وزیراعظم نے معافی مانگی توسوئس حکومت کے ساتھ ساتھ برطانیہ اوراسپین کو بھی خط لکھنے پڑیں گے

Posted: 20/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

اسلام آباد:  وزیر اعظم گیلانی اگر اس یقین دہانی پر سپریم کورٹ سے معافی کے راستے کا انتخاب کرتے اور اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں کہ تمام عدالتی احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا تو انہیں نہ صرف سوئس حکومت کو خط لکھنا ہو گا بلکہ اسپین اور برطانیہ کی حکومتوں کو بھی تیل برائے خوراک اسکینڈل ، سرے محل اور کئی دیگر کیس کھولنے کیلئے لکھنا پڑے گا ۔ این آر او پر تاریخی فیصلے پر عملدرآمد کے متعلق میڈیا صرف سوئس منی لانڈرنگ کیسز اور سوئس حکومت کو خط لکھنے کا حوالہ دے رہا ہے جبکہ این آر او مختصر فیصلہ 16دسمبر 2009ء کو آیا یا این آر او پر تفصیلی فیصلہ 27جنوری 2010کو آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان تمام ملکوں کو کرپشن کیسز دوبارہ کھولنے کیلئے خطوط لکھے جائیں ، جہاں بھی بند کئے گئے تھے ۔ بعد ازاں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران فاضل عدالت نے اپنے فیصلے پر دوبارہ زور دیا کہ حکومت کو صرف سوئس حکومت کو خط نہیں لکھنا بلکہ دوسرے تمام ملکوں کو بھی لکھنا ہے جہاں کرپشن کیس بند ہوئے تھے ۔ این آر او فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران اس وقت کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب بصیر قریشی نے دی نیوز کو ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ این آر او پر مذاکرات کے دوران نیب کے ایک سینئر قانونی مشیر شہزاد اکبر حکومت پاکستان کے احکامات پر رحمن ملک سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت کیخلاف حکومت کی درخواست واپس لینے کیلئے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ گئے تھے ۔ ”دراصل تیل برائے خوراک سکینڈل میں کروڑوں ڈالروں کی مبینہ خورد برد کے کیس اس وقت کے یو این سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی طرف سے متعلقہ حکومتوں اور ایجنسیوں کو بھیجے گئے، کچھ پاکستانی سیاستدانوں سے متعلق کیس میڈرڈ میں شروع کیا گیا ۔ اس کیس میں بطور سول پارٹی شمولیت کیلئے پاکستان نے میڈرڈ عدالت کو باضابطہ طور پر درخواست کی تھی“۔نیب کے سابق سینئر پراسیکیوٹر نے مزید کہا تھا ” یہ درخواست میڈرڈ کورٹ نے قبول کر لی تھی اور عدالتی کارروائی جاری تھی جب نیب کے سینئر قانونی مشیر شہزاد اکبر حکومت پاکستان( جنرل پرویز مشرف حکومت) کے احکامات کی تکمیل کیلئے میڈرڈ گئے اور درخواست واپس لے لی“قریشی کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتا کہ پاکستانی حکومت کے سرکاری طور پر اپنے موقف سے دستبردار ہونے کے بعد کیس اور خورد برد شدہ رقم کا کیا بنا۔دوسری طرف بصیر قریشی نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ حکومت پاکستان سرے محل کیس میں بھی فریق بن گئی تھی اور اس محل کے دعویداروں میں سے ایک تھی ، انہوں نے بتایا تھا کہ اسی عمل کے دوران نیب کے ایک سینیٹر عہدیدار نے لندن کا دورہ کیا اور برطانیہ میں اپنے وکیل کے ذریعے پاکستان کی حکومت کا دعویٰ واپس لے لیا، قریشی نے مزید کہا تھا کہ ” اس کیس میں بھی نیب عہدیدار حکومت پاکستان کے حکم پر لندن گیا تھا “جب قریشی سے پوچھا گیا کہ صدر آصف علی