Archive for 15/01/2012

رحيم يار خان …(جنگ نیٹ نیوز)رحيم يار خان کي تحصيل خان پور ميں چہلم حضرت امام حسين رضي اللہ تعالي عنہ کے جلوس ميں دھماکے سے 13 افرادجاں بحق اور 26 زخمي ہوگئے، واقعے کے بعد مشتعل افراد نے سٹي تھانے کا گھيراو کيا جس پر پوليس نے انہيں منتشر کرنے کے لئے آنسو گيس کي شيلنگ بھي کي.رحيم يار خان کي تحصيل خان پور کي امام بارگاہ دربارِ حسين ميں مجلس کے بعد جلوس نکلا گيا تو کچھ ہي دير بعد زوردار دھماکاہوگيا،ہرطرف افراتفري مچ گئي اور دھواں پھيل گيا.ريجنل پوليس آفيسر بہاول پور عابد قادر ي کا دعوي ہے کہ دھماکا جلوس کا علم ہائي ٹينشن وائر سے ٹکرانے کے بعد ٹرانسفارمر پھٹنے سے ہوا.ڈسٹرکٹ پوليس آفيسر سہيل ظفر خان کا کہنا ہے کہ تحقيقات جاري ہيں اور بم دھماکے کو خارج از مکان نہيں کہا جاسکتا.خان پور کے ايس ڈي او ميپکو مدثر حسين نے ٹرانسفارمر پھٹنے کي اطلاع کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جلوس ميں علم اتنے بڑے نہيں تھے کہ تاروں سے ٹکراجاتے. واقعے ميں جاں بحق افراد کي لاشيں تحصيل ہيڈ کوارٹراسپتال خان پور پہنچائي گئيں. اسپتال کے ايم ايس کا کہنا ہے کہ لاشوں اور زخميوں کے جسموں پر چھروں کے نشانات ہيں. دھماکے کے بعد عزا دار اسپتال کے باہر جمع ہوگئے اور سينہ کوبي کي. مشتعل مظاہرين نے سٹي تھانے کا بھي گھيراو کرليا سخت احتجاج کيا. پوليس نے آنسو گيس کي شيلنگ کي جس کے بعد مظاہرين منتشر ہوگئے.    
جبکہ یہی خبر غیر ملکی میڈیا کے مطابق کچھ اس طرح ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کےشہر خانپور میں چہلم امام حسین علیہ اسلام کے جلوس کے زائرین کے مجمع کے بیچ بم دھماکہ ہوئے۔  ایک بم دھماکہ کے نتیجے میں کم ازکم 18 شیعہ مومنین شہید جبکہ30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم تھا۔ آج یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب شیعہ زائرین پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین علیہ اسلام کے چہلم کی تقریبات میں شریک تھے

Advertisements

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ایک عدالت نے اُن تین ایرانی سرحدی محافظوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے، جو مبینہ طور پر پاکستانی سرحد میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور فائرنگ کر کے ایک پاکستانی شہری کو ہلاک کر دیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عدالتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ تینوں ایرانی سرحدی محافظ آج اتوار کو ایران واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مقتول کے لواحقین کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ واشک کے ڈپٹی کمشنر سعید احمد جمالی نے بتایا، ’تینوں ایرانی سرحدی محافظوں کو عدالت کی طرف سے رہائی دیے جانے کے بعد ایران روانہ کر دیا گیا ہے‘۔ تینوں ایرانی بارڈر گارڈزمبینہ طور پر دو جنوری کو ایران کی سرحد سے ملحق بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ اسمگلروں کا تعاقب کرتے ہوئے غلطی سے سرحد عبور کر گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گارڈز پاکستانی سرحد عبور کرتے ہوئے تین کلو میٹر اندر آئے اور انہوں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔ان گارڈز کی رہائی کے لیے پاکستان اور ایران کے حکام کے مابین مذاکرات بھی ہوئے تھے، جن کی ناکامی کے بعد ان گارڈز پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ آج اتوار کو سعید احمد جمالی نے بتایا کہ ہفتہ کے دن مقتول کے والدین  نے مقامی عدالت میں ایک ڈیل کی تحت ان ایرانی باشندوں کو معاف کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق عدالت نے غیر قانونی طور پر پاکستانی سرحد عبور کرنے کے جرم میں ان ایرانی سرحدی محافظوں کو فی کس نو ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کے نتیجے میں انہیں سزائے قید بھی سنائی جا سکتی تھی۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا، وہ ایران اور پاکستان کا ایسا سرحدی علاقہ ہے، جہاں اسمگلنگ کے واقعات سے ایران اور پاکستان کے حکام تنگ ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے سرحد پار ہونے والی اسمگلنگ کے سدباب کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں تاہم ابھی تک ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

