Archive for 09/01/2012

ڈاکٹر سید جمال شاہ کے قتل کیخلاف شیعه تنظیموں کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں علماء کرام، قبائلی عمائدین اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اس موقع پر شرکاء بینرز اور کتبے اٹھائے نعرہ بازی کرتے پریس کلب کے سامنے پہنچے، جہاں شیعہ عالم دین اور سابق سینیٹر علامہ جواد ہادی، علامہ جمیل حسین، طوری بنگش سپریم کونسل کے چیئرمین حاجی گلاب حسین طوری،ثاقب بنگش اور شیعہ علماء کونسل پشاور کے صدر مظفر علی اخونزادہ نے خطاب کیامقرین نے  ڈاکٹر سید جمال شاہ کے بیہمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔  مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت ڈاکٹر جمال کے قتل میں ملوث افراد سمیت فرقہ وارانہ دہشتگردی کے دیگر واقعات میں ملوث گروہوں کو میڈیا کے سامنے لائے، اور فوری طور پر سزا جزا کا قانون عملی طور پر نافذ کرے ، انہوں نے کہا کہ اہل تشیع کا مزید قتل عام برداشت نہیں کرینگے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری مختلف واقعات پر از خود نوٹس لیتے ہیں لیکن انہیں ملت تشیع کی نسل کشی نظر نہیں آتی، مقررین نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس اس حوالے سے فوری طور پر سوموٹو ایکشن لیں، اس موقع پر ایک قرار داد بھی منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ اگر ڈاکٹر جمال شاہ کے قاتلوں کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو پشاور میں بھی کراچی طرز کا تاریخی دھرنا دیا جائے گا۔واضح رہے کہ پارا چنار سے تعلق رکھنے والے معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سید محمد جمال شاہ کو دو ماہ قبل حیات آباد پشاور سے اغواء کیا گیا تھا، گذشتہ مغوی ڈاکٹر کی نعش خیبر ایجنسی جمرود کے علاقے ٹیڈی بازار سے برآمد ہوئی-

