Archive for 20/01/2012

مغربی ممالک کے بعض ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائيل کو ایران کے خلاف جنگ پر اکسانے کے لئے عرب خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے اورسعودی حکام نے صہیونیوں کے ساتھ خفیہ ملاقات میں ایران کے خلاف جنگ کے تمام اخراجات ادا کرنے کا وعدہ کیا ہےالنخیل سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائيل کو ایران کے خلاف جنگ پر ابھارنے کے لئے عرب خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے اورسعودی حکام نے صہیونیوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں ایران کے خلاف جنگ کے تمام اخراجات ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے خطرے کے پیش نظر ایران پر ہمہ جہت فوجی حملہ کیا جائے۔ مذکورہ سائٹ کے مطابق سعودی عرب اور بعض دیگر خلیجی ممالک موجودہ وقت کو ایران پر حملے کے لئے مناسب قراردیتے ہیں سعودیوں کا خیال ہے کہ ایران پر حملہ شروع کرنے کے لئے شام کو مشغول رکھنا ضروری ہے۔ سائٹ کے مطابق سعودی عرب نےاسرائیلی حکام کے درمیان یورپی ممالک اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں جنگ کے اخراجات کو قبول کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے

Advertisements

بعض عرب ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کے جرم میں عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کو عراقی سکیورٹی دستوں نے گرفتار کرکے بغداد منتقل کردیا ہے۔ النخیل سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کے جرم میں عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کو عراقی سکیورٹی دستوں نے گرفتار کرکے بغداد منتقل کردیا ہے۔ واضح رہے کہ عراق کے نائب صدر بغداد سے فرار کرنے کے بعد عراق کے کردستان علاقہ میں پہنچ گئے تھے، ہاشمی کی گرفتاری کے وارنٹ عراق کی ایک عدالت نے جاری کئے تھے

اسرائيلي فوج نے فلسطيني مجلس قانون ساز کے اسپيکر اور حماس کے رہنما عزيز الدويک کو اغوا کر ليا الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائيلي فوج نے فلسطيني مجلس قانون ساز کے اسپيکر اور حماس کے رہنما عزيز الدويک کو اغوا  کر ليا فلسطيني پارليمنٹ کے اسپيکر عزيز دويک کو ارکان پارلیمنٹ نزاررمضان اوردوساتھيوں سميت الخلیل  جاتے ہوئے جعبہ کے چيک پوائنٹ سے اسرائيلي فوجيوں نے اغوا کرليا تاہم عزيز الدويک اور نزار رمضان کو حراست ميں لے کر باقي 2 افراد کو رہا کر ديا گيا. اسرائيل نے اب تک حماس کے 74 ارکان پارليمنٹ ميں سے تقريبا 20 کو گرفتار کر ليا ہے. واضح رہے کہ عزیز الدویک کو 2006 میں بھی پارلیمنٹ کے نمائندوں سمیت اغوا کرلیا تھا اور گذشتہ برس مئی میں آزاد کیا تھا۔.

بحرینی حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ امریکہ نواز بحرینی حکومت امریکی اور سعودی عرب کےاشاروں پر بحرینی عوام کے حقوق کو پامال کررہی ہے اورآل خلیفہ کے سنگين جرائم میں امریکی حکومت شامل ہے۔ المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرینی حکومت کے مخالفین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نواز بحرینی حکومت امریکی اور سعودی عرب کےاشاروں پر بحرینی عوام کے حقوق کو پامال کررہی ہے اورآل خلیفہ کے سنگين جرائم میں امریکی حکومت شامل ہے۔ بحرینی عوام کا کہنا ہے کہ امریکہ بحرین کی جرائم پیشہ حکومت اور ڈکٹیٹر بادشاہت کی بھر پور حمایت کررہا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کے ڈکٹیٹر اور امریکی و سعودی غلام بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے ہاتھ بحرینی عوام کے خون سے تر ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کا منحوس بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیف بحرین پر اپنے خاندان کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے ہر جرم و جنایت کا ارتکاب کررہا ہے۔ بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ بحرینی عوام اپنی کامیابی تک جد وجہد جاری رکھیں گے اور اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ او ر لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے سی آئی ڈی کے پولیس افسر کو شہدی کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس افسر شہید اصغر کرار رجوی کو اورنگی ٹاؤن نمبر 10میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی یزیدی دہشت گردوں کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں وہ شہید ہو گئے ۔شہید اصغر کرار سی آئی ڈی پولیس میں سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز تھے ،موصولہ اطلاعات کے مطابق واقعہ کے دوران دو معصوم بچے بھی ناصبی دہشت گردوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر کراچی شہر کے ایک اور علاقے میں نیو کراچی میں ایک شیعہ مومن کے گھر میں سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے حملہ کرکہ کمسن شیعہ مومن احتشام کو زبح کردیا مزید اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے نیوکراچی کے رہائشی شیعہ مومن کے گھرپر اچانک کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے حملہ کردیا حملے کے نتیجے میں کالعدم سپاہ صحابہ کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے شہید احتشام کے والد کو اپنن بندوق کا بٹ مار کر بیہوش کردیا۔ جس کے بعد احتشام کو جن کی عمر 16 سال تھی۔ زبح کردیا۔ شہید احتشام کو رضویہ امام بارگاہ منتقل کردیا گیا ہے۔ جہاں عینی شاہدین نے بناتا کہ شہید احتشام کا سر تن سے جُدا ہے۔ شہید کی نمازیں جنازہ آج بعد نمازیں مغربین امام بارگاہ شاہ کربلا میں ادا کی جائے گی .واصع رہے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں کالعدم دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے ہاتھوں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کل بروز بدھ کوئٹہ سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے شیعہ مومن احمد نثار کواپنی دہشتگردی کا نشانہ بنایا تھا۔جبکہ گزشتہ دنوں کراچی میں ایک شیعہ نوجوان محمد پاشا بھی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی دہشتگردی کا نشانہ بن چکا ہے