زرداری نے بھی تو عدالت میں سرے محل کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا اور عدالت کے ذریعے اسے حاصل کرنے کے بعد فروخت کر دیا تو بصیر نے کہا تھا کہ نیب کو اس کا علم نہیں اور یہ کہ حکومت پاکستان نے اپنے حکام کے ذریعے درخواست واپس لینے کی خاطر ان معلومات سے منع کر دیا تھا ، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر زرداری اور پی پی کی اعلیٰ قیادت ایک عشرے تک سرے محل کی ملکیت سے انکار کرتی رہی بالآخر اس کی ملکیت کا اعتراف کیا اور اسے عدالت کے ذریعے حاصل کرنے کے بعد فروخت کر دیا۔ 2006ء میں یہ کیس فیصلہ ہو رہا تھا اور آخری مرحلے پر کچھ قانونی عمل کے بعد جب پاکستان کو لاکھوں پاؤنڈ ملنے والے تھے تو پاکستانی حکومت این آر او کے بعد اپنی پوزیشن سے دستبردار ہو گئی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ 31 مئی 2007ء کو جب میڈیا رپورٹ کہا کہ مشرف حکومت میڈرڈ عدالت میں سول پارٹی سٹیٹس سے دستبردار ہو رہی ہے اور پیپلزپارٹی قیادت سے فوجی حکومت کی مجوزہ ڈیل کے نتیجے میں پاکستان کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو گا تو نیب نے ایک پریس ریلیز جاری کیا جو کہ اس کی ویب سائٹ پر مندرجہ ذیل لنک پر اب بھی موجود ہے۔ http://www.nab.gov.pk/press/news..asp?449 اس پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا تھا ”قومی احتساب بیورو سوئس عدالت سے بے نظیر بھٹو کے خلاف 150 ملین ڈالر کے کیس کی نیب کی واپسی سے متعلق بعض اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ حقیقی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے نیب کے ترجمان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور ان کے ساتھیوں (رحمن ملک اور حسن علی جعفری) کو تیل برائے خوراک پروگرام میں ملزم ٹھہرائے جانے کا کیس سپین کے معائنہ مجسٹریٹ کے سامنے زیرالتوا ہے جس میں منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ یہ کیس 2004ء میں سپینی حکام نے بنیادی اطلاعات اور شہادتوں پر شروع کیا تھا جو اس کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ نے جمع کی تھیں۔ حکومت پاکستان کو بھی اس کیس سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا اور سپین میں کسی مدد کے لئے کہا گیا تھا۔ بعدازاں 2006ء میں اقوام متحدہ کی انڈیپنڈنٹ انکوائری کمیٹی نے نیب کو بے نظیر بھٹو کی کمپنی PETROLINE FZC کے بدنام عراقی تیل برائے خوراک پروگرام میں ملوث ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی نے نیب کو کچھ ثبوت بھی مہیا کئے تھے۔ ویلنشیا میں سپینی کارروائی میں مدد اور 2004ء کی اپنی درخواست پر قائم رہنے کے لئے نیب کارروائی میں سول پارٹی بن گیا اور ایگزامنیشن مجسٹریٹ کو اقوام متحدہ انکوائری کمیٹی کے ثبوت پیش کر دےئے اور پاکستان کے دائرہ عمل میں ملزم کے خلاف دوسرے کیسوں کی تفصیلات بھی پیش کر دیں۔ مئی 2007میں سماعت کی آخری تاریخ پر نیب نے ویلنسیا ( سپین کا صوبہ) کورٹ کو بتایا کہ نیب نے اقوام متحدہ کی شہادت اور دیگر تمام متعلقہ ثبوت انہیں دیکر اپنا کام کر دیا ہے کیونکہ بنیادی طور پر سپینی استغاثہ کی کارروائی ہے اس لئے نیب کو بطور سول پارٹی بحیثیت حکومت پاکستان الگ ہونے کی اجازت دی جائے، اس کیس سے خزانے کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا

Comments are closed.