Advertisements

شہید عسکری رضا کی شہادت کو آٹھ روز گزر جانے کے باوجو دبھی کالعدم دہشت گرد گروہ کے ناصبی وہابی دہشت گرد اورنگزیب فاروقی اور ناصبی دہشت گردوں کے سرپرست اعلیٰ ایس ایس پی سی آئی ڈی پولیس چوہدری اسلم کی گرفتاری عمل میں نہ آنا حکومتی وعدوں اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،شہید عسکری رضا کے قاتلوں چوہدری اسلم اور ناصبی وہابی دہشت گرد اورنگزیب فاروقی کو فی الفور گرفتار کیا جائے ۔شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار شیعہ علمائ،زاکرین،ماتمی انجمنوں سمیت قومی و ملی تنظیموں کے نمائندوں نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ رپورٹ کے مطابق شیعہ علمائ،زاکرین ،تنظیموں اور ماتمی انجمنوں کے نمائندوں کی جانب سے کی جانےو الی مشترکہ پریس کانفرنس میں جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ فرقان حیدر عابدی،آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مولانا مرزا یوسف حسین،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مولانا منور نقوی،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے رکن نطارت مولانا عقیل موسیٰ،شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا ناظر عباس تقوی،مرکزی تنظیم عزاء کے جنرل سیکرٹری سلمان مجتبیٰ اور امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے لئیق الزمان سمیت دیگر شریک تھے۔ شیعہ علماء وزاکرین،تنظیموں اور ماتمی انجمنوں کے مشترکہ فورم کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں رہنماؤں کاکہنا تھا کہ شہید عسکری رضا کو شہیدہوئے ٨ روز گذر چکے ہیں لیکن حکومتی وعدوں اور گورنر سندھ کی یقین دہانی کے باوجود آج ٨ روز گذر جانے کے بعد بھی شہید عسکری رضاکے قاتل ناصبی وہابی دہشت گرد اورنگزیب فاروقی اور ناصبی دہشت گردوں کا سرپرست اعلیٰ چوہدری اسلم آزاد گھوم رہے ہیں ۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ناصبی دہشت گردوں اورنگزیب فاروقی اور چوہدری اسلم کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے بصورت دیگر ملت جعفریہ زبردست احتجاجی تحریک چلائے گی۔رہنماءوں نے صدر زرداری،وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گورنر سندھ کی جانب سے کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے سرغنہ دہشت گرد احمد لدحیانوی سے کی جانے والی ملاقات کا سختی سی نوٹس لیں ،رہنماءوں نے گورنر سندح کی جانب سے کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے ناصبی وہابی دہشت گرد احمد لدھیانوی سے ملاقات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ گورنر سندح نے ناصبی دہشت گرد کہ جس کے ہاتھ ہزاروں شیعہ اور بریلوی مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں کے ساتھ گورنر سندح کی ملاقات شرمناک فعل اور ملت جعفریہ کے خلاف گھناءونی سازش ہے۔رہنماؤںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گورنر سندھ اپنے وعدے کے مطابق ناصبی دہشت گردوں کے سرپرست چوہدری اسلم کے خلاف جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اوریہ تحقیقاتی کمیشن ڈی آئی جی مجید دستی اور ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی نگرانی میں تشکیل دیا جائے ،ان کاکہنا تھا کہ ملت جعفریہ کے پاس ناصبی دہشت گردوں کے سرپرست چوہدری اسلم کے خلاف تمام شواہد موجود ہیں لیکن وہ صرف اور صرف اسی جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کریں گے جو انکے مطالبہ کے تحت تشکیل دیا جائے گا۔ شیعہ علماء و زاکرین وعمائدین کاکہنا تھا کہ گورنر سندھ نے وعدہ کیا تھا کہ ناصبی دہشت گردوں کے سرپرست چوہدری اسلم کے خلاف تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے گا لیکن انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ شہید عسکری رضا کی شہادت کو ٨ روز گذر جانے کے باوجود بھی گورنر سندھ نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ رہنماؤں نے آئی جی سندھ کی جانب سے گورنر ہاؤس پر احتجاجی دھرنے کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے شیعہ علماء و رہنماؤں کی سیکورٹی واپس لینے کے شرمناک عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو آئی جی سندھ کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت طالبان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہیں کہ جن ناصبی وہابی دہشت گردوں کے ہاتھ ہزاروں شیعہ و سنی مسلمانوں کے خون سے ربگین ہے جبکہ دوسری جانب متعصبانہ رویہ اپناتے ہوئے شیعہ علماء و زاکرین کی سیکورٹی واپس لینا گھناؤنی سازش اور آئی جی سندھ کی کالعدم دہشت گرد گروہوں سے ملی بھگت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔شیعہ رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی شیعہ رہنما اور عالم دین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی سندھ اور حکومت سندھ ہو گی اور مقدمہ آئی جی سندھ کے خلاف درج کیا جائے گا۔ شیعہ علماء ،زاکرین،عمائدین اور ملی و قومی تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ کالعدم دہشت گردگروہوں کے ناصبی وہابی سرغنہ دہشت گردوں کا حکومتی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوںکاسلسلہ جاری ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت میں موجود چند عناصر ناصبی وہابی کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے سرپرستی کر رہے ہیں اور شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہیں۔شیعہ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے بصورت دیگر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی ۔رہنماؤںنے واضح کیا کہ محرم الحرام سے قبل سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم یکم محرم الحرام کو دو شیعہ اسکاؤٹس کی شہادت،حسن کالونی میں شام غریباں کی مجلس پر ناصبی دہشت گردوں کی فائرنگ،شاہ فیصل میں مرکزی جلوس عزاء میں جامعہ فاروقیہ کے دہشت گردوں کے حملوں اور پھر شہید عسکری رضا کی شہادت نے تمام تر حکومتی دعووں اور اعلانات کی قلعی کھول دی ہے ۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ سندھ بھر میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں کی کھلم کھلا کاروائیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت عزاداران امام حسین علیہ السلام کو ناصبی وہابی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کروانے میں ملوث ہے ۔آخر میں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اگر ملت جعفریہ کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو حالات کی تمام تر سنگینی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