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق کو گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب حکومت نے (ایم پی او) کے تحت آئین ایک ماہ کیلئے نظر بند کر دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق کی نظر بندی ختم کر کے رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ پنجاب میں شیعہ عماءدین کے قتل اور دیگر مقدمات میں ملوث ہونے کے الزام میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق کو گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب حکومت نے (ایم پی او) کے تحت آئین ایک ماہ کیلئے نظر بند کر دیا تھا ایک ماہ کی نظر بندی کے خاتمے کے بعد انہیں جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی ریویو بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ریویو بورڈ نے ملک اسحاق کی نظر بندی میں مزید توسیع دینے سے انکار کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے ملک اسحق کی رہائی کو دہشت گردی کے فروغ سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت سے ان کی دوبارہ گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے رہنما سلمان رشید کا کہنا ہے کہ ملک اسحاق کی رہائی سے مذہبی منافرت میں شروع ہو گئی تھی اور ملک ریاض نے علی پور میں جا کر مخالف فرقہ کے خلاف نعرے بازی کی تھی جس پر شہر کے حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا تھا جس پر دونوں جانب سے متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ سلمان رشید کا کہنا ہے کہ ملک اسحق کی رہائی سے ایک بار پھر دہشت گردی کو فروغ ملے گا اور فرقہ واریت کو ہوا ملنے سے صوبے کا امن خراب ہو گا۔

قائد ملت جعفریہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سانحہ خان پور کے خلاف  جمعہ ٢٠ جنوری کو پاکستان کے تمام صوبوں میں احتجاج کے طور پر منایا جائے .نمائندے کے مطابق سانحہ خان پور کے خلاف ملتان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ نے سانحہ خان پور کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ایسے گھناؤنے جرم کرنے والے درندوں کاکسی بھی مسلک سے تعلق نہیں ہوتا،ہم عزاداری کومکمل آزادی سے منائیں گے ، ہمارے ملک کا آئین ہمیں اس بات کی اجازت دیتاہے کہ ہم جب بھی اورجہاں بھی چاہیں عزاداری برپاکرسکتے ہیں، میں کسی لائسنس کو قبول نہیں کرتا اگرپارلیمنٹ میں عزاداری کو محدود کرنے کاکوئی بل پیش کیاگیاتوہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا،یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام فرقوں کے ماننے والوں کوتحفظ فراہم کرے ۔ قائدملت جعفریہ نے مزید کہا کہ ملک میں اس وقت قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ، عزاداری امن کا پیغام دیتی ہے، دہشت گردی کے ایسے واقعات سے عزاداری کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قائد ملت جعفریہ نے  تمام ائمہ مساجد ،جعفریہ اسٹوڈنٹس ،جعفریہ یوتھ سمیت تمام کارکنوں اورملت جعفریہ سے بروز جمعہ ٢٠ جنوری کو  یوم  احتجاج کے طور پر منانے کے لئے کہا ہے-

