Archive for 05/01/2012

شام نے عرب لیگ کے معاملات میں امریکی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ عرب لیگ کے امورمیں مسلسل مداخلت کررہاہے۔عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام نے عرب لیگ کے معاملات میں امریکی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ عرب لیگ کے امورمیں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ ذرائع  کے مطابق شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘امریکا ان فریقوں میں سے ایک ہے جو ملک میں تشدد کو بھڑکارہے ہیں،امریکہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات عرب لیگ کے امور میں کھلی مداخلت ہیں اور ان کے ذریعہ شام کے ایشو کو غیر منصفانہ طور پرایک بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ ، سعودی عرب اور قطر ملکر شام میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں ۔

Advertisements

میکسیکو جیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران 31 قیدی ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیںفرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ میکسیکو جیل میں ہنگامہ آرائی سے 31 قیدی ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق میکسیکو کے شمالی علاقے ال تامیرا کی جیل میں قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان جھگڑے پر 31 قیدی ہلاک ہوگئے اور 13 زخمی ہیں۔ ال تامیرا کی یہ جیل2000 قیدیوں کیلئے بنائی گئی تھی جبکہ اس میں 3000 قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج افغان عوام کی زندگی بہتر نہیں بنا سکیں۔ایٹارٹاس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج افغان عوام کی زندگی بہتر نہیں بنا سکیں۔روسی ذرائع کے مطابق اس رائے کا اظہار افغانستان کی قومی اسمبلی کے ساتھ تعاون سے متعلق روسی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے گروپ کے سیکرٹری ویاچیسلاو نِکراسوو نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پورے خطے پر کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے اوراس مقصد کیلئے وہ افغانستان میں دلچسپی رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ روس  افغانستان میں مستقل امریکی اڈوں کے قیام کا مخالف ہے۔

پاکستان کے خفیہ اداروں نے پاکستانی وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث دہشت گرد افراد عدالتوں کی طرف سے جیل سے رہائی کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کے خفیہ اداروں نے پاکستانی وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث دہشت گرد افراد عدالتوں کی طرف سے جیل سے رہائی کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستانی خفیہ اداروں نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ ان افراد کی شمولیت سے یہ دہشت گردگروپ مضبوط ہو رہے ہیں۔اس رپورٹ میں ان چار دہشت گرد تنظیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں دہشت گرد رہائی کے بعد ان تنظیموں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ان میں ملت اسلامیہ پاکستان، غازی فورس، لشکر اسلام اور بلوچستان لیبریشن آرمی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان کالعدم تنظیموں میں سب سے زیادہ افراد صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جیلوں سے رہائی کے بعد شامل ہو رہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل سے رہائی پانے والوں میں سے اکثریت بلوچستان لیریشن آرمی میں شامل ہو رہی ہے۔پاکستانی حکومت نے ملت اسلامیہ پاکستان کو سنہ دوہزار تین میں جبکہ بلوچستان لیبریشن آرمی کو سنہ دو ہزار چھ میں جبکہ لشکر اسلام اور غازی فورس کو سنہ دو ہزار آٹھ میں کالعدم قرار دیا تھا۔

