Archive for 23/01/2012

حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بعد عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔ تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے فرزند ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے ہیں،15 رمضان المبارک سن تین ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے وہ حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ کے پہلے فرزند ہیں پیغمبر اسلام نے ان کا نام حسن رکھا اور یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بدع عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ  یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے  زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔

امام حسن علیہ اسلام ۔۔۔ ولادت تا شہادت
امام حسن (ع)کی کنیت ؛ ابو محمد، اور سبط اکبر، زکی، مجبتی آپ کے مشہور القاب تھے، پیغمبر اسلام کو حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے ساتھ خاص محبت اور الفت تھی۔ جب تک پیغمبر اسلام زندہ تھے امام حس ن وامام حسین علیہمالسلام  ان کے ہمراہ تھے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن (ع) پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول کادرجہ دیا ہے اوراپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے خود سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنین کودوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔    ایک صحابی کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن کو اور ایک کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اورباری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکناچاہا تو حضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ص ۱۲) ۔  ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڑھی سے کھیلتے دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔  مدینہ میں اس وقت مروان بن حکم والی تھا اسے معاویہ کاحکم تھاکہ جس صورت سے ہوسکے امام حسن کوہلاک کردو مروان نے ایک رومی دلالہ جس کانام ”الیسونیہ“ تھا کوطلب کیااوراس سے کہا کہ تو جعدہ بنت اشعث کے پاس جاکراسے میرایہ پیغام پہنچادے کہ اگرتوامام حسن کوکسی صورت سے شہید کردے گی توتجھے معاویہ ایک ہزاردینارسرخ اورپچاس خلعت مصری عطاکرے گا اوراپنے بیٹے یزیدکے ساتھ تیرا عقد کردے گا اوراس کے ساتھ ساتھ سودینا نقد بھیج دئیے دلالہ نے وعدہ کیا اور جعدہ کے پاس جاکراس سے وعدہ لے لیا، امام حسن اس وقت گھرمیں نہ تھے اوربمقام عقیق گئے ہوئے تھے اس لیے دلالہ کوبات چیت کااچھاخاصا موقع مل گیا اوروہ جعدہ کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔الغرض مروان نے زہربھیجااورجعدہ نے امام حسن کوشہدمیں ملاکر دیدیا امام علیہ السلام نے اسے کھاتے ہی بیمارہوگیے اورفوراروضہ رسول پرجاکر صحت یاب ہوئے زہرتوآپ نے کھالیا لیکن جعدہ سے بدگمان بھی ہوگئے، آپ کوشبہ ہوگیا جس کی بناپرآپ نے اس کے ہاتھ کاکھاناپیناچھوڑدیااوریہ معمول مقررکرلیاکہ حضرت قاسم کی ماں یاحضرت امام حسین کے گھرسے کھانامنگاکرکھانے لگے ۔ مدینہ منور میں آپ ایام حیات گزاررہے تھے کہ ”ایسونیہ“ دلالہ نے پھرباشارہ مروان جعدہ سے سلسلہ جنبائی شروع کردی اورزہرہلاہل اسے دے کرامام حسن کاکام تمام کرنے کی خواہش کی، امام حسن چونکہ اس سے بدگمان ہوچکے تھے اس لئے اس کی آمدورفت بندتھی اس نے ہرچندکوشش کی لیکن موقع نہ پاسکی بالآخر، شب بست وہشتم صفر ۵۰کووہ اس جگہ جاپہنچی جس مقام پرامام حسن سورہے تھے آپ کے قریب حضرت زینب وام کلثوم سورہی تھیں اورآپ کی پائیتی کنیزیں محوخواب تھیں، جعدہ اس پانی میں زہرہلاہل ملاکرخاموشی سے واپس آئی جوامام حسن کے سرہانے رکھاہواتھا اس کی واپسی کے تھوڑی دیربعدہی امام حسن کی آنکھ کھلی آپ نے جناب زینب کوآوازدی اورکہا ائے بہن، میں نے ابھی ابھی اپنے نانااپنے پدر بزرگوار اور اپنی مادرگرامی کوخواب میں دیکھاہے وہ فرماتے تھے کہ اے حسن تم کل رات ہمارے پاس ہوگے، اس کے بعدآپ نے وضوکے لیے پانی مانگااورخوداپناہاتھ بڑھاکرسرہانے سے پانی لیا اورپی کرفرمایاکہ اے بہن زینب ”این چہ آپ بودکہ ازسرحلقم تابنافم پارہ پارہ شد“ ہائے یہ کیساپانی ہے جس نے میرے حلق سے ناف تک ٹکڑے ٹکڑے کردیاہے اس کے بعدامام حسین کواطلاع دی گئی وہ آئے دونوں بھائی بغل گیرہوکرمحوگریہ ہوگئے، اس کے بعدامام حسین نے چاہاکہ ایک کوزہ پانی خودپی کرامام حسن کے ساتھ ناناکے پاس پہنچیں، امام حسن نے پانی کے برتن کوزمین پرپٹک دیاوہ چورچورہوگیاراوی کابیان ہے کہ جس زمین پرپانی گراتھا وہ ابلنے لگی تھی ۔الغرض تھوڑی دیرکے بعد امام حسن کوخون کی قے آنے لگی آپ کے جگرکے سترٹکڑے طشت میں آگئے آپ زمین پرتڑپنے لگے، جب دن چڑھاتوآپ نے امام حسین سے پوچھاکہ میرے چہرے کارنگ کیساہے ”سبز“ ہے آپ نے فرمایاکہ حدیث معراج کایہی مقتضی ہے، لوگوں نے پوچھاکہ مولاحدیث معراج کیاہے فرمایاکہ شب معراج میرے نانا نے آسمان پر دو قصر ایک زمردکا، ایک یاقوت سرخ کادیکھاتوپوچھاکہ ائے جبرئیل یہ دونوں قصرکس کے لیے ہیں، انہوں نے عرض کی ایک حسن کے لیے اوردوسرا حسین کے لیے پوچھادونوں کے رنگ میں فرق کیوں ہے؟ کہاحسن زہرسے شہیدہوں گے اورحسین تلوارسے شہادت پائیں گے یہ کہہ کرآپ سے لپٹ گئے اوردونوں بھائی رونے لگے اورآپ کے ساتھ درودیواربھی رونے لگے۔اس کے بعدآپ نے جعدہ سے کہا افسوس تونے بڑی بے وفائی کی، لیکن یادرکھ کہ تونے جس مقصد کے لیے ایساکیاہے اس میں کامیاب نہ ہوگی اس کے بعد آپ نے امام حسین اوربہنوں سے کچھ وصیتیں کیں اور آنکھیں بندفرمالیں پھرتھوڑی دیرکے بعدآنکھ کھول کرفرمایاائے حسین میرے بال بچے تمہارے سپرد ہیں پھربند فرما کرناناکی خدمیں پہنچ گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ۔ امام حسن کی شہادت کے فورا بعدمروان نے جعدہ کواپنے پاس بلاکردو عورتوں اور ایک مرد کے ساتھ معاویہ کے پاس بھیج دیامعاویہ نے اسے ہاتھ پاؤں بندھواکردریائے نیل میں یہ کہہ کرڈلوادیاکہ تونے جب امام حسن کے ساتھ وفا نہ کی، تویزیدکے ساتھ کیاوفاکرے گی۔(روضة الشہداء ص ۲۲۰تا ۲۳۵طبع بمبئی ۱۲۸۵ءء وذکرالعباس ص ۵۰طبع لاہور ۱۹۵۶ء)

