زیر سمندر آتش فشانی دہانوں میں زندگی دریافت

Posted: 15/01/2012 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Educational News, Important News, Russia & Central Asia, Survey / Research / Science News

سمندروں کے اندر کئی کلومیٹر کی گہرائیوں میں موجود آتش فشانی دہانوں میں زندگی کی شکلوں کا پتہ چلا ہےجو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ یہ بات تحقیقی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ سمندر کی تہہ میں بغیر آنکھوں والے جھینگے اور سفید شکنجوں والے چھوٹے جاندار سمندری مخلوق کی ان چند قسموں میں شامل ہیں جو معدنیات سے بھرپور پانی میں 450 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی قائم و دائم ہیں۔ ان دہانوں کے گرد زندگی کا سراغ کیمین جزائر کے جنوب میں Cayman Trough کہلانے والے علاقے میں بحیرہ کیریبیئن کی تہہ میں ملا ہے۔ سمندر کی سطح سے پانچ کلومیٹر نیچے واقع یہ جگہ دنیا کے سب سے گہرے ’سیاہ دھواں اگلنے والے‘ دہانوں کا مرکز ہے۔سن 2010ء میں سر انجام دی جانے والی ایک مہم کے دوران برطانیہ کے National Oceanography Centre کے  میرین جیو کیمسٹ Doug Connelly اور University of Southampton کے ماہر حیاتیات جون کوپلے نے اس جگہ کو چھاننے کے لیے روبوٹ کی مدد سے چلنے والی ایک آبدوز استعمال کی۔ محققین نے قریب واقع ماؤنٹ ڈینٹ میں ماضی میں نہ دریافت ہونے والے آتش فشانی دہانوں کا بھی کھوج لگایا۔ ماؤنٹ ڈینٹ پہاڑی سلسلہ سمندر کی تہہ سے شروع ہو کر تین کلومیٹر تک اوپر اٹھتا جاتا ہے۔ Connelly نے ایک بیان میں کہا: ’’ماؤنٹ ڈینٹ پر سیاہ دھواں اگلنے والے دہانے دریافت کرنا بالکل حیران کن تجربہ تھا۔ اس علاقے میں ماضی میں اس طرح کے گرم اور تیزابیت والے دہانے کبھی نہیں دیکھے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان دریافتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سمندروں کی گہرائیوں میں موجود آتش فشاں کے دہانے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ آبدوز پر نصب کیمروں سے کھینچی گئی تصویروں میں انتہائی زرد رنگ کے جھینگوں کا سراغ ملا جن کی آنکھوں کے بجائے پشت پر روشنی کو محسوس کرنے والے اعضاء تھے تاکہ وہ سمندر کی گہرائیوں میں انتہائی مدہم روشنی میں راستہ تلاش کر سکیں۔ اس سے ملتی جلتی ایک نوع چار ہزار کلومیٹر دور بحر اوقیانوس کے وسط میں بھی پائی گئی ہیں۔کوپلے نے کہا: ’’ان دہانوں کے گرد پائی جانے والی مخلوق پر تحقیق اور ان کا دنیا کے دیگر آبی دہانوں میں پائی جانے والی انواع کا موازنہ کرنے سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ جانور کس طرح گہرے سمندروں میں منتشر اور ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ ماؤنٹ ڈینٹ کے دہانوں میں جھینگے کی ایک اور قسم کے علاوہ سانپ کی شکل کی ایک مچھلی کا بھی سراغ ملا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہیں۔

Comments are closed.