ایران نے اپنے خلیجی ہمسایہ ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مغرب کی جانب سے تہران پر لگائی جانے والی ممکنہ اضافی پابندیوں کے نتیجے میں تیل کی عالمی پیداوار میں کمی کی تلافی کے لیے اپنی پیداوار میں اضافہ نہ کریں۔ ایرانی اخبار شرق نے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے ایرانی نمائندے محمد علی خطیبی کے حوالے سے کہا، ’’ہم ان اقدامات کو دوستانہ تصور نہیں کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اگر خیلج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے ایرانی تیل کا متبادل فراہم کرنے کی کوشش کی تو پھر وہ ان اقدامات کے خود ہی ذمہ دار ہوں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگر اوپیک کے کسی خلیجی رکن نے ’’مہم جو مغربی ملکوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے متبادل تیل فراہم کیا تو اسے ان کا حواری تصور کیا جائے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے سنگین نتائج کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ایرانی نمائندے خطیبی نے کہا کہ اگر خلیجی ملکوں نے تیل کی پیداوار بڑھانے کے ذریعے مغرب کے ساتھ تعاون نہ کیا تو اس بات کا نوے فیصد امکان ہے کہ ان پابندیوں کا ایران پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ایران کی جانب سے یہ وارننگ ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے، جب امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے ایران کی تیل برآمدات اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر اضافی پابندیاں لگانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے بعد ایران اوپیک کا دوسرا بڑا برآمدی ملک ہے اور اس کی تیل کی پیداوار 25 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ اس کی نصف سے زائد ریاستی آمدنی کا انحصار تیل کی فروخت پر ہے اور وہ سالانہ 75 بلین ڈالر کا تیل برآمد کرتا ہے۔ منافقانہ اور مکارانہ اپنی سابقہ روش کو اپناتے ہوئے یعنی اسلام دشمنی میں اپنا خزانہ بھرنے کے لیے، سعودی عرب نے مبینہ طور پر ایک سینئر امریکی قانون ساز رکن کو بتایا ہے کہ ایران کی تیل برآمدات پر نئی پابندیاں عائد ہونے کے بعد وہ اپنی تیل کی پیداوار میں 10 ملین بیرل یومیہ اضافہ کرنے کو تیار ہے۔سعودی عرب کے وزیر تیل علی النعیمی نے اپنے ملک کے اخبار الوطن کی اتوار کی اشاعت میں کہا، ’’سعودی عرب عالمی منڈی کی ضروریات کو پورا کرنے اور صارف ملکوں کی مانگ میں کسی قسم کے اضافے کی صورت میں 12.5 ملین بیرل یومیہ تیل پیدا کر سکتا ہے۔‘‘ فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ یورپی یونین کی طرف سے ایران پر تیل کی مجوزہ پابندیوں کی صورت میں تیل پیدا کرنے والے بعض ملک اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’بعض ملک قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافے پر تیار ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے خفیہ رابطے چل رہے ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ملک اس حوالے سے سر عام بات کرنا نہیں چاہتے مگر وہ اس اقدام کے لیے تیار ہیں۔‘‘ اُدھر ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین نے امریکہ کی ایران پر نئی پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ اتوار کو ملک کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جو کہ مشرق وسطٰی کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے دورے کی پہلی منزل ہے۔ وہ متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ نائف سے ملاقات کے دوران تیل و گیس کے شعبے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسے ایران کے توانائی کے شعبے پر ممکنہ پابندیوں اور وہاں سے بیجنگ کے لیے خام تیل کی برآمد کی ممکنہ بندش کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شینہوا کے مطابق وزیر اعظم وین جیا باؤ نے خلیجی ریاستوں کے اپنے دورے میں ہفتے کو ولی عہد شہزادہ نائف سے ملاقات کی۔  وزیر اعظم جیا باؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے، ’’ چین اور سعودی عرب ترقی کے اہم مرحلے میں ہیں اور اس موقع پر تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔  سعودی عرب خام تیل کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا سر فہرست ملک ہے۔ خام تیل اور گیس کے ذخائر تک رسائی اور ان کی پروسیسنگ سے متعلق اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے چینی وزیر اعظم نے مزید کہا، ’’  تجارت اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے دونوں اطراف کو مل کر کوششیں کرنی چاہیں، گیس اور خام تیل کی اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم میں۔شینہوا کی رپورٹ میں ایران کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئی ایران مخالف پابندیوں سے چین بھی متاثر ہوسکتا ہے کہ کیونکہ وہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ چین کو خام تیل کی برآمد کے حوالے سے سعودی عرب اور انگولا دو سرفہرست ممالک ہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز اس امریکی فیصلے کی بھی مذمت کی، جس کے تحت ایران سے لین دین کرنے والی چین کی سرکاری کمپنی زھوہائی زھینرونگ کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بیجنگ کا البتہ مؤقف ہے کہ امریکہ نے اپنے قومی قوانین کا نفاذ ایک چینی کمپنی پر کیا ہے اور یہ اقدام ایران مخالف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لندن میں مقیم چینی امور کے ماہر مائیکل مائیڈن کے بقول چین کو ایران اور شام کی صورتحال کی وجہ سے کچھ خدشات لاحق ہیں۔ مائیکل مائیڈن کے بقول یہ خدشات بالخصوص عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سے متعلق بھی ہیں۔ چینی وزیر اعظم متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔

سمندروں کے اندر کئی کلومیٹر کی گہرائیوں میں موجود آتش فشانی دہانوں میں زندگی کی شکلوں کا پتہ چلا ہےجو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ یہ بات تحقیقی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ سمندر کی تہہ میں بغیر آنکھوں والے جھینگے اور سفید شکنجوں والے چھوٹے جاندار سمندری مخلوق کی ان چند قسموں میں شامل ہیں جو معدنیات سے بھرپور پانی میں 450 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی قائم و دائم ہیں۔ ان دہانوں کے گرد زندگی کا سراغ کیمین جزائر کے جنوب میں Cayman Trough کہلانے والے علاقے میں بحیرہ کیریبیئن کی تہہ میں ملا ہے۔ سمندر کی سطح سے پانچ کلومیٹر نیچے واقع یہ جگہ دنیا کے سب سے گہرے ’سیاہ دھواں اگلنے والے‘ دہانوں کا مرکز ہے۔سن 2010ء میں سر انجام دی جانے والی ایک مہم کے دوران برطانیہ کے National Oceanography Centre کے  میرین جیو کیمسٹ Doug Connelly اور University of Southampton کے ماہر حیاتیات جون کوپلے نے اس جگہ کو چھاننے کے لیے روبوٹ کی مدد سے چلنے والی ایک آبدوز استعمال کی۔ محققین نے قریب واقع ماؤنٹ ڈینٹ میں ماضی میں نہ دریافت ہونے والے آتش فشانی دہانوں کا بھی کھوج لگایا۔ ماؤنٹ ڈینٹ پہاڑی سلسلہ سمندر کی تہہ سے شروع ہو کر تین کلومیٹر تک اوپر اٹھتا جاتا ہے۔ Connelly نے ایک بیان میں کہا: ’’ماؤنٹ ڈینٹ پر سیاہ دھواں اگلنے والے دہانے دریافت کرنا بالکل حیران کن تجربہ تھا۔ اس علاقے میں ماضی میں اس طرح کے گرم اور تیزابیت والے دہانے کبھی نہیں دیکھے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان دریافتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سمندروں کی گہرائیوں میں موجود آتش فشاں کے دہانے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ آبدوز پر نصب کیمروں سے کھینچی گئی تصویروں میں انتہائی زرد رنگ کے جھینگوں کا سراغ ملا جن کی آنکھوں کے بجائے پشت پر روشنی کو محسوس کرنے والے اعضاء تھے تاکہ وہ سمندر کی گہرائیوں میں انتہائی مدہم روشنی میں راستہ تلاش کر سکیں۔ اس سے ملتی جلتی ایک نوع چار ہزار کلومیٹر دور بحر اوقیانوس کے وسط میں بھی پائی گئی ہیں۔کوپلے نے کہا: ’’ان دہانوں کے گرد پائی جانے والی مخلوق پر تحقیق اور ان کا دنیا کے دیگر آبی دہانوں میں پائی جانے والی انواع کا موازنہ کرنے سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ جانور کس طرح گہرے سمندروں میں منتشر اور ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ ماؤنٹ ڈینٹ کے دہانوں میں جھینگے کی ایک اور قسم کے علاوہ سانپ کی شکل کی ایک مچھلی کا بھی سراغ ملا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہیں۔

چینی حکام نے ملک میں شدید خشک سالی کے باعث بھوک کے ہاتھوں ہلاکت کے خطرے سے دوچار لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے خوراک گرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چین کے مشرقی صوبے جیانگ سی میں پویانگ جھیل ملک میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے اور وہاں ہر سال سردیوں میں دیگر علاقوں اور ملکوں سے ہجرت کر کے آنے والے پرندے لاکھوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر بہت کم بارشوں کی وجہ سے یہ جھیل بڑی تیزی سے خشک ہوتی جا رہی ہے۔ پویانگ جھیل میں اب ایسی مچھلیاں، آبی جڑی بوٹیاں اور پانی میں تیرتے ہوئے plankton کہلانے والے چھوٹے چھوٹے پودے بھی بہت کم ہو چکے ہیں جن پر نقل مکانی کرنے والے ایسے لاکھوں پرندے زیادہ تر گزارہ کرتے ہیں۔ پویانگ جھیل ایک محفوظ قدرتی خطہ بھی ہے۔اس جھیل اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں جانوروں اور نباتات کے تحفظ کے محکمے کے سربراہ ژاؤ جِن شَینگ کے بقول پچھلے سال نومبر سے دوسرے ملکوں اور خطوں سے نقل مکانی کر کے وہاں آنے والے پرندوں کو زندہ رہنے کے لیے کافی خوراک دستیاب نہیں ہے۔ عام طور پر یہ پرندے مارچ کے مہینے تک وہاں قیام کرتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنی گرمائی منزلوں کی طرف پرواز کر جاتے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق علاقائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پرندوں کو پویانگ جھیل کے ماحولیاتی نظام میں قیام کے دوران بھوک کے ہاتھو‌ں مرنے سے بچانے کے لیے اب انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک مہیا کی جائے گی۔حکام کے مطابق اس مقصد کے تحت ان لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے جھینگے، مکئی کے دانے اور ان کی پسندیدہ غذا کے طور پر دیگر اشیاء پھینکنے کا سلسلہ 23 جنوری سے پہلے شروع کر دیا جائے گا، جب چین میں نئے قمری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ پویانگ جھیل کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے نگران محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار وُو ہیپِنگ نے بتایا کہ ماضی میں بھی اس جھیل کا رخ کرنے والے لاکھوں پرندوں کو مقامی حکام کی طرف سے خوراک فراہم کی جا چکی ہے۔ لیکن کئی سال پہلے ایسا شدید برفانی طوفانوں کے دنوں میں کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ تاہم اس اقدام کی ضرورت مسلسل خشک سالی کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ جیانگ سی میں حیوانی اور نباتاتی حیات کے تحفظ کے محکمے کا کہنا ہے کہ پویانگ جھیل میں پانی اتنا کم ہو چکا ہے کہ اب وہاں کا رخ کرنے والے لاکھوں موسمی پرندوں میں سے بہت سے اس جھیل کے نواح میں واقع نو دوسری چھوٹی چھوٹی جھیلوں کا رخ بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے ان کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک کی فراہمی اور بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔ پویانگ کی چینی جھیل کا مجموعی رقبہ پچھلے ہفتے تک سکڑ کو صرف 183 مربع کلومیٹر یا 71 مربع میل رہ گیا تھا۔ معمول کی بارشوں کے بعد عام طور پر تازہ پانی کی اس جھیل کا کُل رقبہ ساڑھے چار ہزار مربع کلومیٹر تک ہوتا ہے، جو ایشیائی ملک سنگاپور کے مجموعی رقبے کے چھ گنا سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