Advertisements

اسلامی جمہوریہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں آج رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے مجالس عزا اور جلوس عزا مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے جائیں گے  اس موقع پر عزاداروں نے سینہ زنی اور گریہ و ماتم کریں گے جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں رات سے ہی مجالس کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں عزاداروں نے کثیر تعداد میں شرکت اور مقرریں نے رسول اسلام اور امام حسن مجتبٰی علیہ اسلام کے فضائل اور زندگی کے مختلف پہلوں کو اجاگر کیا اور شہادت کے مقصد کو بیان کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران ، قم، اور مشہد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آج 28 صفر کو  رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانگدازرحلت اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے مجالس عزا اور جلوس عزا مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے گئے اس موقع پر عزاداروں نے سینہ زنی اور گریہ و ماتم کیا۔علماء اور ذاکرین نے پیغمبر اسلام کے اخلاق ، سیرت اور شان  و منزلت اور حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں تاریخی حقائق عوام کے سامنے پیش کئے ۔ سعودی عرب میں آج جنت البقیع میں آنے والے زائریں پر سعودی مذبی پولیس نے وحشیانہ اور توہیں آمیز سلوک کرتے ہوئے زائرین کو جنت البقیع سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی اور  آج کی اہم تریں مناسبت کے موقع پر ان سلفی مسلک وہابیوں نے خدا، رسول و آل رسول اور اسلام سے دشمنی میں کوئی کسرنہ چھوڑی اس اقدام سے سعودی حکومت کا امت مسلمہ کے ساتھ  اپنے منافقانہ رویہ اظہار کیا جس پر مدینہ میں موجود شیعہ و سنی مسلمانوں نے شدید احتجاج اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا

یمن کے ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح یمن چھوڑ کر امریکہ کے لئے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ یمنی عوام عبد اللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح یمن چھوڑ کر امریکہ کے لئے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ یمنی عوام عبد اللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یمن کے صدر نے یمنی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے اشتباہات کی بنا پر معاف کریدں۔ یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق عبد اللہ صالح علاج کے لئے امریکہ گئے ہیں اور وہ پارٹی کی قیادت کے لئے واپس آجائیں گے۔ادھر یمن کے عوام یمنی صدر عبد اللہ صالح پر مقدمہ قائم کرنے اور اس کی پھانسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور سعودی عرب  دو ایسے ممالک ہیں جو عرب ڈکٹیروں کی پناہ گاہ ہیں

بحرین میں 14 فروری اتحاد نے آل خلیفہ کی امریکہ نوازملعون حکومت کے خلاف ایک عالم دین کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحرینی عوام بالخصوص بحرینی جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی سرنگونی تک اپنی جد وجہد کو جاری رکھیں۔العوامیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین میں 14 فروری اتحاد نے آل خلیفہ کی امریکہ نوازملعون حکومت کے خلاف ایک عالم دین کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحرینی عوام بالخصوص بحرینی جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی سرنگونی تک اپنی جد وجہد کو جاری رکھیں۔ بحرین کے ایک ممتاز عالم دین نے بحرین کی ظالم وجابر حکومت کے خلاف  فتوی صادر کیا ہے جس ميں آل خلیفہ حکومت کو امریکہ اور اسرائیل کی حامی حکومت قراردیا گیا ہے اور حکومت کے ظلم و ستم کے مقابلے میں عوام کو جہادکی دعوت دی گئی ہے 14 فروری اتحاد نے اپنے بیان میں اس فتوی کی حامیت کرتے ہوئے جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی یزیدی اور امریکی حکومت کے خلاف کمربستہ ہوجائیں اور اپنے جہاد کو آل خلیفہ حکومت کے زوال اور  سرنگونی تک جاری رکھیں

سعودی عرب کی منحوس وہابی حکومت سے منسلک سلفی وہابیوں نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول (ص) کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے جس کے بعد مدینہ منورہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کی منحوس وہابی(دشمن خدا،دشمن رسول اور دشمن دین اسلام) حکومت سے منسلک سلفی وہابیوں نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے جس کے بعد مدینہ منورہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آل سعود حکومت سے وابستہ جرائم پیشہ عناصر نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے۔ سعودی درندوں نے جنت البقیع میں آج شہادت رسول اللہ اور امام حسن مجتبٰی علیہ اسلام کی مناسبت سے تعزیت کے لیے جنت البقیع آنے والے زائرین کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک کرتے ہوئے انھیں جنت البقیع سے باہر نکالنے کی کوشش کی ، آل رسول (ص) و اصحاب رسول اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کے بعد مدینہ منورہ  کے حالات سخت کشیدہ ہوگئے ہیں وہابیوں کے علاوہ شیعہ اور سنی مسلمانوں میں مذہبی سعودی پولیس کے اس وحشیانہ اقدام پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

عراق کے سلامتی ادارے کے سربراہ نےکہا ہے کہ عراق کے بعض اعلی سیاسی رہنما طارق الہاشمی کے ساتھ دہشت گرد کارروائیوں میں شریک ہیں۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے سلامتی ادارے کے سربراہ  قاسم عطا نےکہا ہے کہ عراق کے بعض اعلی سیاسی رہنما طارق الہاشمی کے ساتھ  دہشت گرد کارروائیوں میں شریک ہیں اس نے کہا کہ طارق الہاشمی کے محافظوں کے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعض اعلی سیاسی رہنما بھی طارق الہاشمی کے ساتھ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ عراق کی ایک عدالت نے طارق الہاشمی کے ہمراہ مزید 15 افراد کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کیا ہے ان افراد کا تعلق  عراق کی وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے بتایا جاتا ہے

