امریکی بحری بیڑہ دوبارہ آبنائے ہرمز میں نہیں آنا چاہئے، ایران کی دھمکی

Posted: 04/01/2012 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

تہران /واشنگٹن : ایران نے امریکا کو دھمکی دی ہے کہ اس کا بحری بیڑہ دوبارہ آبنائے ہرمز میں نہیں آنا چاہئے ورنہ ہم یہ انتباہ دوبارہ نہیں دہرائیں گے ، ہم نے بحری جنگی مشقوں سے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایرانی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ خلیج فارس میں بحری بیڑے کی موجودگی امریکی سینٹرل کمانڈ کے مشن کیلئے ضروری ہے اور وہ اسی طرح جاری رہے گی جیسے گزشتہ برسوں سے جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی سرکاری خبر ایجنسی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عطاء اللہ صالحی نے اپنے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کو آبنائے ہرمز میں دوبارہ نہیں آنا چاہئے ، اسلامی جمہوریہ ایران انتباہ دورباہ نہیں دہرائے گا ، کسی بھی طرح کے دباوٴ میں آنے والے نہیں ، کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔ دوسری جانب بحری مشقوں ولایت 90 کے اختتام پر ترجمان نے کہا کہ ہم نے ان مشقوں سے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر موجود ریئر ایڈمرل موسوی نے کہا کہ ان مشقوں سے بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اس سے فوج کو قابل قدر تجربہ حاصل ہوا۔ ان مشقوں میں فوج نے فرضی اہداف کو نشانہ بنایا اور کامیابی سے انہیں تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشقوں میں پہلی مرتبہ تین میزائلوں قادر، نصر اور نور کے تجربات کئے گئے اور انہوں نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ دریں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مغرب اسے دنیا میں توانائی کی مساوات سے نکال باہر نہیں کرسکتا، ایران کی اصولی پالیسی ہے کہ امریکا کے سوا دنیا کے تمام ملکوں سے تعاون کریں گے پابندیاں لگائی گئیں تو لگانے والے ملکوں کو ہی زیادہ نقصان ہوگا ۔ ترجمان رامین مہمان پرست نے بعض مغربی حکام کی طرف سے ایران پر تیل کی پابندیاں لگانے کے بارے میں بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو دنیا میں توانائی کی مساوات سے الگ نہیں کیا جاسکتا، عالمی حالات اس بات کی دنیا کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ایران کو نظر انداز کردے جس کے پاس دنیا میں تیل کے چوتھے بڑے اور گیس کے دوسرے بڑے ذخائر ہیں۔ ایران اپنے تیل اور گیس کے ذخائر سے بہت کم مقدار یورپی ملکوں کو برآمد کررہا ہے۔ ایک اور سوال پر ترجمان نے کہا کہ تہران کی دعوت پر جلد ایٹمی توانائی ایجنسی کا وفد ایران کا دورہ کریگا۔ عراق سے ایران کے اتحادی عباض علاوی کی ایران آمد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا دونوں ملکوں کے حکام کے دورے ہوتے رہتے ہیں۔

Comments are closed.