مغرب اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی ناکام سازشوں میں مصروف ہے، علامہ ساجد نقوی

Posted: 06/01/2012 in All News, Educational News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News, USA & Europe

جے ایس او کی مرکزی مجلس نظارت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ شیعہ علماء کونسل کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے اور مغربی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔ راولپنڈی سے جاری کردہ ایک بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں تمام محب وطن طبقات کو ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانا ہو گا، اس سلسلے میں طلبہ کے مثبت اور فعال کردار سے انکار ممکن نہیں، تاہم مسائل کے گرداب اور مشکلات کے نرغے میں گھرے عوام کو بدامنی، عدم تحفظ، قتل و غارت گری، مہنگائی، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے اہم مسائل سے نجات دلا کر امن و سکون، تحفظ اور ریلیف فراہم کرنا بنیادی طور پر حکومت اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اسی طرح عوام کے مذہبی، قانونی اور شہری حقوق کا تحفظ بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ عوام میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔  ملتان میں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی مجلس نظارت کے اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اس وقت اسلامی اقدار اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے اور مغربی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔ مغرب اپنے منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے دین اسلام کے بے داغ اور شفاف چہرے کو مسخ کرنے کی ناکام سازشوں میں مصروف ہے اور دہشتگردی اور انتہاپسندی کو اسلامی تعلیمات سے نتھی کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں، جن کا مدلل اور ٹھوس انداز میں جواب دینے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانا نہایت ضروری ہے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر اپنے آپ جدید ٹیکنالوجی سے آشنا اور آراستہ کیا جائے۔  سربراہ شیعہ علماء کونسل نے مزید کہا کہ ملک میں عوام کی خدمت اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے حقیقی جمہوریت کا فروغ بھی لازم و ناگزیر ہے اور عوام کو باور کرایا جائے کہ درحقیقت قوت و طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، لہذا اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے ووٹر لسٹوں میں اپنے ناموں کے اندراج و درستگی کے عمل کو مکمل کر کے اپنی رائے کا بھرپور اور بہتر انداز میں اظہار کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد و وحدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت برقرار رکھتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ میں عملی حصہ لیں اور ایسے شرپسند عناصر جن کا مکتب و مسلک فقط و فقط فرقہ پرستی، دہشت گردی، بدامنی اور فتنہ انگیزی ہے، ان سے اظہار براعت کر کے ملک کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائیں، تاکہ عوام امن و چین اور سکھ کا سانس لے سکیں۔

Comments are closed.