Archive for 17/01/2012

اسلام آباد: پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے ترکمانستان سے پائپ لائن کے زریعے گیس کی درآمد مہنگی اور غیر یقینی ہے جبکہ پاکستان کے پاس توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایرانی گیس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ امریکی خوشنودی کیلئے تاپی پراجیکٹ پر ملک و قوم کا سرمایہ اور وقت برباد نہ کیا جائے اور امریکی ناراضگی کے خوف سے ایرانی گیس کے درآمد موخر کر کے ملک و قوم کا مستقبل تاریک نہ کیا جائے۔ کرزئی کی کمزور، غیر موثر اور کرپٹ حکومت افغانستان سے گزرنے والی پائپ لائن کی حفاظت نہیں کر سکے گی جسکی قیمت پاکستان کو چکانا ہوگی۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ امریکی اشرافیہ کی کثیر القومی تیل و گیس کمپنیوں میں شراکت ڈھکی چھپی نہیں اور دولت آباد کے گیس کے زخائر پر بھی انکی اجارہ داری ہے جس کے زریعے وہ ہمارا مستقبل برباد کر نے کی صلاحیت حاصل کر لینگے۔ امریکی خارجہ پالیسی پاکستان کو تباہ کر رہی ہے جبکہ حکومت جانتے بوجھتے ہوئے ہمارے معیشت کی قیمت پر ان کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہی ہے۔ مقامی آئل و گیس کمپنیاں کرپشن اور اقرباء پروری کی وجہ سے بیٹھ رہی ہیں جبکہ بدانتظامی ایل این جی کی درآمد میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مغل نے کہا کہ امریکی سفیر کا پچیس نومبر کو گیس کی درآمد سے متعلق بیان زمینی حقائق اور پاکستان کے مفاد کے برعکس تھا۔ اعلیٰ حکام ایرانی گیس کی درآمد کے منصوبہ کے متعلق یقین دہانیوں میں مصروف ہیں مگر حقیقت برعکس نظر آ رہی ہے۔ تاپی ایک غیر یقینی جبکہ ایران گیس پائپ لائن ایک قابل عمل منصوبہ ہے جس میں تاخیر صرف امریکہ اور مغربی کمپنیوں کے مفاد میں ہے۔

Advertisements

کراچی (آئی این پی) زرداری، گیلانی حکومت نے اپنے اقتدار کے پہلے تین سالوں میں ملکی معیشت کو 40.57 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا‘ ہنری کسنجر کی اکتوبر 2001 کی پیشگوئی کے مطابق امریکا نے دہشتگردی کی جنگ افغانستان سے پاکستان میں منتقل کرنا شروع کر دی ہے، ساتواں این ایف سی ایوارڈ ملکی معیشت کی تباہی کا نسخہ ہے جسے موجودہ حکومت اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے‘ این آر او کا اجراء پاکستان کیخلاف گہری سازش تھی جس کا مقصد پاکستانی معیشت کو تباہ کرنا تھا ‘ زرداری اور گیلانی نے امریکی ایماء پر ہونیوالے اس معاہدے کے تحت پاکستانی معیشت کو دانستہ طور پر تباہ کیا ہے‘ امریکا نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسانے کیلئے آئی ایم ایف سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ دلایا ‘ ہالبروک زرداری کی مشاورت سے افغانستان پاکستان کیلئے ایلچی مقرر ہوئے۔ یہ انکشافا ت معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اپنی تازہ تصنیف ”پاکستان اور امریکا ۔۔دہشتگردی،سیاست و معیشت“ میں کئے ہیں۔ مصنف کے مطابق امریکی دباؤ پر پاکستانی حکومت پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو التواء میں ڈا ل رہی ہے‘ نائن الیون کے بعد فوجی حکومت اور بعدازاں موجودہ حکومت نے کرپشن اور ٹیکس چوری کی دولت کو قانونی تحفظ دینے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجراء کیا جو کہ ”مالیاتی این آر او“ ہے ‘ گزشتہ دس برسوں میں حکومت اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں سے غریب سے امیر طبقوں کو 11 ہزار ارب روپے منتقل ہوئے‘ ساڑھے تین برسوں میں دو کروڑ ستر لاکھ مزید افراد غربت سے نیچے چلے گئے ‘ دس کروڑ پاکستانیوں کو دو وقت کی روٹی اور 14 کروڑ کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں‘ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد جون 2009 میں منظور کردہ وفاقی بجٹ میں بیرونی وسائل پر انحصار بڑھایا گیا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ مشترکہ قرار داد پر عمل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ مصنف کے مطابق امریکا کی سرتوڑ کوششوں سے جاری ہونے والے این آراو کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس جنگ میں تمام حدود پار کردیں اور پاکستان کی سلامتی، بقا، یکجہتی اور معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ صدر زرداری نے ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن پر اپنے اطمینان کا اظہار کیاتھا جب کہ وزیراعظم گیلانی نے پاکستان کی سرحدوں کی پامالی کو فتح عظیم قرار دیاتھا۔ ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ کیری لوگر ایکٹ بھی پاکستان کے لیے ایک پھندا ہی تھا۔ 