کراچی : العباس اسکاؤٹس گروپ کے سرپرست اعلیٰ سید ایاز امام رضوی کی ہدایت پر چہلم امام حسین علیہ اسلام کے موقع پر اتوار 20 صفر کو نشتر پارک سے نکلنے والے مرکزی ماتمی جلوس کے شرکاء کو طبی امداد فراہم کرنے کے لئے مرکزی طبی امدادی کیمپ نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ پر لگایا جائے گا جس میں ماہر ڈاکٹرز و نرسنگ عملہ اور اسکاؤٹس موجود ہوں گے۔ اسکاؤٹس لیڈر عابد علی نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر داخلہ سندھ منظور حسین وسان نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور کمشنر کراچی کو چہلم حضرت امام حسینکے جلوس اور مجالس کے لیے موٴثر سیکورٹی انتظامات کی ہدایات دیتے ہوئے مرکزی جلوس کی فضائی نگرانی کے موٴثر انتظامات اور جلوس کے تمام روٹ کو ڈبل سیل کرنے کے ساتھ ساتھ 200 سے زائد بلند عمارتوں پر پولیس اہلکار تعینات کرنے کی ہدایات دی ہیں جبکہ ٹریفک پولیس نے اس موقع پر ٹریفک کے لیے متبادل انتظامات کا اعلان کیا ہے۔ چہلم حضرت امام حسین کے موقع پر جلوسوں/ مجالس کے لیے سیکورٹی منصوبہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت کڑی نگرانی کے عمل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موٴثر رابطوں کے ذریعے یقینی بنایا جا رہا ہے۔ محکمہ پولیس کے اعلامیہ کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ مشتاق احمد شاہ نے ہدایات دیں کہ چہلم حضرت امام حسین کے جلوسوں / مجالس میں شرکت کرنے والوں کے ساتھ ساتھ دیگر شہریوں کی جان و مال کی سلامتی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ وزیر داخلہ اور آئی جی کی ہدایات کے بعد کراچی پولیس نے سیکورٹی پلان کو مختلف سیکورٹی سیکٹرز میں تقسیم کیا ہے اور ہر سیکٹر میں ایس پی رینک کے پولیس افسر کو نگراں بنایا جائے گا جبکہ ہر ایک سیکورٹی سیکٹر کو سب سیکٹر میں تقسیم کر کے ایس ڈی پی اوز کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں کہ سیکورٹی اہلکاروں سے مستقل روابط میں رہیں گے۔ کراچی پولیس کے مطاق سیکورٹی اقدامات کے تحت پولیس افسران اور جوانوں کے علاوہ پولیس کمانڈوز بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مرکزی جلوس کی گزر گاہوں پر 200 سے زائد منتخب کردہ بلند عمارتوں پر روف ٹاپ ڈپلائنٹ کے ساتھ ساتھ نشتر پارک کے اطرف میں واچ ٹاورز سے نگرانی کے عمل کو موٴثر بنایا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں جلوسوں / مجالس کی لمحہ بہ لمحہ مانٹیرنگ کے لیے پولیس ہیڈ آفس میں قائم ٹریفک کنٹرول روم سوک سینٹر کراچی میں قائم سی سی ٹی وی کنٹرول روم اور نشتر پارک میں قائم کنٹرول روم نشتر پارک و ملحقہ علاقوں سے لے کر حسینیہ ایرانیان تک مانٹیرنگ میں مصروف عمل ہیں۔ دریں اثناء ٹریفک پولیس کے مطابق جیسے ہی جلوس نشتر پارک سے روانہ ہوگا شہر کی جانب سے آنے والی تمام ٹریفک کو سولجر بازار (بہادر یار جنگ روڈ) کی جانب ایم اے جناح روڈ، ڈاکٹر داؤد پوتہ روڈ کراسنگ سے موڑ دیا جائے گا۔ وہ تمام ٹریفک جو سولجر بازار روڈ اور اس کے جنکشن ڈاکٹر داؤد پوتہ روڈ سے اس کے جنکشن خان بہادر نقی محمد خان روڈ انہیں یکطرفہ چلایا جائے گا۔ وہ تمام بسیں، منی بسیں اور ٹرک وغیرہ جو کہ ناظم آباد کی جانب سے آ رہی ہیں انہیں نشتر روڈ، گارڈن سے ڈائیورٹ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔ تمام بسیں، منی سیں اور ٹرک وغیرہ جو کہ لیاقت آباد کی جانب شہر کی طرف آ رہی ہوں گی انہیں تین ہٹی چوک سے مارٹن روڈ پر جیل روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا، ان تمام گاڑیوں کو جیل چورنگی تک جانے کی اجازت ہوگی اور یہ تمام گاڑیاں جیل روڈ سے ہوتی ہوئی جمشید روڈ، دادا بھائی نور جی روڈ، کشمیر روڈ، شاہراہ قائدین، شاہراہ فیصل، مبارک شہید روڈ، اقبال شہید روڈ، لکی اسٹار، سرور شہید روڈ، ڈاکٹر داؤد پوتہ روڈ، پریڈی اسٹریٹ سے ہوتی ہوئی اپنے روٹ پر چلی جائیں گی۔ جب جلوس کا اگلا سرا ایم اے جناح روڈ جنکشن، منسفیلڈ اسٹریٹ پر پہنچے گا تو ان گاڑیوں کو سیدھا ای ایم ای 602 ورکشاپ، مبارک شہید روڈ، اقبال شہید روڈ، لکی اسٹار، سرور شہید روڈ، فاطمہ جناح روڈ، مولانا دین محمد وفائی روڈ (اولڈ اسٹریچن روڈ)، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ تمام بسیں، منی بسیں جو کہ اسٹیڈیم روڈ کی جانب سے شہر کی طرف جائیں گی انہیں نیو ایم اے جناح روڈ کی جانب سے آنے کی اجازت ہوگی۔ البتہ یہ گاڑیاں دادا بھائی نور جی روڈ، کشمیر روڈ اور اس کے جنکشن سے ہوتے ہوئی براستہ شاہراہ قائدین سے شارع فیصل پر پہنچیں گی۔ وہ تمام بسیں، منی بسیں اور ٹرک وغیرہ جو کہ سپر ہائی وے، گلبرگ کی جانب سے شہر کی طرف جائیں گی انہیں لیاقت آباد نمبر 10 سے ناظم آباد چورنگی نمبر 2 کی طرف موڑ دیا جائے گا جو براستہ حبیب بینک چوک، اسٹیٹ ایونیو روڈ، شیرشاہ سے ماڑی پور تک جائے گی اور اسی طرح واپسی کے لیے یہی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ وہ تمام بسیں، منی بسیں اور ٹرک وغیرہ جو کہ نیشنل ہائی وے کی جانب سے شہر کی طرف جائیں گی انہیں براستہ راشد منہاس روڈ، اسٹیڈیم روڈ، سر شاہ سلیمان روڈ، حسن اسکوائر، لیاقت آباد نمبر 10، ناظم آباد چورنگی نمبر 2، حبیب بینک چوک، اسٹیٹ ایونیو روڈ، شیر شاہ سے ماڑی پور تک آنے کی اجازت ہوگی اور اسی طرح واپسی کے لیے یہی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ تمام قسم کی چھوٹی یا بڑی ٹریفک کو گرومندر چوک سے آگے جلوس کے روٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس تمام ٹریفک کو بہادر یار جنگ روڈ اور خان بہادر نقی محمد خان روڈ پر موڑ دیا جائے گا۔ البتہ یہ ٹریفک سولجر بازار روڈ اور خان بہادر نقی محمد خان روڈ، بہادر یار جنگ کراسنگ تک جا سکیں گی۔ تمام قسم کی چھوٹی ٹریفک جو کہ مزار قائد کی طرف سے براستہ ایم اے جناح روڈ کی جانب سے آ رہی ہو گی اس تمام ٹریفک کو بہادر یار جنگ روڈ پر موڑ دیا جائے گا اور کسی بھی ٹریفک کو کسی بھی حالت میں پرانی نمائش چوک کی جانب جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ تمام قسم کی ٹریفک جو کہ براستہ شاہراہ قائدین سے نمائش چوک کی جانب جائے گی ان کو سوسائٹی چورنگی سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان گاڑیوں کے جن کے ونڈ اسکرین پر جلوس میں شامل ہونے کا اسٹیکر چسپاں ہوگا جو اس دفتر سے جاری کیا جائے گا۔ کسی ٹرک، بس، منی بس کو اس چورنگی سے آگے نمائش چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جب جلوس کا پہلا سرا ایم اے جناح روڈ، میسنفلڈ اسٹریٹ پر پہنچے گا تو تمام ٹریفک جو صدر اور دوسری کالونیوں کی طرف جانا چاہے گی اس کو ایمپریس مارکیٹ کی طرف ذیل چوراہوں سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پریڈی اسٹریٹ/ سرمد روڈ، پریڈی اسٹریٹ / ایم اے جناح روڈ۔ شاہراہ لیاقت / کورٹ روڈ اور شاہراہ لیاقت/ محمد بن قاسم روڈ۔ اسی طرح تمام ٹریفک کو صدرکی جانب براستہ ایم اے جناح روڈ کی جانب سے پریڈی اسٹریٹ، آغا خان روڈ کراسنگ سے آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بھی ٹریفک کو ایم اے جناح روڈ اور اس کے جنکشن پریڈی اسٹریٹ سے جانے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک جلوس مکمل طور پر اس چوک سے گزر نہیں جاتا۔ تمام ٹریفک جو آغا خان روڈ، گارڈن کی جانب سے آ رہی ہے انہیں ایم اے جناح روڈ، آغا خان روڈ جنکشن سے آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام بسوں، منی بسوں اور دیگر ہیوی گاڑیوں کی منتقلی کو ایڈوانس میں ہی شروع کر دیا جائے گا، جیسے ہی چھوٹی ٹریفک کو جلوس کی جانب ڈائیورٹ کرنا شروع کیا جائے گا جبکہ کسی بھی گاڑی کو جلوس کے روٹ پر گاڑی کھڑی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 