نائجیریا کے مسلم اکثریتی آبادی والے شمالی حصے میں جمعے کی شام ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک پچاس سے تجاوز کرگئی۔خبر ایجنسی اے پی کے مطابق مختلف مقامات پر متعدد بموں اور خود کار ہتھیاروں سے کیے گئے یہ سلسلہ وار حملے ملک کے شمالی حصے کے سب سے بڑے اور مجموعی طور پر دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کانو میں کیے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ان حملوں کے دوران کانو کے شہر میں بار بار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے متعدد حصے فائرنگ کی آوازوں سے گونجتے رہے۔ بین الاقوامی رضا کار ادارے ریڈ کراس کے مطابق بد امنی کے سبب ایک سو پچاس سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ ان حملوں کے فوری بعد حکام نے کانو میں حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے کرفیو لگا دیا ہے۔ کانو کی آبادی نو ملین کے قریب ہے اور اس شہر کو خاص طور پر انتہا پسند مسلمانوں کے بوکو حرام نامی گروپ کی پر تشدد کارروائیوں کا سامنا ہے۔ نائجیریا کے اکثر نامور مسلمان مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔کانو سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے شروع ہوئے اور شہر میں فائرنگ کی آوازیں مسلسل سنائی دیتی رہیں۔ مختلف خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ حملے کانو میں بوکو حرام کی پہلی بڑی اور مربوط لیکن کئی مقامات پر کی جانے والی کارروائی ہیں۔ان حملوں کے دوران ایک بڑا بم دھماکہ شہر میں پولیس کے علاقائی ہیڈ کوارٹرز پر بھی کیا گیا، جو اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں دور دور تک کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ امریکی خبر ایجنسی اے پی کے نمائندے کے مطابق یہ حملہ ایک خود کش کار بم حملہ تھا جس میں ایک انتہا پسند اپنی گاڑی کے ساتھ پولیس ہیڈ کوارٹرز کے کمپاؤنڈ میں گھس گیا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ امینو رِنگیم کے بقول اس دھماکے سے پولیس ہیڈ کوارٹرز کی چھت اڑ گئی اور عمارت کے دیگر حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ نائجیریا میں نیشنل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کے اہلکار ابوبکر جبریل نے بتایا کہ ان حملوں کے دوران شہر میں تین پولیس اسٹیشنوں کو بھی بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک بم حملہ ریاستی سکیورٹی سروس کے علاقائی صدر دفاتر پر بھی کیا گیا۔کانو سے موصولہ دیگر رپورٹوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک صحافی کے علاوہ کم از کم تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے دوران ایک پاپسورٹ آفس پر کیے گئے بم حملے میں کم ازکم تین امیگریشن اہلکاروں اور متعدد شہریوں کی ہلاکت کی رپورٹیں بھی ملی ہیں۔ شہر میں اس وقت 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ ہے اور عام شہری اپنے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی حتمی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے، جس کا اصل اندازہ کرفیو اٹھائے جانے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ ان حملوں کے بعد بوکو حرام کے ایک ترجمان نے صحافیوں کے نام ایک پیغام میں کہا کہ یہ منظم حملے بوکو حرام کی کارروائی ہیں، جو اس لیے کی گئی کہ ریاستی حکومت نے اس گروپ کے پولیس کی زیر حراست ارکان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی نے بھارت کے مؤقر ادبی میلے ’جے پور لٹریری فیسٹیول‘ میں موت کے خوف سے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میلے میں شرکت کے حوالے سے رشدی کو اپنے قتل کیے جانے کا خوف ہے۔اپنے ایک بیان میں سلمان رشدی نے کہا کہ انہیں بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے ایسی اطلاعات ملیں کہ ان کو قتل کرنے کے لیے پیشہ ور قاتلوں کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’مہاراشٹر اور راجھستان کے انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق مجھے مارنے کے لیے قاتلوں کو رقم دی گئی ۔ گو کہ ان کے درست ہونے پر یقین نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی صورت حال میں بھارت جانا نہ صرف میرے اہل خانہ کے ساتھ  شاید زیادتی ہے بلکہ میلے میں شرکت کرنے والوں اور وہاں آنے والے ادیبوں کے ساتھ بھی زیادتی ہو۔‘ رشدی کے مطابق انہیں بھارت نہ جا پانے پر بہت دکھ ہے۔ خیال رہے کہ 1989 میں ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کو متنازعہ کتاب ’سیٹینک ورسز‘ تحریر کرنے پر واجب القتل ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ بھارتی نژاد رشدی برطانیہ میں بھی سکیورٹی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ رشدی کو ان کی ایک اور کتاب ’مڈ نائٹ چلڈرن‘ پر بکرز پرائز بھی دیا جا چکا ہے۔ رشدی کے مطابق وہ میلے میں ویڈیو لِنک کے ذریعے  شاید خطاب کر سکیں گے۔اس میلے میں شرکت کے حوالے سے سلمان رشدی کو بھارت کے شدت پسند مسلمان حلقوں اور تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔ بھارتی حکومت نے رشدی کی آمد کے پیش نظر میلے میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ برطانوی مصنف اور میلے کے منتظمین میں سے ایک، ولیم ڈیلرمپل نے میلے میں رشدی کی عدم شرکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ رشدی آئندہ برس اس میلے میں آ سکے گا۔ جے پور کا ادبی میلہ جنوبی ایشیا کا اہم ترین ادبی میلہ مانا جانے لگا ہے۔ اس برس اس میلے میں دو سو ساٹھ سے زائد ادیب شرکت کر رہے ہیں۔

