Archive for 04/01/2012

ایران نے خلیج فارس میں اپنی حالیہ فوجی مشقوں کے ذریعے اپنے غیر لچکدار موقف کا اعادہ کیا ہے۔ ادھر مغربی طاقتیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو مفلوج کرنے کے لیے اُس کے خلاف اور زیادہ سخت پابندیوں کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران نے اپنی تیل کی صنعت اور معیشت کے خلاف پابندیاں سخت تر کیے جانے کی صورت میں آئل ٹینکرز کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل آبی راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان تناؤ ایرانی فوج کے سربراہ جنرل عطاء اللہ صالحی کے اس بیان کے بعد اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ خلیج فارس سے ہٹا لیے جانے والے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس نہیں آنا چاہیے ورنہ ایران کارروائی کرے گا۔ اِدھر پیرس میں فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے کے مطابق اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی جانب پیشرفت کر رہا ہے اور امریکہ ہی کی طرح یورپ کو بھی ایران پر زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِن نئی ممکنہ پابندیوں کا ہدف ایران کے مرکزی بینک اور ایران کی تیل کی صنعت کو بنایا جا سکتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک جائزے کے مطابق مغربی دُنیا نے ایران سے تیل درآمد کرنا بند بھی کر دیا تو ایران اپنا تیل چین اور بھارت جیسے ان ملکوں کو بیچ سکتا ہے، جہاں تیل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ ایران اور مغربی دُنیا کے درمیان تناؤ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی کرنسی پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کی قدر و قیمت میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں حال ہی میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیے ہے اور اِسی لیے اب اُس نے پھر سے اس پروگرام سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس آمادگی کو اس بات کی بھی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ غالباً مغربی دنیا کی عائد کردہ پابندیوں سے ایران کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ ممکن ہے کہ ایران مذاکرات کے احیاء کے لیے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی شرط رکھے۔ ایسا ہوا تو امکان ہے کہ واشنگٹن اور مغربی دُنیا کے دیگر ملک اس کی سخت مخالفت کریں گے۔امریکی صدر باراک اوباما نے جن تازہ ترین پابندیوں پر دستخط کیے ہیں، اُن میں ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ روابط رکھنے والے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے امریکہ میں سرگرم عمل ہونے کی پابندی بھی شامل ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کے خیال میں یہ پابندیاں ایرانی معیشت پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں کریں گی تاہم پہلے سے بیروزگاری اور افراطِ زر کی بلند شرحوں کا سامنا کرنے والی ایرانی معیشت ملک کی اندرونی سیاسی صورتِ حال اور مارچ میں مجوزہ پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں آگے چل کر زیادہ دباؤ کا بھی شکار ہو سکتی ہے۔

Advertisements

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دورے کا مقصد شیعہ رہنماؤں کے تحفظات دور کرنا ہے اور آئندہ انتخابات میں حمایت حاصل کرنا ہے۔ دونوں جماعتوں کے سربراہوں کی ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان 9 جنوری کو مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ اسلام آباد میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی دفتر العارف ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی دیگر رہنما اُن کے ہمراہ ہونگے جبکہ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات علی اوسط پی ٹی آئی کے سربراہ سے تبادلہ خیال کریں گے اور ملکی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دورے کا مقصد شیعہ رہنماؤں کے تحفظات دور کرنا ہے اور آئندہ انتخابات میں حمایت حاصل کرنا ہے۔ دونوں جماعتوں کے سربراہوں کی ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملاقات کا احوال اور متفقہ اعلامیہ پیش کیا جائے گا۔