گورنر سندھ داکٹر عشرت العباد کی جانب سے کالعدم دہشت گرد گروہ کے دہشت گرد سرغنہ سے ملاقات افسوس ناک فعل ہے ،صدر پاکستان آصف علی زرداری،وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور متحد ہ قومی موومنٹ پاکستان کے  الطاف حسین اس شرمناک فعل کا نوٹس لیں اور پاکستان کے سیکڑوں شیعہ اور بریلوی مسلمانوں کے قاتل دہشت گرد گروہ کے سرغنہ سے گورنر سندھ کی ملاقات کی وضاحت کریں۔ مولانا حسن ظفر نقوی ،مولانا مختار امامی ،مولانا صادق رضا تقوی،مولانا منور علی نقوی،مولانا علی انور جعفری اور علی اوسط کا مشترکہ خطاب ,گورنر سندھ داکٹر عشرت العباد کی جانب سے کالعدم دہشت گرد گروہ کے دہشت گرد سرغنہ سے ملاقات افسوس ناک فعل ہے ،صدر پاکستان آصف علی زرداری،وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور متحد ہ قومی موومنٹ پاکستان کے الطاف حسین اس شرمناک فعل کا نوٹس لیں اور پاکستان کے سیکڑوں شیعہ اور بریلوی مسلمانوں کے قاتل دہشت گرد گروہ کے سرغنہ سے گورنر سندھ کی ملاقات کی وضاحت کریں ۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماؤں مولانا حسن ظفر نقوی،مولانا مختار امامی ،مولانا صادق رضا تقوی،مولانا علی انور جعفری اور علی اوسط نے مشترکہ مذمتی بیان میں کیا ۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماؤں کاکہنا تھا کہ گورنر سندھ نے کالعدم دہشت گرد گروہ کے دہشت گردوں سے ملاقات کر کے نہ صرف ملت جعفریہ بلکہ بریلوی مسلمانوں کی بھی دل آزاری کی ہے ،ان کاکہنا تھا کہ آخر کالعدم دہشت گردگروہوں کے رہنماؤں سے ملاقات کیوں کی گئی ؟پوری قوم اس بات کا جواب جاننے کی منتظر ہے۔رہنماؤں کاکہنا تھا کہ گورنرسندھ کی کالعدم دہشت گرد گروہ کے رہنماؤں سے ملاقات نہ صرف پاکستان کے خلاف سازش بلکہ آئین پاکستان کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ ملک کو جدید ریاست بنانے والی لسانی سیاسی جماعت کے گورنر کی کالعدم دہشت گرد گروہ کے سرغنہ سے ملاقات نے جدید ریاست کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے اور لسنی سیاسی جماعت کے معتدل عناصر کو چاہئیے کہ وہ گورنر سندھ کے اس متعصبانہ اقدام کے خلاف سخت نوٹس لیں ۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ شہید عسکری رضا کے قاتلوں کو حکومتی وعدوں کے بعد تاحال گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ گورنر سندھ نے کالعدم دہشت گرد گروہوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور شیعہ علماء و زاکرین کو دی گئی سرکاری سیکورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے ۔ان کاکہنا تھا کہ شہید عسکری رضا کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حکومتی احکامات کے باوجود شہید عسکری رضا کے قاتلوں کے خلاف جوڈیشل انکوائری کا قیام عمل میں نہ لانا حکومت کی کارکردگی اور نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے ۔انہوںنے وزیر داخلہ سندھ منظور وسان سے مطالبہ کیا کہ وہ شہید عسکری رضا کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔

کراچی میں پولیس انتظامیہ نے متعصبانہ کاروائی کرتے ہوئے شہر بھر میں شیعہ علماء کرام اور اکابرین ملت کی سیکورٹی پر معمور تمام پولیس اہلکاروں کو ہیڈ کوارٹر طلب کر لیا ہے ۔گذشتہ دنوں شیعہ رہنما شہید عسکری رضا کی شهادت کے بعد شرپسند دہشت گردوں کے سرپرست سی آئی ڈی پولیس آفیسر چوہدری اسلم کے خلاف احتجاج سمیت گورنر ہاؤس سندھ پر ١٠ گھنٹے تک جاری رہنے والے تاریخی دھرنے کے بعد ان پر مقدمہ قائم ہونے کے بعد آئی جی سندھ پولیس نے متعصبانہ انتقامی کاروائی کا نشانہ بناتے ہوئے مختلف بهانے بنا کر شیعہ علماء و زاکرین سے پولیس سیکورٹی ختم کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جبکہ تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ واضح رہے کہ شہر کراچی میں شرپسند دہشت گردوں نے ایک طویل عرصہ سے شیعہ نوجوانوں اور رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جسے نہ صرف ریاستی سرپرستی حاصل ہے بلکہ موثق شواهدکی بنا پر پولیس انتظامیہ کی سرپرستی بھی حاصل ہے ،جس کا واضح ثبوت شہید عسکری رضا کی شہادت میں ایس ایس پی سی آئی ڈی پولیس چوہدری اسلم کا ملوث ہونا اور شہادت سے قبل شہید عسکری رضا کو کالعدم دہشت گرد گروہ کے شرپسند دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کروانے کی دھمکیاں دینا ہیں۔ قابل غور ہے یہ بات کہ جہاں ملک بھر میں شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے وہاں پولیس انتظامیہ اور ریاستی عناصر دہشت گردوں کی سرپرستی میں مصروف عمل ہیں جبکہ ملت جعفریہ کو احتجاج کرنے اور اپنا حق حاصل کرنے پر انتقامی کاروائیوں کا نتیجہ بنایا جا رہا ہے جس کا ثبوت گذشتہ روز آئی جی سند ھ پولیس کے یہ احکامات ہیں کہ جن کے نتیجہ میں تمام شیعہ علمائے کرام،زاکرین عظام سے سیکورٹی گارڈز ہٹا لئے گئے ہیں تا کہ ناصبی وہابی دہشت گردوں کو ٹارگٹ کلنگ کے لئے آسان راستہ فراہم کیا جائے۔