اوسلو : ناروے کی ایک عدالت نے درجنوں افراد کے قتل میں ملوث شدت پسند اینڈرزبیرنگ بریویک کے نئے نفسیاتی معائنہ کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل ہونیوالے معائنہ میں مذکورہ شدت پسندکو فاتر العقل پایا گیا تھا۔ اینڈرز بیرنگ بریوک گذشتہ سال 22 جولائی کو ہونیوالے دھماکوں میں ملوث ہونے کا اعتراف جرم کر چکا ہے۔ اس بدقسمت واقعہ میں بیرنگ بریوک نے پہلے اوسلو میں حکومتی عمارت میں بم دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسکے بعد وہ ایک مقامی جزیرہ اوٹایا گئے جہاں پر پولیس افسر کا بھیس بدل کر اپنی شناخت چھپائی او ر وہاں گرمیوں میں قائم ہونیوالے نوجوانوں کے کیمپ پر فائرنگ کرکے 69 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کیخلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالتوں کی طرف سے مقرر شدہ نفسیاتی ڈاکٹروں نے بیرنگ بریوک کو فاتر العقل ثابت کرکے انہیں اپنے جرائم کے حساب دینے سے مبرا ثابت قرار دیااور اسے جیل جانے کے بجائے نفسیاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں دیدیا تاہم وکلا کی جانب سے دوبارہ بیرنگ بریوک کی نفسیاتی معائنہ کرنے کے حوالے سے پٹیشنز دائر کی گئی جس میں بیرنگ بریوک کی نفسیاتی بیماری کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی گئی