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم نے اپنی پوری تاریخ میں امت مسلمہ کی سربلندی اور عالمی استعماری قوتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک معمولی سا اقدام بھی انجام نہیں دیا۔خوف اور وحشت کی فضا قائم کر کے افراد کی آزادی اور نجی زندگی میں دخل اندازی کرنا امریکی معاشرے میں دوسرے استعماری معاشروں کی طرح سیاستدانوں اور طاقتور لابیز کا مقبول طرز عمل بن چکا ہے۔ جب عام حالات شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت میں مانع ہو جاتے ہیں تو ایک بحرانی صورتحال کو وجود میں لا کر اور لوگوں میں خوف پھیلا کر اس کام کا بہانہ فراہم کر دیا جاتا ہے اور پھر عوام کی پرائیویٹ زندگی میں مداخلت کی کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی بھی امریکہ اپنی ملکی یا بین الاقوامی پالیسیوں میں ناکامی کا شکار ہوا ہے اس نے یہی ہتھکنڈہ اپنایا ہے اور ہمیشہ اسے اپنی بنیادی دہشت گردانہ پالیسی کے طور پر محفوظ رکھا ہے۔ جب نیویارک کے ٹوئن ٹاورز سے دو ہوائی جہاز ٹکرائے اور اسکے بعد پنٹاگون کی عمارت میں دھماکہ ہوا تو شائد ہی کوئی شخص یہ سمجھ سکا ہو کہ یہ واقعات امریکہ کی اس طویل المیعاد منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جنکے تحت 17 ممالک پر فوجی حملے کا جواز فراہم کرنا ہے اور جسے نیو کنزرویٹو امریکی صدر جرج بش نے اپنی سیکورٹی اسٹریٹجی کے طور پر پیش کیا ہے۔
امریکی اور مغربی مفادات کے راستا میں القاعدہ کی تشکیل:
القاعدہ بھی ایسے ہی ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی براہ راست مداخلت سے مشرق وسطی کے سیاسی مقدر پر مسلط ہونے کی غرض سے معرض وجود میں آئی۔ 1970 کی دہائی کے آخر میں روسی فوج کی افغانستان میں موجودگی کو القاعدہ کی تشکیل کا ابتدائی سبب قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ جو افغانستان میں روس کے ساتھ براہ راست مقابلہ کرنا نہیں چاہتا تھا، نے کوشش کی کہ اسلامی ممالک سے چند شدت پسند سلفی افراد کو جمع کر کے انکے اسلامی جذبات سے سوء استفادہ کرتے ہوئے ایک منحرف گروہ کو تشکیل دیا جائے تاکہ یہ گروہ اپنے بظاہر دینی اعتقادات کے زیر اثر امریکی مفادات کو انتہائی کم وقت میں اور پوری دقت کے ساتھ جامہ عمل پہنائے۔ اس گروہ کی تشکیل بہت جلد نتیجہ بخش ثابت ہوئی اور روسی فوج 1980 کی دہائی کے آغاز میں ہی افغانستان سے عقب نشینی پر مجبور ہو گئی۔ لیکن یہ القاعدہ کا اختتام نہیں تھا۔ اپنے منصوبے میں کامیابی نے مغربی پالیسی میکرز کو ترغیب دلائی کہ وہ اس پراجیکٹ کو خطے میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھنے اور اسے اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ لہذا اگرچہ اس گروہ کے اکثر جنگجو افراد افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء کے بعد اپنے اپنے ممالک میں واپس لوٹ گئے تھے لیکن سعودی شہریت کے حامل دہشت گرد اسامہ بن لادن کی کوششوں سے ایک نئی تنظیم “القاعدہ” کے نام سے 1998 میں رسمی طور پر منظر عام پر آ گئی۔
القاعدہ کے بانی کے طور پر بن لادن کے مغرب سے تعلقات:
القاعدہ کا بانی ہونے کے ناطے اسامہ بن لادن کی شخصیت اور خصوصیات پر ایک نظر ڈالنے سے اسکی حقیقت کا تھوڑا بہت علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ “اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن” ریاض میں پیدا ہوئے اور بن لادن خاندان کا ایک فرد اور سعودی عرب کے مالدار ترین افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ انکے سابق امریکی صدر جرج بش کے ساتھ انتہائی قریبی تجارتی تعلقات تھے۔ بش خاندان ایک تیل کی کمپنی کا مالک جبکہ لادن کا خاندان بھی ایک معروف سعودی خاندان تھا جو کنسٹرکشن کمپنی کا مالک تھا۔ لہذا انکے درمیان گہرے تعلقات پائے جاتے تھے۔ چند سال قبل نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان پر امریکی حملے کے کچھ دیر بعد ہی سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے ہی والے تھے کہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے آپریش کو فوری طور پر رکوا دیا۔ وکی لیکس نے بھی ایسے کئی اسناد و مدارک فاش کئے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسامہ بن لادن سی آئی اے کا ہی ایجنٹ تھا۔
برطانوی روزنامہ ڈیلی ٹیلیگراف القاعدہ کی تشکیل سے کئی سال قبل سی آئی اے اور ایم آئی 6 کی جانب سے اسامہ بن لادن کی حمایت کئے جانے کے بارے میں لکھتا ہے:
“افغان مجاہدین کے ایک گروہ نے جو برطانیہ کی حمایت سے برخوردار تھا اور سی آئی اے سے بھی خفیہ طور پر مالی امداد وصول کرتا تھا، چند سال بعد دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی بنیاد رکھی”۔ اس رپورٹ کے مطابق 15 جنوری 1980 کو برطانیہ کے ایک وزیر “رابرٹ آرمسٹرنگ” نے پیرس میں امریکی صدر کے سیکورٹی مشیر “زبیگنیو برجنسکی” اور فرانس اور مغربی جرمنی کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کے بعد لندن بھیجے گئے اپنے پیغام میں لکھا “امریکیوں نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپس کی اس طرح حمایت کی جائے کہ یہ کیمپس روس کے خلاف مزاحمت کے مراکز میں تبدیل ہو جائیں”۔  رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ کس طرح افغان مجاہدین تک جنگی سازوسامان جیسے انٹی ایئر میزائل پہنچائے جائیں اور کس طرح عالم اسلام کو روس کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے آپس میں طے کیا کہ افغان مجاہدین کی مدد کی جائے اور انہیں اسلحہ فراہم کیا جائے۔ یہ برطانوی اخبار مزید لکھتا ہے “ان سالوں کے دوران افغانستان جانے والے ایک شخص جو مغربی ممالک کی جانب سے ٹریننگ اور اسلحے سے بھی برخوردار تھا، کا نام اسامہ بن لادن تھا جس نے بعد میں القاعدہ کی بنیاد رکھی”۔
القاعدہ کی تشکیل میں مغربی مفادات:
صحیح ہے کہ القاعدہ تنظیم ابتدا میں جنوب مشرقی ایشیا میں سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے بنائی گئی لیکن بعد میں زیادہ وسیع اھداف کے معرض وجود میں آنے کے باعث مغرب نے اس تنظیم کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔ ان میں سے بعض مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔ 1. ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسکے نتیجے میں ایک متحرک اور فعال اسلامی تحریک کے معرض وجود میں آنے کے باعث مغربی قوتیں اسکے مقابلے میں سیاسی اسلام کے ایک ایسے غیرحقیقی ماڈل کی تلاش میں مصروف ہو گئیں جو شدت پسندی اور خطے میں رعب و وحشت کی فضا قائم کرنے کا مظہر ہو تاکہ اسکی تشہیر کے ذریعے انقلاب اسلامی ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کر کے رائے عامہ کو اس سے متنفر کیا جا سکے۔ دوسری طرف القاعدہ میں شامل عناصر کی شیعہ مذہب سے دشمنی اس بات کا سبب بن سکتی تھی کہ یہ تنظیم ایران کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن کر سامنے آ سکے۔ 2. تیل سے مالامال مشرق وسطی کے خطے میں خوف اور وحشت کی منطق کا ایجاد ہونا امریکہ کی جانب سے اس اسٹریٹجک خطے کی سیکورٹی کو بحال کرنے کے بہانے تھانیدار کی حیثیت سے یہاں موجودگی کا بہترین جواز فراہم کر سکتا تھا۔ القاعدہ جیسی تنظیم ہی وہ اہم ہتھکنڈہ تھا جو مغربی قوتوں کو ان مقاصد کے حصول میں مرکزی کردار ادا کر سکتا تھا اور ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہونے کے ناطے جسکی لاتعداد شاخیں پورے خطے میں پھیلی ہوئی تھیں، خطے کے ممالک کو خوفزدہ کرنے کا باعث بن سکتی تھی۔ افغانستان پر امریکہ کی فوجی یلغار بھی اس سازش کا حصہ تھا جسکا مقصد مشرق وسطی میں امریکی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانا تھا۔ 3. یورپی ممالک میں روز بروز بڑھتی ہوئی اسلامی سوچ اور تفکر سے مقابلے کی ضرورت اور دین مبین اسلام کے تیزی سے پھیلاو پر مغرب کی پریشانی باعث بنے کہ مغربی قوتیں بین الاقوامی سطح پر اسلام کو بدنام کرنے کے منصوبے بنانے لگیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی القاعدہ تنظیم تھی جو اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا ذریعہ بن گئی۔ اسلام کے نام پر القاعدہ کی جانب سے دہشت گردانہ اقدامات باعث بنے کہ ایک طرف مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف دباو اور سختی میں شدید اضافہ ہو جائے اور دوسری طرف عالمی رائے عامہ کے نزدیک اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کیا جائے۔ 4. خطے کے ممالک میں القاعدہ کی موجودگی نہ فقط باعث بنی کہ خطہ امریکی فوجی مراکز کی جانب سے جدید ترین اسلحہ کے تجربات کی لیبارٹری میں تبدیل ہو جائے بلکہ خود خطہ بھی دنیا میں اسلحہ کی بڑی مارکیٹ بن گیا۔ امریکہ میں اسلحہ ساز کمپنیوں کا اثر و رسوخ اور اہم امریکی سیاسی مراکز پر اسلحہ ساز کمپنی مالکین کا کنٹرول باعث بنا کہ امریکہ خطے میں جنگ کی آگ بھڑکانے اور ممالک کو القاعدہ سے ڈرانے دھمکانے کے ذریعے انہیں زیادہ سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدنے کی ترغیب دلائے اور اس طرح امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو عظیم مالی فائدے سے سرشار کر دے جو خطے کی عوام کے خون کے بدلے حاصل ہوا ہے۔ ان مقاصد کا حصول بھی خطے میں القاعدہ جیسی تنظیموں کی موجودگی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس طرح سے القاعدہ امریکہ اور مغربی دنیا کے ہاتھ میں ایک کارڈ کے طور پر ظاہر ہوئی تاکہ یہ ممالک جب چاہیں اس کارڈ کو چل کر خطے میں اپنے مفادات کو حاصل کر سکیں۔ البتہ امریکہ ہمیشہ اس تنظیم کی خدمت کرنے میں بھی مصروف ہے جو انتہائی خفیہ انداز میں انجام پاتی ہے۔ عراق میں امریکہ کی جانب سے القاعدہ جنگجووں کی حمایت اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حال ہی میں عراق کی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ بصرہ کے جنوب میں واقع جیل سے القاعدہ کے 12 دہشت گردوں کو فرار کروانے میں امریکی فوجیوں کا بنیادی کردار تھا۔ یہ کمیٹی عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے تشکیل پائی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں نے ان 12 القاعدہ دہشت گردوں کو جیل سے فرار کروانے کیلئے جو 2011 کے آغاز میں عراقی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ افراد کئی دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث تھے جن میں 2010 میں بصرہ میں ہونے والا بم دھماکہ بھی شامل تھا۔
کیوں القاعدہ نے اسرائیل کے خلاف ایک حملہ بھی نہیں کیا؟
کسی بھی تنظیم یا تحریک کی امریکہ سے وابستگی کو جانچنے کا ایک بہترین معیار اسرائیل کے بارے میں اسکا موقف ہے۔ اسکی مزید وضاحت کیلئے نائن الیون کے واقعات میں امریکہ کے کردار کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر نیویارک کے جڑواں ٹاورز میں کام کرنے والے ہزاروں یہودیوں کا 11 ستمبر کے دن غیرحاضر ہونا اور اسکے نتیجے میں انکی جان بچ جانے کا واقعہ نہ ہوتا تو شائد کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خود امریکہ اس حادثے ملوث ہو سکتا ہے۔ یہ امر امریکہ میں پبلیکیشنز کی آزادی میں بھی قابل مشاہدہ ہے۔ امریکی اخبار اگرچہ اپنے حکام کے خلاف بڑی سے بڑی توہین آمیز بات لکھ سکتے ہیں لیکن اسرائیل یا امریکہ میں موجود صہیونیستی لابی کے خلاف ایک لفظ بھی لکھنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ عراقی مصنف اور تجزیہ کار “منھل المرشدی” کے خیال میں القاعدہ خطے اور دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی محافظ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی وجہ سے القاعدہ نے اب تک مقبوضہ فلسطین میں ایک حملہ بھی نہیں کیا ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور القاعدہ کا آپس میں اسٹریٹجک تعاون:
اسرائیل اور القاعدہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان دو دہشت گرد گروہوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی موجود نہیں اور دونوں امریکی حمایت سے برخوردار ہیں۔ بلکہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم اور القاعدہ نیٹ ورک کے درمیان کئی علاقائی اور عالمی ایشوز پر بہت عمدہ تعاون پایا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں ان ایشوز کی ایک بہترین مثال “شام” کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ لبنان کے سابق صدر جناب امیل لحود نے شام میں سیاسی تبدیلی لانے کیلئے اسرائیل اور القاعدہ کی مشترکہ کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے “القاعدہ کے نئے قائد ایمن الظواہری، اسرائیل صدر شیمون پرز اور امریکی نائب وزیر خارجہ جفری فلٹمین کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کو معزول ہو جانا چاہئے”۔ اس تین جانبہ تعاون کا بہترین نمونہ چند ہفتے قبل جمعہ کے روز دمشق میں شام کی سیکورٹی مراکز میں ہونے والے کئی بم دھماکے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ دھماکے القاعدہ دہشت گردون نے لبنان سے شام میں داخل ہو کر انجام دیئے لیکن یہ دہشت گردانہ اقدامات غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیز کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھے۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم نے اپنی پوری تاریخ میں امت مسلمہ کی سربلندی اور عالمی استعماری قوتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک معمولی سا اقدام بھی انجام نہیں دیا۔ بلکہ برعکس، مغربی اور اسرائیلی مفادات کے حصول کیلئے خطے کے مسلمانوں کی قتل و غارت میں مصروف ہے۔