واشنگٹن : بڑی طاقتوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے دیا تاہم اس کے لئے تہران پر سنجیدہ روئیے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ مغربی سفارتکاروں کے بقول اس حوالے سے بڑی طاقتیں ایران کے جوہری تنازعے پر یکساں موقف نہیں رکھتیں، واضح رہے کہ ان طاقتوں میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ شامل ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی  سربراہ کیتھرین ایشٹن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتکاری کا راستہ تمام تر پابندیوں اور فوجی حملے کے شبہات کے باوجود کھلا ہوا ہے۔ بیان کے مطابق یورپی یونین اس حوالے سے ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز چین نے اپنے ملک میں آنے والے ایرانی وفد جس کی سربراہی ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری کر رہے تھے، کو جوہری تنازعے پر بات چیت کو اولین ترجیح بنانے کو کہا۔ چینی خبررساں ادارے کے مطابق چین کا ماننا ہے کہ ایرانی جوہری تنازعہ پرامن طریقہ سے مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہئے، اس سلسلے میں پابندیاں اور فوجی حملہ کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہیلیری کلنٹن نے واشنگٹن میں جرمن ہم منصب کے ہمراہ کہا ہے کہ ہم کوئی تصادم نہیں چاہتے بلکہ ہم ایرانی عوام کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے عندئیے کے باوجود بڑی طاقتیں ایران کو مذاکرات شروع کرنے کے لئے دی جانے والی مراعات کے حوالے سے منقسم نظر آتی ہین۔

واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بار پھر ایرانی قیادت کو خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی اور خارجہ یا کسی کی رکن ظہور الامین نے بتایا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایرانی قیادت کے نام پر تیسرا خط تھا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کو یقینی بنائیں۔ تاہم ظہور الامین کا کہنا تھا کہ سابقہ دو خطوط کی طرح اس خط کا بھی جواب نہیں دیا گیا چونکہ ایرانی قیادت اس بات کے بخوبی آگاہ ہے کہ اسرائیل ایک صیہونی قوت ہے اور اس کا دفاع امریکہ کی اہم پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے بھیجے جانے والے دو سابقہ خطوط کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ خطوط ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کے نام لکھے گئے تھے۔

لندن: برطانوی حکومت نے ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کا نشریاتی لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ادارے ”آف کام” کے مطابق پابندی کا اطلاق ہفتے سے ہوگا۔ آف کام کا کہنا ہے کہ ایران کے انگریزی زبان میں نشر ہونے والے ریاستی چینل نے نشریاتی قوانین کی ایسی خلاف ورزیاں کی تھیں جن کا تعلق ادارت سے تھا۔ نگراں ادارے کا کہنا تھا کہ ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی نے گزشتہ سال عائد کیا گیا ایک لاکھ پونڈ جرمانہ بھی تاحال ادا نہیں کیا۔ اسی بنا پر چینل کو بیس جنوری سے سکائی نیٹ ورک سے ہٹا دیا جائے گا۔ ایرانی ٹی وی پر یہ جرمانہ اس وقت عائد کیا گیا تھا جب اس نے نیوز ویک اور چینل فور سے تعلق رکھنے والے زیرِ حراست صحافی مظائر بہاری کا انٹرویو نشر کیا جس کے بارے میں آف کام کا موقف ہے کہ انٹرویو جبرا لیا گیا۔ آف کام کا کہنا تھا کہ پریس ٹی وی نے بتایا تھا کہ وہ یہ جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہیں اور نہ ہی وہ اس پر رضا مند ہیں۔ مظائر بہاری کے انٹرویو کی تحقیقات کے دوران آف کام کو احساس ہوا کہ چینل کے ادارتی فیصلے برطانیہ کی بجائے تہران میں کیے جاتے ہیں

