قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجدعلی نقوی کے زیر اقتداء 22 شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی

Posted: 17/01/2012 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی خانپورپہنچ گئے،خانپورمیں دہشت گردعناصرنے چہلم کے موقع پر جلوس عزاء میں خودکش بم دھماکہ کیاتھاجس کے نتیجہ میں 22 مؤمنین شہیداور30  سے زائدزخمی ہوگئے تھے ،اس سانحہ پرخانپورکے مؤمنین سراپااحتجاج ہیں اورسانحہ کے بعدسے اب تک دہرنے کی صورت ہے ۔اس سراپا احتجاج میں شرکت  کے لئے قائدملت جعفریہ خانپورپہنچئے ۔ اطلاعات کے مطابق جب قائدملت جعفریہ  جائے حادثہ پر شہدائے چہلم کے لواحیقین کے درمیان پہنچے توہزاروں مؤمنین نے لبیک یاحسین کی صداؤں سے اپنے محبوب قائدکااستقبال کیا۔ اطلاعات کے مطابق خان پور میں جلوس عزا ء میں بم دھماکے میں شہید ہونے والے عزاداران امام حسین علیہ السلام کی نماز جنازہ آج خان پور میں ادا کر دی گئی ہے ،نماز جنازہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر اقتداء ادا کی گئی جبکہ جلوس جنازہ میں چالیس ہزار سے زائد سوگواروں نے شرکت کی ہے پولیس حکام نے تحقیقات کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ آئی جی نے جلوس کے شرکاء پر شیلنگ کے الزام میں ڈی ایس پی خالد مسعود بھٹی کو معطل کر دیا ہے۔ خانپور میں عزاداروں نے انتظامیہ کے رویے کیخلاف ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور تھانے کے سامنے عزاداروں کا دھرنا جاري ہے۔ دھماکے ميں جاں بحق ہونے والوں کي اجتماعي نماز جنازہ نمازِ ظہرين کے بعد ادا کردی گئی گي۔ شہر ميں سوگ ہے اور تمام کاروباري، تجارتي اور تعليمي ادارے بند ہيں۔ خانپور ميں امام بارگاہ دربار حسينيہ سے برآمد ہونے والے چہلم کے جلوس ميں دھماکے کے خلاف عزاداروں کا گزشتہ رات سے سٹي تھانہ کے سامنے دھرنا جاري ہے۔عزاداروں کا مطالبہ ہے کہ دھماکے ميں ملوث ملزمان کو گرفتار کيا جائے۔ دھماکے ميں جاں بحق ہونے والوں کي اجتماعي نماز جنازہ دھماکے کي جگہ پر نماز ظہرين کے بعد ادا کردی گئی گي۔ جس کے بعد جلوس روانہ ہوگیا اور مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شہر والا پھاٹک پہنچے گا، جہاں مجلس عزا برپا ہو گي۔ جس کے بعد جلوس روائتي راستوں سے ہوتا ہوا واپس شاہي روڈ پر امام بارگاہ دربار حسينہ پر اختتام پذير ہوا ۔ خان پور شہر ميں سوگ کي فضا ہے، تمام تعليمي اور تجارتي ادارے بند ہيں، بار ايسوسي ايشن نے عدالتي کارروائي کا بائيکاٹ کر رکھا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق خانپور میں ماتمی جلوس میں دھماکے سے جاں بحق افراد کا آج یوم سوگ ہے۔ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں ۔ ادھر پولیس حکام نے تحقیقات کے لئے دو ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ آئی جی نے جلوس کے شرکا پر شیلنگ کے الزام میں ڈی ایس پی خالد مسعود بھٹی کو معطل کر دیا ہے۔ خانپور میں عزاداروں نے انتظامیہ کے رویے کیخلاف ٹائر جلا کر احتجاج کیا ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو دی جانے والی حکومتی امداد کو مسترد کر دیا۔ اس موقع پر ہزاروں مؤمنین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائدملت نے کہاکہ ایسے گھناؤنے جرم کرنے والے درندوں کاکسی بھی مسلک سے تعلق نہیں ہوتا،ہم عزاداری کومکمل آزادی سے منائیں گے ، ہمارے ملک کا آئین ہمیں اس بات کی اجازت دیتاہے کہ ہم جب بھی اورجہاں بھی چاہیں عزاداری برپاکرسکتے ہیں، میں کسی لائسنس کو قبول نہیں کرتا اگرپارلیمنٹ میں عزاداری کومحدود کرنے کاکوئی بل پیش کیاگیاتوہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا،یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام فرقوں کے ماننے والوں کوتحفظ فراہم کرے ۔ قائدملت جعفریہ نے مزید کہا کہ ملک میں اس وقت قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ، عزاداری امن کا پیغام دیتی ہے، دہشت گردی کے ایسے واقعات سے عزاداری کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس موقع پر دہشت گردی کے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرانے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔ اجتماع میں موجودہزاروں مؤمنین نے لبیک یاحسین کے نعروں سے قائدملت کے خطاب کی تائیدکرتے ہوئے آپ کے ہرحکم اوراشارے پراپنی جانیں قربان کرنے کااعلان کیا۔

Comments are closed.