یروشلم : اسرائیل نے ایران کے ایٹمی پلانٹ پر حملے کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اس کے جارح وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کابینہ میں اس کی حمایت کیلئے وزراء کو رضا مند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں انہیں بہت حد تک کامیابی حاصل ہو چکی ہے ، اسرائیلی اخبار ” ہارئز “ کے مطابق وزیر دفاع ایہود بارک کی فعال حمایت کے ساتھ وزیراعظم یاہو ایران پر حملے کیلئے قوم پرست وزیر خارجہ لائبرمین کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں اس طرح انہیں کابینہ کی اکثریت کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ 

کراچی: سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دلانے کیلئے بنائے گئے کمپنسیشن کمیشن کے سامنے مختلف سیاسی جماعتوں نے 1000 سے زائد نام درج کرائے ہیں ان جماعتوں میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ، جعفریہ الائنس، سنی تحریک، عوامی نیشنل پارٹی، عوامی تحریک، جماعت اسلامی سمیت سندھ کی قوم پرست جماعتیں شامل ہیں۔ کمپنسیشن کمیشن کا اجلاس منگل کو کمیشن کے چیئرمین جسٹس زاہد قربان علوی کی صدارت میں ہوا اجلاس میں کمیشن کے سیکرٹری عبدالوہاب عباسی بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق ان 1000 افراد میں زخمی بھی شامل ہیں، کمیشن 9 فروری تک رپورٹ تیار کرکے وزیر اعلیٰ سندھ کو روانہ کرے گا ، ہر مقتول کے لواحقین کو 5لاکھ روپے اور زخمی کو 30 ہزارسے ایک لاکھ روپے تک حکومت سندھ بطور معاوضہ ادا کرے گی، کمیشن سیاسی جماعتوں کی طرف سے جمع کرائے ناموں کو پولیس اور اسپتالوں کے ریکارڈ سے بھی چیک کرے گا ، کمیشن نے عام شہریوں کو بھی کہا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو وہ بھی کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جمع شدہ اعداد و شمار جنوری سے دسمبر 2011ء تک کے ہیں ، واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں ازخود سماعت کے دوران 355 افراد کی لسٹ پیش کی گئی تھی۔ 

