Archive for 10/01/2012

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے آج پیر کے روز کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے سخت ترین پابندیوں کا نفاذ ایرانی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ امریکہ اور چند مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے مرکزی بینک اور پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان مزید سخت پابندیوں کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنا ہے، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پرامن جوہری پروگرام جاری رہے گا۔ آج پیر ہی کے روز ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے اطلاع دی کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی کے لیے ایک زیر زمین پلانٹ نے کام شروع کر دیا ہے۔

Advertisements

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ اور اسرائیل راکٹوں سے کیے جانے والے ممکنہ حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ فوجی تربیتی پروگرام پر عملدرآمد کے خواہش مند ہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی ہے کہ اس فوجی تربیتی منصوبے کے تحت دونوں ملک اس طرح کے فرضی حالات کا سامنا کریں گے، جیسے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کر دیا گیا ہو۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق اس مشترکہ تربیتی پروگرام کے لیے ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔ کیونکہ کثیر تعداد میں اسرائیلی فوجی اس ممکنہ جنگ میں مارے جانے کی وحشت،خوف اور دہشت کے سبب سے قبل از وقت ریٹائر مینٹ لے کر ملک کو چھوڑ کر جا رہے ہیں، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ میں سوائے شکت کے کچھ نہیں کیوں کہ اب مقابلہ حقیقی مسلمانوں سے ہے

اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ ہیکنگ کی کوشش ملکی خود مختاری پر حملے کی مترادف ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سائبر حملہ دہشت گردی کی طرح ہے اور ہیکرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اسرائیل نے اپنے لاکھوں شہریوں کے کریڈٹ کارڈز کی معلومات عام کرنے والے ہیکر کو سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیلی نائب وزیر خارجہ ڈینی آیالون نے کہا ہے کہ شہریوں کی معلومات چوری کرنا یا سائبر اٹیک اسرائیلی خود مختاری پر حملے کے برابر ہے اور اس کا جواب بھی اسی انداز میں دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل کوکوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو اسرائیل کے پاس ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایسا کرنے والا چاہے انفرادی سطح پر یہ کام کرے یا کوئی تنظیم اس کے پس پردہ ہو ، کارروائی سے نہیں بچ سکے گا۔ اس تناظر میں انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔اسرائیلی شہریوں کا ڈیٹا چوری کرنے والے ہیکر نے بتایا ہے کہ وہ سعودی عرب میں رہائش پذیر ہے اور اس نے اسرائیل کی تجارتی ویب سائٹس کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ 0x0mar ’آکس عمر‘ نامی ہیکر نے چار لاکھ اسرائیلی باشندوں کا ڈیٹا چوری کر کے انٹرنیٹ پر عام کر دیا تھا۔ اس حوالے سے کریڈٹ کارڈ کمپنیوں نے بتایا  ہےکہ ان میں 25 ہزار کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ای میل کے ذریعے 0x0mar سے ایک انٹرویو کیا ہے۔ماہرین نے اس دوران ہیکر کو ٹریک کرنے کے بعد بتایا کہ یہ ایک 19سالہ نوجوان ہے، جو متحدہ عرب امارات کا شہری ہے اور آج کل  میکسیکو میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ابھی تک اس سلسلے میں میکسیکو کے حکام سے رابطہ نہیں کیا ہے۔حماس نے ہیکنگ کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مزید سائبر حملے ہونے چاہیئں۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ عرب نوجوان اسرائیلی دھمکی سے نہ ڈریں اور ورچوئل دنیا کے تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی جرائم کو بے نقاب کریں۔ حکومتی اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں نے بتایا ہے کہ معلومات عام کرنے سے نقصان بہت زیادہ نہیں ہوا۔ اسرائیل پر اس سے قبل بھی سائبر حملے ہو چکے ہیں اور اس دوران سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔

امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نیتجے میں دنیا کے پہلے بندر کی پیدائش کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بندر کی پیدائش چھ مختلف جنین کے خلیات کو ملانے سے ممکن ہوئی ہے۔ امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بندر کی پیدائش کا اعلان نئے سال کے پہلے ہفتے کے دوران پانچ جنوری کو کیا۔  اس پیش رفت کو طبی تحقیق میں ممکنہ بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تک اس نوعیت کے تحقیق کے لیے بنیادی طور پر چوہے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ لیبارٹری میں دو یا اس سے زائد ابتدائی جنین کو ملانے کے نتیجے میں ایک عجیب الخلقت جانور وجود میں آتا تھا۔ سائنسدان بہت عرصہ پہلے ہی جینیاتی تبدیلیوں کے حامل چوہے کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان چوہوں میں بعض جینز کم رکھے جاتے تھے تاکہ بیماریوں اور طریقہ علاج کا مطالعہ کیا جا سکے جن میں موٹاپا، امراض دِل، بے چینی، ذیابیطس اور پارکنسن جیسی بیماریاں شامل ہیں۔اس کے برعکس دیگر جانوروں پر کیے گئے تجربات ماضی میں ناکام رہے تھے، لیکن امریکہ کی مغربی ریاست اوریگون میں سائنسدان جینیاتی چوہے کی پیدائش کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کار کو بدلتے ہوئے بندر کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ بریک تھرو اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے انتہائی ابتدائی مرحلے کے جنین کے خلیوں کو آپس میں ملایا، جس کا اگلا مرحلہ زندگی کو ممکن بنانے والے خلیوں کی نمو کے ساتھ پورے جانور کے وجود کی تشکیل تھی۔ قبل ازیں جینیاتی چوہے جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے ذریعے بنائے گئے تھے، جنہیں لیبارٹری میں پروان چڑھاتے ہوئے چوہے کے جنین میں بدلا گیا، لیکن یہ طریقہ کار جینیاتی بندر کی پیدائش کے لیے کامیاب نہیں رہا تھا۔ کیونکہ چوہوں کے برعکس بندروں کے جنین، جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے انضمام کے لیے موزوں نہیں۔ اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی میں قائم اوریگون نیشنل پرائمیٹ ریسرچ سینٹر کے محققِ اعلیٰ شوکھرات میٹالیپو کہتے ہیں کہ جینیاتی بندروں کی پیدائش چوہوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ان کے اس تجربے کے نتیجے میں تین صحت مند جینیاتی بندر پیدا ہوئے ہیں، جنہیں انہوں نے روکُو، ہیکس اور کیمیرو کے نام دیے ہیں۔ میٹالیپو کہتے ہیں کہ خلیے باہم ملے رہتے ہیں اور ٹشوز اور اعضا کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سائنس کے لیے لامحدود امکانات موجود ہیں۔ یہ تحقیق بیس جنوری کو جاری ہونے والے سائنسی جریدے ’سیل‘ کی اشاعت سے پہلے ہی انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی ہے۔ اس تحقیق کے لیے شمالی بھارت کا سرخ منہ والا بندر استعمال کیا گیا جسے سائنسدان ایچ آئی وی / ایڈز کی دواؤں، پاگل کتے کے کاٹے کے لیے تحقیقی ویکسین، چیچک اور پولیو کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ روس اور امریکہ ان بندروں کو تجرباتی طور پر خلائی مشنز کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔

پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک خط کے ذریعے خفیہ مراسلے (میمو) کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو اپنی کارروائی خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس معلومات ہیں تو وہ تحریری طور پر سربمہر لفافے میں کمیشن کے حوالے کر سکتے ہیں۔ میمو تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس پیر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت میں منعقد ہوا۔ ادھر امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اپنے مؤقف پر برقرار ہیں کہ خفیہ مراسلے کی تشکیل، اس کے مسودے کی تیاری یا اسے امریکی فوج کے سابق سربراہ مائیک مولن تک پہنچانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے میمو تحقیقاتی کمیشن کے روبرو اپنے ابتدائی بیان میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ میمو کو ان سے غلط طور پر منسوب کیا گیا ہے۔ انہیں میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے علاوہ میمو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ حسین حقانی نے اپنا یہ بیان ریکارڈ کرانے سے قبل عدالت میں حلف بھی لیا کہ وہ جو کہیں گے صرف سچ کہیں گے۔حسین حقانی کے علاوہ میمو کیس کی تحقیقات کے لیے درخواست گزار مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وہ ملکی سلامتی کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کمیشن میں پیش ہوئے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے میمو کے معاملے میں عدالتی کمیشن کی بجائے پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا، ‘زرداری صاحب کا یہ جو حالیہ جملہ ہے کہ میں پارلیمنٹ کی بات مانوں گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ پاکستان کی عدلیہ پر عدم اعتماد ہے اور یہ کمیشن جو بنا ہے اس پر بھی ایک طرح کا انہوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی رجحان آج حکومت کو یہ دن دکھا رہا ہے‘۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے کمیشن کے سامنے پیش نہ ہو سکے۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک خط کے ذریعے کمیشن کو اپنی کارروائی خفیہ رکھنے کی درخواست کی۔ تاہم کمیشن کے چیئرمین قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی یا کوئی بھی اگر معلومات شیئر کرنا چاہتا ہے تو وہ بند لفافے میں بھجوا سکتا ہیں۔ دوسری جانب منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل اپنے بلیک بیری فون کی پرائیویسی سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں اور اب حسین حقانی بھی ایسا ہی کریں۔ تاہم حسین حقانی کے وکیل زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل فی الحال اپنے اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے،’اس مرحلے پر اپنا حق چھوڑنے پر اس لیے تبار نہیں کہ منصور اعجاز ملک میں نہ آنے کے لیے بہانے بنا رہا ہے۔ اس نے آج تک ویزا کے لیے درخواست نہیں دی۔ پھر میں نے آپ سب کو کہا تھا کہ وہ 9 جنوری کو نہیں آئے گا اور اس نے جو شرائط لکھ کر بھیجی ہیں وہ پورا ہونا ہی ممکن نہیں اور وہ بہانے تلاش کر رہا ہے‘۔بعدازاں اٹارنی جنرل نے کمیشن کو بتایا کہ حکومت نے منصور اعجاز کو پاکستان آنے کے لیے لندن ہائی کمیشن کو ویزہ جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ تاہم اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل 16 جنوری کو اس صورت پاکستان آ سکتے ہیں، جب کمیشن بلیک بیری کمپنی سے حسین حقانی اور منصور اعجاز کے کال اور پیغامات کا ریکارڈ منگوا لے۔ پیر کے روز کمیشن کی کارروائی میں آئی ایس آئی اور ایف آئی اے کے فرانزک ماہرین نے بھی کمیشن میں بیانات دیے۔ کمیشن نے ایف آئی اے کے فرانزک ماہر پر جرح کے بعد ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ دریں اثناء پیر ہی کے روز حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے میمو کیس میں عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔ اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق سپریم کورٹ کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اختیار نہیں۔

واضح رہے کہ صدر زرداری گذشتہ ماہ کے اوائل میں اچانک طبعیت کی ناسازی کی وجہ دبئی چلے گئے تھے جہاں وہ چند روز دبئی کے امریکن اسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔ جس کے بعد وہ دسمبر کے وسط میں وطن واپس آ گئے تھے۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا میڈیکل چیک اپ کرانے کے لئے دبئی جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق صدر زرداری دبئی میں اپنا چیک اپ کروانے کے لئے کل رات روانہ ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدر اپنے دورہ دبئی کے دوران وہاں مختصر قیام کریں گے اور 24 گھنٹوں کے اندر وطن واپس پہنچ جائیں گے۔ دیگر ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی بہت جلد دبئی جانے کی تیاری کی جا رہی ہے، ذرائع نے مزید کہا کہ صدر مملکت بہت جلد دوبارہ دبئی جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر زرداری گذشتہ ماہ کے اوائل میں اچانک طبعیت کی ناسازی کی وجہ دبئی چلے گئے تھے جہاں وہ چند روز دبئی کے امریکن اسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔ جس کے بعد وہ دسمبر کے وسط میں وطن واپس آ گئے تھے۔ اس دوران انکی عدم موجودگی پر چہ مگوئیاں ہوئی تھیں۔ تاہم صدر کی واپسی کے ساتھ ہی یہ سب ختم ہو گئی تھیں۔