کراچی:  شیعہ علماکونسل پاکستان سندھ کے رہنماعلامہ شبیرمثیمی نے سانحہ خانپورکی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کوگرفتارکیا جائے اور جیلوں میں موجود ملزمان کوسزادی جائے۔ وہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر علامہ جعفرسبحانی، علامہ منصورنقوی ، علامہ فیاض مظہری ودیگربھی موجودتھے۔ انہوں نے کہاکہ مطالبات نہ مانے جانے کے خلاف جمعہ کوقائد ملت جعفریہ علامہ ساجدعلی نقوی کے حکم پرملک گیر احتجاج کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ عسکری رضاکے قتل میں مبینہ طورپرملوث پولیس افسرکو برطرف کرنے سے معذوری ظاہر کرنے والے گورنرسندھ کوچاہئے کہ وہ خودکوبرطرف کرلیں ۔ پریس کانفرنس کا مقصد خان پور میں ہونے والے بم دھماکہ اور خیر پور میں عزاداروں پر چھوٹے مقدمہ قائم کرنے کے خلاف ہے حکومت دہشت گردوں کے آگے بے بس نظر آتی ہے عملا ملک دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے حکومت ناکام ہوچکی ہے اس کاسب سے بڑا ثبوت خانپور میں جلوس کے دوران ہونے والی دہشت گردی ہے ہم سمجھتے ہیں ہیں یہ بم دھما کہ سکیورٹی فوسز کی نااہلی کا نتجہ ہے کہ جب سب جگائیں کلیرکردی گئی تو پھر یہ دھماکہ کیسا ہوا بم کیسے وہاں لایا گیا ، اور ایک نہیں تیس بم نصب کردئے گئے اور انتظامیہ کو معلوم ہی نہیں اس پر یہ کہ بم دھما کہ کی تصدیق کرنے اور حالات کو کنٹرول کرنے( آر پی ا )سے یہ بیان چلوایا گیا کہ یہ (پی ایم ٹی )میں دھماکہ ہوا ہے تاکہ اپنی نااہلی کو چھپاسکے اور باقی دو بم جو برآمد کریے گئے پھر وہ کیا تھے لگتا ایسا ہے کہ یہ سب کام ایک منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے ہم حکومت کو واضع کردیتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کے مسئلہ کو سنجیدگی نہ کیا گیا تو ہم اپنے دفاع کرنے کا حق رکھتے ہیں . اگر ملک کے حالات کنٹرول سے باہر ہوئے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی دہشت گردی کا واقعہ فرقہ واریت پھلانے کی ناکام کوشش ہے ہم واضع کردینا چاہتے ہیں ،کہ اس ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں بلکہ تمام مسالک کے درمیان مثالی اتحاد موجود ہے اور ہم اس کو کسی صورت میں متاثر نہیں ہونے دیگے حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کررے اور مجروموں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے . ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ خانپور کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے اور رپورٹ منظر عام پر لائی جائے . سانحہ میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے . جیلوں میں موجود دہشت گردوں کو سزا دی جائے . خیر پور میں بیگناہ مومنین پر قائم ہیں جھوٹے مقدمات واپس لیجائیں. 20جنوری بروز جمعہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر سانحہ خانپورپر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا.

 

مانچسٹر: مانچسٹر میں چہلم سیدنا امام حسین و شہدائے کربلا نہایت عقیدت احترام کے ساتھ منایا گیا ۔اس سلسلہ میں مختلف مساجد اور امام بارگاہوں میں جلسے منعقد ہوئے اور مجالس کا اہتمام کیا گیا شیعہ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مسجد الحسین چیتہم ہل میں اور 404 ماس لین جعفریہ اسلامک سینٹر میں علمائے کرام نے شہادت کے مسائل و مصائب بیان کئے جبکہ مرکزی جامع مسجد و کٹوریہ پارک مانچسٹر روحانی ویلفیئر ایڈوائزری سینٹر میں شان امام حسین و اہلبیت بیان کی گئی شیعہ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر جوہر کاظمی اور سابق صدر افتخار شاہ کاظمی ،امتیاز کاظمی، سید حلب شاہ نے مسجد حسین میں دو مجالس کا اہتمام کیا جس میں ڈاکٹر ماجد رضا عابدی اور علامہ عابد رضوی نے واقعہ کربلا کو تفصیل سے بیان کیا اس طرح جعفریہ اسلامک سینٹر بھارت سے آئے ہوئے شیعہ عالم دین ڈاکٹر قمر رضوی نے مجلسیں پڑھیں جبکہ مسجد حسن میں تابوت امام حسین برآمد کیا گیا اس موقع پر سوگواران حسین نے ماتم بھی کیا۔     

ماسکو… روسي وزير خارجہ سرگئي لاوروف نے خبردارکيا ہے کہ مغربي ممالک کي جانب سے ايران پر ممکنہ حملہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جبکہ اسرائيلي وزير دفاع نے کہا ہے کہ ايران پر جلد حملے کا کوئي امکان نہيں.ميڈيا رپورٹس کے مطابق ماسکو ميں سالانہ پريس کانفرنس کے دوران روسي وزيرخارجہ نے کہا امريکہ اور مغربي ممالک کي تہران کے متنازعہ جوہري پروگرام کے پس منظر ميں ايران پر حملہ تباہ کن اور يہ جلتي پر تيل چھڑکنے کے مترادف ہوگا اور اس سے مسلمان ممالک ميں پہلے سے موجود فرقہ ورانہ تفريق ميں اضافہ ہوگا.انھوں نے کہا کہ ايران پرحملہ سے رد عمل کا ايک ايسا سلسلہ شروع ہوگا جس کو روکنا نا ممکن ہو جائے گا.دوسري جانب مقامي ريڈيو سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائيلي وزير دفاع ايہود باراک نے کہا ہے کہ ايران پر جلد حملے کا کوئي امکان نہيں ہے .روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے تباہ کن نتائج برآمد ہونگے ،فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔مغرب ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ بات صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی ادھر سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہاہے کہ ان کا ملک ایرانی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام دستیاب آپشنز کو استعمال کرے گا ایرانی دھمکیوں سے غیرمطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوجائے گی۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے یہ بات بحرین میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اپنے مفادات یا سکیورٹی کے لیے کسی خطرے کی صورت میں ہم اپنی قومی اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ محاذ آرائی میں اضافے اور کشیدگی کا نتیجہ فوجی مہم جوئی کی صورت میں نکل سکتا ہے اور اس کے ناقابل یقین مضمرات ہوں گے یا اس سے غیر مطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوسکتی ہے

