عرب لیگ کا شام میں تشدد بند کرنے کامطالبہ

Posted: 10/01/2012 in All News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

قاہرہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے زیر انتظام شام کی صورت حال کی نگراں وزارتی کمیٹی نے شامی صدر بشار الاسد اور مسلح مخالفين سے ایک مرتبہ پھر پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ ملک ميں تشدد کا سلسلہ بند کريں ۔اس رپورٹ کے مطابق قطر کے وزير اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني کي سربراہي ميں بلائے جانے والے اس اجلاس ميں شام کے حالات سے متعلق عرب ليگ کے مبصرين کي رپورٹ کا جائزہ ليا- قطر کے وزير اعظم نے اس اجلاس ميں شام کے حکام سے اپيل کي کہ وہ ملک ميں بدامني کے خاتمے کے لئے اپني پوري توانائياں بروئے کار لائيں-حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني نے شام ميں عرب ليگ کے مبصرين کے آزادانہ کام کرنے کي ضرورت پر تاکيد کرتے ہوئے کہا کہ عرب ليگ کے مبصرين کا مشن خاص مدت تک کے لئے نہيں ہے اور يہ مبصرين شام کي صورتحال کا جائزہ لينے کے لئے نگراني کا کام جاري رکھيں گے عرب ليگ کي وزارتي کميٹي نے اعلان کيا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنے مبصرين شام بھيجنے کي ضرورت نہيں ہےـ  عرب لیگ کی وزارتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں شامی حکومت سے کہا گیا کہ “کمیٹی شامی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عرب مبصرین کے پروٹوکول کے تحت شہریوں کو تحفظ دینے کے تمام وعدوں کی مکمل طور پر پاسداری کرے۔ شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیا جائے اور ان پرتشدد فوری طور پر بند کیا جائے۔ کمیٹی نے شامی اپوزیشن کے دھڑوں سے کہا کہ وہ آپس میں متحد ہو جائیں اور شام کے مستقبل اور کسی سیاسی تبدیلی کی صورت میں کوئی متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں، تاکہ شام میں کسی عبوری حکومت کے قیام میں عالمی مصالحت کاروں کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عرب لیگ نے شام میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی اور ان کے مرتکبین کو شام دشمن عناصر قرار دیا۔ عرب لیگ کے مبصرین کو آزادی کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ شام میں خراب حالات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ عرب وزارتی کمیٹی نے شام میں مبصر مشن کے نگران محمد احمد مصطفیٰ الدابی سے کہا کہ کہ وہ انیس جنوری تک شام کی صورت حال کے بارے میں ایک جامع اور مفصل رپورٹ عرب لیگ میں پیش کریں تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ شامی حکومت تشدد روکنے کے اپنے وعدوں پر کتنا عمل درامد کر رہی ہے۔واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف نے عرب لیگ کی جانب سے صدر بشارالاسد کے خلاف سخت موقف اختیار نہ کرنے پر تنقید کی ہے ۔

Comments are closed.