اسلام آباد: سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ پاک امریکا تعلقات اہم ہیں’ تاہم تعاون کے  قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی اور امریکا کو لگام دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی چیز میں ابہام نہ رہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے پاک امریکا تعلقات کااز سر نو جائزہ لینے کے لئے سفارشات مکمل کر لی ہیں’ اب پارلیمنٹ بھیجی جائیں گی جہاں ان کو حتمی شکل دی جائے گی۔ پارلیمانی عمل مکمل ہونے کے بعد شروع ہونے والے مذاکرات میں پارلیمنٹ کی منظورہ کردہ سفارشات فائدہ مند ہونے کے ساتھ سب کچھ واضح ہوگا۔ امریکی خصوصی نمائندہ مارک گراسمین کا مذاکرات کے حوالے  سے بیان اخبار میں پڑھا ہے اور اس سے ہم اتفاق کرتے ہیں۔ ہم نے امریکی وزارت خارجہ سے بھی کہا تھا کہ پارلیمانی عمل مکمل ہونے کے بعد دوبارہ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جائیں گے۔ 

کراچی: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل ‘ میں شائع حسین حقانی کے انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ کچھ قوتیں ہمیں خوف میں زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ کوششیں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہ سکتی’ میرے استعفیٰ دینے کے لئے فوری بعد صدر آصف علی زرداری بیمار پڑ گئے ۔ حسین حقانی پاکستان جرنیلوں کے ڈی فیکٹو قیدی ہیں۔ زرداری اور گیلانی  حقانی کے اہم محافظین ہیں’ گیلانی پر توہین عدالت کے الزامات ان کی وزارت اعلیٰ کو ختم کر سکتے ہیں ‘ فوج حکومت کے خاتمے پر تیار نہیں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حقانی کے انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ نومبر تک واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اب پاکستانی جرنیلوں کے ڈی فیکٹو قیدی ہیں امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اس وقت نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی نظر بندی کی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے فوج کو ناراض کیا ہے۔ حسین حقانی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فورسز ہمیں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خوف میں زندہ رکھنا چاہتی ہیں لیکن بالکل اسی طرح جیسے سوویت یونین کی جی بی اور مشرقی جرمنی کی اسٹاسی Stasi اپنے لوگوں کودبانے میں کامیاب نہیں ہوئی اسی طرح پاکستان میں بھی یہ فورسز طویل عرصے تک کامیاب نہیں ہوں گی۔ انٹرویو میں حقانی نے میمو گیٹ اسکینڈل کے تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اس نے میمو کو نہ تو گھڑا اور نہ اسے تحریر کیا۔ صدر آصف علی زرداری کی غیر مقبول حکومت پر نظر نہ آنے والے دبائو پر حقانی نے کہا کہ میرے استعفیٰ دینے کے فوری بعد صدر آصف علی زرداری بیمار پڑ گئے جس پر ایک نفسیاتی جنگ شروع کر دی گئی اور ان کے ملک سے فرار کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ حقانی کہتے ہیں کہ اگر اس طرح کی تمام نفسیاتی جنگوں میں اعصاب پر قابو رکھا جائے تو کچھ نہیں ہوتا۔ اخبار کے مطابق آصف علی زرداری اور وزیر اعظم گیلانی حقانی کے اہم محافظین ہیں اور دونوں اپنی سیاسی بقا ء کی مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں۔ گیلانی پر توہین عدالت کے الزامات ان کی وزارت عظمی کو ختم کر سکتے ہیں’ زرداری پر دیرینہ کرپشن کے الزامات بھی تعاقب میں ہیں اور ان کے حریف سپریم کورٹ میں ان کے صدارتی استثنیٰ کو ختم کراسکتے ہیں۔ اگر صدر کو ملزم ٹھہرا دیا گیا تو حکومت گر جائے گی اور اس کے ساتھ ہی حقانی ا ور ا س کے مقاصد بھی ڈوب جائیں گے۔ اخبار کے مطابق چیزیں حقانی کے حق میں ابھی بھی جا سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ فوج اور اس کے حلیف حقانی سے نفرت کرتے ہوں اور حکومت میں ان کے دوستوں کو زخم دینا چاہتے ہوں لیکن وہ حکومت کے خاتمے پر تیار نہیں ‘ رسمی طور پر کچھ حد تک وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں

ملک بھر کی مذہبی ،سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین، عسکری ماہرین،جید علماء کرام ، طلبا، وکلاء اور تاجر رہنمائوں نے دفاع پاکستان کونسل کی دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کی سپلائی لائن بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو کراچی سے خیبر تک لوگ سڑکوں پر نکل کر کنٹینروں کو زبردستی روکیں گے اور اس کے لئے سپلائی روٹ پر دھرنے دیں گے، وزیر اعظم امریکی جنگ سے الگ ہونے کی تاریخ دیں، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں ملکی دفاع میں ناکام ہو گئیں، پاکستان کی سرزمین افغان بھائیوں کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے،بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیکر تجارت ملک کو اپاہج بنانے اور تباہ و برباد کرنے کے مترادف ہے،  بھارت پاکستانی دریائوں پر سے قبضہ چھوڑ دے ، دریائوں میں پانی نہیں آئے گا تو پھر خون بہے گا، پاکستانی حدود میں گھسنے والے ڈرون طیارے مار گرائے جائیں، ہم لڑنا نہیں چاہتے لیکن اگرا مریکہ نے پاکستانی سرحدوں کو پامال کرنا نہ چھوڑا تو پھر فیصلے میدانوں میں ہوں گے،دفا ع پاکستان کونسل کشمیر کمیٹی کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کی سفارشات کی شدید مذمت کرتی ہے۔  لیاقت باغ راولپنڈی میں ہونے والی دفاع پاکستان کانفرنس سے دفا ع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، امیر جماعت الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، جنرل(ر)حمید گل، سید منور حسن ، شیخ رشید احمد، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر،اعجاز الحق ،پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، سردار عتیق احمد خاں، جنرل (ر)مرزا اٍٍٍٍسلم بیگ و دیگر نے خطاب کیااس موقع پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور آمنہ مسعود جنجوعہ کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ حافظ محمد سعید کے خطاب سے قبل لاکھوں شرکاء کی جانب سے زبردست نعرے بازی کی گئی اور شرکاء نے کھڑے ہوئے ان کا بھرپور استقبال کیا۔دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ ملک کے تحفظ اور امریکی تسلط سے آزادی کیلئے ہمیں اللہ نے ایک کر دیا ہے پورا ملک غیروں کے رہم و کرم پر ہے ایک جرنیل نے فوج سے غداری کی سب کو بے بس کر کے ظالم کی گود میں ڈال دیا ہمیں مشرف کی پالیسیاں ختم کرنا ہوں گے اور امریکہ کی حمایت سے نکلنا ہوگا۔

پیرس: فرانسیسی وزیر دفاع جیرار لونگ نے کہا ہے کہ افغانستان میں چار غیر مسلح فرانسیسی فوجیوں کا قاتل افغان سپاہی ماضی میں فوج سے فرار ہوگیا تھا اور وہ طالبان کے ایک درپردہ کارندے کے طور پر افغان فوج میں دوبارہ بھرتی ہوا تھا۔ اس اکیس سالہ افغان فوجی نے جمعے کے روز فائرنگ کر کے چار فرانسیسی فوجیوں کو ہلاک اور پندرہ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس ملزم کے طالبان کا کارندہ ہونے سے متعلق فرانسیسی وزیر دفاع نے اپنا بیان اس واقعے کے ایک روز بعد کابل میں اپنے دورے کے دوران ایک افغان جنرل کی طرف سے بریفنگ کے بعد دیا۔ اس حملے کے بعد افغانستان میں فرانسیسی فوجیوں کی طرف سے افغان دستوں کی تربیت اور ان کے ساتھ مشترکہ عسکری کارروائیاں معطل کی جا چکی ہیں۔

نیو یارک: تیز رفتار ہواؤں کے ساتھ آنیوالا برفانی طوفان امر یکا کے شمال مشرقی علاقے سے ٹکرا گیا۔ سفید چادر نے ہر شے کو ڈھانپ لیا جبکہ نظام زندگی درہم برہم ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق شدید برفانی طوفان نے وسطی پنسلو ینیا سے کنیٹیکٹ تک ایک بڑے علاقے کو متاثر کیا ہے۔ نیویارک، فلاڈلفیا، بوسٹن اور واشنگٹن سمیت کئی علاقوں میں برفباری ہوئی۔ کئی مقامات پر سڑکیں اور عمارتیں برف سے ڈھک گئیں۔ فلاڈلفیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی ترجمان نے بتا یا کہ انھیں چھیاسٹھ پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ سیاٹل کے جنوب میں دو لاکھ سے زائد گھر اور متعدد تجارتی مقامات برفباری کے باعث بجلی سے محروم ہوگئے۔ اس سال موسم سرما میں امریکا کی کئی ریاستیں غیر معمولی سردی اور برفباری کی لپیٹ میں ہیں۔ پینسلوینیا سے نیویارک تک مسلسل برفباری سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوچکے ہیں برفباری کے باعث سڑکیں بند ہوگئی ہیں جس سے لوگوں کو سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھاری سامان لیجانے والے ٹرک برفباری کے باعث پھنس کر رہ گئے ہیں۔ تمام تر مشکلات کے باوجود کئی شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد برفباری سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ نیویارک شہر میں اب تک تین سے پانچ انچ تک برف پڑچکی ہے۔ فلاڈ یلفیا میں دو سے چار انچ بوسٹن میں تین انچ موٹی برف کی تہہ جم چکی ہے۔