تہران (آن لائن) ایران میں ایک بیروزگار شخص نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پر جوتا پھینک دیا تاہم ایرانی صدر بچ گئے، ایرانی ویب سائٹ کے مطابق ایران کے صدر احمدی نژاد شمالی شہر ساری کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس شہر کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں ملازمت سے نکالے گئے بیروزگار شخص نے اپنا جوتا اتار کرایرانی صدر پر پھینک دیا تاہم جوتا ایرانی صدر کو نہیں لگا اور وہ حملے میں بچ گئے، اس کے بعد مذکورہ بیروزگار شخص نے حکومت کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ شخص بیروزگاری کی مراعات نہ ملنے کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ بیروزگار شخص کی اس حرکت کے بعد حکام نے اس کا مسئلہ سنا اور روزگار فراہم کردیا، ایرانی صدر کا یہ اقدام  بالکل اسی طرح ہے جیسے اوائل اسلام میں جب لوگ مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہو کر کبھی خدا کی شان اور کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتے تھے جس پر بعض لوگ تلوار نکال لیتے اور سائل کو زدوکوب کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے مگر رسول خدا ان غصہ کرنے والے افراد کو بیٹھا دیا کرتے تھے اور آنے والے ستم رسیدہ، پریشان حال اور مصیبت زدہ افراد کو اپنے پاس بلاتے، کھانا کھلاتے  اور ان کے مسائل کو سنتے، رہنمائی فرماتے اور اپنے اہلبیت علیہ سلام کے زریعے سے ان کے مسائل کو حل کرتے تھے ۔