تحریک انصاف لاہور ڈویژن کے استقبالیہ سے خطاب پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کا کہنا تھا کہ حالات حکومت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں، وہ سو جتن کر لیں، میدان ہار چکے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں ٹکٹ صرف ایماندار لوگوں کو ہی دئیے جائیں، چاہے نشست ہار جائیں۔تحریک انصاف کے وائس چئیرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف ایک طوفان کی طرح اٹھ رہی ہے، جسے زرداری صاحب یا میاں براداران نہیں روک سکیں گے۔ لاہور میں تحریک انصاف لاہور ڈویژن کے استقبالیہ سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ٹکٹ صرف ایماندار لوگوں کو ہی دئیے جائیں، چاہے نشست ہار جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزارت کرسی یا کوئی اور چیز درکار ہوتی تو شاہ محمود آج عوام کے سامنے نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر زرداری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ان سے جس خصوصی محبت کا ثبوت دیا ہے اس کا جواب وہ سندھ جا کر ہی دیں گے۔ تقریب سے خطاب میں سردار آصف علی نے کہا کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے لئے اور بہت کچھ کرنے کا دل تھا، تاہم ابھی صرف انہیں اسمبلی سے اپنے استعفٰی کے سوا کچھ پیش نہیں کر سکا۔ پارٹی میں تین سابق وزرا خارجہ سے مستقبل میں ملکی خارجہ پالیسی کو تین گنا بہتر بنائیں گے۔ تحریک انصاف اب ایک جماعت نہیں رہی بلکہ حقیقی معنوں میں ایک تحریک بن چکی ہے، جو ملک کو بچائے گی۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاکستان جس تنہائی کا شکار آج ہے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں تھا۔ دیگر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حالات حکومت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں، وہ سو جتن کر لیں، میدان ہار چکے ہیں۔ لاہور میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں کے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا طوفان گزر رہا ہے، اسے زرداری روک سکتا ہے نہ نوازشریف۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا منشور قوم کے سامنے رکھیں گے جو قوم کی ترجمانی کرے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر زرداری نے مجھ سے خاص محبت کا اظہار کیا ہے، وہ سندھ جا کر اس کا جواب دیں گے

امریکہ پسپائی پر ہے، پسپائی کا دور امریکہ کا 30 سال سے جاری ہے۔ اس کی پسپائی 1950ء میں کوریا جنگ سے ہوئی۔ 1950ء کی دہائی میں پھر امریکہ کی پسپائی ہوئی جب فرانس کو ویتنام سے نکال دیا گیا۔ پھر اس کی پسپائی کیوبا میں ہوئی۔ بڑی طاقتوں کی عادت ہوتی ہے، جیسے امیروں کی غریبوں پر ہوتی ہے کہ انہیں غصہ جلدی آ جاتا ہے۔ اور یقیناً امریکہ کے مقابلے میں ایران غریب ملک ہے، لیکن امریکہ ایران کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا کہ وہ اندر سے مضبوط ہیں، عوام میں سیاسی قیادت کی جڑیں ہیں،وہ گھبرانے والے نہیں۔ امریکہ ہر جگہ محکومین اور مظلومین کے ہاتھوں بری طرح پسپا ہو رہا ہے۔ فلسطینی بھی ایک دن جیت جائیں گے۔ فلسطین کے معاملے میں اسرائیل کچھ نہیں، سب کچھ امریکہ ہی کا کیا دھرا ہے۔ اسرائیلی اخبارات کو پڑہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی عوام ریاست کی فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنے پر کتنا غصے میں ہے۔

قائد انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ ای نے پير کي صبح تہران ميں قم کے افاضل اور عوام کے ايک اجتماع سے خطاب ميں اسلامي نظام کي مسلسل کاميابيوں ميں صبر و بصيرت کے بنيادي کردار کا حوالہ ديتے ہوئے دشمنوں کي سازشوں کي ناکامي کي وجوہات پر روشني ڈالي ـ قائد انقلاب اسلامي نے دشمنوں کي سازشوں کي ناکامي اور ملت ايران کي قوت و طاقت کے دو بنيادي عناصر کي حيثيت سے اصولوں پر اسلامي نظام کي استقامت اور ميدان عمل ميں عوام کي دانشمندانہ موجودگي کا نام ليا اور فرمايا کہ سامراجي محاذ کے خيالات اور اندازوں کے برخلاف اسلامي جمہوري نظام آج نہ صرف يہ کہ شعب ابو طالب والے حالات ميں نہيں ہے بلکہ بدر و خيبر والي پوزيشن ميں پہنچ چکا ہےـقائد انقلاب اسلامي نے صبر اور بصيرت کو قوموں کي کاميابيوں کا سلسلہ جاري رہنے ميں دو موثر عوامل قرار ديا اور فرمايا کہ ملت ايران نے صبر و بصيرت کي بنياد پر عظيم کاميابياں حاصل کرنے کا تجربہ دنيا کي اقوام کے سامنے پيش کر ديا ہےـحضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے بصيرت و صبر کي تقويت اور کفر و استکبار کے محاذ کي تسلط پسندي کے مقابلے ميں ملت ايران کي سلسلہ وار کاميابيوں کو دو ديگر اہم عناصر پر منحصر قرار ديتے ہوئے فرمايا کہ اصولوں پر اسلامي نظام کي استقامت اور ميدان ميں عوام کي دانشمندانہ موجودگي دشمنوں کي ہر سازش اور مکر و حيلے کو ناکام بنا دے گي ـقائد انقلا اسلامي نے فرمايا کہ استکباري محاذ عوام کو مايوس اور حکام کے ارادوں کو متزلزل کرنے کے لئے ہر حربے اور چال کا استعمال کرتا ہےـآپ نے فرمايا کہ مغربي حکام نے بارہا يہ بات دوہرائي ہے کہ پابنديوں اور عوام پر دباؤ ڈالنے کا مقصد انہيں تھکا کر ميدان سے باہر نکال دينا اور حکام کو اپني پاليسيوں پر نظر ثاني کرنے پر مجبور کرنا ہے ليکن وہ سخت بھول ميں ہيں اور انہيں يہ ہدف ہرگز حاصل ہونے والا نہيں ہے، کيونکہ ہميشہ غلط اندازے لگانے والے يہ روسياہ عناصر اس خيال ميں رہتے ہيں کہ اسلامي نظام شعب ابو طالب والے حالات سے دوچار ہے جبکہ ملت ايران اس وقت بدر و خيبر کي پوزيشن ميں پہنچ چکي ہےـقائد انقلاب اسلامي نے بلنديوں کي جانب ملت ايران کے سفر کے سلسلے ميں فرمايا کہ اس ميں کوئي وقفہ پيدا نہيں ہو سکتا ـ آپ نے فرمايا کہ دشمن ايسے عالم ميں عوام اور حکام کے عزم و ارادے ميں تزلزل پيدا کرنا چاہتا ہے کہ جب اسلامي جمہوريہ ايران کي قوت و توانائي اس مقام پر ہے جس کا بيس يا تيس سال پہلے تصور بھي نہيں کيا جا سکتا تھا دوسري طرف استکبار کے محاذ کي ظاہري ہيبت بھي ماضي کي نسبت اس وقت ختم ہو چکي ہےـ قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ دين اور سعادت دنيا و آخرت کے صراط الہي پر گامزن رہنے کا حکام کا ارادہ مستحکم ہے اور عوام بھي ثابت قدمي کے ساتھ اس راہ پر آگے بڑھ رہے ہيں ـ  قائد انقلاب اسلامي نے انتخابات کو عوامي شراکت کي نمائش کا اہم ميدان قرار ديا اور فرمايا کہ مدتوں پہلے سے کفر و استکبار کے مراکز سے ليکر اس محاذ کے پيادوں تک سب نے وسيع پيمانے پر کوششيں کي ہيں کہ پارليماني انتخابات ميں عوام کا شرکت بہت محدود ہو ليکن اللہ تعالي کے لطف و کرم سے انتخابات ميں عوام کي شرکت دشمن کي کمر توڑ دينے والي ہوگي ـ قائد انقلاب اسلامي نےايران کے پارليماني انتخابات کو دنيا کي تمام مسلم اقوام کے لئے بہت اہم اور موثر قرار ديا اور فرمايا کہ يہي وجہ ہے کہ استکباري محاذ بشمول امريکہ، برطانيہ، صيہونيوں اور ديگر عناصر، سب يہ کوشش کرتے ہيں کہ انتخابات مخدوش بنائيں اور قوموں کي نظر ميں اسے مايوس کن ظاہرکريں ـقائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ ملت ايران انتخابات اور انقلابي رجحان کے لحاظ سے قوموں کے درميان پيش پيش ہے اور تمام قوموں کي نگاہيں ايران کے پارليماني انتخابات پر لگي ہوئي ہيں ــ