ٹورانٹو: معلومات تک رسائی کی حکومتی درخواست بلیک بیری کمپنی ریسرچ ان موشن نے مسترد کر دی ہے۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ پرائیویسی قوانین کے تحت بلیک بیری کا ڈیٹا کسی دوسرے فریق کو نہیں دے سکتے. بلیک بیری کمپنی ریسرچ ان موشن کی جانب سے جاری کردی بیان کے مطابق اٹارنی جنرل پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے کا جواب دیدیا ہے، کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ پرائیویسی قوانین کے تحت بلیک بیری کا ڈیٹا کسی دوسرے فریق کو نہیں دے سکتے، ڈیٹا کے حصول کے لیے متعلقہ صارف ہی رجوع کرسکتا ہے، بلیک بیری کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ لیگل ٹیم کی جانب سے اٹارنی جنرل کی درخواست کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے. ٹورانٹومیں پاکستان کے قائم مقام قونصلر عمران علی نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے انہیں سربمہر مراسلہ ملا تھا جو انہوں نے بلیک بیری کمپنی ریسرچ ان موشن کے اعلی حکام کو بھجوایا تھا

واشنگٹن: امریکی ریپبلکن صدارتی امیدوار رک پیری نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی جانب سے طالبان کی لاشوں کی بے حرمتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ درست ہے کہ جو فوجیوں سے غلطی ہوئی تاہم یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں رک پیری نے کہا کہ یقیناً  اٹھارہ انیس سالہ فوجیوں سے اس طرح کی احمقانہ حرکت سرزد ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اس طرح کی غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں اور ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ انیس سو پینتالیس کی جنگ کے دوران بھی کچھ اس طرح کے  واقعات  ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ماننے والی ہے کہ ہمارے فوجیوں سے غلطی ہوئی تاہم انہیں مجرم قرار دینا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انتظامیہ کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہیے اور اپنے فوجیوں سے مجرموں جیسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔

تہران(اے ایف پی) تیل کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمزبندکرنے کی دھمکی پرامریکانے ایران کوایک خط بھیجا ہے ،ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنانے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست کے حوالے سے بتایاہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزان رائس نے سوئس سفیرکے ذریعے ایک خط ایرانی سفیر محمد خازئی کوبھیجاہے ، ترجمان کے مطابق خط کے مندرجات کاجائزہ لیاجارہاہے ،اگرضرورت پڑی تواس کا جواب دیاجائے گا،واضح رہے کہ آبنائے ہرمزکی ممکنہ بندش روکنے کے لئے امریکاعلاقے میں اپنی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ کررہاہے،ایرانی فورسزکے ڈپٹی چیف مسعود جزائری نے اتوارکوکہاہے کہ تمام ترپروپیگنڈے کے باوجودامریکی جارحیت ناکام رہے گی،واشنگٹن کواچھی طرح معلوم ہے کہ وہ علاقے میں ایران کی کسی کارروائی کوروکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ہماری پالیسی کشیدگی دور کرناہے تاہم اگرایران یاامت مسلمہ کوکوئی خطرہ لاحق ہوا تو ہماری افواج خطے میں پریشانیاں پیداکرنے کے خواہشمندوں سے ٹکرانے کی قابلیت رکھتی ہیں،ادھر ایرانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل حبیب الله سیاری نے کاکہناہے کہ آبنائے ہرمزبندکرناہمارے لئے پانی پینے جیسا آسان کام ہے ۔

واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل نے آئندہ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقیں رواں سال کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان رواں سال آسٹر چیلنج بارہ نامی سب سے بڑی مشترکہ فضائی مشقیں ہونا تھیں تاہم دونوں ممالک نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ مشقیں رواں سال کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نیوی کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بعض لاجسٹک وجوہات کی بناء پر رواں سال کے آخر تک ملتوی کر دی گئی ہیں جو کہ میزبان ملک اسرائیل کو درپیش ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ایسی رپورٹوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ہم یہ مشقیں ایران ساتھ کشیدگی کے باعث ملتوی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنمائوں نے لاجسٹک وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں سال کے آخر تک مشقوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ مشقیں بہار میں ہونا تھی تاہم اب دسمبر تک متوقع ہیں۔

لندن( پی اے) سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ نے کہاہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مسترد نہیں کرتاتاہم وہ پرامن مذاکرات پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران کے جوہری ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے حوالے سے تمام آپشن کھلے ہیں تاہم ہم فوجی کارروائی کی وکالت نہیں کرتے بلکہ اس کے بجائے ایران پر پابندیاں سخت کرکے اسے مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔ ولیم ہیگ کاکہنا تھاکہ ہم نے نہ توکبھی کسی امکان کو مسترد کیا ہے اورنہ ہی کسی آپشن کی حمایت کی ہے بلکہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تمام آپشنز کھلے ہونے چاہئیں اور یہ ایران پر دباؤ بڑھانے کاحصہ ہے۔

واشنگٹن (اے ایف پی) امریکی جریدے فارن پالیسی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اہلکار امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایجنٹوں کے بھیس میں عسکری گروپ جنداللہ کے اراکین کی مدد اور انہیں بھرتی کرتے رہے ہیں، اسرائیلی ایجنٹ امریکی پاسپورٹ اور ڈالر استعمال کرتے ہوئے خفیہ آپریشن میں مصروف ہیں، ہفتہ کو شائع ہونیوالی اس رپورٹ میں 2007ء اور 2008ء کی خفیہ سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق اسرائیلی ایجنٹ خود کو سی آئی اے کے اہلکار ظاہر کرتے ہوئے خفیہ آپریشن میں مصروف رہے۔ اسرائیلی ایجنٹوں نے اس آپریشن کے دوران امریکی پاسپورٹ اور ڈالروں کا استعمال بھی کیا۔ خفیہ ایجنسی کے اہلکار کے مطابق اس رپورٹ کے بعد وائٹ ہاوٴس میں ان خدشات نے جنم لیا کہ یہ اسرائیلی پروگرام امریکیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہا تھا۔ اہلکارنے مزید کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکا نے ایران کے خلاف خفیہ معلومات کے حصول کیلئے اسرائیل کا ساتھ دیا لیکن یہ واقعہ قدرے مختلف تھا۔ کسی کا کوئی بھی خیال ہو سکتا ہے لیکن امریکی ایرانی فوج کے اہلکاروں یا ایرانی شہریوں کی ہلاکت کے کاروبار میں شامل نہیں ہیں۔ 

تہران(رائٹرز) سپریم لیڈر رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کی توہین پر صدر احمدی نژاد کے قریبی ساتھی کو ایک سال کی سزائے قید سنا دی گئی۔ایک ایرا نی ویب سائٹ کے مطابق اسلامک ری پبلک نیوز ایجنسی (ارنا)منیجنگ ڈائریکٹر علی اکبر جاونفکرنے کب اور کیسے خامنہ ای کی توہین کی اس کا علم نہیں ہواہے۔علی اکبر کے پاس سزا کے خلاف اپیل کیلئے20دن کی مہلت ہے۔

کراچی (پ ر) تحریک حسینیہ کے تحت شیعہ سنی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس مسجد ایلیا میں مولانا اکرام حسین ترمذی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں سے سیکورٹی گارڈ کی واپسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک طرف تو حکومت قتل و غارت گری، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا رونا روتی ہے، دوسری طرف علماء اور مذہبی رہنماؤں کو نہتہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر حکومت سے کہا گیا کہ مذہبی اجتماعات کی سخت سیکورٹی کی جائے اس سلسلے میں تحریک حسینیہ کا وفد جلد حکومتی ذمہ داروں سے ملاقات کرے گا۔ 