ٹوکیو ( ایجنسیاں) جاپان میں زلزلے کے باعث فوکوشیما ایٹمی پاور پلانٹ کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے اور گزشتہ روز چوتھا ری ایکٹر بھی دھماکے سے پھٹ گیا جس سے تابکاری کے اخراج میں مزید اضافہ ہوگیا، جاپانی حکام نے 30 کلومیٹر کے اطراف سے لوگوں کو نکل جانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ تابکاری کے اثرات اب فوکوشیما سے نکل کر ایباراکی ، سائی تامہ اور ٹوکیو تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جاپانی ایٹمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوکیو اور اطراف کے علاقوں میں پہنچنے والی تابکاری تاحال انسانی صحت کیلئے خطرے کا باعث نہیں۔ زلزلے ، سونامی اور ایٹمی بحران سے جاپان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے اور ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی ہے اور گزشتہ تین دنوں میں ایک ہزار پوائنٹ کم ہوگئے اور حکومت نے عوام سے نقد امداد کی درخواست کردی ہے اور سرکاری ٹی وی پر امداد کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ جبکہ گزشتہ روز زلزلے کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے ان جھٹکوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے 120 کلو میٹر دور شیزو کا میں ماوٴنٹ فیوجی کے نزدیک تھا۔ دوسری جانب آئی اے ای اے نے صورتحال کو سنگین قراردیاہے تاہم چرنوبل جیسے حادثہ کے امکان کو ردکردیاہے۔ جاپانی حکام ایٹمی پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کو روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں جس میں انہیں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سمیت امریکا اور برطانیہ کے ماہرین کی خدمات حاصل ہیں ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی معیشت کو زلزلے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے تین سے چار سال درکارہوں گے۔ جبکہ ایٹمی تابکاری کے اخراج کے بعد ایک بار پھر جاپان سے پاکستانیوں کے انخلا کے بارے میں سوالات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ اس وقت پاکستان جانے والی تمام ایئر لائنوں میں سیٹیں ختم ہوچکی ہیں جس کے باعث زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ایٹمی تابکاری کے اثرات کے زیر اثر علاقوں میں ابھی تک ہزاروں پاکستانی موجود ہیں جن کے اخراج کا تاحال کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔علاوہ ازیں جاپانی وزیراعظم نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر چار میں آگ لگی ہے جس کی وجہ سے تابکاری کی سطح انسانی صحت کیلئے خطرناک حدتک پہنچ گئی ہے۔

اسلام آباد :  باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی ادارے سپریم کورٹ کے احکامات کے تابع ہونے کی وجہ سے عملدرآمد کرائیں گے۔ یہ بھی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے عہدہ برآہ ہونے کیلئے جوابی حکمت عملی کو آخری شکل دیدی ہے۔ ایک سکیورٹی ادارے نے تو معمول کی مصروفیات اور پروگرام بھی موخر کردیئے ہیں ادھر صدر آصف علی زرداری کی طرف سے سپریم کورٹ کے میمو گیٹ کے متعلق فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے امکان کا حساس اداروں نے خصوصی نوٹس لیا ہے اس طرح وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی کی طرف سے چینی اخبار کو اہتمام کے ساتھ دیئے گئے انٹرویو میں آرمی چیف اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی پر آئین وقانون کی خلاف ورزی کا جو سنگین الزام چند روز قبل عائد کیاگیا ہے اس پر بھی متعلقہ حلقوں نے ضروری ہوم ورک کرلیا ہے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ہفتہ رواں کے وسط میں جی ایچ کیو میں سینئر فوجی عہدیداروں کا غیرمعمولی اجلاس ہوا جس کے اختتام پر روایات کے مطابق آئی ایس پی آر کی طرف سے چند سطری بیان تک جاری نہیں کیاگیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا مبینہ انعقاد ملکی صورتحال کی سنگینی کا مظہر ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس صدر اور وزیراعظم کے غیرضروری اشتعال انگیز بیانات کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنے کیلئے منعقد ہوا۔