عراق کے اسلامی اعلی کونسل کے صدر چهلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے پیدل کربلا کی طرف جانے والے قافلے میں شریک ہو کر ان کے ساتھ کربلا کی طرف روانہ ہو ئے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق زائرین حسینی جو نجف اشرف سےکربلا کی طرف پیدل جا رہے تھے عراق کےاسلامی اعلی کونسل کے صدر حجت الاسلام سید عمار حکیم نے ان کے پروگرام میں شرکت کی اور ان کے ھمراه نجف اشرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ اطہر کی طرف کربلا پیدل روانہ ہوئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سید عمار حکیم راستہ میں زائروں اور امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں کی خدمت کرنے والے بعض انجمنوں کے کیمپوں میں جاکران کی حوصلہ افزائی فرمارہے ہیں کیمپوں میں موجود انجمنوں والے  گرمجوشی سے ان کا استقبال کررہے ہیں۔ ہرسال کی طرح اس سال بهی خاندان عصمت و طهارت کے چاہنے والے عراق کے تمام گوشہ وکنار اور بعض بیرون ممالک سے اس پروگرام میں شرکت اور اربعین حسینی کی مناسبت سے پیدل کربلا تک سفر کرنے کے لئے نجف اشرف حاضر ہوئے ہیں ۔ ادهرکاظمین کے خطیب جمعہ حجت الاسلام شیخ جلال الدین صغیرکے آفس نے بھی اس سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لئے کربلااورنجف کے درمیان کمبل کے تقسیم کرنے کا انتظام  کیا ہے ۔ان کے اس آفس نے اعلان کیا ہے کہ ایک جدید ہال کا افتتاح کیا گیا ہے کہ جس میں ۴۵۰۰ سے بھی زیادہ امام حسین کے زائرین مقیم ہو سکتے ہیں یہ عمارت کربلا اور نجف کے راستہ میں شہداء کربلا کے عاشقوں اور ان کے غمخواروں کے لئے آمادہ کی گئی ہے ۔

موریطانیہ کے ذرائع کے مطابق قطر کے امیر کو اس کے نامناسب مؤقف اور مداخلت کی بنا پر موریطانیہ سے نکال دیا گيا ہے۔ ذرائع نے میڈل ایسٹ آن لائن سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قطر کے امیر کو اس کے نامناسب مؤقف اور مداخلت کی بنا پر موریطانیہ سے نکال دیا گيا ہے۔ ذرائع کے مطابق امیر قطر نے موریطانیہ کے صدر کو ملک میں اصلاحات کی سفارش کی جس کے بعد دونوں رہنماؤں میں تلخ کلامی ہوئی اور موریطانیہ کے صدر محمد ولد بن عبد العزيز نے قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ملک سے اخراج کرنے کا حکم دیدیا۔اور صرف موریطانیہ کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے قطر کے امیر اور اس کے ہمراہ وفد کو خدا حافظ کیا۔ محمد ولد عبد العزیز نے امیر قطر کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قطر مغربی ممالک کی پالیسیوں کو عرب ممالک پر تھونپے کی کوشش کررہا ہے۔

