سائبر حملہ بھی دہشت گردی ہے، اسرائیل

Posted: 10/01/2012 in All News, Breaking News, Important News, Palestine & Israel, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News

اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ ہیکنگ کی کوشش ملکی خود مختاری پر حملے کی مترادف ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سائبر حملہ دہشت گردی کی طرح ہے اور ہیکرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اسرائیل نے اپنے لاکھوں شہریوں کے کریڈٹ کارڈز کی معلومات عام کرنے والے ہیکر کو سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیلی نائب وزیر خارجہ ڈینی آیالون نے کہا ہے کہ شہریوں کی معلومات چوری کرنا یا سائبر اٹیک اسرائیلی خود مختاری پر حملے کے برابر ہے اور اس کا جواب بھی اسی انداز میں دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل کوکوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو اسرائیل کے پاس ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایسا کرنے والا چاہے انفرادی سطح پر یہ کام کرے یا کوئی تنظیم اس کے پس پردہ ہو ، کارروائی سے نہیں بچ سکے گا۔ اس تناظر میں انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔اسرائیلی شہریوں کا ڈیٹا چوری کرنے والے ہیکر نے بتایا ہے کہ وہ سعودی عرب میں رہائش پذیر ہے اور اس نے اسرائیل کی تجارتی ویب سائٹس کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ 0x0mar ’آکس عمر‘ نامی ہیکر نے چار لاکھ اسرائیلی باشندوں کا ڈیٹا چوری کر کے انٹرنیٹ پر عام کر دیا تھا۔ اس حوالے سے کریڈٹ کارڈ کمپنیوں نے بتایا  ہےکہ ان میں 25 ہزار کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ای میل کے ذریعے 0x0mar سے ایک انٹرویو کیا ہے۔ماہرین نے اس دوران ہیکر کو ٹریک کرنے کے بعد بتایا کہ یہ ایک 19سالہ نوجوان ہے، جو متحدہ عرب امارات کا شہری ہے اور آج کل  میکسیکو میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ابھی تک اس سلسلے میں میکسیکو کے حکام سے رابطہ نہیں کیا ہے۔حماس نے ہیکنگ کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مزید سائبر حملے ہونے چاہیئں۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ عرب نوجوان اسرائیلی دھمکی سے نہ ڈریں اور ورچوئل دنیا کے تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی جرائم کو بے نقاب کریں۔ حکومتی اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں نے بتایا ہے کہ معلومات عام کرنے سے نقصان بہت زیادہ نہیں ہوا۔ اسرائیل پر اس سے قبل بھی سائبر حملے ہو چکے ہیں اور اس دوران سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔

Comments are closed.