ایرانی تیل کا متبادل فراہم کیا تو خلیج فارس کے ممالک مغرب کے حواری تصور کیا جائیں گے

Posted: 15/01/2012 in All News, Breaking News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

ایران نے اپنے خلیجی ہمسایہ ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مغرب کی جانب سے تہران پر لگائی جانے والی ممکنہ اضافی پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی عالمی پیداوار میں کمی کی تلافی کے لیے اپنی پیداوار میں اضافہ نہ کریں۔ ایرانی اخبار شرق نے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے ایرانی نمائندے محمد علی خطیبی کے حوالے سے کہا، ’’ہم ان اقدامات کو دوستانہ تصور نہیں کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اگر خیلج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے ایرانی تیل کا متبادل فراہم کرنے کی کوشش کی تو پھر وہ ان اقدامات کے خود ہی ذمہ دار ہوں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگر اوپیک کے کسی خلیجی رکن نے ’’مہم جو مغربی ملکوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے متبادل تیل فراہم کیا تو اسے ان کا حواری تصور کیا جائے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے سنگین نتائج کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ایرانی نمائندے خطیبی نے کہا کہ اگر خلیجی ملکوں نے تیل کی پیداوار بڑھانے کے ذریعے مغرب کے ساتھ تعاون نہ کیا تو اس بات کا نوے فیصد امکان ہے کہ ان پابندیوں کا ایران پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ایران کی جانب سے یہ وارننگ ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے، جب امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے ایران کی تیل برآمدات اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر اضافی پابندیاں لگانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے بعد ایران اوپیک کا دوسرا بڑا برآمدی ملک ہے اور اس کی تیل کی پیداوار 25 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ اس کی نصف سے زائد ریاستی آمدنی کا انحصار تیل کی فروخت پر ہے اور وہ سالانہ 75 بلین ڈالر کا تیل برآمد کرتا ہے۔ منافقانہ اور مکارانہ اپنی سابقہ روش کو اپناتے ہوئے یعنی اسلام دشمنی میں اپنا خزانہ بھرنے کے لیے، سعودی عرب نے مبینہ طور پر ایک سینئر امریکی قانون ساز رکن کو بتایا ہے کہ ایران کی تیل برآمدات پر نئی پابندیاں عائد ہونے کے بعد وہ اپنی تیل کی پیداوار میں 10 ملین بیرل یومیہ اضافہ کرنے کو تیار ہے۔سعودی عرب کے وزیر تیل علی النعیمی نے اپنے ملک کے اخبار الوطن کی اتوار کی اشاعت میں کہا، ’’سعودی عرب عالمی منڈی کی ضروریات کو پورا کرنے اور صارف ملکوں کی مانگ میں کسی قسم کے اضافے کی صورت میں 12.5 ملین بیرل یومیہ تیل پیدا کر سکتا ہے۔‘‘ فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ یورپی یونین کی طرف سے ایران پر تیل کی مجوزہ پابندیوں کی صورت میں تیل پیدا کرنے والے بعض ملک اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’بعض ملک قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافے پر تیار ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے خفیہ رابطے چل رہے ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ملک اس حوالے سے سر عام بات کرنا نہیں چاہتے مگر وہ اس اقدام کے لیے تیار ہیں۔‘‘ اُدھر ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین نے امریکہ کی ایران پر نئی پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ اتوار کو ملک کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جو کہ مشرق وسطٰی کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے دورے کی پہلی منزل ہے۔ وہ متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔

Comments are closed.