کراچی : امریکا میں سعودی سفیر کے قتل کی سازش موساد اور سی آئی اے کی مشترکہ کارستانی ہے، امریکا، ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد اور اسلامی بھائی چارے کے رشتوں کو پسند نہیں کرتا، اسرائیل ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے پریشان ہے، ایران کے خلاف امریکی حکام کی سازشیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار تہران سے امور دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیطان امریکا اور بزدل اسرائیل مسلمانوں کو لڑانے کیلئے نت نئے حربے استعمال کرتے آئے ہیں، سعودی عرب ہمارے لئے قابل قدر ملک ہے، مسلمانوں کا امریکا دشمن ہے، امریکا نے پورے عرب کی دولت کو لوٹنے کا پروگرام بنایا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران سعودی عرب کے خلاف پہلے تھا، نہ اب ہے، ہمارے درمیان بحرین میں بھی امریکا اور یورپی ممالک غلط فہمیاں پیدا کرنے کے درپے ہیں۔

نیو یارک:  پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں سرگرم امریکی اور دیگر غیر مسلم ممالک کے فوجیوں، انٹیلی جنس ایجنٹوں، فوجی کنٹریکٹرز اور سفارت کاروں کی مسلم دشمن کارروائیوں کیخلاف بھی مزاحمت، انتقامی کارروائیاں اور جوابی اقدامات اسلام میں ممنوع ہیں اور صرف مسلح حملہ کرنیوالے غیر مسلم فوجی کے مقابلے میں دفاعی کارروائی کا حق ہے البتہ اپنے نااہل مسلمان حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے انقلاب لانا مسلم عوام کا فرض ہے ۔ یہ بات تحریک منہاج القرآن کے بانی علامہ طاہر القادری نے اپنے فتویٰ کے اجراء کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستانیوں کے اس اجتماع میں امریکی محکمہ انسداد دہشت گردی، ایف بی آئی اور دیگر حکام کی ایک کافی بڑی ٹیم بھی موجود تھی۔ پاکستانیوں کے اجتماع سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے جہاد کی مختلف قسمیں اور قتال ( مسلح جہاد ) کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی غیر مسلم اور غیر ملکی جاسوس اور فوجی کنٹریکٹر کی سرگرمیوں کے باوجود اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کر سکتا وہ صرف اس غیر مسلم مسلح فوجی سے صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا ہے جو اس مسلمان کو قتل کرنے کی نیت سے حملہ آور ہوا ہو۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کے عوام منظم تحریک کے ذریعے اپنے نااہل اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا فریضہ انجام دیں اور مصر میں حالیہ عوامی تحریک کے ذریعے حکمرانوں کی تبدیلی کی مثال کو اپنائیں۔ انہوں نے ڈرونز حملوں سے سویلین افراد کی ہلاکتوں کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بھی ان مسلم حکمرانوں کو قرار دیا جنہوں نے امریکا سے معاہدوں کے ذریعے ایسے حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔انہوں نے معاہدوں کی پابندی کرنا بھی مسلم ممالک کا فریضہ اور ذمہ داری قرار دیا۔ مسلم حکمرانوں کو کٹھ پتلی آمر اور عوامی انقلاب کا مستحق قرار دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ مسلح جہاد کا فیصلہ یا حکم کوئی گروپ یا عوام نہیں کر سکتے یہ فیصلہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ خطاب کے بعدپریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے اس تاثر کی تردید کی کہ انہوں نے اپنے اس فتویٰ کے ذریعے امریکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے امریکا اور مغربی ممالک کو ایک علمی اور مذہبی ہتھیار فراہم کر دیا ہے جس سے موجودہ دور کے مسلمانوں میں مغربی سازشوں کے خلاف مسلمانوں میں احتجاج اور مزاحمت ختم کرکے مسلم دنیا پر امریکی و مغربی بالادستی قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اپنے فتویٰ کے بارے میں کہا کہ میرا مقصد اس نوجوان مسلم نسل کو دہشت گردی اور خودکشی کا ایندھن بننے سے بچانا ہے جو ابھی جو ان ہو رہی ہے میرا مخاطب وہ افراد نہیں جو پہلے ہی برین واشنگ کے ذریعے دہشت گرد اور خودکش بمبار بن چکے ہیں میں امریکا یا کسی کی دنیاوی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنا علمی اور دینی فریضہ ادا کر رہا ہوں جبکہ علامہ طاہر القادری کے اس فتویٰ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ اور افغانستان و عراق پر امریکی حملوں کے دس سال بعد علامہ طاہر القادری نے اب یہ فتویٰ جاری کرکے امریکی مفادات کی بالادستی کی راہ ہموار کی ہے اور اس فتویٰ کی بھی وہی کیفیت ہے جو مسلم تاریخ میں بعض مسلم حکمرانوں کے مشیر علماء نے خوشنودی اور مناصب حاصل کرنے کیلئے حکمرانوں کو مشوردے دے کر امام حنبل، امام شافعی اور دیگر محترم شخصیات کو قید کوڑے اور سزائیں دلائیں۔ علامہ طاہر القادری کینیڈا میں شہریت اور سکونت اختیار کرنے کے بعد اپنے اس فتویٰ کے بارے میں امریکی میڈیا ، امریکی تھنک ٹینک، امریکی حکومت کے متعدد محکموں اور یونیورسٹیوں میں خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے ریاست نیوجرسی میں مسلمانوں کے ایک بڑے کنونشن سے بھی خطاب کیا۔

