علامہ سید ساجد علی نقوی کا خطاب: سانحہ خان پور مجرموں کو کیفرکردار تک اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو ہم اپنے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

Posted: 17/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ عزاداروں کے شہادت کے واقعات پر صبر و تحمل کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہم اپنے اصولوں پر سودا بازی یا عقائد کے اظہار سے دستبرداری اختیار کرلیں گے۔ ہم عرصہ دراز سے پاکستان کی ریاست اور قانون کی طرف دیکھ رہے کہ وہ کب اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں؟ ورنہ اس فتنے کو روکنے کے لیے ہمارے پاس تمام آپشنز کھلے ہیں اور ہم اپنے حقوق کے تحفظ اور عوام کی سلامتی کے لیے دفاعی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے قوم کو متحد کرنے کے راستے پر عمل پیرا ہورہے ہیں۔ شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجا ب کے سیکریٹری اطلاعات سید اظہار نقوی کی طرف سے جاری کردہ اخباری بیان کے مطابق خان پور میں چہلم امام حسین ؑ کے شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ میں شریک ہزاروں شیعہ سنی عوام سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ خان پور جیسے تمام واقعات وطن عزیز کو دنیا بھر میں رسوا کررہے ہیں لیکن ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہورہا۔ کل ایک بار پھر خان پور میں پاکستان کی سرزمین نہتے اور بے گناہ عزاداروں کے خون سے رنگین ہوئی ہے۔ اس قسم کے واقعات کسی مسلکی یا مکتبی یا فقہی اختلافات کا نتیجہ نہیں بلکہ فرقہ پرست جنونی گروہوں کی کاروائیاں ہیں جو صرف اور صرف اسی مقصد کے لیے تیار کئے گئے ہیں۔ یہی گروہ جنوبی پنجاب میں بالعموم اور خان پور میں بالخصوص متحرک و فعال ہیں۔ جب تک ان کے خلاف سنجیدہ اور ٹھوس کاروائی نہیں کی جاتی تب تک پاکستانی شہری وقتا فوقتا خون میں نہلائے جاتے رہیں گے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم نے نچلی سطح کے ایک عام سرکاری ذمہ دار سے لے کر صدر اور وزیراعظم تک دہشت گردی کے اسباب و وجوہات اور عوامل کی تفصیلات پہنچائی ہیں اور ساتھ مجرموں اور قاتلوں کی بھی نشاندہی کی ہے اسی طرح عدلیہ کو بھی ہزاربار متوجہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی ادارے‘ عدلیہ اور حکومتیں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے دلیرانہ اقدامات سے گریزاں نظر آتے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہیں۔ اس قسم کے رویے اور صورت حال ریاست پر سوالیہ نشان بھی ہے اور بدنما داغ بھی۔انہوں نے کہا کہ اگر سانحہ خان پور کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں اور مجرموں وقاتلوں کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا گیا تو ہم اپنے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ چہلم کے اجتماع میں شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماؤں چوہدری فدا حسین گھلوی‘ ایم ایچ بخاری‘َ شیخ منظور حسین‘ علامہ سید ارشاد حسین نقوی ‘مولانانجم الحسنین خان‘ مولانا سید ضمیر حسین بخاری‘ سید مجید حسین زیدی اور دیگر متعدد علمائے کرام و ذاکرین عظام نے خطاب کیا۔ اس موقع پر خان پور کی فضائیں ’’لبیک یا حسین ؑ ‘‘اور ’’قائد کے فرمان پر جان بھی قربان ہے ‘‘کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہیں۔ لوگوں میں حیران کن طور پر جذبہ اور جوش و خروش پایا گیا اور انہوں نے عزم کیا کہ وہ آخری سانس تک دہشت گردوں کے خلاف صدائے حق بلند کرتے رہیں گے اور اس رستے میں سابقین کی طرح اپنے آپ کو بھی شہید ہونے کے لیے پیش کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔علامہ ساجد نقوی نے چودہ شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد تمام شہداء کو ان کے آبائی قبرستانوں میں تدفین کے لیے لایا گیا۔

Comments are closed.