واشنگٹن(اے پی پی /آن لائن) وال سٹریٹ قبضہ کرو مہم کے شرکا نے وائٹ ہاوٴس کے احاطے میں دھواں پھیلانے والا بم پھینک دیا۔ جس کے باعث وائٹ ہاؤس کی عمارت عارضی طو ر پر بند کر دی گئی جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاوٴس کا کہنا ہے کہ سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین بیرونی گیٹ کے سامنے احتجاج کر رہے تھے جہاں انہوں نے وائٹ ہاوٴس کے اندر دھواں پھیلانے والا بم پھینک دیا۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ امریکہ کی خفیہ سروے کے ترجمان جارج اوگیلوی نے کہا ہے کہ نامعلوم فرد نے اس وقت وائٹ ہاؤس کے ایگزیکٹو کمپاؤنڈ کی باڑ کے قریب اندر دھواں اگلنے والا بم پھینکا جب وائٹ ہاؤس کے سامنے ”اکوپائے واشنگٹن“ کے ہزار سے پندرہ سو مظاہرین مظاہرے میں مصروف تھے۔ ترجمان نے بتایاکہ بم کے پھینکے جانے کی اطلاع کے فوری بعد وائٹ ہاؤس کو مختصر وقت کیلئے مکمل طور پر بند کرتے ہوئے داخلی اور خارجی گزر گاہوں سمیت تمام دروازے بند کر دیئے گئے تھے تاہم اس وقت صدر اوباما خاتون اول مچل کی سالگرہ کے اعزاز میں ان کو برتھ ڈے ڈنر دینے کیلئے باہر جا چکے تھے تاہم وائٹ ہاؤس میں معاملے کی تحقیقات ہو رہی تھیں کہ وہ واپس آگئے۔ خفیہ ادارے نے تحقیقات کیلئے وائٹ ہاؤس کے پریس سٹاف کو 45 منٹ تک باہر جانے سے روکے رکھا اور بعدازاں انہیں ایجنٹوں کے ساتھ باہر تک چھوڑا گیا۔ ترجمان نے بتایاکہ معاملے کی تحقیقات کیلئے وائٹ ہاؤس کے سامنے پنسلوانیا ایونیو بند کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد:  وزیر اعظم گیلانی اگر اس یقین دہانی پر سپریم کورٹ سے معافی کے راستے کا انتخاب کرتے اور اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں کہ تمام عدالتی احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا تو انہیں نہ صرف سوئس حکومت کو خط لکھنا ہو گا بلکہ اسپین اور برطانیہ کی حکومتوں کو بھی تیل برائے خوراک اسکینڈل ، سرے محل اور کئی دیگر کیس کھولنے کیلئے لکھنا پڑے گا ۔ این آر او پر تاریخی فیصلے پر عملدرآمد کے متعلق میڈیا صرف سوئس منی لانڈرنگ کیسز اور سوئس حکومت کو خط لکھنے کا حوالہ دے رہا ہے جبکہ این آر او مختصر فیصلہ 16دسمبر 2009ء کو آیا یا این آر او پر تفصیلی فیصلہ 27جنوری 2010کو آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان تمام ملکوں کو کرپشن کیسز دوبارہ کھولنے کیلئے خطوط لکھے جائیں ، جہاں بھی بند کئے گئے تھے ۔ بعد ازاں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران فاضل عدالت نے اپنے فیصلے پر دوبارہ زور دیا کہ حکومت کو صرف سوئس حکومت کو خط نہیں لکھنا بلکہ دوسرے تمام ملکوں کو بھی لکھنا ہے جہاں کرپشن کیس بند ہوئے تھے ۔ این آر او فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران اس وقت کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب بصیر قریشی نے دی نیوز کو ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ این آر او پر مذاکرات کے دوران نیب کے ایک سینئر قانونی مشیر شہزاد اکبر حکومت پاکستان کے احکامات پر رحمن ملک سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت کیخلاف حکومت کی درخواست واپس لینے کیلئے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ گئے تھے ۔ ”دراصل تیل برائے خوراک سکینڈل میں کروڑوں ڈالروں کی مبینہ خورد برد کے کیس اس وقت کے یو این سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی طرف سے متعلقہ حکومتوں اور ایجنسیوں کو بھیجے گئے، کچھ پاکستانی سیاستدانوں سے متعلق کیس میڈرڈ میں شروع کیا گیا ۔ اس کیس میں بطور سول پارٹی شمولیت کیلئے پاکستان نے میڈرڈ عدالت کو باضابطہ طور پر درخواست کی تھی“۔نیب کے سابق سینئر پراسیکیوٹر نے مزید کہا تھا ” یہ درخواست میڈرڈ کورٹ نے قبول کر لی تھی اور عدالتی کارروائی جاری تھی جب نیب کے سینئر قانونی مشیر شہزاد اکبر حکومت پاکستان( جنرل پرویز مشرف حکومت) کے احکامات کی تکمیل کیلئے میڈرڈ گئے اور درخواست واپس لے لی“قریشی کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتا کہ پاکستانی حکومت کے سرکاری طور پر اپنے موقف سے دستبردار ہونے کے بعد کیس اور خورد برد شدہ رقم کا کیا بنا۔دوسری طرف بصیر قریشی نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ حکومت پاکستان سرے محل کیس میں بھی فریق بن گئی تھی اور اس محل کے دعویداروں میں سے ایک تھی ، انہوں نے بتایا تھا کہ اسی عمل کے دوران نیب کے ایک سینیٹر عہدیدار نے لندن کا دورہ کیا اور برطانیہ میں اپنے وکیل کے ذریعے پاکستان کی حکومت کا دعویٰ واپس لے لیا، قریشی نے مزید کہا تھا کہ ” اس کیس میں بھی نیب عہدیدار حکومت پاکستان کے حکم پر لندن گیا تھا “جب قریشی سے پوچھا گیا کہ صدر آصف علی زرداری نے بھی تو عدالت میں سرے محل کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا اور عدالت کے ذریعے اسے حاصل کرنے کے بعد فروخت کر دیا تو بصیر نے کہا تھا کہ نیب کو اس کا علم نہیں اور یہ کہ حکومت پاکستان نے اپنے حکام کے ذریعے درخواست واپس لینے کی خاطر ان معلومات سے منع کر دیا تھا ، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر زرداری اور پی پی کی اعلیٰ قیادت ایک عشرے تک سرے محل کی ملکیت سے انکار کرتی رہی بالآخر اس کی ملکیت کا اعتراف کیا اور اسے عدالت کے ذریعے حاصل کرنے کے بعد فروخت کر دیا۔ 2006ء میں یہ کیس فیصلہ ہو رہا تھا اور آخری مرحلے پر کچھ قانونی عمل کے بعد جب پاکستان کو لاکھوں پاؤنڈ ملنے والے تھے تو پاکستانی حکومت این آر او کے بعد اپنی پوزیشن سے دستبردار ہو گئی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ 31 مئی 2007ء کو جب میڈیا رپورٹ کہا کہ مشرف حکومت میڈرڈ عدالت میں سول پارٹی سٹیٹس سے دستبردار ہو رہی ہے اور پیپلزپارٹی قیادت سے فوجی حکومت کی مجوزہ ڈیل کے نتیجے میں پاکستان کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو گا تو نیب نے ایک پریس ریلیز جاری کیا جو کہ اس کی ویب سائٹ پر مندرجہ ذیل لنک پر اب بھی موجود ہے۔ http://www.nab.gov.pk/press/news..asp?449 اس پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا تھا ”قومی احتساب بیورو سوئس عدالت سے بے نظیر بھٹو کے خلاف 150 ملین ڈالر کے کیس کی نیب کی واپسی سے متعلق بعض اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ حقیقی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے نیب کے ترجمان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور ان کے ساتھیوں (رحمن ملک اور حسن علی جعفری) کو تیل برائے خوراک پروگرام میں ملزم ٹھہرائے جانے کا کیس سپین کے معائنہ مجسٹریٹ کے سامنے زیرالتوا ہے جس میں منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ یہ کیس 2004ء میں سپینی حکام نے بنیادی اطلاعات اور شہادتوں پر شروع کیا تھا جو اس کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ نے جمع کی تھیں۔ حکومت پاکستان کو بھی اس کیس سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا اور سپین میں کسی مدد کے لئے کہا گیا تھا۔ بعدازاں 2006ء میں اقوام متحدہ کی انڈیپنڈنٹ انکوائری کمیٹی نے نیب کو بے نظیر بھٹو کی کمپنی PETROLINE FZC کے بدنام عراقی تیل برائے خوراک پروگرام میں ملوث ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی نے نیب کو کچھ ثبوت بھی مہیا کئے تھے۔ ویلنشیا میں سپینی کارروائی میں مدد اور 2004ء کی اپنی درخواست پر قائم رہنے کے لئے نیب کارروائی میں سول پارٹی بن گیا اور ایگزامنیشن مجسٹریٹ کو اقوام متحدہ انکوائری کمیٹی کے ثبوت پیش کر دےئے اور پاکستان کے دائرہ عمل میں ملزم کے خلاف دوسرے کیسوں کی تفصیلات بھی پیش کر دیں۔ مئی 2007میں سماعت کی آخری تاریخ پر نیب نے ویلنسیا ( سپین کا صوبہ) کورٹ کو بتایا کہ نیب نے اقوام متحدہ کی شہادت اور دیگر تمام متعلقہ ثبوت انہیں دیکر اپنا کام کر دیا ہے کیونکہ بنیادی طور پر سپینی استغاثہ کی کارروائی ہے اس لئے نیب کو بطور سول پارٹی بحیثیت حکومت پاکستان الگ ہونے کی اجازت دی جائے، اس کیس سے خزانے کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا

لاہور : سوئٹزر لینڈ میں قائم باسل انسٹیٹیوٹ آن گورننس کے انٹرنیشنل سینٹر فار ایسٹ ریکوری نے جو ترقی پذیر ملکوں سے چوری کئے گئے اثاثوں کی بازیابی میں عالمی قانونی امداد فراہم کرتا ہے نے انکشاف کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور ان کی مرحومہ اہلیہ بینظیر بھٹو پاکستان کے قومی خزانہ سے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم لوٹنے میں ملوث تھے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم اس ادارے نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی اس رقم میں سے اب تک صرف ایک سو بلین (10 کروڑ) ڈالر کا پتہ لگایا جا سکا ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر اس انسٹیٹیوٹ نے مزید لکھا ہے کہ بینظیر بھٹو کے وزارت عظمیٰ کے دور میں زرداری مبینہ طور پر کرپشن سے متعلق سرگرمیوں کے ماسٹر مائنڈ تھے جس سے بینظیر بھٹو بھی آگاہ تھیں اور لاکھوں ڈالر کی کرپشن کی گئی ہے۔ زرداری کاروباری افراد کو ٹھیکے دینے کے عوض مخصوص تناسب سے اپنا حصہ وصول کرنے کی شہرت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے مسٹر فائیو پرسنٹ، مسٹر 10 پرسنٹ، مسٹر 20 پرسنٹ، مسٹر 30 پرسنٹ اور مسٹر 100 پرسنٹ کے عرف سے مشہور ہوئے۔ انسٹیٹیوٹ کے مطابق بھٹو اور زرداری کی جمع کی ہوئی کل رقم میں سے 100 ملین سے زیادہ برطانیہ، فرانس، سوئٹزر لینڈ، امریکہ اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق بھٹو، زرداری کی پاکستان سے لوٹی گئی رقم ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی زائد ہے۔ انسٹیٹیوٹ مزید لکھتا ہے کہ ان کا یہ ناجائز منافع حکومت کی ہر مخصوص سرگرمی جس میں چاول کی برآمد کی ڈیل، سرکاری جائیدادوں کی فروخت، پی آئی اے کیلئے طیاروں کی خریداری، شوگر ملز، آئل و گیس کے پرمٹس، نشریات کے لائسنسوں، سرکاری صنعتوں کی نجکاری اور سرکاری ویلفیئر سکیموں میں سے اپنا ناجائز حصہ وصول کرنے تک شامل ہیں۔ آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کا تعارف کراتے ہوئے انسٹیٹیوٹ لکھتا ہے کہ بینظیر بھٹو دوبارہ پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ وہ دونوں دفعہ مبینہ کرپشن اور خراب حکمرانی کے الزامات کے تحت وزارت عظمیٰ سے معزول کی گئیں۔ 1998ء سے 2007ء تک بے نظیر بھٹو دبئی اور لندن میں جلا وطن رہیں۔ وہ اکتوبر 2007ء میں سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ ایک سمجھوتے کے بعد وطن واپس لوٹیں جس کے تحت ان کے خلاف لگائے گئے کرپشن کے تمام الزامات واپس لے کر ان کو معافی دی گئی۔ تاہم بے نظیر بھٹو کی سیاسی زندگی 27 دسمبر 2007ء میں ان کے قتل پر اختتام پذیر ہوئی۔ ان کے شوہر آصف علی زرداری نے (پاکستان کے موجودہ صدر) ان کے دونوں ادوار میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1993ء سے 1996ء تک وزیر سرمایہ کاری رہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے 1998ء میں شائع ہونے والے جان ایف برنز کے آرٹیکل کا حوالہ دیا ہے جس میں بھٹو کی لاکھوں ڈالر کی رقم کا سراغ لگانے کے حوالے سے لکھا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز میں اس حوالے سے اشاعت نے بی بی سی کی سٹوری کیلئے مواد کا کام دیا تھا۔ 2005ء میں ریمنڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب بھی اس حوالے سے شائع ہوئی تھی۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اثاثہ جات کی وصولی کے عالمی مرکز باسل انسٹیٹیوٹ آف گورننس میں شامل اہم شراکت داروں میں آئی ایم ایف، انٹرنیشنل اینٹی کرپشن اکیڈمی ‘دی کونسل آف یورپ، دی یورپین بینک برائے تعمیرنو و ترقی‘اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی)‘ ترقی و تعاون کی سوئس ایجنسی‘ معاشی معاملات کا سوئٹزرلینڈ کا سیکرٹریٹ‘ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چوری شدہ اثاثوں کی وصولی کیلئے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کی ہدایت‘ برطانیہ کا بین الاقوامی ترقی کا محکمہ، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے منشیات و جرائم‘ سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف باسل (سوئٹزرلینڈ) وغیرہ شامل ہیں۔ باسل انسٹیٹیوٹ آف گورننس کی ویب سائٹ پر بھی ایک کتاب ”اثاثہ جات وصولی میں غیرریاستی عناصر“ کے تعارفی پیراگراف میں دلچسپ انداو سے بیان کیا گیا ہے۔

