Archive for 06/01/2012

دمشق میں دسیوں ہزار افراد نے مظاہرے کرکے صدر بشار اسد کی حمایت کی۔ ملت شام نے اس مظاہرے میں صدر بشار اسد کے اصلاحات کے پروگرام بھرپور حمایت کرتےہوئے بیرونی مداخلت کی مذمت کی۔ گذشتہ روز ہونےوالے ان مظاہروں میں تاکید کی گئي کہ شام کی قوم بیرونی دباؤ کے مقابل ہرگز گھٹنے نہیں ٹیکے گي اور صدر بشاراسد کی قیادت میں تمام بیرونی سازشوں کو ناکام بنادےگي۔ ملت شام نے کہا ہے کہ پابندیاں اور دھمکیاں اسے اپنی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا دفاع کرنے سے نہیں روک سکتیں اور وہ اپنے ملک کی سربلندی و وقار کا دفاع کرنے میں کوئي دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گي۔ یاد رہے دمشق کے علاوہ لاذقیہ اور العمارہ میں بھی صدر بشار اسد کی حمایت میں مظاہرے ہوئے۔ ادھرلبنان کے ایک مبصر نضال حمادۃ نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگي شروع کروانےسمیت مغرب کی تمام سازشیں ناکام ہوجائيں گي۔ نضال حمادۃ نے العالم سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ عرب لیگ کے مبصرجو شام میں ہیں ان کی اکثریت امریکی پالیسیوں کی مخالف ہے اور وہ امریکہ کے ہاتھوں شام کو دوسرا عراق بننے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھمکیاں کہ امریکہ اور فرانس کی فوجیں شام پرحملے کرنے کے لئے تیار ہیں صرف نفسیاتی جنگ اور شام کے مخالفین کے حوصلے بڑھانے کی کھوکھلی کوششیں ہیں

Advertisements

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہےکہ عراق علاقے کے کسی بھی ملک کے خلاف فوجی اقدامات میں شریک نہیں ہوگا اور شام کے مسائل کو مذاکرت سے حل کیا جانا چاہیے۔ سومریہ نیوز کے مطابق نوری المالکی نے کہا ہےکہ ان کی حکومت شام کی حکومت اور مخالفین کے مذاکرات کی میزبانی کرنے کو تیار ہے اور عراق نے بھی شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت شام کےبارے میں عرب لیگ کے فیصلے کی مخالف ہے کیونکہ شام کے عوام کا یہ حق ہے کہ وہ جمہوریت اور آزادی سےبہرہ مند رہیں۔ نوری المالکی نے کہا کہ بغداد کسی بھی ملک پر پابندیاں لگانے کا مخالف ہے اور فوجی مداخلت کو بھی مسترد کرتا ہے کیونکہ اس سے ملک میں تباہی پھیل جاتی ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ عراق کے نائب صدر طارق ہاشمی نے کردستان عراق میں اپنا دفتر کھول لیا ہے۔ طارق عزیز کا یہ دفتر شمالی عراق کے سلیمانیہ علاقے میں ہے۔ النخيل ویب سائٹ کے مطابق طارق ہاشمی نے اردن سے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ طارق ہاشمی پر دہشتگردوں کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے اور اسی الزام کے تحت عراقی عدلیہ نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں۔ نوری المالکی نے کہا کہ طارق ہاشمی پر ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے ۔ انہوں نے کردستان انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ طارق ہاشمی کو عدلیہ کے حوالے کردے۔ یاد رہے طارق ہاشمی کے محافظوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے طارق ہاشمی کے ایماء پر دہشتگردوں کےساتھ تعاون کیا تھا اور طارق ہاشمی نے انہیں پیسہ بھی دیا ہے۔