کراچي ميں جہلم امام حسين کے موقع پر 31 گھنٹے کے لئے موٹر سائيکل ڈبل سواري پر پابندي عائد کر دي گئي ہے.محکمہ داخلہ سندھ کي جانب سے اتوارکو چہلم حضرت امام حسين سے قبل ہفتے کي شام پانچ بجے سے اتوار کي رات بارہ بجے کے لئے موٹر سائکل ڈبل سواري پر پابندي عائد کردي گئي ہے.محکمہ داخلہ سندھ نے فيصلہ کسي بھي ممکنہ دہشت گردي کے خطرہ کے پيش نظر کيا ہے

تہران … ايران نے اپنے ايٹمي سائنس دان کے قتل کا الزام امريکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس اپنے دعوے کے حق ميں ثبوت بھي موجود ہيں. سرکاري ٹي وي کے مطابق ايراني وزارت خارجہ نے تہران ميں امريکي مفادات کي نمائندگي کرنے والے سوئٹزر لينڈ کے سفير کو ايک خط ديا ہے. خط ميں کہا گيا ہے کہ ايران کے پاس قابل بھروسہ دستاويزات اور شواہد موجود ہيں کہ ايٹمي سائنس دان کے قتل کے منصوبے اور عملدرآمد ميں سي آئي اے کے ايجنٹ ملوث ہيں. ايراني ٹي وي کے مطابق ايک مذمتي خط برطانوي حکومت کو بھي بھيجا گيا ہے جس ميں کہا گيا ہے کہ ايراني ايٹمي سائنس دانوں کے قتل کا سلسلہ 2010ء ميں برطانوي خفيہ ايجنسي کے سربراہ جان سيورز Sawers کے اس بيان کے بعد شروع ہوا جس ميں انہوں نے ايران کے خلاف انٹيلي جنس آپريشنز کے آغاز کا اعلان کيا تھا. دو سال ميں ايران کے 5 ايٹمي سائنس دانوں کو قتل کيا جاچکا ہے. ايٹمي سائنس دان مصطفي احمدي تين دن پہلے تہران ميں بم دھماکے ميں مارے گئے تھے

لندن…ايک برطانوي اخبار نے دعوي کيا ہے کہ صدر زرداري پر دباو? کم کرنے کے ليے وزير اعظم يوسف رضا گيلاني استعفي? دينے پر غور کر سکتے ہيں. اخبار نے بعض مبصرين کي يہ پيش گوئي نقل کي ہے کہ وزيراعظم گيلاني استعفي? پر غور کرسکتے ہيں تاکہ صدرزرداري پرسے دباو? کم ہو جائے اورزرداري کي زيرقيادت حکومت اخلاقي فتح حاصل کرسکے. اخبار کے مطابق صدرزرداري نے معروف وکيل، عدليہ بحالي تحريک کے سرخيل اورپي پي کے رہنما اعتزاز احسن سے کہا ہے کہ عدليہ سے خفيہ مذاکرات کئے جائيں، اعتزاز احسن کو گيلاني کي جگہ وزيراعظم بنانے کا امکان بھي ظاہر کياگيا ہے. برطانوي اخبار نے ايک پاکستاني فوجي افسر کے حوالے سے انکشاف کيا ہے کہ جنرل صرف اس وقت آگے آئيں گے جب ملک کے اعلي? ترين جج اس کے لئے کہيں گے. اخبار کا کہنا ہے کہ في الوقت پاکستان ميں بغاوت کا کوئي امکان نہيں، فوج پيپلزپارٹي کو سياسي شہيد بننے کا موقع نہيں دينا چاہتي.. صدر زرداري نے اعتزاز احسن کو عدليہ سے خفيہ مذاکرات کيلئے کہا ہے،اعتزاز کو گيلاني کي جگہ وزيراعظم بنائے جانے کا امکان ظاہر کياگيا ہے..اخبار نے فوجي افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ فوج جمہوريت اورملک کے آئين پر يقين رکھتي ہے، اوراگر سول حکام عدالتي احکامات پر عملدرآمد ميں ناکام رہے تو ہم عدالت کے حکم کو نافذ کرنے ميں مدد پر غور کريں گے، اخبار کا کہنا ہے کہ ان الفاظ کا مطلب پاکستاني فوج کي جانب سے يہ پہلا واضح اشارہ ہے کہ فوجي جنرلز سپريم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کريں گے، اگر انہيں آرٹيکل 190کے تحت سپريم کورٹ کے فيصلے پر عمل ميں مدد کے لئے کہاگ

رياض … سعودي فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزيز نے طاقتور مذہبي پوليس کے سربراہ کو برطرف کرديا ہے.ايک شاہي فرمان کے ذريعے شاہ عبداللہ نے ھيئة الامر بالمعروف والنہي عن المنکر کے سربراہ شيخ عبدالعزيز بن حمين کو فوري طور پر برطرف کرکے انکي جگہ شيخ عبدالعزيز بن عبدالرحمن آل الشيخ کو نيا سربراہ مقرر کيا ہے، شاہي فرمان ميں وجوہات عام طور پر بيان نہيں کي جاتيں، ليکن محسوس یہ ہی کیا جا رہا ہے کہ ملک میں جاری شیعہ مسلمانوں کی انقلابی تحریک کو دبانے اور روکنے میں ناکامی , آل سعود اور مذہبی ادارے کے درمیان میں شدید اختلافات اور دیگر اختیارات کے بارے میں  کافي عرصے سے مذکورہ اتھارٹي( جسکے پاس پوليس کے برابر اختيارات ہيں)کے امور متنازعہ چل رہے تھے، اور چند لوگوں کے علاوہ يہ طاقتور ادارہ عوم ميں تيزي سے اپني مقبوليت اور ساکھ کھو رہا تھا.    