کراچی : نواسہ رسول حضرت امام حسین  کا چہلم اتوار کو انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا، شہر بھر کی امام بارگاہوں میں مجالس عزا ہوئیں اور نواسہ رسول کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کی گئی، مرکزی مجلس پاک حرم ایسوسی ایشن کے زیراہتمام نشتر پارک میں برپا ہوئی جس سے مولانا شہنشاہ نقوی نے خطاب کیا ، بعدازاں نشتر پارک سے جلوس برآمد ہوا جو مخصوص راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں پر اختتام پذیر ہوا، جلوس میں علم و ذوالجناح شامل تھے اور شرکاء راستے بھر نوحہ خوانی اور ماتم کرتے رہے، نشتر پارک میں مرکزی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شہنشاہ نقوی نے کہا کہ نواسہ رسول نے اسلام کی سربلندی اور اصولوں کی خاطر عظیم قربانی دی، اُنہوں نے کہا کہ اسلام کسی کے ساتھ ناروا سلوک کا حکم نہیں دیتا اور دین کی غلط تشریح کسی طرح درست نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دین کے حقیقی پیغام کو عام کیا جائے۔     

لسبیلہ،کوئٹہ (اے پی پی) بلوچستان کے علاقہ حب میں نامعلوم افراد کی امام بارگاہ پر فائرنگ کے نتیجہ میں سیکورٹی گارڈ جان بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق اتوار کو حب کے علاقہ جمعہ کالونی میں واقع امام بارگاہ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں سیکورٹی گارڈ محمد موسیٰ موقع پر ہی جان بحق ہو گیا جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے نعش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالہ کر دی اور مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔دریں اثناء ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی حضرت امام حسین علیہ اسلام اور شہداء کربلا کے چہلم کی مناسبت سے جلوس نکالا گیا جس کی قیادت بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر اشرف زیدی اور دیگر علماء نے کی۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا قبرستان پہنچا جہاں جلوس کے شرکاء نے دعا کی۔ جلوس کے موقع پر ممکنہ کسی بھی تخریب کاری کے خطرے کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے، جلوس کے راستوں کو ہفتہ کی رات کی مکمل سکریننگ کے بعد سیل کردیا گیا تھا اور جلوس کے روٹس کی خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی رہی تاہم اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔    

قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی خانپورپہنچ گئے،خانپورمیں دہشت گردعناصرنے چہلم کے موقع پر جلوس عزاء میں خودکش بم دھماکہ کیاتھاجس کے نتیجہ میں 22 مؤمنین شہیداور30  سے زائدزخمی ہوگئے تھے ،اس سانحہ پرخانپورکے مؤمنین سراپااحتجاج ہیں اورسانحہ کے بعدسے اب تک دہرنے کی صورت ہے ۔اس سراپا احتجاج میں شرکت  کے لئے قائدملت جعفریہ خانپورپہنچئے ۔ اطلاعات کے مطابق جب قائدملت جعفریہ  جائے حادثہ پر شہدائے چہلم کے لواحیقین کے درمیان پہنچے توہزاروں مؤمنین نے لبیک یاحسین کی صداؤں سے اپنے محبوب قائدکااستقبال کیا۔ اطلاعات کے مطابق خان پور میں جلوس عزا ء میں بم دھماکے میں شہید ہونے والے عزاداران امام حسین علیہ السلام کی نماز جنازہ آج خان پور میں ادا کر دی گئی ہے ،نماز جنازہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر اقتداء ادا کی گئی جبکہ جلوس جنازہ میں چالیس ہزار سے زائد سوگواروں نے شرکت کی ہے پولیس حکام نے تحقیقات کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ آئی جی نے جلوس کے شرکاء پر شیلنگ کے الزام میں ڈی ایس پی خالد مسعود بھٹی کو معطل کر دیا ہے۔ خانپور میں عزاداروں نے انتظامیہ کے رویے کیخلاف ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور تھانے کے سامنے عزاداروں کا دھرنا جاري ہے۔ دھماکے ميں جاں بحق ہونے والوں کي اجتماعي نماز جنازہ نمازِ ظہرين کے بعد ادا کردی گئی گي۔ شہر ميں سوگ ہے اور تمام کاروباري، تجارتي اور تعليمي ادارے بند ہيں۔ خانپور ميں امام بارگاہ دربار حسينيہ سے برآمد ہونے والے چہلم کے جلوس ميں دھماکے کے خلاف عزاداروں کا گزشتہ رات سے سٹي تھانہ کے سامنے دھرنا جاري ہے۔عزاداروں کا مطالبہ ہے کہ دھماکے ميں ملوث ملزمان کو گرفتار کيا جائے۔ دھماکے ميں جاں بحق ہونے والوں کي اجتماعي نماز جنازہ دھماکے کي جگہ پر نماز ظہرين کے بعد ادا کردی گئی گي۔ جس کے بعد جلوس روانہ ہوگیا اور مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شہر والا پھاٹک پہنچے گا، جہاں مجلس عزا برپا ہو گي۔ جس کے بعد جلوس روائتي راستوں سے ہوتا ہوا واپس شاہي روڈ پر امام بارگاہ دربار حسينہ پر اختتام پذير ہوا ۔ خان پور شہر ميں سوگ کي فضا ہے، تمام تعليمي اور تجارتي ادارے بند ہيں، بار ايسوسي ايشن نے عدالتي کارروائي کا بائيکاٹ کر رکھا ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق خانپور میں ماتمی جلوس میں دھماکے سے جاں بحق افراد کا آج یوم سوگ ہے۔ تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں ۔ ادھر پولیس حکام نے تحقیقات کے لئے دو ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ آئی جی نے جلوس کے شرکا پر شیلنگ کے الزام میں ڈی ایس پی خالد مسعود بھٹی کو معطل کر دیا ہے۔ خانپور میں عزاداروں نے انتظامیہ کے رویے کیخلاف ٹائر جلا کر احتجاج کیا ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو دی جانے والی حکومتی امداد کو مسترد کر دیا۔ اس موقع پر ہزاروں مؤمنین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائدملت نے کہاکہ ایسے گھناؤنے جرم کرنے والے درندوں کاکسی بھی مسلک سے تعلق نہیں ہوتا،ہم عزاداری کومکمل آزادی سے منائیں گے ، ہمارے ملک کا آئین ہمیں اس بات کی اجازت دیتاہے کہ ہم جب بھی اورجہاں بھی چاہیں عزاداری برپاکرسکتے ہیں، میں کسی لائسنس کو قبول نہیں کرتا اگرپارلیمنٹ میں عزاداری کومحدود کرنے کاکوئی بل پیش کیاگیاتوہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا،یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام فرقوں کے ماننے والوں کوتحفظ فراہم کرے ۔ قائدملت جعفریہ نے مزید کہا کہ ملک میں اس وقت قانون اور حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ، عزاداری امن کا پیغام دیتی ہے، دہشت گردی کے ایسے واقعات سے عزاداری کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس موقع پر دہشت گردی کے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرانے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔ اجتماع میں موجودہزاروں مؤمنین نے لبیک یاحسین کے نعروں سے قائدملت کے خطاب کی تائیدکرتے ہوئے آپ کے ہرحکم اوراشارے پراپنی جانیں قربان کرنے کااعلان کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ عزاداروں کے شہادت کے واقعات پر صبر و تحمل کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہم اپنے اصولوں پر سودا بازی یا عقائد کے اظہار سے دستبرداری اختیار کرلیں گے۔ ہم عرصہ دراز سے پاکستان کی ریاست اور قانون کی طرف دیکھ رہے کہ وہ کب اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں؟ ورنہ اس فتنے کو روکنے کے لیے ہمارے پاس تمام آپشنز کھلے ہیں اور ہم اپنے حقوق کے تحفظ اور عوام کی سلامتی کے لیے دفاعی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے قوم کو متحد کرنے کے راستے پر عمل پیرا ہورہے ہیں۔ شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجا ب کے سیکریٹری اطلاعات سید اظہار نقوی کی طرف سے جاری کردہ اخباری بیان کے مطابق خان پور میں چہلم امام حسین ؑ کے شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ میں شریک ہزاروں شیعہ سنی عوام سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ خان پور جیسے تمام واقعات وطن عزیز کو دنیا بھر میں رسوا کررہے ہیں لیکن ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہورہا۔ کل ایک بار پھر خان پور میں پاکستان کی سرزمین نہتے اور بے گناہ عزاداروں کے خون سے رنگین ہوئی ہے۔ اس قسم کے واقعات کسی مسلکی یا مکتبی یا فقہی اختلافات کا نتیجہ نہیں بلکہ فرقہ پرست جنونی گروہوں کی کاروائیاں ہیں جو صرف اور صرف اسی مقصد کے لیے تیار کئے گئے ہیں۔ یہی گروہ جنوبی پنجاب میں بالعموم اور خان پور میں بالخصوص متحرک و فعال ہیں۔ جب تک ان کے خلاف سنجیدہ اور ٹھوس کاروائی نہیں کی جاتی تب تک پاکستانی شہری وقتا فوقتا خون میں نہلائے جاتے رہیں گے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم نے نچلی سطح کے ایک عام سرکاری ذمہ دار سے لے کر صدر اور وزیراعظم تک دہشت گردی کے اسباب و وجوہات اور عوامل کی تفصیلات پہنچائی ہیں اور ساتھ مجرموں اور قاتلوں کی بھی نشاندہی کی ہے اسی طرح عدلیہ کو بھی ہزاربار متوجہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی ادارے‘ عدلیہ اور حکومتیں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے دلیرانہ اقدامات سے گریزاں نظر آتے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہیں۔ اس قسم کے رویے اور صورت حال ریاست پر سوالیہ نشان بھی ہے اور بدنما داغ بھی۔انہوں نے کہا کہ اگر سانحہ خان پور کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں اور مجرموں وقاتلوں کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا گیا تو ہم اپنے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ چہلم کے اجتماع میں شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماؤں چوہدری فدا حسین گھلوی‘ ایم ایچ بخاری‘َ شیخ منظور حسین‘ علامہ سید ارشاد حسین نقوی ‘مولانانجم الحسنین خان‘ مولانا سید ضمیر حسین بخاری‘ سید مجید حسین زیدی اور دیگر متعدد علمائے کرام و ذاکرین عظام نے خطاب کیا۔ اس موقع پر خان پور کی فضائیں ’’لبیک یا حسین ؑ ‘‘اور ’’قائد کے فرمان پر جان بھی قربان ہے ‘‘کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہیں۔ لوگوں میں حیران کن طور پر جذبہ اور جوش و خروش پایا گیا اور انہوں نے عزم کیا کہ وہ آخری سانس تک دہشت گردوں کے خلاف صدائے حق بلند کرتے رہیں گے اور اس رستے میں سابقین کی طرح اپنے آپ کو بھی شہید ہونے کے لیے پیش کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔علامہ ساجد نقوی نے چودہ شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد تمام شہداء کو ان کے آبائی قبرستانوں میں تدفین کے لیے لایا گیا۔