واشنگٹن: چین نے پاکستان کوفضائی نگرانی کے لیے ڈرون طیارے فراہم کردیے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان چین سے میزائل حملوں کی صلاحیت والے ڈرونز بھی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اخبار کے مطابق دنیا کے پچاس سے زائد ممالک فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز حاصل کرچکے ہیں جبکہ دنیا میں امریکا کے بعد اسرائیل ڈرون بنانے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

اسلام آباد: پاک امریکہ تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا نے پاکستان کواس سال دیئے جانیوالے ایف سولہ طیاروں کی فراہمی روک دی ہے۔ پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے دو روز پہلے بتایا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے امریکا نے پاکستان کو” کولیشن امریکا/فراہمی روکدیسپورٹ فنڈ” کی مد میں ہونے والے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر اخراجات کے ضمن میں کوئی ادائیگی نہیں کی۔ چند روز پہلے امریکی کانگریس میں منظور کیے جانے والے نئے امریکی دفاعی بِل کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے ستّر کروڑ ڈالر کی رقم بھی منجمد کی جاچکی ہے۔

لاہور: بحرین میں جمہوریت کے حق میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیلئے پاکستانی آرمی کے ریٹائرڈ افسران کی بحرین افواج میں بھرتی پر ایران نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین افواج کیلئے پاکستان سے بھرتی نہ رکی تو پاک ایران سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔ تاہم پاکستانی فیصلہ سازوں نے ایرانی تنبیہ نظرانداز کرتے ہوئے بھرتی کا عمل جاری رکھا ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کی ذیلی تنظیم فوجی سکیورٹی سروسز لمیٹڈ پاکستانی آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے ریٹائرڈ افسران کو ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کررہی ہے جن کو سعودی عرب اور بحرین میں بھاری معاوضوں پر تعینات کیا جارہا ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کے ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سیاسی افراتفری کے تناظر میں تازہ بھرتی کے 90 فیصد سے زائد افراد کو بحرین میں تعینات کیا جارہا ہے جو بحرین نیشنل گارڈ میں خدمات سرانجام دیں گے۔ ہزاروں ایکس سروس مین پہلے ہی بحرین میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اسلام آباد کے سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ بہروز کمال وندی نے تہران میں پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ ڈاکٹر امان رشید کو بلواتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مطلع کیا جائے کہ پاکستان سے بحرینی پولیس اور فوج میں شمولیت کیلئے بھرتی پر ایران کو شدید تحفظات ہیں۔ صرف مارچ 2011ء میں 1000 افراد کو بھرتی کی گیا۔ آئندہ چند ہفتوں میں مزید 1500 افراد کی بھرتی متوقع ہے۔ 

