ايران پر حملہ تباہ کن ہوگا، روس کا انتباہ, تہران سے متعلق تمام آپشن استعمال کرینگے، امریکی و اسرائیلی ایماء پر سعودی بیان

Posted: 20/01/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Russia & Central Asia, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, USA & Europe

ماسکو… روسي وزير خارجہ سرگئي لاوروف نے خبردارکيا ہے کہ مغربي ممالک کي جانب سے ايران پر ممکنہ حملہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جبکہ اسرائيلي وزير دفاع نے کہا ہے کہ ايران پر جلد حملے کا کوئي امکان نہيں.ميڈيا رپورٹس کے مطابق ماسکو ميں سالانہ پريس کانفرنس کے دوران روسي وزيرخارجہ نے کہا امريکہ اور مغربي ممالک کي تہران کے متنازعہ جوہري پروگرام کے پس منظر ميں ايران پر حملہ تباہ کن اور يہ جلتي پر تيل چھڑکنے کے مترادف ہوگا اور اس سے مسلمان ممالک ميں پہلے سے موجود فرقہ ورانہ تفريق ميں اضافہ ہوگا.انھوں نے کہا کہ ايران پرحملہ سے رد عمل کا ايک ايسا سلسلہ شروع ہوگا جس کو روکنا نا ممکن ہو جائے گا.دوسري جانب مقامي ريڈيو سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائيلي وزير دفاع ايہود باراک نے کہا ہے کہ ايران پر جلد حملے کا کوئي امکان نہيں ہے .روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے تباہ کن نتائج برآمد ہونگے ،فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔مغرب ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ بات صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی ادھر سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہاہے کہ ان کا ملک ایرانی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام دستیاب آپشنز کو استعمال کرے گا ایرانی دھمکیوں سے غیرمطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوجائے گی۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے یہ بات بحرین میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اپنے مفادات یا سکیورٹی کے لیے کسی خطرے کی صورت میں ہم اپنی قومی اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ محاذ آرائی میں اضافے اور کشیدگی کا نتیجہ فوجی مہم جوئی کی صورت میں نکل سکتا ہے اور اس کے ناقابل یقین مضمرات ہوں گے یا اس سے غیر مطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوسکتی ہے

Comments are closed.