عراق:علاقے کے کسی بھی ملک کے خلاف فوجی اقدامات میں شریک نہیں ہوگا

Posted: 06/01/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہےکہ عراق علاقے کے کسی بھی ملک کے خلاف فوجی اقدامات میں شریک نہیں ہوگا اور شام کے مسائل کو مذاکرت سے حل کیا جانا چاہیے۔ سومریہ نیوز کے مطابق نوری المالکی نے کہا ہےکہ ان کی حکومت شام کی حکومت اور مخالفین کے مذاکرات کی میزبانی کرنے کو تیار ہے اور عراق نے بھی شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت شام کےبارے میں عرب لیگ کے فیصلے کی مخالف ہے کیونکہ شام کے عوام کا یہ حق ہے کہ وہ جمہوریت اور آزادی سےبہرہ مند رہیں۔ نوری المالکی نے کہا کہ بغداد کسی بھی ملک پر پابندیاں لگانے کا مخالف ہے اور فوجی مداخلت کو بھی مسترد کرتا ہے کیونکہ اس سے ملک میں تباہی پھیل جاتی ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ عراق کے نائب صدر طارق ہاشمی نے کردستان عراق میں اپنا دفتر کھول لیا ہے۔ طارق عزیز کا یہ دفتر شمالی عراق کے سلیمانیہ علاقے میں ہے۔ النخيل ویب سائٹ کے مطابق طارق ہاشمی نے اردن سے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ طارق ہاشمی پر دہشتگردوں کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے اور اسی الزام کے تحت عراقی عدلیہ نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں۔ نوری المالکی نے کہا کہ طارق ہاشمی پر ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے ۔ انہوں نے کردستان انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ طارق ہاشمی کو عدلیہ کے حوالے کردے۔ یاد رہے طارق ہاشمی کے محافظوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے طارق ہاشمی کے ایماء پر دہشتگردوں کےساتھ تعاون کیا تھا اور طارق ہاشمی نے انہیں پیسہ بھی دیا ہے۔

Comments are closed.