ایران مخالف پابندیوں سے چین بھی متاثر

Posted: 15/01/2012 in All News, China / Japan / Koriea & Others, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ نائف سے ملاقات کے دوران تیل و گیس کے شعبے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسے ایران کے توانائی کے شعبے پر ممکنہ پابندیوں اور وہاں سے بیجنگ کے لیے خام تیل کی برآمد کی ممکنہ بندش کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شینہوا کے مطابق وزیر اعظم وین جیا باؤ نے خلیجی ریاستوں کے اپنے دورے میں ہفتے کو ولی عہد شہزادہ نائف سے ملاقات کی۔  وزیر اعظم جیا باؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے، ’’ چین اور سعودی عرب ترقی کے اہم مرحلے میں ہیں اور اس موقع پر تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔  سعودی عرب خام تیل کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا سر فہرست ملک ہے۔ خام تیل اور گیس کے ذخائر تک رسائی اور ان کی پروسیسنگ سے متعلق اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے چینی وزیر اعظم نے مزید کہا، ’’  تجارت اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے دونوں اطراف کو مل کر کوششیں کرنی چاہیں، گیس اور خام تیل کی اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم میں۔شینہوا کی رپورٹ میں ایران کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئی ایران مخالف پابندیوں سے چین بھی متاثر ہوسکتا ہے کہ کیونکہ وہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ چین کو خام تیل کی برآمد کے حوالے سے سعودی عرب اور انگولا دو سرفہرست ممالک ہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز اس امریکی فیصلے کی بھی مذمت کی، جس کے تحت ایران سے لین دین کرنے والی چین کی سرکاری کمپنی زھوہائی زھینرونگ کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بیجنگ کا البتہ مؤقف ہے کہ امریکہ نے اپنے قومی قوانین کا نفاذ ایک چینی کمپنی پر کیا ہے اور یہ اقدام ایران مخالف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لندن میں مقیم چینی امور کے ماہر مائیکل مائیڈن کے بقول چین کو ایران اور شام کی صورتحال کی وجہ سے کچھ خدشات لاحق ہیں۔ مائیکل مائیڈن کے بقول یہ خدشات بالخصوص عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سے متعلق بھی ہیں۔ چینی وزیر اعظم متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔

Comments are closed.