کراچی :جعفر یہ الائنس نے اتو ار کو خان پو ر کے چہلم کے جلو س میں بم دھما کے کی سخت الفا ظ میں مذمت کی ۔ جس میں کئی قیمتی جا نوں کا ضیا ع ہو ا ہے ایک با ر پھر وطن دشمن اسلام دشمن قو تق ں نے اہل تشیع کے پر امن مذہبی جلو س کو اپنی دہشت کا نشانہ بنا یا ہے ۔علامہ عبا س کمیلی سر برا ہ جعفریہ الا ئنس پا کستا ن نے اس دہشت گر دانہ روش کی سخت مذمت کی اور تمام شہدا ءکے لو احقین سے دلی صدمے اورر تعزیت کا اظہا ر کیا ۔سینئر نا ئب صدر مولا نا حسین مسعودی نے خان پو ر کے چہلم کے جلو س میںاسلام دشمن عنا صر کی اس بہیمانہ کا روائی کو انتہا ئی بزدلا نہ اقدام قرار یا ہے اور ان تما م شہداءکی عظمت کو سلام پیش کیا جو تسلسل سے دین حق کی بقا ءکے لئے قربا نیاں پیش کر رہے ہیں ۔جعفر یہ الائنس پا کستا ن کے جنرل سیکریڑی سلمان مجتبی ،ایڈیشنل سیکریڑی شبر رضا ،علا مہ با قر زیدی ، علامہ فر قان حیدر عابدی ،علامہ جعفر رضا ،چچا وحید ،اور دیگر نے اس واقعے کی مذمت کی اور اسے حکومت کی نا اہلی قرار دیا ۔اور شہدا ئے ملت جعفریہ کو خراج تحسین پیش کیا۔