اسلام آباد : سابق آمر جنرل پرویز مشرف اپنی پاکستان آمد کے اعلان سے قبل پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے فول پروف ضمانت کے حصول کیلئے واشنگٹن میں اعلیٰ عہدیداروں سے رابطوں کے بعدسعودی شاہ عبداللہ سے اطلاعات کے مطابق22جنوری کو ملاقات کرینگے۔بدھ کی سہ پہر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی اور پاکستانی امریکن بزنس مین ڈاکٹر رضا بخاری امریکی سفیر کیمرون منٹر سے بھی ملاقات کر ہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے پاکستان واپسی کے موقع پر پرویز مشرف کو اپنے فوجی دور حکومت میں کئے جانے والے جرائم کی بناء پر گرفتار نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی مقدمہ چلایا جائے۔پرویز مشرف 31جنوری کو واپس آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لیکن اس کا اعلان وہ عالمی کھلاڑیوں سے مطلوبہ یقین دہانی کے بعد ہی کرینگے ۔پرویز مشرف کے ترجمان اور آل پاکستان مسلم لیگ کے چوہدری فواد سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہناتھا کہ مجھے پرویز مشرف کی شاہ عبداللہ سے ملاقات کا کوئی علم نہیں لیکن یہ تصدیق کرسکتا ہوں کہ وہ رواں ماہ کی 19یا 20تاریخ کو عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جارہے ہیں۔رضا بخاری کی کیمرون منٹر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ مجھے اس ملاقات کا کوئی علم نہیں لیکن انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ بعض پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے پریشان بعض اہم ممالک چاہتے ہیں کہ مشرف پاکستان واپس آئیں اور سیاستدان کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں۔چوہدری فواد نے یہ ضرور کہاکہ پرویز مشرف 31جنوری کو پاکستان آجائینگے۔ ایک جانب تو بہت سے منتظر ہیں کب پرویز مشرف واپس آئیں اور ان کو اکبر بگٹی کے قتل اور3نومبر2007ء کے مارشل لاء کے نفاذ کے کیسوں کا سامنا کرنا پڑے ،جبکہ سابق آمر واشنگٹن اور ریاض کے ذریعے یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کو نہ تو ہاتھ لگایا جائے اور نہ ہی جیل میں ڈالا جائے۔پرویز مشرف سے قریبی ایک ذریعے نے نمائندے کو تصدیق کی کہ سابق آمر کی خواہش ہے کہ 2با اثر دارالحکومت کی جانب سے صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل کیانی کو دیئے گئے پیغام کے جواب میں کلیئرنس پیغام مل جائے کہ مشرف کو اپنے سیاسی اہداف کے حصول کی اجازت ہونی چاہیے۔ذریعے کا کہنا تھاکہ پرویز مشر ف کی پاکستان میں محفوظ واپسی کیلئے واشنگٹن میں زبردست لابنگ کر لی گئی ہے اور بدھ کو (آج)ڈاکٹر رضا بخاری اور کیمرون منٹر کی ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔امریکی سفارتخانے کے ترجمان سے جب ڈاکٹر رضا اور منٹر کی ہونے والی ملاقات کی تصدیق کیلئے رابطہ کیا گیا تھا لیکن خبر فائل کرنے تک جواب موصول نہیں ہوا تھا۔آل پاکستان مسلم لیگ کے ذریعے نے بتایاکہ پرویز مشرف خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستانی و مغربی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے پاکستانی امریکی صحافیوں کی بڑی تعدادکے ہمراہ وطن واپس آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ابھی صرف ’دی نیوز‘نے خبر دی ہے کہ پرویز مشرف اس وقت تک واپس نہیں آئینگے جب تک فوج ان کو سیکورٹی کی ضمانت نہیں دے دیتی۔آل پاکستان مسلم لیگ کے اجلاس کے منٹس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مشرف صرف اسی صورت میں پاکستان آئینگے جب فوج انکو اجازت دے دے گی۔آل پاکستان مسلم لیگ کے قائدین آنے والے وقت میں عبوری سیٹ کیلئے پارٹی قیادت کی تیاریوں کے حوالے سے باتیں کر رہے ہیں۔پرویز مشرف کی جماعت نے ’ویلکم پرویز مشرف ‘کی اشتہاری مہم پر تقریباً 11کروڑ 70لاکھ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ62لاکھ90ہزار روپے ٹرانسپورٹ اور ان کی آمد کے بعد صرف ایک جلسے کے لئے خرچ کئے جائینگے۔پرویز مشرف کی آمدکو مد نظر رکھتے ہوئے پراپیگنڈہ مہم کو حتمی شکل دی جارہی ہے اور اس میں این آر او کا مستحکم پاکستان کیلئے لازمی قرار دیتے ہوئے دفاع کیا جائے گا،دعویٰ کیا جائے گاکہ بلوچ رہنماء اکبر بگٹی کو مارنا درست اقدام تھا ساتھ ہی پرویز مشرف کے دور کا پی پی پی کی موجودہ حکومت سے موازنہ کیا جائیگااور کارگل جنگ کی وضاحت بھی پیش کی جائے گی۔اجلاس کے منٹس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ چوہدری فواد اپنے قائد سے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی آمد کی واضح تاریخ کا اعلان کرکے غلطی کردی ہے کیونکہ پاکستانی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے واضح اشارے کے بغیر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آ رہا۔چوہدری فواد نے اپنے پارٹی چیف کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ اہم دارالحکومتوں سے مدد طلب کریں۔منٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کی قیادت کی متفقہ رائے تھی کہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کو آئی ایس آئی کی پشت پناہی حاصل ہے۔اجلاس کے منٹس میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پارٹی رہنماء اس حوالے سے بھی پریشان ہیں کہ اگر پرویز مشرف واقعی واپس آتے ہیں اور ان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا توصرف ایک بندہ ڈاکٹرمحمد امجد نے یہ کہاکہ اگر آل پاکستان مسلم وجود قائم رکھنا چاہتی ہے تو پرویز مشرف کو وقت پر واپس آجانا چاہیے اور پارٹی رہنماؤں کو حراستوں اور جیل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

