پاکستان میں تحفظ کی ضمانت کیلئے مشرف شاہ عبداللہ سے ملاقات کرینگے

Posted: 04/01/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

اسلام آباد : سابق آمر جنرل پرویز مشرف اپنی پاکستان آمد کے اعلان سے قبل پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے فول پروف ضمانت کے حصول کیلئے واشنگٹن میں اعلیٰ عہدیداروں سے رابطوں کے بعدسعودی شاہ عبداللہ سے اطلاعات کے مطابق22جنوری کو ملاقات کرینگے۔بدھ کی سہ پہر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی اور پاکستانی امریکن بزنس مین ڈاکٹر رضا بخاری امریکی سفیر کیمرون منٹر سے بھی ملاقات کر ہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے پاکستان واپسی کے موقع پر پرویز مشرف کو اپنے فوجی دور حکومت میں کئے جانے والے جرائم کی بناء پر گرفتار نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی مقدمہ چلایا جائے۔پرویز مشرف 31جنوری کو واپس آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لیکن اس کا اعلان وہ عالمی کھلاڑیوں سے مطلوبہ یقین دہانی کے بعد ہی کرینگے ۔پرویز مشرف کے ترجمان اور آل پاکستان مسلم لیگ کے چوہدری فواد سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہناتھا کہ مجھے پرویز مشرف کی شاہ عبداللہ سے ملاقات کا کوئی علم نہیں لیکن یہ تصدیق کرسکتا ہوں کہ وہ رواں ماہ کی 19یا 20تاریخ کو عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جارہے ہیں۔رضا بخاری کی کیمرون منٹر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ مجھے اس ملاقات کا کوئی علم نہیں لیکن انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ بعض پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے پریشان بعض اہم ممالک چاہتے ہیں کہ مشرف پاکستان واپس آئیں اور سیاستدان کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں۔چوہدری فواد نے یہ ضرور کہاکہ پرویز مشرف 31جنوری کو پاکستان آجائینگے۔ ایک جانب تو بہت سے منتظر ہیں کب پرویز مشرف واپس آئیں اور ان کو اکبر بگٹی کے قتل اور3نومبر2007ء کے مارشل لاء کے نفاذ کے کیسوں کا سامنا کرنا پڑے ،جبکہ سابق آمر واشنگٹن اور ریاض کے ذریعے یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کو نہ تو ہاتھ لگایا جائے اور نہ ہی جیل میں ڈالا جائے۔پرویز مشرف سے قریبی ایک ذریعے نے نمائندے کو تصدیق کی کہ سابق آمر کی خواہش ہے کہ 2با اثر دارالحکومت کی جانب سے صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل کیانی کو دیئے گئے پیغام کے جواب میں کلیئرنس پیغام مل جائے کہ مشرف کو اپنے سیاسی اہداف کے حصول کی اجازت ہونی چاہیے۔ذریعے کا کہنا تھاکہ پرویز مشر ف کی پاکستان میں محفوظ واپسی کیلئے واشنگٹن میں زبردست لابنگ کر لی گئی ہے اور بدھ کو (آج)ڈاکٹر رضا بخاری اور کیمرون منٹر کی ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔امریکی سفارتخانے کے ترجمان سے جب ڈاکٹر رضا اور منٹر کی ہونے والی ملاقات کی تصدیق کیلئے رابطہ کیا گیا تھا لیکن خبر فائل کرنے تک جواب موصول نہیں ہوا تھا۔آل پاکستان مسلم لیگ کے ذریعے نے بتایاکہ پرویز مشرف خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستانی و مغربی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے پاکستانی امریکی صحافیوں کی بڑی تعدادکے ہمراہ وطن واپس آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ابھی صرف ’دی نیوز‘نے خبر دی ہے کہ پرویز مشرف اس وقت تک واپس نہیں آئینگے جب تک فوج ان کو سیکورٹی کی ضمانت نہیں دے دیتی۔آل پاکستان مسلم لیگ کے اجلاس کے منٹس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مشرف صرف اسی صورت میں پاکستان آئینگے جب فوج انکو اجازت دے دے گی۔آل پاکستان مسلم لیگ کے قائدین آنے والے وقت میں عبوری سیٹ کیلئے پارٹی قیادت کی تیاریوں کے حوالے سے باتیں کر رہے ہیں۔پرویز مشرف کی جماعت نے ’ویلکم پرویز مشرف ‘کی اشتہاری مہم پر تقریباً 11کروڑ 70لاکھ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ62لاکھ90ہزار روپے ٹرانسپورٹ اور ان کی آمد کے بعد صرف ایک جلسے کے لئے خرچ کئے جائینگے۔پرویز مشرف کی آمدکو مد نظر رکھتے ہوئے پراپیگنڈہ مہم کو حتمی شکل دی جارہی ہے اور اس میں این آر او کا مستحکم پاکستان کیلئے لازمی قرار دیتے ہوئے دفاع کیا جائے گا،دعویٰ کیا جائے گاکہ بلوچ رہنماء اکبر بگٹی کو مارنا درست اقدام تھا ساتھ ہی پرویز مشرف کے دور کا پی پی پی کی موجودہ حکومت سے موازنہ کیا جائیگااور کارگل جنگ کی وضاحت بھی پیش کی جائے گی۔اجلاس کے منٹس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ چوہدری فواد اپنے قائد سے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی آمد کی واضح تاریخ کا اعلان کرکے غلطی کردی ہے کیونکہ پاکستانی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے واضح اشارے کے بغیر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آ رہا۔چوہدری فواد نے اپنے پارٹی چیف کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ اہم دارالحکومتوں سے مدد طلب کریں۔منٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کی قیادت کی متفقہ رائے تھی کہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کو آئی ایس آئی کی پشت پناہی حاصل ہے۔اجلاس کے منٹس میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پارٹی رہنماء اس حوالے سے بھی پریشان ہیں کہ اگر پرویز مشرف واقعی واپس آتے ہیں اور ان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا توصرف ایک بندہ ڈاکٹرمحمد امجد نے یہ کہاکہ اگر آل پاکستان مسلم وجود قائم رکھنا چاہتی ہے تو پرویز مشرف کو وقت پر واپس آجانا چاہیے اور پارٹی رہنماؤں کو حراستوں اور جیل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

Comments are closed.