کے سبب ایک سو پچاس سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ ان حملوں کے فوری بعد حکام نے کانو میں حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے کرفیو لگا دیا ہے۔ کانو کی آبادی نو ملین کے قریب ہے اور اس شہر کو خاص طور پر انتہا پسند مسلمانوں کے بوکو حرام نامی گروپ کی پر تشدد کارروائیوں کا سامنا ہے۔ نائجیریا کے اکثر نامور مسلمان مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔کانو سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے شروع ہوئے اور شہر میں فائرنگ کی آوازیں مسلسل سنائی دیتی رہیں۔ مختلف خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ حملے کانو میں بوکو حرام کی پہلی بڑی اور مربوط لیکن کئی مقامات پر کی جانے والی کارروائی ہیں۔ان حملوں کے دوران ایک بڑا بم دھماکہ شہر میں پولیس کے علاقائی ہیڈ کوارٹرز پر بھی کیا گیا، جو اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں دور دور تک کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ امریکی خبر ایجنسی اے پی کے نمائندے کے مطابق یہ حملہ ایک خود کش کار بم حملہ تھا جس میں ایک انتہا پسند اپنی گاڑی کے ساتھ پولیس ہیڈ کوارٹرز کے کمپاؤنڈ میں گھس گیا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ امینو رِنگیم کے بقول اس دھماکے سے پولیس ہیڈ کوارٹرز کی چھت اڑ گئی اور عمارت کے دیگر حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ نائجیریا میں نیشنل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کے اہلکار ابوبکر جبریل نے بتایا کہ ان حملوں کے دوران شہر میں تین پولیس اسٹیشنوں کو بھی بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک بم حملہ ریاستی سکیورٹی سروس کے علاقائی صدر دفاتر پر بھی کیا گیا۔کانو سے موصولہ دیگر رپورٹوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک صحافی کے علاوہ کم از کم تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے دوران ایک پاپسورٹ آفس پر کیے گئے بم حملے میں کم ازکم تین امیگریشن اہلکاروں اور متعدد شہریوں کی ہلاکت کی رپورٹیں بھی ملی ہیں۔ شہر میں اس وقت 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ ہے اور عام شہری اپنے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی حتمی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے، جس کا اصل اندازہ کرفیو اٹھائے جانے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ ان حملوں کے بعد بوکو حرام کے ایک ترجمان نے صحافیوں کے نام ایک پیغام میں کہا کہ یہ منظم حملے بوکو حرام کی کارروائی ہیں، جو اس لیے کی گئی کہ ریاستی حکومت نے اس گروپ کے پولیس کی زیر حراست ارکان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

Comments are closed.