منصور اعجاز کی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی

Posted: 20/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

میمو گیٹ اسکینڈل کے اہم کردار منصور اعجاز کو ایک عریاں ریسلنگ مقابلے میں کمنٹری کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو نے منصور اعجاز کے کردار اور خفیہ مراسلے کے معاملے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور ویب بلاگنگ میں آج کل اس ویڈیو پر بحث چل رہی ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز، جو میموگیٹ اسکینڈل کے اہم کردار ہے،کو کم کپڑے پہنے خواتین پہلوانوں کے ساتھ دکھایا گیا فلوریڈا میں مقیم پاکستانی نژاد منصور اعجاز کی یہ ویڈیو 2004ء میں ریکارڈ کی گئی تھی اور 2009ء سے یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ چونکہ منصور اعجاز پاکستان جاکر عدالت عظمیٰ میں پاکستانی حکومت کے خلاف اہم ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اسی لیے یہ ویڈیو پاکستانی ناظرین کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ بنیادی طور پر یہ اطالوی پروڈیوسر جونیئر جیک کی میوزک ویڈیو ہے، جس میں دو خواتین ریسلنگ رِنگ میں لڑ رہی ہیں۔ ڈی جے جونیئر جیک کے 2007ء کے گانے ’’سٹوپی ڈسکو‘‘ کی ویڈیو ٹوئٹر پر بھی پر پوسٹ کی گئی۔ اس کے بعد یہ دوسری سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر صارفین کی طرف سے شیئر کی گئی۔ یہ گانا برطانیہ کی سنگلز چارٹ میں نمبر 20 کے درجے تک پہنچ گیا تھا۔ اس گانے کی ویڈیو میں منصور اعجاز ’’ڈبل ڈی‘‘ اور ’’ناسٹی ناسٹی‘‘ نامی دو خواتین پہلوانوں کے درمیان ایک کشتی کے میچ پر کمینٹری کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو نکلی ہے لیکن پھر ایک شخص نے ویڈیو کی ’’میکنگ آف‘‘ یعنی اس کی تیاری کے مراحل پر مبنی ویڈیو کا لِنک پوسٹ کیا، جس میں منصور اعجاز کو اس ویڈیو کی ریکارڈنگ میں حصہ لیتےہوے دکھایا گیا ہے منصور اعجاز کا کہنا ہے کہ انہیں علم نہیں تھا کہ اس ویڈیو کے آخر میں دونوں خواتین مکمل طور پر عریاں ہوجائیں گی۔ منصور اعجاز کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو برسلز میں ریکارڈ کی گئی تھی اور پروڈیوسر کو امریکی تلفظ والا شخص نہیں مل رہا تھا۔ منصور اعجاز نے جان کو لاحق خطرے کے سبب اپنی مقامیت خفیہ رکھتے ہوئے خبر رساں ادارے اے پی سے ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو میں یہ بات کہی۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت موجود نہیں تھے، جب خواتین مکمل عریاں ہوجاتی ہیں البتہ ان کی بیوی ریکارڈنگ کے تمام مراحل میں موجود رہیں۔ منصور اعجاز نے اے پی کو 2004ء کی وہ ای میلز فراہم کی ہیں، جن میں انہوں نے ویڈیو کے پروڈیوسر کو قانون چارہ جوئی کی دھمکی دی تھی۔ منصور اعجاز کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے امریکی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ کے لیے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ایک خط امریکی حکام تک پہنچایا تھا، جس میں ممکنہ فوجی مداخلت سے بچنے کے لیے واشنگٹن  سے مدد طلب کی گئی تھی۔یہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے اندر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے زمانے کی بات ہے۔ حقانی عدالت میں پیش ہوکر اس الزام کو مسترد کر چکے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق منصور اعجاز پاکستان کے فوجی اڈے پر اتریں گے، جہاں سے انہیں سلامتی کے حصار میں عدالت عظمیٰ تک لایا جائے گا۔ پاکستان میں ان کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے مؤکل کی پاکستان آمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ اے پی نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت صدر زرداری پر بھروسہ نہیں کرتی اور میمو گیٹ اسکینڈل ان کی حکومت کو لاحق واحد خطرہ نہیں۔

Comments are closed.