آل سعود کی ایک معزز فرد شہزادی بسمہ بنت سعود نے برطانوی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا ہےکہ سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی مخالفت ہورہی ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بسمۃ بنت سعود نے جو سعودی شاہ کی بہن ہیں کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت میں وسیع پیمانے پربدعنوانیاں ہیں اور نہایت بربریت سے انسانی حقوق کی پامالی بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ساری دولت اور تیل کی آمدنی پر آل سعود قابض ہے اور عوام کو اس کا بہت ہی کم حصہ ملتا ہے ۔ شہزادی بسمہ بنت سعود نے کہا کہ وہ آل سعود کی بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں گي۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کے دوہزار شہزادوں نے ملک کی دولت اور اقتدار پر قبضہ کررکھا ہےاور ان کی انٹلجنس کی گھٹن سے کسی میں دم مارنے کا یارا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک میں حکومت کے کاموں پر کسی طرح کی نگرانی نہیں ہوتی۔ یاد رہے انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بارہا سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھائي ہے ۔ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتیں کو ووٹ دینے اور گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی نے بیجنگ میں چین کے وزیراعظم ون جیابائو اور وزیر دفاع لیانگ گوانگ لیہ سے ملاقات کی ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات جمعرات کی رات انجام پائي اور پاکستان اور چین کے رہنماوں نے دوطرفہ فوجی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ چین کے وزیر اعظم نے اس ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ کی طرح پاکستان کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات کو حل کرنے اور ترقی کی سمت بڑھنے کے لئے پاکستانی عوام اور فوج کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ ون جیابائو نے کہا کہ چین، پاکستان کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے میں کوئي دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ نے گذشتہ روز سے چين کے چھے روزہ دورے کا آغار کیا ہے ۔ جنرل پرویز کیانی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے اسٹراٹیجیک تعلقات میں وسعت لانا دونوں ملکوں کے تعاون کی بنیاد ہے۔

خلیج فارس میں ایران کی طاقتورولایت نامی فوجی مشقوں کے رد عمل میں اسرائيل نے امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ خلیج فارس میں ایران کی طاقتورولایت نامی  فوجی مشقوں کے رد عمل میں اسرائيل نے امریکہ  کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ مشقیں بڑے پیمانے پر ہوں گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ مشقیں کب شروع کی جائیں گے۔ آئسٹر چیلنج 12 نامی ان مشقوں سے متعلق یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب خطے میں ایران نے حال ہی میں ولایت نامی فوجی مشقیں منعقد کی ہیں البتہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے ساتھ اْن کی یہ فوجی مشقیں پہلے سے طے تھیں اور ان کا کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ایران کی دس روزہ مشقوں سے امریکہ اور اس کے اتحادی سخت وحشت میں مبتلا ہوگئے ہیں

تہران کے عارضی امام جمعہ نےعراق کی سرزمین نے امریکی فوجیوں کے انخلاء کو عراقی عوام کی کامیابی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی عوام کو باہمی اتحاد کی حفاظت کرتے ہوئے دشمنوں کی تمام سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی میں آج نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تہران کے عارضی امام جمعہ نےعراق کی سرزمین نے امریکی فوجیوں کے انخلاء کو عراقی عوام کی کامیابی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی عوام کو باہمی اتحاد کی حفاظت کرتے ہوئے دشمنوں کی تمام سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ صدیقی نے عراق کے مراجع عظام اور عوام کی ہوشیاری کو ضروری قراردیتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام باہمی اتحاد و یکجہتی کے ذریعہ تمام مشکلات پر قابو پالیں گے اور عراقی عوام کے اتحاد سے دشمن مایوس ہوجائیں گے۔ انھوں نے خلیج فارس میں ایرانی بحریہ کی فوجی مشقوں کی طرف اشارہ رکتے ہوئے کہا کہ یہ فوجی مشقیں ایرانی عوام کے اقتدار کی علامت ہیں اور دشمن کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایرانی عوام ایمان کے ہتھیار کے علاوہ دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے بھی مسلح ہیں اور دشمن کے ہر حملے کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بحرین میں امریکہ اور اسرائیل نواز آلخلیفہ حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے14 فروری اتحاد نے بحرین سے سعودی اور غیر ملکی فوجویں کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود در حقیقت یہودی ہیں اور وہ امریکہ اور یہودیوں کے لئے کام کررہے ہیں۔العوامیہ سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین میں امریکہ اور اسرائیل نواز شیخ حمد بن عیسی  آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے14 فروری اتحاد نے بحرین سے سعودی اور غیر ملکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود در حقیقت یہودی ہیں اور وہ علاقہ میں  امریکہ اور یہودیوں کے لئے کام کررہے ہیں۔14 فروری اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ اور سعودی عرب کی حاکمیت کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کو سعودی عرب کے ایک صوبہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آل خلیفہ کی ستمگر حکومت امریکہ اور سعودی عرب کی سرپرستی میں بحرینی عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے بیان میں آیا ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود دونوں کا سلسلہ در حقیقت یہودیوں سے ملتا ہے اور وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف علاقہ میں یہودیوں کی برتری کے لئے کام کررہے ہیں۔