سکھر میں شرپسندعناصر نے آل رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے فرزند رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واله وسلم آقا امام زمان حضرت امام مہدی عج الله فرجہ شریف کی شان میں گستاخانہ جملوں کو دیواروں پر لکھا ہے جس پر شیعہ علماء کونسل سکھر ،جے ایس او اور آئی ایس او کی جانب سے مشترکہ احتجاج کیا گیا اور اکابرین ملت نے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے نامزد ملزمان کے خلاف اف آ ئی آر درج کرنے کا مطالبا کیا مگر انتظامیہ نے ٹال مٹول کا سلسلہ جاری رکھا جس پر شیعہ تنظیموں کی طرف سے بروز ٩ جنوری کو سکھر بائی پاس پر دھرنے کا اعلان کیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے اندرون سندھ میں شرپسند عناصر کی جانب سے شیعیان حیدر کرار (ع) کی دل آزاری کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے جس کے نتیجہ میں متعدد علم حضرت عباس علیہ السلام کو بھی شہید و توہین کی گئی ہے جبکہ آج سکھر میں انہیں شیطان صفتوں نے اولاد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔آل رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت و عقیدت رکھنے والے شیعیان حیدر کرار (ع) کے زبردست احتجاج کے باوجود سندھ انتظامیہ اور مقامی پولیس کی جانب سے تاحال کسی بھی سانحہ کا نوٹس نہیں لیا گیا۔

لاہور کے علاقے امامیہ کالونی میں شرپسند دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ٣٢ سالہ شیعہ مومن سید مشکور حسین اپنے ایک ساتھی سمیت شہید کر دیا گیا ۔ مزید اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والے سید مشکور حسین لاہور کی ماتمی انجمن سنگت اسیر شام کے سالار کے بھائی تهے۔ کالعدم ملک دشمن سپاہ صحابہ کے فرقہ پرست دہشتگردوں نے شہید مشکور حسین کو لاہور کے علاقے امامیہ کالونی میں نشانہ بنایا۔ اندھا دھند فائرنگ میں سید مشکور حسین اپنے ایک ساتھ سمیت شہید ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشکور حسین پر موٹر سائیکل سوا حملہ آوروں نے فائرنگ کی جبکہ فائرنگ کی آواز سن کر باہر آنے والے ایک دکاندار کو بھی حملہ آوروں نے گولیاں مار دیں ۔دوسرا جان بحق ہونے والا نوجوان اہل سنت برادری سے تعلق رکھتا تھا مشکور حسین کی نماز جنازہ امامیہ کالونی میں ادا کر دی گئی ہے جہاں سیکڑوں سوگواروں نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔

ادهر گلگت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گلگت میں شرپسند عناصر کی دہشتگردی کے نتیجے میں ایک شیعہ مومن ڈی ایس پی ابراہیم شہید ہوگئے ہے . مزید اطلاعات کے مطابق ڈی ایس پی ایوینوسٹیکیشن ونگ محمد ابراہیم  اپنے روز مرہ مصروفیات کے مطابق کشروٹ لنک روڈ مین اپنے گھر سے نکل رہے تھے کہ مُسلح دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس سے  ڈی ایس پی ایوینوسٹیکیشن ونگ محمد ابراہیم  زخمی ہوگئے۔  ڈی ایس پی ایوینوسٹیکیشن ونگ محمد ابراہیم  کو اُن کے ڈرائیور اسپتال پہچایا مگر وہ راستے میں زخموں کا تاب نه لاتے هوئے شہید ہوگئے .

چین نے امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین نے امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے ایران کے سینٹرل بینک کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کا مخآلف ہے۔ چين کے علاوہ جاپان، ترکی، جنوبی کوریا اور اٹلی نے بھی امریکہ کی طرف سے یکجانبہ پابندیوں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کی سینٹرل بینک کے خلاف بھی پابندی عائد کی ہےجبکہ ایران کی سینٹرل بینک کا امریکہ کے ساتھ کوئي لین دین نہیں ہےاس سے قبل بھی امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جو ناکام ہوگئی ہیں البتہ ایران نے امریکی پابندیوں کے سائے میں تمام شعبوں میں خاطر خواہ ترقی حاصل کی ہے۔

فلسطین کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے ترکی کے دورے کے دوران ترک وزیر اعظم کے علاوہ ترکی کی پارلیمان کے نمائندوں سے بھی ملاقات اور گفتگو کی ہے۔ترک ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فلسطین کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے ترکی کے دورے کے دوران ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کے علاوہ ترکی کی پارلیمان کے نمائندوں سے بھی ملاقات اور گفتگو کی ہے۔ اس ملاقات میں ترکی کے وزیر اع‏ظم اردوغان بھی موجود تھے۔ہنیہ نے ترکی کے نمائندوں کو فلسطین کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صہیونی ملکر بیت المقدس کو یہودی بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور فلسطین اور امت اسلامی کے لئے یہ سب سے  عظيم خطرہ ہے۔ ہنیہ نے ترک عوام کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت پر تھبی شکریہ ادا کیا۔