تہران /واشنگٹن : ایران نے امریکا کو دھمکی دی ہے کہ اس کا بحری بیڑہ دوبارہ آبنائے ہرمز میں نہیں آنا چاہئے ورنہ ہم یہ انتباہ دوبارہ نہیں دہرائیں گے ، ہم نے بحری جنگی مشقوں سے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایرانی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ خلیج فارس میں بحری بیڑے کی موجودگی امریکی سینٹرل کمانڈ کے مشن کیلئے ضروری ہے اور وہ اسی طرح جاری رہے گی جیسے گزشتہ برسوں سے جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی سرکاری خبر ایجنسی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عطاء اللہ صالحی نے اپنے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کو آبنائے ہرمز میں دوبارہ نہیں آنا چاہئے ، اسلامی جمہوریہ ایران انتباہ دورباہ نہیں دہرائے گا ، کسی بھی طرح کے دباوٴ میں آنے والے نہیں ، کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔ دوسری جانب بحری مشقوں ولایت 90 کے اختتام پر ترجمان نے کہا کہ ہم نے ان مشقوں سے تمام مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر موجود ریئر ایڈمرل موسوی نے کہا کہ ان مشقوں سے بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اس سے فوج کو قابل قدر تجربہ حاصل ہوا۔ ان مشقوں میں فوج نے فرضی اہداف کو نشانہ بنایا اور کامیابی سے انہیں تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشقوں میں پہلی مرتبہ تین میزائلوں قادر، نصر اور نور کے تجربات کئے گئے اور انہوں نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ دریں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مغرب اسے دنیا میں توانائی کی مساوات سے نکال باہر نہیں کرسکتا، ایران کی اصولی پالیسی ہے کہ امریکا کے سوا دنیا کے تمام ملکوں سے تعاون کریں گے پابندیاں لگائی گئیں تو لگانے والے ملکوں کو ہی زیادہ نقصان ہوگا ۔ ترجمان رامین مہمان پرست نے بعض مغربی حکام کی طرف سے ایران پر تیل کی پابندیاں لگانے کے بارے میں بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو دنیا میں توانائی کی مساوات سے الگ نہیں کیا جاسکتا، عالمی حالات اس بات کی دنیا کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ایران کو نظر انداز کردے جس کے پاس دنیا میں تیل کے چوتھے بڑے اور گیس کے دوسرے بڑے ذخائر ہیں۔ ایران اپنے تیل اور گیس کے ذخائر سے بہت کم مقدار یورپی ملکوں کو برآمد کررہا ہے۔ ایک اور سوال پر ترجمان نے کہا کہ تہران کی دعوت پر جلد ایٹمی توانائی ایجنسی کا وفد ایران کا دورہ کریگا۔ عراق سے ایران کے اتحادی عباض علاوی کی ایران آمد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا دونوں ملکوں کے حکام کے دورے ہوتے رہتے ہیں۔

تہران : اسلامی حکومت کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے اور تقریر کرنے پر سابق ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ رفسنجانی کو چھ ماہ قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا ہے اور کسی بھی سیاسی و سماجی سرگرمی میں حصہ لینے پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔

قبوضہ بیت المقدس ( اے ایف پی ) اسرائیلی وزیر خارجہ لائبرمین رشوت اور بدعنوانی کے الزام میں عدالتی کارروائی کا سامنا کریں گے ، وزارت انصاف کے مطابق ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی وسط جنوری میں شروع ہوگی اور وزیر خارجہ اپنے خلاف فرد جرم کا جواب دیں گے ، ان پر فراڈ، حلف کی خلاف ورزی، رشوت میں کچھ وصول کرنا، منی لانڈرنگ اور شہادتوں کو ضائع کرنے کے الزامات ہیں۔

اسلام آباد… امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ وزیراعظم ہاوٴس سے باہر نکلے تو انہیں قتل کردیا جائیگا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو انٹرویو میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وہ وزیراعظم ہاوٴس سے باہر نکلے تو انہیں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح قتل کردیا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں غدار سمجھا جارہا ہے ،ملک کے طاقتور حلقے انہیں واشنگٹن نواز قرار دے رہے ہیں ،جبکہ قانون کے مطابق ابھی تک ان کیخلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ انہیں صدر اور وزیراعظم کی حمایت حاصل ہے ،وہ وزیراعظم ہاوٴس میں ان کے مہمان ہیں ،ان کی وزیراعظم سے طویل سیاسی وابستگی ہے۔ حسین حقانی نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے وزیراعظم ہاوٴس میں رہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ،وہ انتہائی سخت سیکیورٹی میں صرف تین بار ہی وزیراعظم ہاوٴس سے باہر نکلے ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو وہ سخت سیکیورٹی میں انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی ہے،یہ حکومت کیخلاف نفسیاتی جنگ ہے۔

سکھر رپورٹ کے مطابق سکھر میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت طالبان ناصبی وہابی دہشت گردوں اور یزید ملعون کی اولادوں نے اپنے آباؤ اجداد کے منحوس نقش قدم پر چلتے ہوئے آل رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے اور فرزند حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والم وسلم آقاامام زمان حضرت امام مہدی عج فرجہ شریف کی شان میں گستاخانہ جملوں کو دیواروں پر لکھاگیا ہے تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق شیعیان حیدر کرار (ع) کی بڑی تعداد اس وقت سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور مین سڑک پر سیکڑوں شیعہ احتجاج کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے اندرون سندھ میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی یزیدی دہشت گردوں کی جانب سے شیعیان حیدر کرار (ع) کی دل آزاری کا سلسلہ شروع کیا جا شکا ہے جس کے نتیجہ میں متعدد علم حضرت عباس علمدار علیہ السلام کو بھی شہید و توہین کی گئی ہے جبکہ آج سکھر میں انہی ناصبی دہشت گردوں نے اپنے ملعون باپ دادا یزید اور معاویہ کے منحوس نقش قدم پر چلتے ہوئے اولاد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔دوسری جانب سندھ انتظامیہ اور مقامی پولیس کی جانب سے تاحال کسی بھی سانحہ کا نوٹس نہیں لیا گیا۔