جھنگ:2 خودکش بمباروں سمیت 11تربیت یافتہ دہشتگرد گرفتار،دوخودکش جیکٹس اوردستی بم برآمد

Posted: 09/01/2012 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

جھنگ میں خفیہ اداروں کی بروقت کاراوائی کے نتیجہ میں دہشت گردئؤی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام ہو گیا ۔ سیکورٹی اداروں نے دو خودکش حملہ آوروں سمیت گیارہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ،گرفتار کیے جانے والے دہشت گرد چہلم حضرت امام حسین کے سلسلہ میں امام بارگاہ خیمہ سادات گڑھ مہاجا منعقد ہونے والے ملک گیر اجتماع کو نشانہ بنانا چاہتے تھے خفیہ اداروں نے بروقت کارروائی انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ گرفتار ہونے والے دہشتگردوں میں کالعدم جماعت کے یونٹ گڑھ مہاراجہ کے صدر کے دو بھتیجےاظہر جٹ اور ابوبکر بھی شامل ہیں جن کو خودکش بمباروں کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا۔ دونوں خودکش بمباروں کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما مولوی غلام شبیر کے مدرسے سے ملحقہ مسجد میں موجود تھے جبکہ مسجد کو باہر سے تالہ ہوا تھا۔اطلاعات کے مطابق دو دہشت گرد پل درکھانہ سے حراست میں لئے گئے ہیں اور پانچ دہشتگردوں کو اٹھارہ ہزاری سے پکڑا گیا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے لیپ ٹاپ کمپیوٹر، دو خودکش جیکٹس، درجنوں دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے ایک نقشہ بھی برآمد ہوا ہے، جس میں جلوس علم پاک کے دو مختلف پوائنٹس پر خودکش حملوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگر دونوں خودکش بمبار اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تو گڑھ مہاراجہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور سینکڑوں افراد جاں بحق ہو سکتے تھے۔ ایس ایچ او تھانہ گڑھ مہاراجہ ملک احمد حسن اعوان کے مطابق دہشت نگردوں کے خلاف کارروائی خفیہ اداروں نے کی ہے،پولیس کو نہ تو اطلاع دی گئی اور نہ ہی ہمارے پاس اس کی کوئی تفصیلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلوس کی سکیورٹی کے لئے ہم نے بھی اضافی نفری طلب کر رکھی تھی اور پورے شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔ اگر دہشتگرد واردات کی نیت سے آتے تو پولیس انہیں لازمی گرفتار کر لیتی۔ دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین گڑھ مہاراجہ کے سیکرٹری جنرل رانا محمد ارشاد نے بتایا ہے کہ ہمارے اسکاٹس سکیورٹی کے لئے تیار تھے، ہم انتظامیہ اور خفیہ اداروں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے گڑھ مہاراجہ کو تباہی سے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ شہر میں یہ واقعہ ہو جاتا تو پھر ہم نے شہر میں امن کی ضمانت نہیں دینا تھی

Comments are closed.