جرائم پیشہ افراد جیلوں سے رہا ہونے کے بعد کالعدم ناصبی دہشت گرد ملت اسلامیہ، غازی فورس ،لشکر اسلام اور بلوچستان لبریشن آرمی جیس دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق پاکستانی خفیہ اداروں نے اپنی ایک رپوٹ میں تصدیق کی ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث جرائم پیشہ افراد رہائی کے بعد کالعدم تنظیموں میں شامل ہورہے ہیں اور ان کی شمولیت سے کالعدم ناصبی دہشت گردگروہ سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور دیگر مضبوط ہو رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اپنی رپورٹ میں اُن چار دہشت گرد کالعدم تنظیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں چھوٹے مقدمات یعنی چوری ،ڈکیتی ،اغواء برا ئے تاوان میں ملوث جرئم پیشہ افراد رہائی کے بعد شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔ ان میں ملت اسلامیہ پاکستان (کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ)،غازی فورس ، لشکر اسلام اور بلوچستان  لبریشن آرمی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں میں سب سے زیادہ افرادصوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ہ کی جیلوں سے رہائی کے بعد شامل ہو رہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل سے رہائی پانے والوں میں سے اکثریت بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہورہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادرے کو بتایا کے اس خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے دہشت گرد گرہوں میں شمولیت کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل کے قوائد و ضوابط پر عمل نہ کرنا ہے اور اس کے علاوہ ان مجرموں کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ ان کے مقدمات کو ختم کروانے کا دعویٰ جبکہ ان افراد کی رہائی کے بعد مقامی پولیس کی جانب سے اُن کی سرگرمیوں پر نطر نہ رکھنا بھی شامل ہے۔ جیل کے قوائد و ضوابط میں یہ واضح طور پر لکھا گیا تھا کے چھوٹے اور معمولی جرم میں ملوث افراد کو جرائم پیشہ اور شدت پسندی کی وارداتوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ نہ رکھا جائے زرائع کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان افراد میں سے اکثریت کا کہنا تھا کہ جیل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے رہن سہن کو دیکھتے ہوئے اور اس علاقے میں اُن کا اثر و رسوخ دیکھتے ہوئے ان گروپوں میں یہ افراد شامل ہورہے ہیں۔ خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، طالبان کے افراد جیل سے رہائی کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیموں میں  شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ان افراد کی شمولیت سے یہ گروپ مضبوط ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کالعدم تنظیموں میں سب سے زیادہ افراد صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جیلوں سے رہائی کے بعد شامل ہو رہے ہیں ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف علاقوں سے چار سو سے زائد مشتبہ افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا جن سے ابتدائی تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ قبل ہی جیل سے رہا ہوئے تھے اور قید کے دوران اُن کا زیادہ تر وقت شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ گُزرا۔ یاد رہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر جیل کے اندر سے ہی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جو تمام معاملات کا جائزہ لے گی لیکن تاحال اس کمیٹی نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔

جھنگ میں خفیہ اداروں کی بروقت کاراوائی کے نتیجہ میں دہشت گردئؤی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام ہو گیا ۔ سیکورٹی اداروں نے دو خودکش حملہ آوروں سمیت گیارہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ،گرفتار کیے جانے والے دہشت گرد چہلم حضرت امام حسین کے سلسلہ میں امام بارگاہ خیمہ سادات گڑھ مہاجا منعقد ہونے والے ملک گیر اجتماع کو نشانہ بنانا چاہتے تھے خفیہ اداروں نے بروقت کارروائی انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ گرفتار ہونے والے دہشتگردوں میں کالعدم جماعت کے یونٹ گڑھ مہاراجہ کے صدر کے دو بھتیجےاظہر جٹ اور ابوبکر بھی شامل ہیں جن کو خودکش بمباروں کی نشاندہی پر حراست میں لیا گیا۔ دونوں خودکش بمباروں کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما مولوی غلام شبیر کے مدرسے سے ملحقہ مسجد میں موجود تھے جبکہ مسجد کو باہر سے تالہ ہوا تھا۔اطلاعات کے مطابق دو دہشت گرد پل درکھانہ سے حراست میں لئے گئے ہیں اور پانچ دہشتگردوں کو اٹھارہ ہزاری سے پکڑا گیا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے لیپ ٹاپ کمپیوٹر، دو خودکش جیکٹس، درجنوں دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے ایک نقشہ بھی برآمد ہوا ہے، جس میں جلوس علم پاک کے دو مختلف پوائنٹس پر خودکش حملوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگر دونوں خودکش بمبار اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تو گڑھ مہاراجہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور سینکڑوں افراد جاں بحق ہو سکتے تھے۔ ایس ایچ او تھانہ گڑھ مہاراجہ ملک احمد حسن اعوان کے مطابق دہشت نگردوں کے خلاف کارروائی خفیہ اداروں نے کی ہے،پولیس کو نہ تو اطلاع دی گئی اور نہ ہی ہمارے پاس اس کی کوئی تفصیلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلوس کی سکیورٹی کے لئے ہم نے بھی اضافی نفری طلب کر رکھی تھی اور پورے شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔ اگر دہشتگرد واردات کی نیت سے آتے تو پولیس انہیں لازمی گرفتار کر لیتی۔ دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین گڑھ مہاراجہ کے سیکرٹری جنرل رانا محمد ارشاد نے بتایا ہے کہ ہمارے اسکاٹس سکیورٹی کے لئے تیار تھے، ہم انتظامیہ اور خفیہ اداروں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے گڑھ مہاراجہ کو تباہی سے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ شہر میں یہ واقعہ ہو جاتا تو پھر ہم نے شہر میں امن کی ضمانت نہیں دینا تھی