بھوپال… بھارتي رياست مدھيہ پرديش ميں امام حسين کے چہلم کے سلسلے ميں نکالے جانے والے جلوس ميں بھگدڑ مچنے سے 12 افراد جاں بحق ہوگئے. جْواراٹاو?ن کے علاقے حسين ٹيکري کے مقام پررات کے وقت چہلم کے جلوس کے داخلي راستے پر بڑي تعدادميں لوگ اندر داخل ہونے کے لئے جمع تھے..پوليس نے ان لوگوں کے پيچھے دھکيلنے کي کوشش کي جس سے بھگدڑ مچ گئي اور حادثہ پيش آيا. 6 خواتين سميت 10 افراد ہلاک قدموں تلے آکرہلاک ہوگئے..ايڈيشنل سپريٹنڈنٹ آف پوليس کے مطابق دو مزيد افراد کي لاشيں حادثے سے کچھ فاصلے پر ملي ہيں جو ممکنہ طور پرسردي سے ٹھٹھر کرہلاک ہوئے ہيں.

عراق کے جنوبي شہر بصرہ ميں چہلم امام حسین علیہ اسلام میں شرکت کرنے والے زائرين پر خودکش حملے ميں شہید افراد کي تعداد50 ہوگئي جبکہ 100 سے زائد زائریں امام حسین علیہ السلام زخمي ہيں. عراقي پوليس اور سيکيورٹي ذرائع کا کہنا ہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسين علیہ اسلام کے چہلم (اربعين) ميں شرکت کے لئے آنے والے زائرين کو خودکش حملے ميں نشانہ بنايا گيا. پوليس حکام کے مطابق دہشت گرد پوليس کي وردي ميں ملبوس تھا اوراس کے پاس پوليس کا شناختي کارڈ بھي تھا، پوليس چيک پوسٹ تک پہنچنے ميں کامياب ہوگيا اور وہاں زائرين اور پوليس اہلکاروں کے درميان خود کو دھماکے سے اڑا ديا. اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں ميں 11پوليس اہلکار بھي شامل ہيں. اربعين کے موقع پر لاکھوں کي تعداد ميں زائرین امام حسین علیہ اسلام کربلا، نجف اور دیگر مقاماتے مقدسہ پر حاضر ہوتے ہیں .

لندن … برطانوي وزير اعظم نے ايران کو خبردار کيا ہے اگر آبنائے ہرمز کو بند کيا گيا تو پوري دنيا اس کے خلاف کارروائي کريگي.برطانوي وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے خليجي ممالک کے دورے کے موقع پر ايک عربي ٹي وي چينل کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے راستوں کا کھلا رہنا پوري دنيا کے مفاد ميں ہے اور اگر ان کو بند کرنے کي کوئي دھمکي ملي ہے.تو انھيں يقين ہے کہ پوري دنيا متحد ہو کر ان کا کھلا رہنا يقيني بنائے گي.واضح رہے کہ ايران نے امريکا اور يورپي ممالک کي جانب سے معاشي پابندياں سخت کرنے کي صورت ميں آبنائے ہرمز بند کرنے کي دھمکي دي ہے.

کلکتہ…بھارت کے شہر کلکتہ ميں سرکاري اسپتالوں کے طبي امداد دينے سے انکار کے بعد ايک خاتون سڑک پر دو بچوں کي پيدائش کے بعد چل بسي ، بھارتي ميڈيا رپورٹس کے مطابق خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ اس کي بيوي نے اسپتال لے جا نے کے دوران ہي ٹيکسي ميں جڑواں بچوں کو جنم ديا،وہ بچوں اوربيوي کو تشويشناک حالت ميں لے کر سرکاري اسپتالChittaranjan sishu seva sadan پہنچا ،جہاں ڈيليوري کيلئے بيوي کا نام لکھوايا تھا ،ليکن اسپتال عملے نے يہ کہہ کرانکار کرديا کہ ايسے کيسز کيلئے ان کے پاس سہولتيں موجود نہيں جس پر وہ اپني بيوي کو لے کردوسرے سرکاري اسپتال پہنچا،ليکن اسپتال عملے نے کہا کہ يہاں اس کي بيوي زيرعلاج نہيں رہي اس ليے وہ اُسے داخل نہيں کرسکتے،شوہر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال ميں اُس کي بيوي دم توڑ گئي جبکہ بعد ميں بچوں کوسرکاري اسپتال ميں انتہائي نگہداشت کے وارڈ ميں داخل کرليا گيا ،واقعے کيخلاف اُس نے مقامي پوليس اسٹيشن ميں رپورٹ درج کرادي ہے، جس پررياستي حکومت نے تحقيقات کا حکم ديديا ہے .

لندن ……مو بائل فو ن کو ہر وقت چارج کر نا بھي بعض افرا دکو ايک جھنجٹ لگتا ہے جن کے ليے اب ايسامو با ئل فون بنا ليا گيا ہے جسے پندرہ سال تک چار ج کر نے کي ضر ورت نہيں ہو گي . SpareOneنامي اس مو بائل فو ن ميں بيٹري کے بجائے ايک عام پينسل سيل نصب ہے جس کي بدولت پندرہ سال تک اس فون کو چارج کرنے کي ضر ور ت نہيں ہو گي. اس انوکھے مو بائل فون ميں صرف ايک سيل لگا نے کے بعد اس سے مستقل دس گھنٹے تک با ت کي جاسکتي ہے جبکہ اس کي قيمت صرف پچا س ڈالرہے .