رشدی کا موت کے خوف سے جے پور ادبی میلے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

Posted: 23/01/2012 in All News, Breaking News, Important News, Religious / Celebrating News, USA & Europe

متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی نے بھارت کے مؤقر ادبی میلے ’جے پور لٹریری فیسٹیول‘ میں موت کے خوف سے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میلے میں شرکت کے حوالے سے رشدی کو اپنے قتل کیے جانے کا خوف ہے۔اپنے ایک بیان میں سلمان رشدی نے کہا کہ انہیں بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے ایسی اطلاعات ملیں کہ ان کو قتل کرنے کے لیے پیشہ ور قاتلوں کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’مہاراشٹر اور راجھستان کے انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق مجھے مارنے کے لیے قاتلوں کو رقم دی گئی ۔ گو کہ ان کے درست ہونے پر یقین نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی صورت حال میں بھارت جانا نہ صرف میرے اہل خانہ کے ساتھ  شاید زیادتی ہے بلکہ میلے میں شرکت کرنے والوں اور وہاں آنے والے ادیبوں کے ساتھ بھی زیادتی ہو۔‘ رشدی کے مطابق انہیں بھارت نہ جا پانے پر بہت دکھ ہے۔ خیال رہے کہ 1989 میں ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کو متنازعہ کتاب ’سیٹینک ورسز‘ تحریر کرنے پر واجب القتل ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ بھارتی نژاد رشدی برطانیہ میں بھی سکیورٹی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ رشدی کو ان کی ایک اور کتاب ’مڈ نائٹ چلڈرن‘ پر بکرز پرائز بھی دیا جا چکا ہے۔ رشدی کے مطابق وہ میلے میں ویڈیو لِنک کے ذریعے  شاید خطاب کر سکیں گے۔اس میلے میں شرکت کے حوالے سے سلمان رشدی کو بھارت کے شدت پسند مسلمان حلقوں اور تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔ بھارتی حکومت نے رشدی کی آمد کے پیش نظر میلے میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ برطانوی مصنف اور میلے کے منتظمین میں سے ایک، ولیم ڈیلرمپل نے میلے میں رشدی کی عدم شرکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ رشدی آئندہ برس اس میلے میں آ سکے گا۔ جے پور کا ادبی میلہ جنوبی ایشیا کا اہم ترین ادبی میلہ مانا جانے لگا ہے۔ اس برس اس میلے میں دو سو ساٹھ سے زائد ادیب شرکت کر رہے ہیں۔

Comments are closed.