ترکی کی فوج کے سابق سربراہ کو حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ آناتولی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی کی فوج کے سابق سربراہ جنرل الکر باشبو کو حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔جنرل الکر باشبو سنہ دو ہزار دس میں ریٹائر ہوئے تھے۔وہ سب سے بڑے عہدے کے فوجی افسر ہیں جن کو حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حکومت کا تختہ الٹنے کے سلسلے میں ترکی کے کئی دیگر فوجی پہلے ہی گرفتار کئے جاچکے ہیں۔

مصر میں وکیل استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصر کے فرعون اورسابق ڈکٹیٹرصدر حسنی مبارک کو مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی جائے۔الیوم السابع سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر میں وکیل استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصر کے فرعون اورسابق ڈکٹیٹرصدر حسنی مبارک کو مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی جائے۔سابق  مصرکے امریکہ اور اسرائیل نواز سابق ڈکٹیٹر صدر حسنی مبارک پر بدعنوانی کا الزام ہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کو مارنے کے احکامات جاری کیے تھے۔سابق صدر کے دو بیٹے اعلی اور جمال، سابق وزیرِ داخلہ اور چھ سینیئر اہلکار بھی کٹہرے میں موجود تھے۔ تمام ملزمان نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے

شام کے دارالحکومت دمشق میں دہشت گردوں کے بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے ہیں۔شام کی سرکاری خـررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں دہشت گردوں کے بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے ہیں۔یہ دھماکہ حسن الحکیم مدرسے کے قریب ریڈ لائٹ کے پاس کیا گيا ہے۔ اس بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے ہیں۔ شام میں سرگم دہشت گردوں کی اسرائيل ، امریکہ ، قطراور سعودی عرب کررہے ہیں، شامی عوام حکومت کی حمایت کررہے ہیں لیکن امریکہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے سعودی عرب اور قطر سے مدد حاصل کررہا ہے۔ شام واحد عرب ملک ہے جو اسراغيل کے خلاف ہے۔

جے ایس او کی مرکزی مجلس نظارت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ شیعہ علماء کونسل کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے اور مغربی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔ راولپنڈی سے جاری کردہ ایک بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں تمام محب وطن طبقات کو ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانا ہو گا، اس سلسلے میں طلبہ کے مثبت اور فعال کردار سے انکار ممکن نہیں، تاہم مسائل کے گرداب اور مشکلات کے نرغے میں گھرے عوام کو بدامنی، عدم تحفظ، قتل و غارت گری، مہنگائی، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے اہم مسائل سے نجات دلا کر امن و سکون، تحفظ اور ریلیف فراہم کرنا بنیادی طور پر حکومت اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اسی طرح عوام کے مذہبی، قانونی اور شہری حقوق کا تحفظ بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ عوام میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔  ملتان میں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی مجلس نظارت کے اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اس وقت اسلامی اقدار اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے اور مغربی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔ مغرب اپنے منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے دین اسلام کے بے داغ اور شفاف چہرے کو مسخ کرنے کی ناکام سازشوں میں مصروف ہے اور دہشتگردی اور انتہاپسندی کو اسلامی تعلیمات سے نتھی کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں، جن کا مدلل اور ٹھوس انداز میں جواب دینے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانا نہایت ضروری ہے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر اپنے آپ جدید ٹیکنالوجی سے آشنا اور آراستہ کیا جائے۔  سربراہ شیعہ علماء کونسل نے مزید کہا کہ ملک میں عوام کی خدمت اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے حقیقی جمہوریت کا فروغ بھی لازم و ناگزیر ہے اور عوام کو باور کرایا جائے کہ درحقیقت قوت و طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، لہذا اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے ووٹر لسٹوں میں اپنے ناموں کے اندراج و درستگی کے عمل کو مکمل کر کے اپنی رائے کا بھرپور اور بہتر انداز میں اظہار کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد و وحدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت برقرار رکھتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ میں عملی حصہ لیں اور ایسے شرپسند عناصر جن کا مکتب و مسلک فقط و فقط فرقہ پرستی، دہشت گردی، بدامنی اور فتنہ انگیزی ہے، ان سے اظہار براعت کر کے ملک کو امن و آشتی کا گہوارہ بنائیں، تاکہ عوام امن و چین اور سکھ کا سانس لے سکیں۔

