عراق:کار بم دھماکہ، ۱۵ زائرین امام حسین علیہ السلام زخمی

Posted: 10/01/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Religious / Celebrating News

عراق میں ایک کار بم دھماکے میں ۱۵ شیعہ زائرین امام حسین علیہ السلام زخمی ہو گئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں کربلائے معلی کے راستوں میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی کے نتیجہ میں ایک کار بم دھماکہ میں ۱۵ زائرین امام حسین علیہ السلام زخمی ہو گئے ہیں ۔واضح رہے زخمی ہونیو الے ۱۵ زائرین کا تعلق افغانستان سے ہے جو کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے لئے کربلائے معلی آ رہے تھے ۔ ایک پولیس آفیسر کاکہنا ہے کہ شیعہ زائرین پر حلہ کے مقام پر رات گئے اس وقت حملہ ہوا جب وہ پیادہ کربلائے معلی کے لئے عازم سفر تھے ،کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ۱۵ زائرین امام حسین علیہ السلام زخمی ہو گئے ۔ حلہ اسپتال کے ڈاکٹر محمد الشماری کاکہنا ہے کہ اب تک کار بم دھماکے میں زخمی ہونے والوں مین سے ۱۵ زائرین امام حسین علیہ السلام کو اسپتال پہنچایا گیا ہے جن میں سے تین زائرین کی حالت انتہائی نازک ہے ۔ واضح رہے کہ ہر سال محرم الحرام کی ۱۰ تاریخ کے بعد چالیس دن گذر جانے پر دنیا بھر سے عزاداران امام حسین علیہ السلام پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم شریف میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے مراسم ادا کرنے کے لئے آتے ہیں ،حضرت امام حسین علیہ السلام جو کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے ہیں کو سنہ ۶۱ ہجری میں یزید ملعون نے کربلائے معلی میں بمع اہل و عیال یر غمال کر لیا تھا او ر خاندان نبوت کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے جوانوں سمیت ۷۲ جانثاران امام حسین علیہ السلام کو شہید کر کے اہل وعیال کو قیدی بنا لیا تھا۔دنیا بھر سے لاکھوں عاشقان امام حسین علیہ السلام چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف اور کربلائے معلی میں جمع ہوتے ہیں اور مراسم عزاداری انجام دیتے ہیں ،تاہم نجف اشرف سے پیادہ کاروان کربلائے معلی کی جانب گامزن ہوتے ہیں جہاں عزاداران امام حسین علیہ السلام مراسم عزاداری انجام دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی بغداد او ر دیگر علاقوں میں بھی زائرین امام حسین علیہ السلام پر بم حملے ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں ۷۰ زائرین امام حسین علیہ السلام شہید اور ۱۰۰ سے زائد زخمی ہو گئے تھے ۔

Comments are closed.