کراچی کے علاقے محمدی ڈیرہ ملیر ۱۵ سے ۵۰ سالہ قدیمی ماتمی جلوس بعد نماز مغربین برآمد ہو کر نیشنل ہائی وے پر واقع امام بخش مارکیٹ پہنچا ہی تھا کہ تھوڑے ہی فاصلے پر واقع کراچی الیکٹرک سپلایی کمپنی کے آفس کے برابر میں کچرے کے ڈھیر میں چھپایے گیے ریموٹ کنٹرول بم پر ایک پولیس اہلکار کی نظر پڑی، جس پر فورا بم ڈسپوزبل اسکواڈ کو طلب کیا گیا جس نے بم کو ناکارہ بنا کر اپنی تحویل میں لے لیا، بم برآمد ہونے کے بعد علاقہ پولیس نے جلوس کو نیشنل ہائی وے پر سیکیورٹی کلیرنس کے لیے روک دیا تھا، بعد ازاں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے جلوس کے روٹ کو چیکینگ کے بعد کلییر قرار دے دیا گیا اور جلوس اپنے روایتی راستے سے ہوتا ہوا حسینی امام بارگاہ، ملیر مندر پر اختتام پذید ہو گیا۔ ایس ایچ او ملیر سٹی تھانہ راو اقبال نے کہا کہ برآمد ہونے والا بم نہیں بلکہ ایک سرکٹ تھا جس کی روشنی دیکھنے کے بعد پولیس اہلکار اسےبم سمجھ بیٹھا۔ دوسری جانب جلوس میں شامل مومنین نے بتایا کہ پولیس واقعہ کے حقایق کو چھپا رہی ہے اور انہوں نے کسی بھی شیعہ نمایندہ کو برآمد ہونے والا بم یا سرکٹ نہیں دکھایا۔ مومنین نے مزید بتایا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پاس چیکینگ کے آلا ت بھی نہیں تھے۔ موقع پر موجود ایک بزرگ نے لبیک یاحسین کا نعرہ لگاتے ہویے کہا کہ یہ بم دھماکے، گولیاں اور ٹارگیٹ کلنگ نہ تو پہلے ہمیں راہ حسینی سے ہٹا پایے اور نہ ہی اب ہم راہ حیسنی کو ان یزیدیوں کی دھمکیوں وجہ سے چھوڑیں گے۔

  کراچی کے علاقے کھڈہ مارکیٹ کی نزدیک کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے مُسلح دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شیعہ نوجوان غلام رضا کو زخمی کردیا اطلاعات کے مطابق 35 سالہ شیعہ نوجوان غلام رضا ولد غلام عباس کو کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جحنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں نےکراچی کے علاقے کھڈہ مارکیٹ نیا آباد کے مقام پر اپنی ناپاک دہشتگردی کا نشانہ بنایا۔زخمی شیعہ نوجوان غلام رضا ولد غلام عباس کو زخمی حالت میں سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مزید اطلاعات موصول ہورہی ہے کہ زخمی نوجوان کے ساتھ اُن کی پھوپھی بھی تھی جو شدید زخمی ہوگی ہے۔ جن کا آپریشن سول اسپتال میں جاری ہے۔ زخمی نوجوان غلام رضا ولد غلام عباس بغدادی کے باشو امام بارگاہ کے صدر ہیں۔

واضع رہے کہ گزشتہ ہفتے سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے عسکری رضا کو فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا جس کے بعد ملت تشیع کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ مگر گرنر سندھ اور کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی گُٹھ جوڑ کی وجہ سے ابھی تک حکومت دہشتگردوں کے خلاف کاروائی سے گریز کررہی ہے جس کی وجہ سے معصوم شیعہ عوام مسلسل نشانہ بن رہے ہے ۔دوسری جانب کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جحنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں نے جامعہ مسجد نور ایمان کے ٹرسٹی کو عاءشہ منزل کے قریب دہشت گردی کا نشانہ بنایا تاہم وہ ناصبی دہشتگردوں کے حملے میں محفوظ رہے ۔

گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے سرجانی ٹاون میں سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والا نوجوان آج زخموں کی تاب نالاتے ہوئے شہید ہوگیا۔  اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے سرجانی ٹاون میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں کی فایرنگ سے  50 سالہ شیعہ مومن سید کلبِ عباس رضوی ولد سید حیدر عباس رضوی کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا تھا۔ جو مقامی اسپتال میں زیر علاج تھا۔ وہ نوجوان آج زخموں کی تاب نالاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کالعمد دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں نے شہید سید کلبِ عباس رضوی ولد سید حیدر عباس رضوی کو دوگولیاں ماری تھی جو اُن کہ ٹانگ میں اور پیٹ میں لگی۔ زیادہ خون کا اخراج شہادت کاسبب بنا۔