عراق میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر شروع ہونے والی دہشت گردانہ لہر میں مختلف بم دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں میں  65 سے زائد شیعہ زائرین امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے ہیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چہلم امام حسین علیہ السلام کی آمد کے موقع پر عراق میں جمعرات کے روز دہشت گردانہ واقعات اور بم حملوں میں 65 سے زائد شیعہ زائرین امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے ہیں ۔عراق کے جنوبی شہر ناصریہ میں ہونے والے ایک بم حملے میں 32 شیعہ زائرین شہید جبکہ ایک اور بم حملہ جو کہ مغربی ناصریہ میں ہوا اس میں بھی 33 شیعہ زائرین شہید ہوئے جبکہ 75 شیعہ زائرین امام حسین علیہ السلام شدید زخمی حالت میں ہیں۔ واضح رہے کہ سب حملے جمعرات کے روز ہی ہوئے اور زائرین امام حسین علیہ السلام پر اس وقت بم حملے ہوئے جب وہ چہلم امام حسین علیہ السلام میں شرکت کے لئے کربلا کے لئے عازم سفر تھے۔ دہشت گردی کی تازہ لہر میں چہلم امام حسین علیہ السلام میں شرکت کے لئے آنے والے زائرین امام حسین علیہ السلام پر ہونے والے چار بم حملے بغداد کے راستے میں ہوئے جہاں متعدد شہادتوں کی اطلاع ملی ہے۔دوسری جانب دو دیگر بم دھماکے عراقی شہر کاظمین میں ہوئے جہاں 20 شیعہ شہید اور32 زخمی ہوئے جبکہ دو اور بم دھماکے صدر شہر میں ہوئے جہاں 12 افراد شہید ہو گئے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے  اپنے خطاب میں ممتاز ماہرین اور دانشوروں کے ساتھ  اسٹراٹیجک افکار پر مبنی جلسات کے انعقاد کا مقصد،دانشوروں کے مختلف علمی  افکار و نظریات کے باہمی تبادلے کے ذریعہ صحیح منصوبہ بندی اور اس کے نفاذ کے لئےایک جامع نظریے کے حصول کو قراردیتے ہوئے فرمایا: ان جلسات کا سلسلہ جاری رہےگا اور ان کے نتائج کو متین، عمیق، پائدار، قابل دفاع اور قابل بیان ہونا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: گذشتہ دو جلسات میں بیان کئے گئے موضوعات کے بارے میں اچھے کام انجام دیئے گئے ہیں اور سنجیدگي کے ساتھ ان کا پیچھا بھی کیا جارہا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عورت اور خاندان کے مسئلہ کو ملک کے درجہ ایک کے مسائل میں قراردیتے ہوئے فرمایا: عورت اور خاندان کے بارے میں اسلامی تعلیمات کے ممتاز اور گرانبہا مآخذ موجود ہیں جنھیں تھیوری میں ڈھالنے کے بعد قابل استقادہ نظریات کی شکل میں سب کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی نظام میں خواتین کے نقش و کردار کو ممتاز اور بے نظیر قراردیتے ہوئے فرمایا: ستمشاہی نظام کے ساتھ مقابلہ کے دوران ، انقلاب اسلامی کی کامیابی کےبعد  بالخصوص مقدس دفاع کے دوران اور مختلف میدانوں میں عورتوں کا نقش و کردار ممتاز اور بے مثال رہا ہے جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جس شخص نےسب سے پہلے عورت کے ممتاز مقام کو درک کیا اور مختلف میدانوں میں عورتوں کے لئے ممتاز کردار ادا کرنے کی راہیں ہموار کیں وہ حضرت امام خمینی (رہ) تھے اور اسی طرح حضرت امام (رہ) پہلے شخص تھے جنھوں نے عوام کے مقام اور ان کے حضور کے اثرات کو سب سے پہلے درک کیا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نےتاکید کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) نے عوام کی قدر و قیمت کو محسوس کیا ، ان کی توانائیوں کو پہچانا اور اسی پہچان کی بنیاد پر انھوں نے عوام پر اعتماد کیا اور عوام نے بھی مختلف میدانوں میں حضرت امام (رہ) کی دعوتوں پر لبیک کہا، اور جہاں ضرورت ہوئی وہاں قوم کے تمام طبقات قدرت کے ساتھ وارد ہوئے اور اس آگاہانہ اور ضروری حضور کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قومی حضور کےمجموعہ میں خواتین کے حضور کو ملک کے لئے بہت ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: اسی بنیاد پر معاشرے میں خواتین کی ظرفیت کی حفاظت اور ان کی نقش آفرینی کے لئے تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے خاندان میں عورت کے محوری اور بنیادی نقش کو عورت کے موضوع پر توجہ دینے کی دوسری علت قراردیا

