پاکستان سے ڈیڑھ ارب ڈالر لوٹے گئے، موقر سوئس ادارے کی رپورٹ

Posted: 20/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

لاہور : سوئٹزر لینڈ میں قائم باسل انسٹیٹیوٹ آن گورننس کے انٹرنیشنل سینٹر فار ایسٹ ریکوری نے جو ترقی پذیر ملکوں سے چوری کئے گئے اثاثوں کی بازیابی میں عالمی قانونی امداد فراہم کرتا ہے نے انکشاف کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور ان کی مرحومہ اہلیہ بینظیر بھٹو پاکستان کے قومی خزانہ سے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم لوٹنے میں ملوث تھے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم اس ادارے نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی اس رقم میں سے اب تک صرف ایک سو بلین (10 کروڑ) ڈالر کا پتہ لگایا جا سکا ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر اس انسٹیٹیوٹ نے مزید لکھا ہے کہ بینظیر بھٹو کے وزارت عظمیٰ کے دور میں زرداری مبینہ طور پر کرپشن سے متعلق سرگرمیوں کے ماسٹر مائنڈ تھے جس سے بینظیر بھٹو بھی آگاہ تھیں اور لاکھوں ڈالر کی کرپشن کی گئی ہے۔ زرداری کاروباری افراد کو ٹھیکے دینے کے عوض مخصوص تناسب سے اپنا حصہ وصول کرنے کی شہرت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے مسٹر فائیو پرسنٹ، مسٹر 10 پرسنٹ، مسٹر 20 پرسنٹ، مسٹر 30 پرسنٹ اور مسٹر 100 پرسنٹ کے عرف سے مشہور ہوئے۔ انسٹیٹیوٹ کے مطابق بھٹو اور زرداری کی جمع کی ہوئی کل رقم میں سے 100 ملین سے زیادہ برطانیہ، فرانس، سوئٹزر لینڈ، امریکہ اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق بھٹو، زرداری کی پاکستان سے لوٹی گئی رقم ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی زائد ہے۔ انسٹیٹیوٹ مزید لکھتا ہے کہ ان کا یہ ناجائز منافع حکومت کی ہر مخصوص سرگرمی جس میں چاول کی برآمد کی ڈیل، سرکاری جائیدادوں کی فروخت، پی آئی اے کیلئے طیاروں کی خریداری، شوگر ملز، آئل و گیس کے پرمٹس، نشریات کے لائسنسوں، سرکاری صنعتوں کی نجکاری اور سرکاری ویلفیئر سکیموں میں سے اپنا ناجائز حصہ وصول کرنے تک شامل ہیں۔ آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کا تعارف کراتے ہوئے انسٹیٹیوٹ لکھتا ہے کہ بینظیر بھٹو دوبارہ پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ وہ دونوں دفعہ مبینہ کرپشن اور خراب حکمرانی کے الزامات کے تحت وزارت عظمیٰ سے معزول کی گئیں۔ 1998ء سے 2007ء تک بے نظیر بھٹو دبئی اور لندن میں جلا وطن رہیں۔ وہ اکتوبر 2007ء میں سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ ایک سمجھوتے کے بعد وطن واپس لوٹیں جس کے تحت ان کے خلاف لگائے گئے کرپشن کے تمام الزامات واپس لے کر ان کو معافی دی گئی۔ تاہم بے نظیر بھٹو کی سیاسی زندگی 27 دسمبر 2007ء میں ان کے قتل پر اختتام پذیر ہوئی۔ ان کے شوہر آصف علی زرداری نے (پاکستان کے موجودہ صدر) ان کے دونوں ادوار میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1993ء سے 1996ء تک وزیر سرمایہ کاری رہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے 1998ء میں شائع ہونے والے جان ایف برنز کے آرٹیکل کا حوالہ دیا ہے جس میں بھٹو کی لاکھوں ڈالر کی رقم کا سراغ لگانے کے حوالے سے لکھا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز میں اس حوالے سے اشاعت نے بی بی سی کی سٹوری کیلئے مواد کا کام دیا تھا۔ 2005ء میں ریمنڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب بھی اس حوالے سے شائع ہوئی تھی۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اثاثہ جات کی وصولی کے عالمی مرکز باسل انسٹیٹیوٹ آف گورننس میں شامل اہم شراکت داروں میں آئی ایم ایف، انٹرنیشنل اینٹی کرپشن اکیڈمی ‘دی کونسل آف یورپ، دی یورپین بینک برائے تعمیرنو و ترقی‘اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی)‘ ترقی و تعاون کی سوئس ایجنسی‘ معاشی معاملات کا سوئٹزرلینڈ کا سیکرٹریٹ‘ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چوری شدہ اثاثوں کی وصولی کیلئے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کی ہدایت‘ برطانیہ کا بین الاقوامی ترقی کا محکمہ، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے منشیات و جرائم‘ سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف باسل (سوئٹزرلینڈ) وغیرہ شامل ہیں۔ باسل انسٹیٹیوٹ آف گورننس کی ویب سائٹ پر بھی ایک کتاب ”اثاثہ جات وصولی میں غیرریاستی عناصر“ کے تعارفی پیراگراف میں دلچسپ انداو سے بیان کیا گیا ہے۔

Comments are closed.