رباط /ریاض: پاکستان کے سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کیلئے عرب ممالک کے حمایت کیلئے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ وہ گذشتہ روز لندن سے اردن پہنچ گئے ہیں اور اس کے بعد سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں بھی جائیں گے جہاں وہ مقامی قیادت سے اپنی وطن واپسی کیلئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اردن میں وہ مقامی فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات کریں گے۔ ان کے اس دورے کا مقصد وطن واپسی کے حوالے سے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔ سابق صدر اردن کے بعد سعودی عرب بھی جائیں گے جہاں وہ سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور دیگر رہنمائوں سے ملاقات کریں گے۔ پرویز مشرف وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے عرب ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف نے ستائیس سے تیس جنوری تک وطن واپسی کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ملک میں ان کے بعض بہی خواہ انہیں واپس نہ آنے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ اہم حکومتی عہدیداران یہ کہہ چکے ہیں کہ مشرف واپس آئے تو انہیں کراچی ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کر کے لانڈھی جیل بھیج دیا جائے گا جبکہ بعض حکومتی رہنما بشمول میاں رضا ربانی مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی سزا موت ہے۔

لندن: سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے اور اس کی سالمیت کو دائو پر لگانے کیلئے منصوبہ بند سازشیں کر رہا ہے۔ برطانیہ میں ایک موقر روز نامہ سے انٹرویو کے دوران پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرنے کیلئے در پردہ سازشیں کر رہا ہے اور ان کا مقصد ہے کہ پاکستان کو کمزور کر کے اس پر غلبہ پایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں غلبہ اور تسلط کی جو تشویش سامنے آتی ہے اسکا مطلب ہیں کہ کوئی ملک دوسرے ملک پر چڑھائی کر کے اس ملک پر قبضہ کرے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ بھارت اگر اسی طرح کی پالیسی پر گامزن رہا تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کبھی بہتری نہیں آسکتی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار کے دوران بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے تھے جبکہ پاکستان نے اپنی پالیسی میں لچک دکھا کر بھارت کو اشارہ دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ تمام حل طلب مسائل کے حل کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا بھارت اور پاکستان اگرچہ نزدیکی ہمسایہ ہیں تاہم اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تلخیوں میں کمی آنے کے بجائے روز بہ روز ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا خواہشمند نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس مسئلے پر اپنی پالیسی پاکستان پر واضح کر رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھول کر بھارت اور پاکستان کو مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے اور تمام حل طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرکے ایک دوسرے کے قریب تر آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو بر صغیر میں قیام امن کی فضاء قائم ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ملک عالمی سطح پر ایک کلیدی رول ادا کرنے کے اہل ہونگے۔

واشنگٹن: جدید ارضیاتی تاریخ میں سال 2011 نواں گرم ترین سال تھا۔ اس بات کا انکشاف خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا  کے سائنس دانوں نے کیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جدید ارضیاتی ریکارڈ کے مطابق 1880 سے اب تک 9 گرم ترین سال ریکارڈ کئے گئے جن میں سال 2011ء نواں گرم ترین سال تھا۔ ایک اور امریکی ادارے ”این او اے اے” کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اوسطاً درجہ حرارت کے  حساب سے 2011ء 23واں گرم ترین سال تھا۔ ناسا کے ایک ادارے ”گوڈیرڈ انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈی” کے مطابق سال 2011ء میں اوسطاً درجہ حرارت کی سطح 0.92 ڈگری فارن ہائیٹ (0.5سینٹی گریڈ) تھی۔ بیسویں صدی عیسوی وسط میں درجہ حرارت مناسب درجوں پر رہا اور انسٹی ٹیوٹ نے 1880ء سے درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا۔