جے پور (آن لائن)بھارت کے شہر جے پور میں سالانہ ادبی میلے میں معلون سلمان رشدی کی شرکت کا پروگرام بظاہر حکومت کے دباوٴ میں منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سلمان رشدی کی آمد کے خلاف بعض مذہبی مسلم تنظیمیں احتجاج کر رہی تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت سلمان رشدی کو بھارت نہ آنے دے۔جے پور ادبی میلے کی ویب سائٹ پر نیا شیڈو ل جاری کیا گیا ہے اس میں سلمان رشدی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

اسرائیل کے انتہا پسند یہودیوں کے ایک گروپ حریدی انتہائی سخت نظریات رکھتا ہے۔ یہ گروپ اسرائیل کی سیکولر آبادی پر بھی اپنے قدامت پسند اور سخت نظریات کا نفاذ چاہتا ہے۔ حریدی انتہائی سخت عقیدے کے حامل یہودی ہیں۔ یہ اپنے سیاہ لمبے کوٹ اور کالے ہیٹ کی وجہ سے سب سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ بیت شیمش میں خواتین مردوں کے ساتھ ایک ہی فٹ پاتھ پر نہیں چل سکتیں۔ ان کے لیے علیحدہ فٹ پاتھ مقرر ہیں۔ جگہ جگہ نشان ہیں کہ خواتین مناسب لباس زیب تن کریں۔ پورے بازو کی آستین اور لمبا اسکرٹ پہننا لازمی ہے۔ ان کے مطابق ایک آٹھ سالہ بچی کو بھی ایسا ہی لباس پہننا چاہیے۔ان کا مطالبہ ہے کہ بسوں میں خواتین اور مردوں کے حصوں کو الگ رکھنے کے قانون پر عمل درآمد جاری رکھا جائے۔ اسرائیل میں 1980ء سے بسوں میں مردوں اور خواتین کے علیحدہ حصے قائم ہیں۔ حریدی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک مظاہرے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت جرمن نازیوں سے مشابہت رکھتی ہے اور حکومت کا عوام کی زندگیوں میں غیر ضروری طور پر بہت زیادہ عمل دخل ہے۔اسرائیل کے آٹھ ملین یہودیوں میں سے تقریبا دس فیصد انتہائی مذہبی نظریات کے حامل ہیں اور جدید، مغربی اور سیکولر نظریات کی سخت مخالف ہیں۔ یہ یہودی گروپ دوسروں پر بھی اپنے نظریات کا نفاذ چاہتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال وہ بچی بھی ہے، جس پر ان کٹر یہودیوں نے جنوری میں تھوکنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔  یہ بچی اسکول جا رہی تھی اور ان یہودیوں کے مطابق اس نے نامناسب کپڑے پہن رکھے تھے۔ سیویا گرین فیلڈ ایک اسرائیلی تنظیم میفنے کی سربراہ ہے۔ یہ تنظیم جمہوریت اور خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم ہے، گرین فیلڈ کہتی ہیں، ’’ قدامت پسند یہودیوں کی کمیونٹی دوسرے طبقات پر بھی اپنے نظریات کا نفاذ چاہتی ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو مجبور کرنا کہ وہ آپ کی طرح زندگی گزاریں، درست سیاسی عمل نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہی ہو رہا ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی کمیونٹی ہے اور پورے ملک میں پھیلتی جا رہی ہے، جو دوسروں پر اپنے طرز زندگی کا نفاذ چاہتے ہیں۔‘‘ آزاد خیال اسرائیلی اب اپنے حقوق سلب کیے جانے سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ حریدی یہودیوں کے خلاف ایک مظاہرے کے دوران پلے کارڈز پر لکھا گیا تھا ’’ہم تہران نہیں بننا چاہتے‘‘۔ تل ابیب میں قائم مائیکرو انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ روبی تیتھنسن کا کہنا ہے کہ صورتحال تہران جیسی نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق اسرائیل کے تمام گروہوں کو باہمی احترام سے رہنا ہوگا۔ روبی تیھنسن کہتے ہیں کہ اسرائیل کا نظام چلانے کے لیے ہر گروپ کو اپنی حد کا خیال رکھنا ہو گا اور یہ قانون قدامت پسند یہودیوں کے لیے بھی ہونا چاہیے۔

