ایرانی گیس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، اکانومی واچ

Posted: 17/01/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

اسلام آباد: پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے ترکمانستان سے پائپ لائن کے زریعے گیس کی درآمد مہنگی اور غیر یقینی ہے جبکہ پاکستان کے پاس توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایرانی گیس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ امریکی خوشنودی کیلئے تاپی پراجیکٹ پر ملک و قوم کا سرمایہ اور وقت برباد نہ کیا جائے اور امریکی ناراضگی کے خوف سے ایرانی گیس کے درآمد موخر کر کے ملک و قوم کا مستقبل تاریک نہ کیا جائے۔ کرزئی کی کمزور، غیر موثر اور کرپٹ حکومت افغانستان سے گزرنے والی پائپ لائن کی حفاظت نہیں کر سکے گی جسکی قیمت پاکستان کو چکانا ہوگی۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ امریکی اشرافیہ کی کثیر القومی تیل و گیس کمپنیوں میں شراکت ڈھکی چھپی نہیں اور دولت آباد کے گیس کے زخائر پر بھی انکی اجارہ داری ہے جس کے زریعے وہ ہمارا مستقبل برباد کر نے کی صلاحیت حاصل کر لینگے۔ امریکی خارجہ پالیسی پاکستان کو تباہ کر رہی ہے جبکہ حکومت جانتے بوجھتے ہوئے ہمارے معیشت کی قیمت پر ان کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہی ہے۔ مقامی آئل و گیس کمپنیاں کرپشن اور اقرباء پروری کی وجہ سے بیٹھ رہی ہیں جبکہ بدانتظامی ایل این جی کی درآمد میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مغل نے کہا کہ امریکی سفیر کا پچیس نومبر کو گیس کی درآمد سے متعلق بیان زمینی حقائق اور پاکستان کے مفاد کے برعکس تھا۔ اعلیٰ حکام ایرانی گیس کی درآمد کے منصوبہ کے متعلق یقین دہانیوں میں مصروف ہیں مگر حقیقت برعکس نظر آ رہی ہے۔ تاپی ایک غیر یقینی جبکہ ایران گیس پائپ لائن ایک قابل عمل منصوبہ ہے جس میں تاخیر صرف امریکہ اور مغربی کمپنیوں کے مفاد میں ہے۔

Comments are closed.