سعودی عرب سمیت سات اسلامی ممالک کا گروپ بنا کر اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم شروع کی تھی: پرویز مشرف

Posted: 10/01/2012 in All News, Breaking News, Educational News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

پاکستان کے سابق صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی اسرائیل سے پاکستانی تعلقات قائم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک حقیقت اور پاکستان کی طرح  نظریاتی ریاست ہے اسرائیلی اخبارہزرٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز مشرف نے کہاکہ  پاکستان کو اسرائیل کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہیےکیونکہ پاکستان یہودیوں کے خلاف نہیں ۔انہوں نے انٹرویو کے دوران کہاکہ میرے دور حکومت میں  سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری  نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات میرے کہنے پر کی تھی جو کہ ہماری طرف سے پہلااعلی ٰ سطحی رابطہ تھا۔سابق صدر نے کہاکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے  تمام پاکستانی میرے ساتھ ہیں جس کی بڑی مثال قصوری کی ملاقات پر پاکستان میں ردعمل نہ آنا ہے  جب کہ حکومت کو بدلتی ہوئی حقیقتوں کا اداراک کرنا ہوگا۔ پرویز مشرف نے کہاکہ فلسطین کا مسئلہ دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک ہےجب کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناو کی وجہ افغانستان ہے۔پرویز مشرف نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ فلسطینوں کا حامی رہا ہے ان کے حقوق کیلئے آوازاٹھاتار ہے گاکیونکہ فلسطین پر ساری دنیا کا موقف ایک طرف اور امریکا کا دوسری طرف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل ایک حقیقت ہے پاکستان کو اس سے سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہیے جو کہ اس کیلئے مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ بہت سے سارے مسلم ممالک نے ان سے  تعلقات قائم کررکھے ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے پاکستان عالمی سطح پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ امریکا، بھارت سمیت عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ ختم ہو جائے گا۔ لندن میں اسرائیلی اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا رہے۔ لیکن زمینی حقائق کے مدنظر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے جائیں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف امریکا میں پاکستان کی حمایت میں اضافہ ہو گا بلکہ عالمی سطح پر میڈیا بھی پاکستان کے حق میں ہو گا۔ بھارت بھی قریب آجائیگا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ امریکی پالیسیوں اور عالمی میڈیا پر یہودیوں کا غلبہ ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے یہودی پاکستان کی مخالفت چھوڑ دیں گے، سابق صدر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے دو ہزار چھ میں سعودی عرب سمیت سات اسلامی ممالک کا گروپ بنا کر اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم شروع کی تھی۔ تاہم ملکی حالات میں یکسر تبدیلی کے باعث ایسا ہو نہ سکا۔ حماس اورحزب اللہ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)، القاعدہ اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ مسئلہ فلسطین حل نہ ہونا اس کے معرض وجود میں آنے کی وجہ ہے۔ انہوں نے لبنان میں صابرہ اور شاتیلا کے فلسطینی مہاجر کیمپوں میں فلسطینیوں کے قتل عام کے ذمہ دار صہیونی فوجی جنرل ارئیل شارون کو “شاندار خراج” پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ درحقیقت احترام کے لائق ہیں۔  فلسطینی انتظامیہ کے سابق صدر مرحوم یاسر عرفات سے متعلق سوال پر سابق صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ ابو عمار نے مسئلہ فلسطین کے حل کی خاطر زیادہ کچھ نہیں کیا کیونکہ شاید وہ اپنی جان کے بارے میں ہمیشہ متفکر رہتے تھے۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر بات کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ تہران کو کسی ملک سے خطرہ نہیں، اس لئے ایران کے نیوکلئر پروگرام کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اگرچہ غیر لکچدار رویے کے مالک ہیں تاہم وہ کسی کے خلا ایٹمی اسلحہ کبھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور ایک مبینہ امریکی آپریشن میں ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اس میں غفلت کا عنصر رول آؤٹ نہیں کیا جا سکتا تاہم ان کی پاکستان میں مبینہ موجودگی کسی جوڑ توڑ کا نتیجہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا ایک دن وہ اسرائیل کا دورہ بھی کر سکتے ہیں، تاہم فی الحال وہ ملک واپسی کی تیاری میں ہیں کیونکہ پاکستان کو ان کی شدید ضرورت ہے۔

Comments are closed.