میمو گیٹ اسکینڈل کے اہم کردار منصور اعجاز کو ایک عریاں ریسلنگ مقابلے میں کمنٹری کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو نے منصور اعجاز کے کردار اور خفیہ مراسلے کے معاملے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور ویب بلاگنگ میں آج کل اس ویڈیو پر بحث چل رہی ہے، جس میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز، جو میموگیٹ اسکینڈل کے اہم کردار ہے،کو کم کپڑے پہنے خواتین پہلوانوں کے ساتھ دکھایا گیا فلوریڈا میں مقیم پاکستانی نژاد منصور اعجاز کی یہ ویڈیو 2004ء میں ریکارڈ کی گئی تھی اور 2009ء سے یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ چونکہ منصور اعجاز پاکستان جاکر عدالت عظمیٰ میں پاکستانی حکومت کے خلاف اہم ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اسی لیے یہ ویڈیو پاکستانی ناظرین کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ بنیادی طور پر یہ اطالوی پروڈیوسر جونیئر جیک کی میوزک ویڈیو ہے، جس میں دو خواتین ریسلنگ رِنگ میں لڑ رہی ہیں۔ ڈی جے جونیئر جیک کے 2007ء کے گانے ’’سٹوپی ڈسکو‘‘ کی ویڈیو ٹوئٹر پر بھی پر پوسٹ کی گئی۔ اس کے بعد یہ دوسری سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر صارفین کی طرف سے شیئر کی گئی۔ یہ گانا برطانیہ کی سنگلز چارٹ میں نمبر 20 کے درجے تک پہنچ گیا تھا۔ اس گانے کی ویڈیو میں منصور اعجاز ’’ڈبل ڈی‘‘ اور ’’ناسٹی ناسٹی‘‘ نامی دو خواتین پہلوانوں کے درمیان ایک کشتی کے میچ پر کمینٹری کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو نکلی ہے لیکن پھر ایک شخص نے ویڈیو کی ’’میکنگ آف‘‘ یعنی اس کی تیاری کے مراحل پر مبنی ویڈیو کا لِنک پوسٹ کیا، جس میں منصور اعجاز کو اس ویڈیو کی ریکارڈنگ میں حصہ لیتےہوے دکھایا گیا ہے منصور اعجاز کا کہنا ہے کہ انہیں علم نہیں تھا کہ اس ویڈیو کے آخر میں دونوں خواتین مکمل طور پر عریاں ہوجائیں گی۔ منصور اعجاز کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو برسلز میں ریکارڈ کی گئی تھی اور پروڈیوسر کو امریکی تلفظ والا شخص نہیں مل رہا تھا۔ منصور اعجاز نے جان کو لاحق خطرے کے سبب اپنی مقامیت خفیہ رکھتے ہوئے خبر رساں ادارے اے پی سے ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو میں یہ بات کہی۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت موجود نہیں تھے، جب خواتین مکمل عریاں ہوجاتی ہیں البتہ ان کی بیوی ریکارڈنگ کے تمام مراحل میں موجود رہیں۔ منصور اعجاز نے اے پی کو 2004ء کی وہ ای میلز فراہم کی ہیں، جن میں انہوں نے ویڈیو کے پروڈیوسر کو قانون چارہ جوئی کی دھمکی دی تھی۔ منصور اعجاز کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے امریکی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ کے لیے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ایک خط امریکی حکام تک پہنچایا تھا، جس میں ممکنہ فوجی مداخلت سے بچنے کے لیے واشنگٹن  سے مدد طلب کی گئی تھی۔یہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے اندر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے زمانے کی بات ہے۔ حقانی عدالت میں پیش ہوکر اس الزام کو مسترد کر چکے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق منصور اعجاز پاکستان کے فوجی اڈے پر اتریں گے، جہاں سے انہیں سلامتی کے حصار میں عدالت عظمیٰ تک لایا جائے گا۔ پاکستان میں ان کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے مؤکل کی پاکستان آمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ اے پی نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت صدر زرداری پر بھروسہ نہیں کرتی اور میمو گیٹ اسکینڈل ان کی حکومت کو لاحق واحد خطرہ نہیں۔