جینیاتی تبدیلیوں والے پہلے بندر کی پیدائش

Posted: 10/01/2012 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Educational News, Important News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نیتجے میں دنیا کے پہلے بندر کی پیدائش کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بندر کی پیدائش چھ مختلف جنین کے خلیات کو ملانے سے ممکن ہوئی ہے۔ امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بندر کی پیدائش کا اعلان نئے سال کے پہلے ہفتے کے دوران پانچ جنوری کو کیا۔  اس پیش رفت کو طبی تحقیق میں ممکنہ بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تک اس نوعیت کے تحقیق کے لیے بنیادی طور پر چوہے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ لیبارٹری میں دو یا اس سے زائد ابتدائی جنین کو ملانے کے نتیجے میں ایک عجیب الخلقت جانور وجود میں آتا تھا۔ سائنسدان بہت عرصہ پہلے ہی جینیاتی تبدیلیوں کے حامل چوہے کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان چوہوں میں بعض جینز کم رکھے جاتے تھے تاکہ بیماریوں اور طریقہ علاج کا مطالعہ کیا جا سکے جن میں موٹاپا، امراض دِل، بے چینی، ذیابیطس اور پارکنسن جیسی بیماریاں شامل ہیں۔اس کے برعکس دیگر جانوروں پر کیے گئے تجربات ماضی میں ناکام رہے تھے، لیکن امریکہ کی مغربی ریاست اوریگون میں سائنسدان جینیاتی چوہے کی پیدائش کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کار کو بدلتے ہوئے بندر کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ بریک تھرو اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے انتہائی ابتدائی مرحلے کے جنین کے خلیوں کو آپس میں ملایا، جس کا اگلا مرحلہ زندگی کو ممکن بنانے والے خلیوں کی نمو کے ساتھ پورے جانور کے وجود کی تشکیل تھی۔ قبل ازیں جینیاتی چوہے جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے ذریعے بنائے گئے تھے، جنہیں لیبارٹری میں پروان چڑھاتے ہوئے چوہے کے جنین میں بدلا گیا، لیکن یہ طریقہ کار جینیاتی بندر کی پیدائش کے لیے کامیاب نہیں رہا تھا۔ کیونکہ چوہوں کے برعکس بندروں کے جنین، جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے انضمام کے لیے موزوں نہیں۔ اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی میں قائم اوریگون نیشنل پرائمیٹ ریسرچ سینٹر کے محققِ اعلیٰ شوکھرات میٹالیپو کہتے ہیں کہ جینیاتی بندروں کی پیدائش چوہوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ان کے اس تجربے کے نتیجے میں تین صحت مند جینیاتی بندر پیدا ہوئے ہیں، جنہیں انہوں نے روکُو، ہیکس اور کیمیرو کے نام دیے ہیں۔ میٹالیپو کہتے ہیں کہ خلیے باہم ملے رہتے ہیں اور ٹشوز اور اعضا کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سائنس کے لیے لامحدود امکانات موجود ہیں۔ یہ تحقیق بیس جنوری کو جاری ہونے والے سائنسی جریدے ’سیل‘ کی اشاعت سے پہلے ہی انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی ہے۔ اس تحقیق کے لیے شمالی بھارت کا سرخ منہ والا بندر استعمال کیا گیا جسے سائنسدان ایچ آئی وی / ایڈز کی دواؤں، پاگل کتے کے کاٹے کے لیے تحقیقی ویکسین، چیچک اور پولیو کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ روس اور امریکہ ان بندروں کو تجرباتی طور پر خلائی مشنز کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔

Comments are closed.