شیعہ علماء کونسل پاکستان خیبر پختونخوا کے سربراہ علامہ رمضان توقیر نے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے جلوس میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکوں یا ٹارگٹ کلنگ سے عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کو محدود نہیں کیا جا سکتا، امریکہ و اسرائیل کی خوشنودی کیلئے پاکستان میں تشیع کو نشانہ بنایا جارہا ہے، صوبائی سیکرٹریٹ پشاور سے جاری ایک مذمتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جلوس عزاء کا مقصد یزیدیت کے خلاف احتجاج اور ہر اس ظالم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے جو کسی بے گناہ کا نا حق خون بہائے، لہذا عزاداروں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنا حکومت و انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئے روز دہشت گردی کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان تشیع کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، انہوں نے کہا کہ پشاور سمیت ملک بھر میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے ذریعے شیعہ عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے، مخصوص دہشت گرد گروہ ملک کے میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملت تشیع کو ظلم کا نشانہ بنارہا ہے جبکہ حکمران سو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے بھی اہل تشیع کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ علامہ رمضان توقیر نے مزید کہا کہ ایک دہشتگرد گروہ ملک کے اندر شیعان حیدر کرار کے خلاف منظم طریقے سے مختلف کارروائیوں میں ملوث ہے، جس کو حکومت میں بیٹھے کچھ افراد کی پشت پناہی حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ خانپور کے جلوس میں بم دھماکہ پنجاب حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دھماکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کرا گیا جسکی ذمہ دارانہ تحقیقات کرا کے واقعے کے پس پردہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

خانپور میں چہلم امام حسین علیہ السلام میں ہونے والی دہشت گردی کی شدیدمذمت کرتے ہیں،دشمن کی بزدلانہ حرکتوں سے کربلائی عزم کو نہیں روکا جا سکتا، شہید ہونے والے عزادروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، سانحہ اربعین خان پور میں ملوث امریکی و صیہونی ایجنٹ کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے ۔احتجاجی ماتمی  ریلی سے علماء و شیعہ رہنماؤں کا خطاب , کراچی میں سانحہ خان پور کے خلاف زبر دست احتجاج کیا گیا اور مسجد و امام بارگاہ شاہ خراسان سے امام بارگاہ علی رضا تک ایک احتجاجی ماتمی ریلی نکالی گئی ،احتجاجی ماتمی جلوس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی اورخان پور میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ہونے والے بم دھماکے میں ملوث کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیاگیا۔
ماتمی احتجاجی جلوس سے شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی ، شیعہ ایکشن کمیٹی کے مولانا مرزا یوسف حسین،ایم ڈبلیو ایم کے مولانا اعجاز بہشتی اور مولانا منور نقوی سمیت دیگرعلماء نے خطاب کیا۔ احتجاجی  ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علماء و مقررین نےکہاکہ اس وقت ملک بھر میں عزادری سیدالشہداء کو نشانہ بنایا جارہا حکومت ملت جعفریہ اور عزاداری کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو اگر پہلے ہی پابند کر دیا جاتا تو ملک بھر میں دہشت گردانہ کاروائیاں نہ ہوتیں ،خان پور دھماکے میں ملوث کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے پنجاب حکومت سے روابط نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت میں موجود عناصر دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں تاکہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا جائے،حکومت خان پور میں جلوس عزا پر ہونے والے دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کے بجائے ان کو گرفتار کرے انہون نے مزید کہاکہ امریکی و اسرائیلی ایماء پر کالعدم دہشت گرد عناصر پاکستان کے معصوم اور بے گناہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں تاہم حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے۔ رہنماؤں کاکہنا تھا کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کاراج ہے آئے روز شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے ،انہوں نے گذشتہ دنوں شہر کراچی میں دو شیعہ عمائدین غلام پاشا اور غلام رضا کی شہادت پر بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملت جعفریہ کے عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث امریکی ،اسرائیلی اور کانگریسی ایجنٹوں کو گرفتار کیا جائے ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ خان پور بم دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس موقع پر شرکائے جلوس نے لبیک یا حسین کے فلک شگاف نعرے بلند کئے اور دہشت گردوں کی سرکوبی کا مطالبہ کیا۔