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں سیکڑوں دانشوروں، ممتاز ماہرین، حوزہ و یونیورسٹی کے اساتذہ، محققین و علمی آثار کے مؤلفین نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹراٹیجک افکار کے تیسرے اجلاس میں عورت اور خاندان کے موضوع کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں باہمی جائزہ اور تبادلہ خيال کیا۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں  سیکڑوں دانشوروں، ممتاز ماہرین، حوزہ و یونیورسٹی کے اساتذہ، محققین  و علمی آثار کے مؤلفین نے آج  اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹراٹیجک افکار کے تیسرے اجلاس میں عورت اور خاندان کے موضوع کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں باہمی جائزہ اور تبادلہ خيال کیا۔ اسٹراٹیجک افکار کے اجلاس کا مقصد ملک کو درپیش مسائل اور اہم و اسٹراٹیجک موضوعات کے متعلق باہمی علمی ، مؤثر آراء و نظریات اور افکار کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا ہے اسٹراٹیجک افکار کے گذشتہ دو اجلاس “اسلامی و ایرانی پیشرفت کے نمونے”  اور “عدل و انصاف ” کے موضوع کے بارے میں منعقد ہوئےہیں۔ یہ اجلاس 4 گھنٹے تک جاری رہا، اس اجلاس کے دفتر میں 188 تحقیقی مقالات  موصول ہوئے جن  افراد کے تحقیقی مقالات ممتاز اور برتر منتخب ہوئے انھوں نے اس اجلاس میں اپنے خیالات اور نظریات کو پیش کیا۔  سب سے پہلے تربیت معلم یونیورسٹی کی استاد محترمہ ڈاکٹر نوائی نژاد نے اپنا مقالہ پیش کیا جو خاندان میں مطلوب نمونے اور خطرات کے موضوع پر مبنی تھا جس میں حالیہ چند عشروں میں خاندان میں مثبت اور منفی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گيا ہے۔ یونیورسٹی کی اس استاد نے شادی کے نمونے میں تبدیلی، تحصیلات میں پیشرفت اور عورتوں  کے لئے روزگار کی فراہمی کی وجہ سے بعض جوڑوں کے طرز زندگی میں تبدیلی، شادی کے مقدس ہونے کے بارے میں بعض افراد کی نگاہ میں تبدیلی، زیادہ اولاد رکھنےکے رجحان میں کمی، بعض مردوں میں نفسیاتی اور فیزیکی تشدد اور سیٹلائٹ تبلیغات کو عورت اور خاندان کے موضوع کے سلسلے میں اہم خطرات قراردیا۔ محترمہ ڈآکٹر نوائی نژاد نے خاندان کے مطلوب نمونے کے معیاروں کو بیان کرتے ہوئے محبت و صمیمیت ، لچک  اور خاندان کی سلامت و فکری رشد میں گفتگو اور تعامل پر تاکید کرتے ہوئےکہا کہ معاشرے کی شناخت کے سلسلے میں مطالعات، عینی و ذاتی مشاہدات اور مغربی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ دین و معنویت کا انفرادی ، اجتماعی اور خاندانی نفسیاتی سلامت کے ساتھ گہرا اور قریبی رابطہ موجود ہے اور موجودہ معاشرے میں اس  رابطہ کو مزید مضبوط اور قوی بنانا چاہیے۔ اصفہان یونیورسٹی کے لکچررڈاکٹر بانکی پور فرد نے بھی اپنے خطاب میں مغربی سماج اور اسلامی ایرانی پیشرفت کے نمونے میں خاندان کے تفاوت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشرے میں خاندان،  سماج کی اصلی اور مرکزی کڑی شمار ہوتی ہے جبکہ مغربی نمونے میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ڈاکٹر بانکی پور فرد نے حالیہ برسوں میں شادی اور طلاق کے اعداد و شمار کی طرف اشارہ کیا اور شادی کی عمر میں اضافہ کے علل و اسباب کا جائزہ لیا انھوں نے توسعہ کے پانچ سالہ منصوبوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: اقتصادی مشکلات، شہر نشینی  میں توسعہ  اور فردی رفاہ پر اساسی توجہ، شادی کرنے میں اصلی رکاوٹیں اور موانع ہیں لیکن ان میں اکثر مشکلات سماجی اور ثقافتی ہیں جن کے بارے میں غور و خوض کرنا چاہیے۔ اس محقق نے اپنی چند تجاویز کے ساتھ اپنا بیان ختم کیا: خاندان کے بارے میں نظام کی پالیسیوں کے ساتھ توسعہ منصوبوں کا منطبق ہونا، شادی آسان بنانے کے سلسلے میں بہترقوانین کو وضع اور انھیں نافذ کرنا، خاندانی تحریک کے لئے قومی عزم  اور خاندانی ارکان کو زندگی کی مہارتوں کی تعلیم و تربیت دینا ، ان کی اہم تجاویز تھیں