تہران: ایران نے کہا ہے کہ خطے میں تمام مسائل کا باعث اسرائیل ہے۔ مغربی طاقتیں تہران کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کیلئے اس پر دبائو ڈال رہی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے ترک فلسطین پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ سے تہران میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں تمام مسائل کا باعث اسرائیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی بنیاد ہی انتشار پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں یہودی تعمیرات جاری رہنا انتہائی قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اپنا حق صرف مزاحمت سے ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مغربی طاقتیں ایران کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کے لیے تہران پر دبائو ڈال رہی ہیں۔

بیت المقدس: اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں اپنی جوہری تنصیب پر ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر ایٹمی ری ایکٹر بند کر دیگا۔ ایک اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں اسرائیل کو اپنی جوہری تنصیبات پر میزائل حملوں کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جوہری توانائی کمیشن نے اس خدشے کے پیش نظر جنگ کی صورت میں ڈائمونا ری ایکٹر کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل راکٹ حملوں کو جنگ کے دوران استعمال کرنے سے گریز کریگا۔

عراق کی شیعہ، سنّی اور کرد آبادیوں کی نمائندگی کرنے والے سیاسی رہنماؤں کی نظریں اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے اِس مہینے مجوزہ قومی کانفرنس کے ساتھ ساتھ ملکی عدالتوں کی جانب بھی اُٹھ رہی ہیں۔ اِن اختلافات میں اُس وقت شدت آئی، جب وزیر اعظم نوری المالکی نے امریکی فوجی دستوں کے ا نخلاء کے بعد سنّی نائب صدر طارق الہاشمی کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے۔ حکومت میں شامل مختلف سیاسی عناصر کے درمیان انتہا درجے کی بد اعتمادی پائی جاتی ہے اور المالکی کی مخلوط حکومت بقا کے خطرے سے دوچار نظر آتی ہے۔ جہاں المالکی نے سیاسی بے چینی کو کم کرنے کے لیے سیاسی استحکام کی اپیل جاری کی ہے، وہاں پارلیمان کے اسپیکر اُسامہ النجفی نے عراقیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات بھلا کر اور مل جُل کر ملک کی تعمیر میں حصہ لیں۔ جنوری کے اواخر میں مجوزہ قومی کانفرنس سنّی سیاستدان النجفی اور کرد صدر جلال طالبانی کی تجویز پر منعقد ہونے والی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سبھی فریق اُس میں شرکت کریں گے۔ جہاں تک المالکی کی جانب سے نائب صدر الہاشمی پر ڈَیتھ اسکواڈ منظم کرنے کے الزامات ہیں، بظاہر اُن کے تصفیے کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر اتفاق نظر آ رہا ہے۔تاہم ایک شیعہ سیاستدان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُسے اِس قومی مکالمت کے کوئی ٹھوس نتائج سامنے آنے کی توقع نہیں ہے۔ سنّی حمایت یافتہ جماعت العراقیہ بدستور پارلیمان کا بائیکاٹ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اگلے انتخابات 2014ء سے پہلے متوقع نہیں ہیں۔ نائب صدر الہاشمی کے معاملے میں وزیر اعظم المالکی نے جو طرزِ عمل اختیار کیا ہے، اُس پر جہاں کئی سنّی اراکینِ پارلیمان ا ور وُزراء کو اُن سے شکایات ہیں، وہاں کچھ شیعہ سیاستدان بھی اُن سے ناخوش ہیں۔ المالکی کا مطالبہ ہے کہ یا تو العراقیہ اپنے سینئر لیڈر طارق الہاشمی کو اپنی صفوں سے الگ کر دے یا پھر حکومت میں اپنی پوزیشن سے محروم ہو جائے۔ اس مسئلے پر العراقیہ کے اندر تقسیم شروع ہو چکی ہے۔ العراقیہ کے ساتھ چھوڑ جانے کی صورت میں المالکی اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے کردوں اور العراقیہ کا ساتھ چھوڑ جانے والے سنی اراکینِ پارلیمان کی جانب دیکھیں گے۔ سیاسی بے یقینی کی اِس فضا میں عراق میں جموریت کا تجربہ ناکامی سے بھی دوچار ہو سکتا ہے اور فرقہ وارانہ تنازعات بھی جنم لے سکتے ہیں۔