اسلامي جمہوريہ ايران کي انٹیليجنس کے وزير نے کہا ہے کہ ايران ميں گرفتار کئے گئے امريکي جاسوسوں کا مقصد ايران کے آئندہ عام انتخابات کے عمل ميں رخنہ اندازي کرنا تھا ذرائع کے مطابق ايران کي انٹليجنس کے وزير حيدر مصلحي نے تہران ميں صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے ايران ميں متعدد امريکي جاسوسوں کي گرفتاري کي اطلاع دي اور کہا کہ ان جاسوسوں کا مشن آئندہ عام انتخابات ميں فيس بک اور انٹرنيٹ کے ذريعے اپنے ناپاک منصوبوں کو عملي جامہ پہنانا تھا اسلامي جمہوريہ ايران کي انٹليجنس کے وزير نے ساتھ ہي اس بات پر زور ديا کہ انتخابات کے دوران ہر قسم کي ممکنہ سازشوں اور اقدامات پر ايران کے انٹليجنس اداروں کي گہري نظر ہے – انہوں نے کہا کہ ان جاسوسوں سے بہت ہي اہم معلومات اور دستاويزات حاصل ہوئي ہيں-حيدر مصلحي نے اس سے پہلے گذشتہ سال کے اواسط ميں بھي کہا تھا کہ امريکي سي آئي اے کے ايک بہت ہي پيچيدہ نيٹ ورک کا پتہ لگا کر اس کو تباہ اور تيس امريکي جاسوسوں کو گرفتار کرليا گيا ہے

قاہرہ میں شام کے سفیر نے قطر کے وزير اعظم کے شام کے خلاف اظہارات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تخریب کاری فوری طور پر بند کردے۔ ذرائع نے شام کی خبررساں ایجنسی سانا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قاہرہ میں شام کے سفیر یوسف احمد نے قطر کے وزير اعظم کے شام کے خلاف اظہارات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تخریب کاری فوری طور پر بند کردے۔ انھوں نے کہا کہ عربی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے قطر کے وزیر اعظم کا بیان اس کے عہدے کے بالکل منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قطر کے وزیر اعظم نے شام کے عوام کا ترجمان بننے کی کوشش کی ہے جبکہ شامی عوام کی واضح اکثریت بیرونی مداخلت کے خلاف ہیں اور شامی عوام نے حالیہ مظاہروں میں عملی طور پر اس بات کو ثابت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے کس گروپ نے قطر کو شام کے عوام کا ترجمان بننے کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ قطر امریکی اور اسرائيل کی سرپرستی میں شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔

فلسطین کی منتخب اور قانونی حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ حماس کبھی بھی صیہونی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گي۔ تیونس سے قطر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ نے شہر تیونس کے اسٹیڈیم میں ہزاروں افراد سے خطاب میں کہا کہ حماس اسرائيل کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گی اور نہ ہی فلسطین کی ایک بالشت زمین سے چشم پوشی کرے گی۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ اب مصر اور تیونس صیہونی حکومت کے حلیف نہیں رہے ہیں اور صیہونی حکومت بڑے برے دن گذار رہی ہے۔ انہوں نے عرب ملکوں میں جاری انقلابوں کے حامیوں سے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کے لئے جد وجہد کریں۔ قابل ذکر ہے کہ غزہ پٹی کے محاصرے کے بعد سے اسماعیل ہنیہ کا یہ پہلا بیرونی دورہ ہے، انہوں نے تیونس سے قبل سوڈان اور ترکی کا بھی دورہ کیا تھا۔ ادھر تحریک حماس کے ترجمان نے الفتح تنظیم کی جانب سے قومی مصالحتی معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ الفتح کی ان دھمکیوں سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ قومی مصالحتی معاہدے کو توڑنے اور نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

قاہرہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے زیر انتظام شام کی صورت حال کی نگراں وزارتی کمیٹی نے شامی صدر بشار الاسد اور مسلح مخالفين سے ایک مرتبہ پھر پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ ملک ميں تشدد کا سلسلہ بند کريں ۔اس رپورٹ کے مطابق قطر کے وزير اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني کي سربراہي ميں بلائے جانے والے اس اجلاس ميں شام کے حالات سے متعلق عرب ليگ کے مبصرين کي رپورٹ کا جائزہ ليا- قطر کے وزير اعظم نے اس اجلاس ميں شام کے حکام سے اپيل کي کہ وہ ملک ميں بدامني کے خاتمے کے لئے اپني پوري توانائياں بروئے کار لائيں-حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني نے شام ميں عرب ليگ کے مبصرين کے آزادانہ کام کرنے کي ضرورت پر تاکيد کرتے ہوئے کہا کہ عرب ليگ کے مبصرين کا مشن خاص مدت تک کے لئے نہيں ہے اور يہ مبصرين شام کي صورتحال کا جائزہ لينے کے لئے نگراني کا کام جاري رکھيں گے عرب ليگ کي وزارتي کميٹي نے اعلان کيا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنے مبصرين شام بھيجنے کي ضرورت نہيں ہےـ  عرب لیگ کی وزارتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں شامی حکومت سے کہا گیا کہ “کمیٹی شامی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عرب مبصرین کے پروٹوکول کے تحت شہریوں کو تحفظ دینے کے تمام وعدوں کی مکمل طور پر پاسداری کرے۔ شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیا جائے اور ان پرتشدد فوری طور پر بند کیا جائے۔ کمیٹی نے شامی اپوزیشن کے دھڑوں سے کہا کہ وہ آپس میں متحد ہو جائیں اور شام کے مستقبل اور کسی سیاسی تبدیلی کی صورت میں کوئی متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں، تاکہ شام میں کسی عبوری حکومت کے قیام میں عالمی مصالحت کاروں کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عرب لیگ نے شام میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی اور ان کے مرتکبین کو شام دشمن عناصر قرار دیا۔ عرب لیگ کے مبصرین کو آزادی کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ شام میں خراب حالات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ عرب وزارتی کمیٹی نے شام میں مبصر مشن کے نگران محمد احمد مصطفیٰ الدابی سے کہا کہ کہ وہ انیس جنوری تک شام کی صورت حال کے بارے میں ایک جامع اور مفصل رپورٹ عرب لیگ میں پیش کریں تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ شامی حکومت تشدد روکنے کے اپنے وعدوں پر کتنا عمل درامد کر رہی ہے۔واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف نے عرب لیگ کی جانب سے صدر بشارالاسد کے خلاف سخت موقف اختیار نہ کرنے پر تنقید کی ہے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی عدالت نے امریکی جاسوس امیر میرزا حکمتی کو موت کی سزا سنائي ہے۔ذرائع کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی انقلابی عدالت نے امریکی جاسوس امیر میرزائی حکمتی کو ایران دشمن حکومت کے ساتھ تعاون کرنے، امریکی سی آئي اے میں رکنیت، ارنا کو دہشت گردی کا حامی قراردینے کی کوششوں کے الزامات میں مجرم پایا ہے اور اسے موت کی سزا سنائي ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق حکمتی کی فرد جرم میں امریکی دشمن اور اس کی جاسوسی تنظیم سی آئي اے کے ساتھ تعاون پر زور دیا گيا تھا۔ امریکی جاسوس حکمتی نے اپنے مقدمے کی سماعت کے پہلے دن یہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے سی آئي اے کے ساتھ تعاون کرنے کی غرض سے ایران کے انٹیلی جنس سسٹم میں دراندازی کرنے کی کوشش کی تھی اور امریکیوں کے ہاتھوں دھوکہ کھایا تھا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی دختر جناب سکینہ بنت الحسین  کی شہادت پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خانوادہ رسالت کا اسوہ حسنہ ہر زمانے میں انسانیت کے لئے مینارہ نور ہے اور خاندان عصمت و طہارت کے مرد و خواتین’ بوڑھے حتی کہ کم کمسن بچے بھی مشکل و نامساعد حالات کا مقابلہ کرکے دین حق کی ترویج و تبلیغ کا سبب بنے جس کی واضح مثال نواسہ رسول اکرم ۖ حضرت امام حسین علیہ السلام کی کم سن دختر جناب سکینہ بنت الحسین  ہیں جنہوں  نے ریگزار کربلا میں بھوک اور پیاس سے نڈھال کم سن بچوں کو جمع کرکے ان کی تشنہ لبی کے باوجود انہیں ہمت و حوصلہ دیا  اور سانحہ کربلا میں اپنے پیارے بابا اور دیگر عزیز و اقارب کی جانوں کی قربانی کا دکھ جھیل کر اپنے اوپر ظلم و ستم برداشت کیا اور بعد ازاں کربلا و کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے انتہائی مشکل اور صبر آزما اور کٹھن سفر کی صعوبتوں کی پرواہ نہ کی اور حتی کہ زندان شام میں بھی اذیت ناک اور دردناک لمحات میں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دین حق پر کوئی آنچ نہ آنے دی جس سے واضح ہوتا ہے کہ دین مبین اسلام اور شریعت محمدی کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینا اہل بیت  اطہار کا شیوہ رہا ہے جس کی بدولت آج دین حق کے حلال و حرام اور حقیقی تعلیمات ہم تک پہنچیں اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔

شیعه علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ  شہنشاہ حسین نقوی نے شیعہ رہنما سید عسکری رضا کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی شیعہ کارکنان کو بے دردی سے شہید کیا جاتا رہا اور اول محرم سے اب تک کراچی میں بیس سے زائدشہادتیں ہوچکی ہیں لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے کہاکہ وہ ملت جعفریہ کے تسلسل کے ساتھ ہونے والے قتل عام کا بھی نوٹس لیں۔

قائد ملت جعفریہ کی حمایت سے جھنگ سے جیتنے والے شیخ  وقاص اکرم نے پرویز مشرف کے تازہ انٹرویو میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کو احمقانہ کہا ہے نمائندے کے اطلاع کے مطابق انہوں نے ایک  نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا که اگر مشرف نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کی ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے وه اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے .اگر انھیں یہ کام کرنا تھا تو اپنی حکومت میں کر کے دیکھ لیتے تو انھیں اندازہ ہو جاتا که اس کے نتایج کیا نکلتے . انهوں نے مزید کہا که  اسرائیل کل بھی مردہ باد تھا آج بھی مردہ باد هے اور کل بھی مردہ باد رہے گا اس موقف سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے .

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ یہودی لابی اسرائیل کو تسلیم کروانے کیلئے ماضی کے فوجی اور مستقبل کے جمہوری حکمران کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے اور اس ناپاک منصوبے کی تکمیل کیلئے پاکستان کی قادیانی لابی سرگرم ہے،حافظ حسین احمد نے سابق صدر پرویز مشرف کا بیان غیر ذمے دارانہ ملک سے غداری اور امریکا کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیدیا۔ وہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف اسرائیل کو تسلیم کرانے کے مشن پر پاکستان آ رہے ہیں اور اس کیلئے صہیونی لابی نے ان کے اکائونٹس میں کروڑوں ڈالر منتقل کر دئیے ہیں، اس سے قبل امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس ضمن میں منصور اعجاز کا بھی گھنائونا کردار ہے۔ لیکن جب میمو گیٹ کی دھند چھٹ جائے گی تو پھر اسرائیل کے تسلیم کرنے کیلئے منصور اعجاز اور حسین حقانی کی ہم آہنگی سے پردہ اٹھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی لابی مختلف انداز سے پاکستان کے نظریاتی تشخص کو مفلوج کرنے کی کوشش کر رہی ہے، قبل ازیں حافظ حسین احمد نے مجلس احرار اسلام پاکستان کے رہنمائوں سے دینی قومی اور ملکی مسائل پر مشاورت کی۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے پرویز مشرف کے اسرائیل کو تسلیم اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا کوئی محب وطن حکمران اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ منصورہ لاہور سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو امریکہ کی آشیر باد اور حمایت سے فلسطین پر ناجائز قبضہ کر کے مسلمان عرب ممالک کے عین وسط میں خنجر کی طرح گھونپ دی گئی ہے۔ انہوں کہا کہ گزشتہ پانچ سال سے غزہ کی پٹی پر بدترین محاصرہ جاری ہے، فلسطینیوں تک خوراک اور ادویات تک پہنچنے نہیں دی جا رہیں۔ سید منور حسن نے کہا کہ پرویز مشرف کا بیان امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ہے، جس سے فلسطینی مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔

پاکستان کے سابق صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی اسرائیل سے پاکستانی تعلقات قائم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک حقیقت اور پاکستان کی طرح  نظریاتی ریاست ہے اسرائیلی اخبارہزرٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز مشرف نے کہاکہ  پاکستان کو اسرائیل کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہیےکیونکہ پاکستان یہودیوں کے خلاف نہیں ۔انہوں نے انٹرویو کے دوران کہاکہ میرے دور حکومت میں  سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری  نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات میرے کہنے پر کی تھی جو کہ ہماری طرف سے پہلااعلی ٰ سطحی رابطہ تھا۔سابق صدر نے کہاکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے  تمام پاکستانی میرے ساتھ ہیں جس کی بڑی مثال قصوری کی ملاقات پر پاکستان میں ردعمل نہ آنا ہے  جب کہ حکومت کو بدلتی ہوئی حقیقتوں کا اداراک کرنا ہوگا۔ پرویز مشرف نے کہاکہ فلسطین کا مسئلہ دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک ہےجب کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناو کی وجہ افغانستان ہے۔پرویز مشرف نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ فلسطینوں کا حامی رہا ہے ان کے حقوق کیلئے آوازاٹھاتار ہے گاکیونکہ فلسطین پر ساری دنیا کا موقف ایک طرف اور امریکا کا دوسری طرف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل ایک حقیقت ہے پاکستان کو اس سے سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہیے جو کہ اس کیلئے مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ بہت سے سارے مسلم ممالک نے ان سے  تعلقات قائم کررکھے ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے پاکستان عالمی سطح پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ امریکا، بھارت سمیت عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ ختم ہو جائے گا۔ لندن میں اسرائیلی اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا رہے۔ لیکن زمینی حقائق کے مدنظر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے جائیں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف امریکا میں پاکستان کی حمایت میں اضافہ ہو گا بلکہ عالمی سطح پر میڈیا بھی پاکستان کے حق میں ہو گا۔ بھارت بھی قریب آجائیگا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ امریکی پالیسیوں اور عالمی میڈیا پر یہودیوں کا غلبہ ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے یہودی پاکستان کی مخالفت چھوڑ دیں گے، سابق صدر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے دو ہزار چھ میں سعودی عرب سمیت سات اسلامی ممالک کا گروپ بنا کر اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم شروع کی تھی۔ تاہم ملکی حالات میں یکسر تبدیلی کے باعث ایسا ہو نہ سکا۔ حماس اورحزب اللہ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)، القاعدہ اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ مسئلہ فلسطین حل نہ ہونا اس کے معرض وجود میں آنے کی وجہ ہے۔ انہوں نے لبنان میں صابرہ اور شاتیلا کے فلسطینی مہاجر کیمپوں میں فلسطینیوں کے قتل عام کے ذمہ دار صہیونی فوجی جنرل ارئیل شارون کو “شاندار خراج” پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ درحقیقت احترام کے لائق ہیں۔  فلسطینی انتظامیہ کے سابق صدر مرحوم یاسر عرفات سے متعلق سوال پر سابق صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ ابو عمار نے مسئلہ فلسطین کے حل کی خاطر زیادہ کچھ نہیں کیا کیونکہ شاید وہ اپنی جان کے بارے میں ہمیشہ متفکر رہتے تھے۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر بات کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ تہران کو کسی ملک سے خطرہ نہیں، اس لئے ایران کے نیوکلئر پروگرام کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اگرچہ غیر لکچدار رویے کے مالک ہیں تاہم وہ کسی کے خلا ایٹمی اسلحہ کبھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور ایک مبینہ امریکی آپریشن میں ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اس میں غفلت کا عنصر رول آؤٹ نہیں کیا جا سکتا تاہم ان کی پاکستان میں مبینہ موجودگی کسی جوڑ توڑ کا نتیجہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا ایک دن وہ اسرائیل کا دورہ بھی کر سکتے ہیں، تاہم فی الحال وہ ملک واپسی کی تیاری میں ہیں کیونکہ پاکستان کو ان کی شدید ضرورت ہے۔

عراق میں ایک کار بم دھماکے میں ۱۵ شیعہ زائرین امام حسین علیہ السلام زخمی ہو گئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں کربلائے معلی کے راستوں میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی کے نتیجہ میں ایک کار بم دھماکہ میں ۱۵ زائرین امام حسین علیہ السلام زخمی ہو گئے ہیں ۔واضح رہے زخمی ہونیو الے ۱۵ زائرین کا تعلق افغانستان سے ہے جو کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے لئے کربلائے معلی آ رہے تھے ۔ ایک پولیس آفیسر کاکہنا ہے کہ شیعہ زائرین پر حلہ کے مقام پر رات گئے اس وقت حملہ ہوا جب وہ پیادہ کربلائے معلی کے لئے عازم سفر تھے ،کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ۱۵ زائرین امام حسین علیہ السلام زخمی ہو گئے ۔ حلہ اسپتال کے ڈاکٹر محمد الشماری کاکہنا ہے کہ اب تک کار بم دھماکے میں زخمی ہونے والوں مین سے ۱۵ زائرین امام حسین علیہ السلام کو اسپتال پہنچایا گیا ہے جن میں سے تین زائرین کی حالت انتہائی نازک ہے ۔ واضح رہے کہ ہر سال محرم الحرام کی ۱۰ تاریخ کے بعد چالیس دن گذر جانے پر دنیا بھر سے عزاداران امام حسین علیہ السلام پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم شریف میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے مراسم ادا کرنے کے لئے آتے ہیں ،حضرت امام حسین علیہ السلام جو کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نواسے ہیں کو سنہ ۶۱ ہجری میں یزید ملعون نے کربلائے معلی میں بمع اہل و عیال یر غمال کر لیا تھا او ر خاندان نبوت کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے جوانوں سمیت ۷۲ جانثاران امام حسین علیہ السلام کو شہید کر کے اہل وعیال کو قیدی بنا لیا تھا۔دنیا بھر سے لاکھوں عاشقان امام حسین علیہ السلام چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف اور کربلائے معلی میں جمع ہوتے ہیں اور مراسم عزاداری انجام دیتے ہیں ،تاہم نجف اشرف سے پیادہ کاروان کربلائے معلی کی جانب گامزن ہوتے ہیں جہاں عزاداران امام حسین علیہ السلام مراسم عزاداری انجام دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی بغداد او ر دیگر علاقوں میں بھی زائرین امام حسین علیہ السلام پر بم حملے ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں ۷۰ زائرین امام حسین علیہ السلام شہید اور ۱۰۰ سے زائد زخمی ہو گئے تھے ۔

ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے فوراً بعد انسانیت کے دشمن ملک اسحاق کو رہا کردیا جائے گا جس کے بعد ملک میں امن و امان کے خاتمے اور دہشت گردی میں اضافے کی جو حالت سامنے آئے گی وہ ناقابل تصور ہے۔  ملتان۔ ۷ جنوری ۲۰۱۲ء ( ) شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب کے نائب صدر چوہدری فدا حسین گھلوی نے کہا ہے کہ معروف دہشت گردگروہ لشکر جھنگوی کے سربراہ اور سینکڑوں پاکستانی عوام کے قاتل ملک اسحاق کو عارضی نظر بندی کی شکل میں دئیے گئے تحفظ کا اب اختتام کیا جارہا ہے اور ملک اسحاق کی رہائی کے تانے تانے بنے جارہے ہیں۔ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے فوراً بعد انسانیت کے دشمن ملک اسحاق کو رہا کردیا جائے گا جس کے بعد ملک میں امن و امان کے خاتمے اور دہشت گردی میں اضافے کی جو حالت سامنے آئے گی وہ ناقابل تصور ہے۔ چوہدری فدا حسین گھلوی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ملک اسحاق کی رہائی کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اس تسلسل میں اُسے ڈبل کیبن ویگو گاڑی بھی اس کے ہمدردوں اور بہی خواہوں کی طرف سے تحفے میں دے دی گئی جبکہ اُس کی سرگرمیاں بھی نئے سرے سے طے کر لی گئی ہیں۔ اس مرتبہ پہلے کی نسبت زیادہ شدت اور طاقت سے دہشت گرد گروہ کو فعال اور متحرک کیا جائے گا۔ ان تمام خطرات اور اعلانات کے باوجود وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت غفلت کی نیند سورہی ہے اور دانستہ طور پر اقدامات نہیں کررہی ہے۔ ہم متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور دہشت گرد کروہ کے سرغنے کو رہا کردیا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر ہوگی اور لشکر جھنگوی کے ہاتھوں موت کی وادی میں جانے والے پاکستانی عوام کا خون حکمرانوں کی گردن پر ہوگا۔ شیعہ علما کونسل پنجاب کے نائب صدر نے مزید کہا کہ اب پاکستانی عوام سمیت دنیا کے تمام لوگوں پر واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے موجب اور بانی لشکر جھنگوی اور اس کے سرپرست ہیں لیکن سیاسی رہنما ‘ حکمران اور ادارے اس گروہ کے ساتھ مفاہمت اور رعایت کی پالیسی اپنا رہے ہیں جو ملک کے لیے خودکشی کے مترادف ہے۔ اگر ان ملک دشمنوں اور انسانیت کے قاتلوں کو لگام دینے کے لیے قانون کا آہنی شکنجہ استعمال نہ کیا گیا تو پاکستانی عوام اسی طرح خون میں نہاتے رہیں گے اور ملک کی بدنامی پوری دنیا میں ہوتی رہے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک اسحاق کو آزاد کرکے ملک میں امن وامان کی تباہی کے اسباب پیدا نہ کئے جائیں بلکہ لشکر جھنگوی کے تمام مفرور دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے اور گرفتار دہشت گردوں کو سرعام تختہ دار پر لٹکایا جائے تاکہ وطن عزیز میں امن و سکون کا ماحول قائم ہو اور پاکستان کے نام پرامن ممالک میں شامل ہو۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام نے انسانیت کا درس دیا ہے مگر چند لوگ اس پر سیاست چمکانے کی کوشش کرہے ہیں، تحریک انصاف تمام پاکستانیوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنا چاہتی ہے نظام صرف جمہوریت اور لیڈر شپ سے ہی بدلہ جاسکتا ہے، بدوق سے کوئی نظام رائج نہیں کیا جاسکتا، جب تک ملک میں اسلامی معاشی نظام نافذ نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ سینیٹ الیکشن ہوں یا نہیں اس سونامی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ جنرل مشرف کی تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں، بلوچستان کے لوگوں کو خودمختاری دینے سے ہی وہاں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں، تحریک انصاف کے قائدین میں کوئی پھوٹ نہیں، سینٹرل کیبنیٹ کی میٹنگ ہفتہ کو ہی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی قادین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں، شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں چند شرپسند عناسر فساد برپا کرنے کی ساشیں کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود مختاد پالیسیاں مرتب کی جائیں، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے مفاد ہے جسے ہر حالت میں ہونا چاہیے اور اس کی حمایت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ایسے دو راہے پر لاکر کھڑا کر دیا گیا جہاں لوگ پاکستانی ہونے پر فخر کرنے کے بجائے نفرت کررہے ہیں لہٰذا بلوچستان کے عوام کو خودمختاری دی جائے تاکہ بلوچ عوام کی محرومی کا ازالہ کیا جاسکے، انہوں نے کہا ملک میں معاشی اور تعلیمی انصاف کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ فرقہ واریت کو ختم کیا جائے اور سب ایک جھنڈے تلے جمع ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ بہت سے سینئیر وزیر بھی تحریک میں شامل ہورہے ہیں لیکن فی الحال اس معاملہ کو زیر التوا رکھا ہوا ہے۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے مشترکہ اعلامہ پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں بسنے والوں کی واضح اکثریت مسلمان ہے۔ اس کے آئین کے مطابق اس ریاست میں ایسی کسی قانون سازی کی گنجائش نہیں جو قرآن اور سنت کے منافی ہو لہٰذا اس ملک میں عوام کی اکثریت کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق قرآن و سنت پر مبنی نظام کے قیام کی ضرورت ہے، جس میں معاشرے کے تمام طبقات کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔ ایسا نظام جو خودمختار ہو۔ جس کی پالیسیاں ملک کے اندر بنائی جائیں اور غیرملکی قوتیں اس کی پالیسیوں پر اثرانداز نہ ہوں۔ جس میں اسلامی قوانین، کلچر و تہذیب کو فروغ دیا جائے۔ ایک ایسے آزاد نظام کی تشکیل کے لیے سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور دیگر میدانوں میں حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حقیقی تبدیلی کے لیے جو چیزیں لازمی ہیں ان میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں۔