 

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدرسید علی رحمن شاہ نے خانپور میں جلوس چہلم حضرت امام حسین ع میں ہونے والے بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت امام حسین ع کی ذات تمام مکاتب فکر کیلئے مقدس ہے اور ان کی جدوجہد ظالم کے خلاف تھی اور جلوس عزاء ظالموں کے خلاف صدائے احتجاج ہے، اس کو فول پروف سکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری امام حسین ع کو کوئی بھی بم دھماکوں سے نہیں روک سکتا، بلکہ یہ شہادتوں سے اور بھی مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملت تشیع کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے، کوئٹہ اور کراچی کے اندر آئے روز ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بے گناہ شیعہ افراد کا قتل عام جاری ہے اور حکمران چین کی نیند سو رہے ہیں، سکیورٹی ادارے بھی شیعہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک مخصوص گروہ ملک کے اندر شیعان حیدر کرار کے خلاف منظم طریقے سے مختلف کارروائیوں میں ملوث ہے، جن کو حکومت کے اندر بیٹھے کچھ افراد کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کے ان کے خلاف سخت کارروائی کرے اور سانحہ خانپور میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچائے، قبل اس کے کہ ملت تشیع کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا راجہ ناصر عباس جعفری نے خانپور میں جلوس عزا میں ہونے والے بم دھماکے کے خلاف مذمتی بیان میں کہا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب سے خراب تر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں خانپور کی پولیس و انتظامیہ کو دہشت گردی کے اس المناک واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجالس عزا کے مقامات اور جلوسوں کے روٹس کی کلیرنس سیکورٹی اداروں کی ذ مہ داری ہے لیکن امن و امان کے حوالے سے ملک موجودہ مخدوش صورتحال کے باوجود اس یہ ذمہ داری پوری کرنے پر توجہ نہیں دی گئی ۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پولیس کی جانب سے اپنی نا ہلی کی پردہ پوشی کے لیے اس سانحہ عظیم کوحادثہ کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے دہشت گردوں کی فوری گرفتاری اور پولیس و انتظامیہ کے نا اہل افسران کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

شہدادکوٹ ؛ گارو وڈھو گاووں ۔تحصیل میروخان میں اربعین حسینی کے دن  کالعدم تنظیم سپاه صحابہ کے شرپسند عناصر کی طرف سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں شیعہ کافر کے نعرہ لگاتے ہوئے شیعہ مقدسات کی توہین کی گئی اس مذموم حرکت کے بعد مومنین نے پر امن مظاہره کرتے ہوئے شرپسند عناصر کے خلاف اپنا احتجاج کا لیکن انتظامیہ نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی ایس پی شمس مگسی نے شر پسند عناصر کی مکمل حمایت کی  اور توہین رسالت کی ایف آئی آر شیعہ علماء کونسل کے مقامی رہنما جناب اشفاق حسین کے خلاف درج کردی ۔ ڈی ایس پی کی اس جانبدارانہ کاروائی کے خلاف مؤمنین کی بڑی تعداد جمع ہو کر اس ایف آئی آر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس جهوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر کو ختم کیا جائے اور اصلی مجرمان کے خلاف کاروائی کی جائے .جعفریه پریس کے مطابق  ڈی ایس پی شمس مگسی کی جانبدارانہ کاروائی اور جهوٹی و بے بنیاد ایف آئی آر کو ختم کرانے  کے لئے کل ٹھیک بارہ بجےشدید احتجاج کا اعلان کردیا گیا ہے.