مسلم ممالک میں غیر مسلم فوجیوں کے خلاف جوابی اقدامات بھی نہیں کئے جاسکتے، طاہر القادری کافتویٰ

Posted: 04/01/2012 in Advertise Religious, All News, Amazing / Miscellaneous News, Breaking News, Educational News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News, Survey / Research / Science News

نیو یارک:  پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں سرگرم امریکی اور دیگر غیر مسلم ممالک کے فوجیوں، انٹیلی جنس ایجنٹوں، فوجی کنٹریکٹرز اور سفارت کاروں کی مسلم دشمن کارروائیوں کیخلاف بھی مزاحمت، انتقامی کارروائیاں اور جوابی اقدامات اسلام میں ممنوع ہیں اور صرف مسلح حملہ کرنیوالے غیر مسلم فوجی کے مقابلے میں دفاعی کارروائی کا حق ہے البتہ اپنے نااہل مسلمان حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے انقلاب لانا مسلم عوام کا فرض ہے ۔ یہ بات تحریک منہاج القرآن کے بانی علامہ طاہر القادری نے اپنے فتویٰ کے اجراء کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستانیوں کے اس اجتماع میں امریکی محکمہ انسداد دہشت گردی، ایف بی آئی اور دیگر حکام کی ایک کافی بڑی ٹیم بھی موجود تھی۔ پاکستانیوں کے اجتماع سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے جہاد کی مختلف قسمیں اور قتال ( مسلح جہاد ) کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی غیر مسلم اور غیر ملکی جاسوس اور فوجی کنٹریکٹر کی سرگرمیوں کے باوجود اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کر سکتا وہ صرف اس غیر مسلم مسلح فوجی سے صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا ہے جو اس مسلمان کو قتل کرنے کی نیت سے حملہ آور ہوا ہو۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کے عوام منظم تحریک کے ذریعے اپنے نااہل اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا فریضہ انجام دیں اور مصر میں حالیہ عوامی تحریک کے ذریعے حکمرانوں کی تبدیلی کی مثال کو اپنائیں۔ انہوں نے ڈرونز حملوں سے سویلین افراد کی ہلاکتوں کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بھی ان مسلم حکمرانوں کو قرار دیا جنہوں نے امریکا سے معاہدوں کے ذریعے ایسے حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔انہوں نے معاہدوں کی پابندی کرنا بھی مسلم ممالک کا فریضہ اور ذمہ داری قرار دیا۔ مسلم حکمرانوں کو کٹھ پتلی آمر اور عوامی انقلاب کا مستحق قرار دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ مسلح جہاد کا فیصلہ یا حکم کوئی گروپ یا عوام نہیں کر سکتے یہ فیصلہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ خطاب کے بعدپریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے اس تاثر کی تردید کی کہ انہوں نے اپنے اس فتویٰ کے ذریعے امریکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے امریکا اور مغربی ممالک کو ایک علمی اور مذہبی ہتھیار فراہم کر دیا ہے جس سے موجودہ دور کے مسلمانوں میں مغربی سازشوں کے خلاف مسلمانوں میں احتجاج اور مزاحمت ختم کرکے مسلم دنیا پر امریکی و مغربی بالادستی قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اپنے فتویٰ کے بارے میں کہا کہ میرا مقصد اس نوجوان مسلم نسل کو دہشت گردی اور خودکشی کا ایندھن بننے سے بچانا ہے جو ابھی جو ان ہو رہی ہے میرا مخاطب وہ افراد نہیں جو پہلے ہی برین واشنگ کے ذریعے دہشت گرد اور خودکش بمبار بن چکے ہیں میں امریکا یا کسی کی دنیاوی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنا علمی اور دینی فریضہ ادا کر رہا ہوں جبکہ علامہ طاہر القادری کے اس فتویٰ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ اور افغانستان و عراق پر امریکی حملوں کے دس سال بعد علامہ طاہر القادری نے اب یہ فتویٰ جاری کرکے امریکی مفادات کی بالادستی کی راہ ہموار کی ہے اور اس فتویٰ کی بھی وہی کیفیت ہے جو مسلم تاریخ میں بعض مسلم حکمرانوں کے مشیر علماء نے خوشنودی اور مناصب حاصل کرنے کیلئے حکمرانوں کو مشوردے دے کر امام حنبل، امام شافعی اور دیگر محترم شخصیات کو قید کوڑے اور سزائیں دلائیں۔ علامہ طاہر القادری کینیڈا میں شہریت اور سکونت اختیار کرنے کے بعد اپنے اس فتویٰ کے بارے میں امریکی میڈیا ، امریکی تھنک ٹینک، امریکی حکومت کے متعدد محکموں اور یونیورسٹیوں میں خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے ریاست نیوجرسی میں مسلمانوں کے ایک بڑے کنونشن سے بھی خطاب کیا۔

Comments are closed.